جمعیت علما اسلام : اعتراضات کا تجزیہ

0

برِصغیر کی سیاست میں سیکولر ازم کی بنیاد کانگریس نے رکھی۔ کانگریس کیساتھ الحاق جمعیتِ علمائے ہند نے کیا۔ لیکن پاکستان کی جمعیتِ علماء اس تاثر کو زائل کرنے میں کامیاب رہی ہے۔ پاکستانی سیاست میں مذہب کی بنیاد پر طویل ترین جدوجہد کرنے والی جماعتوں نے اس حقیقت کو دھندلانے نہیں دیا کہ ریاستی پالیسی کی بنیادوں سے اسلام کا گہرا تعلق ہے۔ اس کے باوجود جمعیتِ علماء اپنے ماضی کی جانب کامیابی کیساتھ سفر بھی کرلیتی ہے جیسے ایم آر ڈی کی جدوجہد میں شمولیت۔ اس سے جمعیت کی قربانی کا اظہار زیادہ ہوتا ہے۔ سیاست کا کہیں کم۔ ایم آر ڈی یا غیر اسلامی سیاسی گروہوں نے اس کے باوجود جمعیت ِ علماء کو اس کی جائز حیثیت نہیں دی۔ نہ ہی پیپلز پارٹی نے کہیں اس کے حق میں سیٹیں چھوڑ کر جمہوریت کیلئے دی گئی قربانی کا اعتراف کیا حالانکہ ضیاء الحق نے اسلام کیلئے واضح اور کھل کر کام کیا۔ جمعیتِ علماء جیسے گروہ کئی بعض اوقات قربانیاں دیکر بھی حکمران طبقات سے کچھ حاصل نہیں کرتے۔ کچھ لوگ پاکستان کی سیاست کو اتفاقیہ حادثات کی طویل زنجیر کے طور پر دیکھتے ہیں۔ ایسے لوگوں کے خیال میں پاکستان غیر شعوری سیاسی جدوجہد سے عبارت ہے۔ حالانکہ ایسا ہوتا تو شاید آج پاکستان بطور ملک دنیا کے نقشے پر ہی نہ ہوتا۔

اسلام پاکستان کا سرکاری مذہب ہے۔ لیکن پاکستانی اسلامی سیاست سے یوں جان چھڑاتے ہیں جیسے کوا غلیل سے۔ اسکی بنیادی وجہ کم ہمتی، کم علمی اور اہلِ سیاست پر پراکسی افراد کا قبضہ ہے۔ کوئی بھی حقیقی حکمران یا حکمران گروہ اس حقیقت کو نظر انداز نہیں کرسکتا۔ اسلامی سیاست کے اپنے موضوعات ہیں، مقاصد اور طرق ہیں۔ انداز و اطوار ہیں۔ اسے مغربی انداز میں دیکھنا اور پرکھنا اسلامی سیاست کو محدود کردیتا ہے۔ اگر اسلام کے مقاصد حاصل نہ ہوئے تو اسلام کی سیاست میں ضرورت ہی باقی نہیں رہتی۔

پاکستانی سیاست پر جیفرلاٹ کی لکھی ہوئی کتاب “پاکستان۔ نیشنلزم ود آؤٹ نیشن” میں اس موضوع پر محترمہ مریم ابو ذہب نے فرقہ وارانہ بنیادوں پر سمجھانے کی کوشش کی ہے۔ مصنفہ نے اسلام کی بحث کو ضیاء الحق سے سٹیٹ پالیسی کا متحرک حصہ بنانے پر بات کی ہے۔ اس سے قبل شاید اسلام ہماری غیر متحرک سیاسی پالیسی کا حصہ تھا۔ انکے نزدیک شیعہ سنی قضئیے کے پس منظر میں فرقہ واریت کا بڑا حصہ ہمارے مسائل کا باعث بنتا ہے۔ پاکستانی معاشرے میں شیعہ گروہ بااثر اقلیت کا درجہ رکھتے ہیں۔ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین اور امہات المؤمنین کی تعظیم اسلام کے بنیادی اجزاء میں سے ہے اور ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای نے اس پر فتویٰ جاری کرکے دانشمندی کا ثبوت بھی دیا۔ سیاسی مذہبیت کے قضئیے میں سے فرقہ واریت پر اس وقت بحث کی جائے جب مذہبی گروہوں کے مقاصد کو سمجھتے ہوئے انکے سیاسی نظام کے اجزاء کو ملکی آئین کا حصہ بناکر اس پر کام کیا جائے۔ وگرنہ فرقہ واریت کو معاشرے کے ابال کا حصہ قرار دیکر سماجی و معاشی ناہمواری کا ایک مظہر تسلیم کرتے ہوئے مسلمان سیاسی گروہوں کو اس الزام سے بری کردیا جائے۔ جنرل محمد ضیاء الحق کو دئیے گئے الزام بیزار کردینے کی حد تک مایوس کن ہیں۔ ریاستیں اپنے وسیع ترین مقاصد کیلئے کسی ایک حکمران کی محتاج نہیں ہوتیں۔پاکستانی آئین میں اسلام کا ڈھانچہ ضیاءالحق صاحب سے قبل بھٹو صاحب نے رکھا تھا۔

پھر اس کے علاوہ طالبان کا تناظر ہے جس سے جمعیت علماء کو سمجھنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ اس کے ساتھ ہی اسے دہشت گردی کے ساتھ منسلک کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ ایسی تحریروں کی لمبی قطار تحقیقاتی مجلوں میں مل جاتی ہے۔ ایسی ہی ایک تحریر باربرا میٹ کالف کی ہےجس میں وسیع تناظر میں جمعیت علماء کو طالبان کے اساتذہ کے طور پر پیش کیا گیا۔ ایسے تحقیق کار اس حقیقت کو نظر انداز کردیتے ہیں کہ سیاسی اور علمی تحریکات اپنے طور پر معاشرتی مسائل دیکھتی اور سمجھتی ہیں اور انکا حل بھی دیتی ہیں۔ ایسے تمام تجزئیے جن میں سیاسی تحریکات کے لڑاکے بازؤوں کی اہمیت ضرورت سے زیادہ اجاگر کی جائے، وہ معاشرے کو بہت گہرائی تک دیکھنے کی کوشش میں بگاڑ پیدا کرسکتے ہیں۔ اگر سیاسی تحریکات کو صرف انکے جنگ و جدل کی نظر سے سمجھا جائے تو معاشرہ جنگی رخ اختیار کرسکتا ہے یا جنگ ہی مطمحِ نظر ہوجاتی ہے۔ حالانکہ معاشروں میں جنگ و جدل تبھی پیدا ہوتی ہے جب جنگ و جدل ہی واحد راستہ باقی رہ جائے جس کے ذریعے سے معاشرے میں تبدیلی وقوع پذیر ہوسکتی ہے وگرنہ باشعور گروہ جنگ پر نہیں اترتے۔ ایسے میں سنجیدہ مذہبی اور علمی تحریکات پر ایسی الزام بازی سے تمام الزام واپس معاشرے پر ہی آجائے گا کہ معاشرے میں مثبت تبدیلی اور معاشرے کے مقاصد کا حصول کسی طور ممکن نہیں رہا اس لئے سنجیدہ ترین گروہوں میں سے بھی جنگ و جدل کرنے والے ابھر کر سامنے آنے لگے ہیں۔ اگر ایسے واقعات معمول کے ساتھ ہونے لگیں تو معاشرہ ہی غیر مستحکم ہوجاتا ہے۔ ایسے تجزیات اور انکی حیثیت بنیادی طور پر بچگانہ ہوتی ہے۔ جنگ ایک وقتی عنصر ہوتا ہے جبکہ مضبوط سماجی تحریکات اپنی سیاسی جدوجہد کیلئے بہت سے طریقے اور راستے اپناتی رہتی ہیں۔ معاشرے میں جنگ و جدل کی بنیادیں ناانصافی اور گہرے جبر کے سائے تلے پرورش پاتی ہیں۔ ایسے میں کبھی حکومتیں مسائل کا باعث بنتی ہیں اور کبھی عوام۔ انقلابی لڑاکے بھی ایسے ہی اپنے لئے نت نئے طریقے اور پشی بان ڈھونڈتے ہیں اور انہیں شکار کرنے والے سرکاری عمال بھی نئے طریقے وضع کرتے رہتے ہیں۔ اس چھینا جھپٹی میں تیزی صرف اس وقت آتی ہے جب نادان پالیسی ساز اپنی حکمتِ عملی میں شرفاء کی پگڑیاں اچھالنے اور بنیادی معاشرتی دھاگوں کی بنت پر قائم تحریکات کو چھیڑ بیٹھتے ہیں۔ طالبان کا تناظر جمعیت جیسی گہری بنیادیں رکھنے والی تنظیمات کے کئی اندازہائے کار میں سے ایک بیرونی سیاسی مظہر سمجھا جاسکتا ہے۔ جب اساتذہ کدسی تحریک کی حمایت کریں تو ایسی تحریک کو سجنیدہ سیاسی تحریک سمجھ کر اس سے معاملات طے کرنا ہی عقلمندی ہوتی ہے۔

دیوبند پر جنگ کی الزام بازی معاشرے کے مثبت عناصر کی بھی شکست ہے۔ دارالعلوم دیوبند انڈیا میں آج بھی تین ہزار سے زائد طلبہ پڑھتے ہیں جبکہ اس ادارے سے ابتدائی طور پر فارغ التحصیل ہونے والوں میں سے بیشتر نے شروع ہی میں اپنے مدارس کی بنیاد رکھ دی تھی۔ یہ بنیادیں ایک طویل عرصے سے موجود ہیں۔ دلی سے ایک تحقیقاتی لکھاری اپارنا باسو نے دیوبند پر پھر اسکا الزام لگایا اور ساتھ میں پاکستانی اداروں کو بھی رگڑ دیا۔ مثبت عناصر اس حقیقت کو سامنے رکھتے ہوئے تسلیم کریں گے کہ مذہبی مقاصد درست ہوتے ہیں اور معاشرے کی اصلاح اور فلاح و بہبود پر مبنی ہوتے ہیں۔ ایسے میں مذہبی اداروں اور ان کی ذیلی تنظیمات پر لگائے گئے الزامات کسی طور سوفیصد درست نہیں ہوتے۔ معاشرہ اچھے مقاصد کو راستہ دینے میں ناکام ہوتا ہے جبھی نامناسب رویے اور انداز راستہ پاتے ہیں۔ جہاں سید احمد شہید نے اسلامی ریاست کی بنیاد رکھنے کیلئے جہاد کو اپنایا، وہیں دیوبند ہی سے جمعیت علماء نے سیکولر لوگوں کیساتھ اتحادات قائم کئے۔ ایسے میں اسقدر کھلے دل کیساتھ ہونے والی جدوجہد کو پاکستان کے تناظر سے ہٹ کر دیکھا جائے تو جمعیت علماء نے تمام راستے اختیار کرنے کی کوشش کی جس سے معاشرے میں مذہبی مقاصد کا حصول ممکن تھا۔ دیوبند کی ڈیڑھ سو سالہ جدوجہد اور جمعیت علماء کی قریبا ایک صدی کی جدوجہد نے کسی طور راستے آسان نہیں کئے۔ جس قدر برطانوی فسطائیت سوار تھی اسی قدر آج کی اقوامِ متحدہ کی جبریہ لادینیت سوار ہے۔ کسی نے اسلام کے مقاصد کو سمجھنے اور معاشرے میں اسلام کے مقاصد کی ترویج کو سمجھنے کی بجائے اسے زیرِزمین معاشرتی انفرادی اصلاح کا ایک آلہ سمجھ کر اپنایا۔ اس سے مسلم ادارے ناکام ہوگئے یا کم ازکم انکے سیاسی مقاصد دب کر رہ گئے۔ معاشرے نے غیر مرکزیت کو فروغ دیکر دو تہیں بنائیں۔ جس سے پراکسی اور مصنوعی طبقے تشکیل پاگئے۔ آج انہی طبقوں کی حفاظت کو ریاست کی ترجیح قرار دیا جاتا ہے۔ اسلام کو معاشرے کی اجتماعی فلاح کا ذریعہ سمجھنے کی بجائے اسے اجتماعی فساد کا مظہر قرار دیا گیا۔ ا سے مسائل بڑھ گئے ہیں۔ جہاں اجتماعی جدوجہد خرابی کا شکار ہے وہیں مذہبی ادارے اور گروہ ہیچیدہ طریقہ کار پر چلنے پر مجبور ہوجاتے ہیں۔ کیا افغانستان، پاکستان اور تمام تو ہندوستان میں ایک بھی چھوٹی ریاست ایسی تشکیل نہیں پاسکتی جہاں دیوبند جیسی صدسالہ بااثر تحریک اپنے اجتماعی ضمیر کے مطابق زندگی گزارے اور اس پر انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے بیہودہ الزام نہ لگائے جائیں۔ ملا محمد عمر اور ان کے ساتھیوں کی جدوجہد کو سجنیدگی سے سمجھنے کی بجائے اضطراری اور فوری فیصلوں نے اس اہم گروہ کو اقوامِ عالم سے دور کردیا ایسے ہی ان کے جائز مقاصد سے دنیا بھر کو دور کردیا۔  انسانی حقوق کی تمام تر ٹھیکے داری کسی ایک مخصوص گروہ کو نہیں دیجاسکتی۔ اور اسکی آڑ میں تمام مذہبی گروہوں کو انکے اجتماعی حقوق سے یکسر محروم نہیں کیا جاسکتا اور نہ ہی ایسا کرنا طویل عرصے تک جاری رکھا جاسکتا ہے۔ اس بناء پرہونے والے فساد سے دنیا کا شیرازہ ہی نہ بکھر جائے۔ ایسے ہی تمام تر عقل و دانش کا مرکز صرف اور صرف انسانی حقوق کے چار پانچ جنریشنز نہیں ہیں۔ ان کے علاوہ بھی اجتماعی زندگی گزارنے کے گروہی اور انفرادی اصول و ضوابط ہیں۔ اگر اقوامِ متحدہ کا چارٹر ہی وہ واحد مجموعہ ہوتا جس پر دنیا نے گروہی جدوجہد کی بنیاد رکھنا تھی تو انسانی حقوق کی دوسری تیسی اعور چوتھی نسل کبھی سامنے نہ آتی۔ سوال یہ ہے کہ انسانی حقوق کیے ماتحت ہی تمام تر اصول و ضوابط کیوں بنائے جارہے ہیں۔ کیا کسی دوسرے موضوع کے تحت انسانیت کو اکٹھا نہیں کیا جاسکتا؟ اگر مسلمانوں نے کسی طور یہ طے کیا کہ وہ اجتماعی طور پر صرف اور صرف اسلامی اصولوں کے تحت ہی اپنی اجتماعی زندگی گزاریں گے تو اس سے بہت بڑی سیاسی بے چینی پیدا ہوجائیگی جسے روکنا اقوامِ عالم کیلئے ناممکن ہوجائیگا۔ اس پس منظر میں مسلمانوں کو یہ شکایت اجتماعی طور پر اقوامِ متحدہ میں رکھنی چاہئیے کہ عالمی چارٹر اسلام اور مذہب کے کسی بھی حوالے سے خالی ہیں۔ اس لئے مسلمان ممالک اور سیاسی گروہوں کو اپنے جائز اور درست مقاصد کے حصول کیلئے جدوجہد کا راستہ نہیں ملتا۔ اس بناء پر وہ اس پر مجبور ہیں کہ اپنے تمام تر اہداف کے حصول کو یا تو یکسر چھوڑ دیں یا بے جواز اور غیر فارمل (بے قاعدہ) جدوجہد کریں۔ باقاعدہ اور فارمل جدوجہد مسلمان گروہوں کا حق ہے۔ اس کیلئے اقوامِ عالم انہیں راستہ دینے کی پابند ہے۔ اس کیلئے کوئی نہ کوئی طریقہء کار تشکیل دیا جائے۔ یہ اقوامِ متحدہ کے چارٹر میں تبدیلی سے ہی ممکن ہے۔

جمعیت علماء کو صرف جنگ و جدل کے تناظر میں نہیں پرکھا جاسکتا اور نہ ہی کسی دوسری اسلامی تحریک اس کسوٹی پر پرکھی جاسکتی ہے۔ تحریکات کو انکے مخصوص کم مدتی پیمانوں پر پرکھا جاتا ہے جبکہ تنظیمات کو انکے طویل مدتی ادارہ جاتی ڈھانچے اور مقاصد دونوں پر پرکھا جاتا ہے۔ جمعیت علماء کے مقاصد اسلام کے مقاصد ہیں کیونکہ کوئی بھی اسلامی گروہ دیوبند کو اسلام سے خارج کرنے کا فتویٰ جاری نہیں کرسکا۔ اسلام کے اعلیٰ تر مقاصد سے اختلاف ناممکن ہے۔ ان مقاصد کے حصول کے طریقہ کار پر بحث کی جاسکتی ہے۔

ایسے ہی جمعیتِ علماء کے ڈھانچے اور ساخت پر اعتراضات ممکن ہیں۔ اس کیلئے پھر کسی وقت بات کی جاسکتی ہے۔ دوسرا یہ کوشش کی جاسکتی ہے کیا کیا جمعیتِ علماء اپنے ہی مقاصد کو حاصل کرسکی یا نہیں۔ کس قدر حصول ممکن تھا اور کتنے وسائل موجود تھے۔ لیکن جب بھی اس ریزلٹ اور نتائج پر مبنی تجزئیے کی بات ہوگی تو وہاں پہلا سوال اس جواز اور مکمل فریم ورک کا ہوگا جس میں سیاسی ادارے اپنی جدوجہد کرتے ہیں۔ چونکہ دنیا بھر میں مذہبی جدوجہد کو برسرِ زمین یا فارمل یا باقاعدہ و باجواز تسلیم ہی نہیں کیا گیا، اس بناء پر انہیں کام کرنے کا باقاعدہ حق حاصل نہیں۔ جواز یہ نہیں کہ سیاسی جماعت بنانے کی اجازت دیجائے۔ جواز یہ ہے کہ مذہب کو اقوامِ متحدہ کے چارٹر کا حصہ بنایا جائے اور مذہب کے مقاصد کو چارٹر میں جگہ دیجائے۔ اس لئے زیادہ تر مذہبی جدوجہد غیر رسمی و بے قاعدہ ہے۔ اقوامِ متحدہ کسی مذہبی مقصد کو باقاعدہ اپنا کر نہیں چلتا۔ اس لئے یہ فیصلہ کرنا مشکل ہوجائیگا کہ بے قاعدہ جدوجہد کے نتائج حاصل کرنا ممکن بھی ہیں یا نہیں۔ جواز کی بنیادی شرط کی بناء پر تمام گفتگو بے حاصل رہے گی۔ ایسے میں زیادہ تر مذہبی گروہ رو دھو کر اپنی موجودگی کو طویل تر کرنے میں مصروفِ عمل رہتے ہیں۔ ان کیلئے اپنے مقاصد کا حصول ممکن ہی نہیں ہوتا۔ پاکستان میں بھی فارمل اور باقاعدہ گروہی و اجتماعی اسلام کی جانب کوئی پیش رفت نہیں ہوئی۔پاکستانی آئین میں گروہی اسلام کا مثبت ذکر موجود ہی نہیں۔ انہیں فقط فرقہ واریت کا نام دیکر دھتکار دیا جاتا ہے۔ یا للعجب۔ یہ کیسی سیاسی و سماجی قانون دانی ہے؟ آئینی علوم اس جہالت پر کڑھ کر بے دم ہوجائیں گے۔ یہ ایگزسٹینشلسٹ یا صرف زندگی برقرار رکھنے کی جدوجہد اور تحریک کی بظاہر موجودگی مذہبی گروہوں کیلئے دردِ سر ہوتی ہے۔ وہ کوئی بھی مامعنی سیاسی فرق نہیں ڈال سکتے۔ اسلام یا کوئی بھی مذہبی گروہ موجودہ عرالمی تناظر میں بے معنی ہوکر رہ جاتا ہے۔ لہٰذا جمعیتِ علماء کے مقاصد کو عدم ِ جواز جیسی بڑی رکاوٹ کی بناء پر پرکھا نہیں جاسکتا۔

ایسے ہی جمعیتِ علماء کے ڈھانچے پر بھی کوئی زیادہ سیر حاصل بحث سے فائدہ مشکل ہے کیونکہ جب عالمی سطح پر جدوجہد پر پابندی ہو تو کوئی بھی سیاسی گروہ صرف زندگی برقرار رکھنے کی جدوجہد میں اضطراری حالات سے گزرتا ہے جس کی بناء پر اسے بہت سے غیر ضروری طریقہء کار سے بھی گزرنا پڑتا ہے۔ جسے جائز یا ناجائز اور درست یا نا درست کی طویل کتھا سے گزارنا مزید مشکل ہوجاتا ہے۔ اگرچہ وقت گزاری کیلئے اور قارئین کی سمع خراشی کیلئے اس کی کوشش بھی کی جاسکتی ہے۔ مقاصد وہ ہیں جن کیلئے قوامِ عالم باقاعدہ جواز فراہم کرتی ہیں، انکے ڈھانچوں کو تسلیم کرنے کے علاوہ اجتماعی طور پر انہیں فنڈ اکٹھا کرنے اور فنڈ فراہم کرنے کیلئے طریقہ کار طے ہوتے ہیں اور بعد ازاں انکے تنائج کے حصول پر امنِ عالم یا ترقی و بہبود کا دارومدار ہوتا ہے۔ ان پر سٹڈیز کی جاتی ہیں اور پھر انکی بنیاد پر انکے طریقہء کار پر بحث ہوتی ہے۔ افسوس کا مقام یہ ہے کہ یونیورسٹیوں میں اسلام اور مذہبی علوم پڑھائے جاتے ہیں انہیں باقاعدہ سماجی گروہ مانا جاتا ہے۔ لیکن انکے باقاعدہ سیاسی کردار پر بحث ہی نہیں کی جاتی۔ ایسے میں سیاسی مذہبیت پر لگائی گئی پابندیاں کسی موہوم خدشے کی بناء پر ہوسکتی ہیں لیکن ایسے ہی یہ ایک طویل ترین غفلت کا نمونہ بھی ہیں جن کی بناء پر ہم اپنے اجتماعی مسائل کو سمیٹ نہیں سکتے۔ اس صورتِ حال کا کوئی بھی مثبت نتیجہ برآمد نہیں ہوسکتا کیونکہ اس صورتحال کا نو تو کوئی باقاعدہ آغاز تھا اور نہ ہی اس کا کوئی باقاعدہ اور ممکن انجام ہونا ہے۔ اس کے بجائے اقوامِ عالم اس بے قاعدہ جدوجہد کو ختم کرنے کی منظم جدوجہد کرتی رہتی ہیں۔ ایسے میں کوئی بھی مثبت نتیجہ، اگر برآمد ہو بھی تو، وہ ایک معجزہ ہوسکتا ہے یا وہ مذہبی اداروں کی مخلصانہ قربانیوں کا ایک پرتو ہے جس پر انہیں تعریف و توصیف ا انعام و اکرام سے نوازا جانا چاہئیے۔

جمعیت علماء نے مسلم معاشرے میں یہ احساس ضرور پیدا کیا کہ وہ مذہبی گروہوں کو مین سٹریم اور قومی دھارے میں لانے کی پرخلوص جدوجہد کرنے پر اور لامحدود مدت تک ایسی جہد جاری رکھنے پر نہ صرف یقین رکھتے ہیں بلکہ عملی طور پر اس کیلئے بہت سے گروہوں کو متحرک بھی کرتے ہیں۔ معاشرے میں ایسی جدوجہد بجائے خود ایک مثبت عمل ہے۔ جس سے مسائل کا حل نہ بھی ہوپائے تو بھی مسلمانانِ عالم کی تسلی و تشفی ضرور ہوجاتی ہے۔ یہ بجائے خود قابلِ داد ہے۔

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جمعیت علماء پر تنقید کس طور سے کی جائے؟ اس موضوع کو پھر کسی وقت کیلئے چھوڑئیے۔

About Author

Daanish webdesk.

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: