شک کی انڈسٹری یا یقین کا کھوکھا

0

بطور ماہر نفسیات اور موٹیویشنل سپیکر میرا ماننا ہے کہ دنیا میں اگر کسی کوکو ئی بہترین تحفہ دیا جا سکتا ہے تو اس تحفے کا نام ہے یقین اوراس کے بر خلاف کسی پرجو بد ترین ظلم کیا جا سکتا ہے وہ یہ ہے کہ اس فرد کو اس کی صلاحیتوں کے بارے میں شک میں مبتلا کر دیا جائے۔ گزشتہ دنوں کرکٹ کی دنیا میں پاکستان کی سب سے بڑی کامیابی یعنی 92ء کے ورلڈ کپ کی فتح کی سالگرہ منائی گئی۔ مختلف چینلزپر اس سلسے میں بالخصوص پروگرام نشر کیے گئے جن میں اس عظیم فتح کے ہیروز کو مدعو کیا گیا۔ ان پروگرامز میں ورلڈ کپ کے ہیروز نے جہاں اس غیر معمولی جیت کے دوران پیش آنے والے اچھے برے واقعات کا ذکر کیا وہیں اس دوران اپنے دل میں موجود شک اور یقین کی کشمکش کا بھی کھل کر اظہار کیا۔ پروگرامز میں موجود تمام کھلاڑیوں کی متفقہ رائے تھی کہ اس عظیم فتح کا سب سے بڑا محرک وہ یقین تھا جو اس وقت کی ٹیم کے کپتان عمران خان کے دل میں پورے ٹورنامنٹ کے دوران موجود رہا۔ رمیض راجہ، وسیم اکرم،مشتاق احمد، انضمام الحق اور عاقب جاوید سمیت تمام کھلاڑیوں کا کہنا تھا کہ ایونٹ کے دوران ایسے کئی مواقع آئے جب ان کے دل میں یہ شک ابھرا کے ورلڈ کپ میں پاکستان کی کامیابی کاامکان ختم ہو چکا ہے۔ کھلاڑیوں نے بتایا کہ ان حالات میں جب کہ وہ صلاحیتوںاور کامیابی کے بارے میں شکوک میں مبتلا ہوئے صرف ایک چیز ایسی تھی جس نے ان کا حوصلہ بنائے رکھا اور وہ چیز تھی ان کے کپتان کا ان پر یقین۔ کسی بھی کھلاڑی کو کسی بھی ٹیم میٹنگ میں چاہے وہ میچ ہارنے کے بعد کی میٹنگ ہو یا جیتنے کے بعد کی، اپنے کپتان کے الفاظ یا باڈی لینگوئج میں کبھی بھی اس شک کا شائبہ بھی نظر نہ آیا کہ ہمارا جیتنا ناممکن ہے۔ ایک ایسے وقت میں جب کہ ایک کھلاڑی خود اپنی صلاحیتوں کے بارے میں شک کا شکار ہو اس وقت بھی اگر اس کا کپتان اس کو یقین دلائے کہ سب ممکن ہے تو ہی ایسی شاندار فتوحات وقوع پذیر ہوتی ہیں۔

ان پروگرامز میں عاقب جاوید نے ایک بہت اہم واقعہ کا ذکر کیا۔ عاقب جاوید کا کہنا تھا کہ ان کی ٹیم میں شمولیت اس وقت ہوئی جب وہ تازہ تازہ فرسٹ ائیر سے فارغ ہوئے تھے اور ان کو اس بارے میں کوئی اندازہ نہیں تھا کہ اتنے بڑے لیول پر کرکٹ کیسے کھیلنی ہے۔ تمام نئے کھلاڑیوں کی طرح وہ بھی جب کسی جانے پہچانے انٹرنیشنل بیٹسمین کو بائولنگ کرواتے تو کہیں نہ کہیں مرعوبیت کا احساس آڑے آجاتا تھا۔ عاقب جاوید کا کہنا تھا کہ میں انٹرنیشنل سٹار تب بنا جب مجھے ایک دن ویو رچرڈز جیسے عظیم کھلاڑی کو بائولنگ کرنے کا موقع ملااور میں اپنے دل میں مرعوبیت کے اس احساس کو لیے جب سٹارٹ کے لیے گیا تو عمران خان اچانک میرے پاس آئے اور کہنے لگے عاقب ! اس کے سر پہ مارو ٹخنے توڑ دو اس کے، ڈرنا نہیں ہے جم کے بائولنگ کروائو۔عاقب کے لیے یہ بہت بڑی بات تھی کہ ان کا کپتان ان جیسے نوآموز کھلاڑی کو ویو رچرڈز جیسے عظیم کھلاڑی کے سامنے اتنے اعتماد سے بھیج رہا ہے۔ اس ایک لمحے میں دیے گئے یقین کو ہی عاقب آج بھی اپنے کامیاب کیرئیرکا نکتہء آغازسمجھتے ہیں۔
کرکٹ کے ماہرین آج بھی92کے ورلڈکپ کی فتح کو یقین کا معجزہ قرار دیتے ہیں۔ دو میچ ونرز کی انجری، وارم اپ اور ابتدائی میچز میں شکست، میڈیا میں مایوس کن رپورٹنگ اور دیگر کئی عوامل مل کر شک کی ایک انڈسٹری بنے ہوئے تھے جو نوجوان کھلاڑیوں کے اعتماد کو ختم کرنے کے درپے تھی لیکن دوسری جانب صرف ایک فرد اپنا یقین کا کھوکھا لیے گھوم رہا تھااور فتح بھی آخر کار اس کو ہی ملی۔ اب ذرا سوچیں کہ آپ کونسا ورلڈکپ کھیل رہے ہیں؟زندگی کے کن شعبوں میں کپتانی آپ کے ہاتھ میں ہے؟ کہیں آپ کے اردگرد بھی آپ کے متعلقہ شعبے کے نو جوان عاقب اور انضمام وغیرہ تو نہیں گھوم رہے؟اگر ہاں، تو بتائیے شک کی انڈسٹری جوائن کرنی ہے یا اپنا کھوکھا کھولنے کا ارادہ ہے؟ یقین کا کھوکھا!!! میری مانیں تو کھوکھا اچھا انتخاب ہے۔آپ سب کے لیے سلامتی اور کامیابی کی بہت سی دعائیں۔

About Author

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: