غیر سیاسی اسلام: ایک غریب اصطلاح : خالد بلغاری —- حصہ اول

0

بہت وقت گذر گیا۔ میٹرک کی سند پر تاریخ دیکھی جاسکتی ہے لیکن تاریخ لکھنا ایسا ضروری بھی نہیں۔ نوّے کی دہائی کے نصف آخر کا کوئی سال تھا اور خاکسار گلگت پبلک سکول میں دسویں جماعت کا طالب علم۔ دیگر سکولوں کی طرح اس نادر درسگاہ میں بھی زمانے کے دستور کے مطابق نمبر حاصل کرنے کیلئے خلاصے رٹنے اور رٹائے جانے کا چلن عام تھا۔ دستور کے پابند، اور لوگوں کی طرح چنانچہ ہم بھی رہے۔
“گُڈ بائے مسٹر چِپس” کے نام سے انگریزی کے مضمون میں ایک ناول شامل نصاب تھا۔ کہانی کی سمجھ تو خیر آجاتی تھی لیکن امتحانی جواب نامے کے اندر معیاری اور چست جملوں کے ساتھ اسکو دوبارہ درج کرنے کیلئے صرف کہانی کو سمجھ لینا یقیناً ناکافی ہے۔ انگریزی سے یوں بھی سبھی ڈراتے تھے، سو انگریزی کے مضمون میں خلاصہ رٹنے کے حوالے سے خصوصی اہتمام ہوتا تھا۔
گُڈ بائے مسٹر چپس کا خلاصہ رٹتے ہوئے مسٹر چپس کی شخصیت کے بارے میں ایک جملہ جو تمہید میں ہی آتا تھا، اب بھی یاد ہے۔

His personality was an odd combination of strange contradictions.

کہ “انکی شخصیت”عجیب تضادات کا ایک غریب مجموعہ تھی”۔
وقت گذرنے کیساتھ ذخیرہ الفاظ میں اضافہ ناگذیر ہوتا ہے۔ مسٹر چِپس کی شخصیت کی طرح کی عجیب وغریب باہم متضاد اصطلاحات کیلئے یادداشت پر اب زور دیا جائے تو ایک طویل فہرست تیار ہوسکتی ہے۔
“غیر سیاسی اسلام” ایسی ہی ایک متضاد اصطلاح ہے۔

ہر نظام کو اسکی اپنی متعین کردہ تعریفات اور مفاہیم کے پس منظر میں ہی سمجھنا چاہئے۔ جدید علمیات پر مغربی اثرات کے عالمگیر غلبے کی وجہ سے ہمارے ہاں بھی سیاست کی عمومی طور پر یونانی اور پھر یورپی تعریفات کو معیاری تسلیم کرنے کا رجحان مقبول ہے۔ افلاطون نے سیاسیات یا “حکومت” کی کیا تعریف کی یا روسو کی جمہوری سیاست سے کیا مراد ہے، جدید قاری کے پاس “سیاست” کے حوالے سے سچائی کے بڑے معیارات آج یہی ہیں۔ افلاطون کی خیالی ریاست سے سبھی واقف ہیں۔ ‘روسو، اٹھارویں صدی کے فرانسیسی فلسفی تھے۔ انکے سیاسی فلسفہ کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ انقلاب فرانس انہی کی تحریروں کا نتیجہ تھا۔ جدید تصور حکومت یا مغربی جمہوریت کے فلسفہ کے پیچھے بھی ان کی فکر کا وافر حصہ ہے۔

مصنف کو یہ دعوی ہرگز نہیں کہ یونانی اور مغربی فلاسفہ کی رائے سیاست کی تعریف اور دائرہ کار متعین کرنے کے حوالے سے غلط ہے یا اسلام بطور مجموعی نظام کے جس طرح کی سیاست متعارف کرواتا ہے وہ ان فلاسفہ کی رائے سے بالکل مختلف ہے۔ سماج کا بنیادی ڈھانچہ اس حد تک تو ہر جگہ پر ایک ہی ہوتا ہے کہ انسانوں پر ہی مشتمل ہوتا ہے اور انسان ملتے جلتے ہوتے ہیں، تاہم یہ گذارش ضرور ہے کہ فکری سطح پر ہم لوگوں کو زیادہ غرض اس پہلو سے ہونا چاہئے کہ ہمارے اپنے نظام میں سیاسیات کا دائرہ اثر کیا ہے۔ جس دین کے مکمل ضابطہ حیات ہونے کا دعوی ایمان کا لازمی تقاضا ہے، اس کے حوالے سے سیاست کے مفہوم کی تفصیل فراہم کرنے کی کتنی صلاحیت اپنے اندر پاتے ہیں یا خود اس دعوی پر کتنا یقین رکھتے ہیں۔

تہذیب سے مراد اگر کسی قوم کا مجموعی مزاج اور اسکے عملی اظہار کی مختلف صورتیں لیا جائے تو غالب نظریات تہذیب کے حوالے سے تین بڑے فیصلے کرتی ہے۔ حق اور باطل کا تعین۔ خیر اور شر کی نشاندہی، اور حسن و قبح کا فیصلہ۔
سادہ لفظوں میں کہیں تو کیا درست ہے اور کیا غلط، کیا نیکی ہے اور کیا برائی، کیا خوبصورت ہے اور کیا بد صورت۔ سوالات کے ان تین جوڑوں اور ان کے سامنے اختیار کئے گئے جوابات سے ہی تہذیب کا مکمل چہرہ سامنے آ جاتا ہے۔ ان سوالات کے جواب طے کرنے کیلئے جن ماخذات کی طرف رجوع کیا جاتا ہے وہیں سے بات کھل جاتی ہے کہ ہم کس نظام اور کس فکر کے زیر اثر ہیں۔ دعوی چاہے جو بھی ہو۔
مصنف کی نظر میں اسلام کو غیر سیاسی کہنا ایک آفاقی نوعیت کا مذاق ہے۔ امید یہ ہے کہ اس تحریر کو پڑھنے کے بعد قاری کو بھی اندازہ ہوجائے گا کہ اسلام کو غیر سیاسی کہنا غلط کیوں ہے۔ حالات حاضرہ کے تناظر میں یہ بات چلتے چلتے سمجھ لینے کی ہے کہ ملک کے اندر سیکولرزم پھیلانے کی مہم پر جو پرجوش تبلیغی جماعتیں گشت کررہی ہیں یا ایسے سرگرم روشن خیال مفکرین جو ریاست کو بے دین ثابت کرنے کیلئے قلم توڑ علمی کاوشوں میں مصروف ہیں، دونوں ہی اسی ایک متضاد اصطلاح کے نیچے قائم ہونے والے ذیلی عنوانات ہیں۔ تاہم اس اصطلاح پر تنقید سے پہلے یہ دیکھنے کی ضرورت ہے کہ “سیاسی” یا سیاست کا مفہوم کیا ہے۔ مزید یہ کہ ہمارے ہاں دین کو سیاست سے جدا کرنے کی چنگیزی تحریک کے پیچھے کس قسم کی نفسیات کارفرما ہے اور اسکے ڈانڈے کہاں سے ملتے ہیں۔

سیاست” عربی زبان کا لفظ ہے۔ ثلاثی مجرد “سیس” سے مشتق، اردو میں من و عن منتقل ہوا اور بطور اسم استعمال ہوتا ہے۔ لغت میں اس کے معنی کسی ملک کا نظام حکومت، ملکی تدبیر و انتظام، طریقہِ حکومت، احتساب، حکومت کا قیام، حکومت کرنے کی حکمت عملی” بیان ہوئے ہیں۔ 1) “سیاست کیلئے انگریزی میں استعمال ہونے والا لفظ “پولیٹیکس” اُسی لفظ سے نکلا ہے جس سے ارسطو کی کتاب کا عنوان “پولیٹیکا” برآمد ہوا ہے۔ اس کا سادہ ترجمہ “شہر کے معاملات” کیا جانا چاہئے۔ پندرھویں صدی کی انگریزی میں اس لفظ کو polettiques لکھا گیا جو جدید انگریزی میں politics بن گیا۔ اس لفظ کی مفرد حالت politic پہلی مرتبہ 1430 ء میں انگریزی تحریروں میں نظر آئی جو فرانسیسی لفظ politique کا ترجمہ ہے۔ Poltique لاطینی زبان سے فرانسیسی میں منتقل ہوا جہاں یہ لفظ یونانی زبان کے لفظ politikos کے ترجمہ کے طور پر مستعمل تھا۔ جس کے معنی “شہریوں/ citizens سے متعلق معاملات، ریاست کے معاملات” درست ہیں۔ یوں polites سے citizen اور polis سے city )بن گئے” (2۔3۔4۔

سیاست کی ایک جدید مستعمل تعریف میریم ویبسٹر ڈکشنری میں یوں ہے:
“کسی حکومت یا ریاست کو اپنی حکمت عملی ترتیب دینے کیلئے رہنمائی فراہم کرنے اور اس ریاست کی پالیسیوں پر اثر انداز ہونے کیلئے بروئے کار لائے جانے والے علوم یا سرانجام دینے والے اعمال کا نام سیاست ہے” 5۔
وقت اور زمانے کی اپنی ایک رفتار اور ڈھب ہے، اکیسویں صدی کے جن حالات میں ہم نے آنکھ کھولی وہ پچھلی صدی اور اس سے پہلے کے تاریخی واقعات کا واحد منطقی انجام تھے۔ دستیاب تاریخ کا مطالعہ ہمیں بتاتا ہے کہ ابتدا میں مدینہ میں قائم ہونے والی ایک چھوٹی سی دینی ریاست جسکی اولین قیادت خدا کے آخری پیغمبر کے ہاتھ میں تھی، انکے اپنے تربیت یافتہ ساتھیوں اور پھر اس جماعت کے سرکردہ رہنماؤں کی زیر نگرانی بے مثال تیزی کیساتھ ابھری، پھیلی اور وقت کی بڑی طاقتوں کو للکارتی انکو زیر نگیں کرتی تیرہ صدیوں تک قائم رہنے والی ایک عظیم الشان بین الاقوامی سلطنت میں ڈھل گئی۔ اس سلطنت نے دنیا بھر کے علوم اور فنون کی سرپرستی کی، ان کو پروان چڑھایا اور اضافے کئے۔

وقت مزید گذرا اور بدلتی ہوئی دنیا اس قدر بدلی کہ اس عظیم سلطنت کو زوال آگیا۔ اسی دوران یا اس سے کچھ پہلے یورپ میں ایک ایسی جدید ریاست کا تصور پروان چڑھا جس نے دین اور مذہب کو اپنے امور سلطنت سے بے دخل کردیا۔ مسیحیت کو گرجا کے اندر مقفل کرکے اکثریت کی رائے کو امور سلطنت میں حتمی اختیار دیدیا اور یوں “جمہوریت” کو سیاسی نظام کے طور پر اپنالیا۔ تجارت اور منڈی سے طاقت حاصل کی اور عظیم الشان فوجیں تیار کیں۔ ملک کے ملک اس نئے نظام کے آگے گھٹنے ٹیکتے گئے یہاں تک کہ پوری دنیا پر یا تو اس نظام کی براہ راست حکومت قائم ہوگئی یا اسکی تجارتی اور سیاسی حلیف اور باجگزار بنادی گئی۔ علم اور فن کی سرپرستی ان طاقتوں نے اپنا لی، قابل قدر اضافے کئے اور اپنے اقتدار کو استحکام دینے کیلئے جدید علوم کا زبردست استعمال کیا۔

اقوام کے عروج وزوال کی داستان طویل بھی ہے اور پیچیدہ بھی۔ لیکن یہ طے ہے کہ ہر غالب قوم اپنے حکم کیساتھ ساتھ اپنا فلسفہ بھی مغلوب قوم پر لاگو کرتی ہے۔ زبان اور نظریات، عسکری اور سیاسی غلبے کے ساتھ ہی مغلوب قوم کے اندر پسندیدہ یا تو از خود ہوجاتے ہیں یا کردئے جاتے ہیں۔

ایسٹ انڈیا کمپنی اور اسکی پشت پر برطانیہ عظمی کا متحدہ ہندوستان پر تسلط بھی عروج اور زوال کی اسی مسلسل داستان کا ایک باب ہے۔ مغلیہ اسلامی سلطنت کے مغلوب ہوجانے کے بعد غالب قوم جب اپنے نظام سیاسیات اور زبان و نظریات کو ہندوستان میں رائج کررہی تھی، تب جو لوگ ایک نظام کے تحت غالب اقوام کی نظریات کو قبول کررہے تھے وہ ہمارے ہی باپ دادا تھے۔ اس تسلط کے خلاف کئی اٹھنے والی تحریکوں نے بعد میں تحریک پاکستان کی شکل اختیار کرلی اور نتیجہ کے طور پر بڑی تگ و دو اور بہت کچھ کھونے کے بعد ایک الگ مملکت حاصل کرلی گئی۔ صورتحال مگر یہ تھی کہ یہ نوزائیدہ مملکت بہرحال اُسی دنیا میں رہتی تھی جسکے آدھے حصے پر برطانیہ عظمی کی حکومت اب بھی قائم تھی۔ پھر برطانیہ کے جزوی زوال کیساتھ ریاست ہائے متحدہ امریکہ کو عروج ملا اور یورپی ممالک کی یونین امریکہ کے پہلو بہ پہلو دنیا پر حکمرانی کرنے لگی۔

اس نوزائیدہ مملکت کے شہریوں کو اس لئے ورثے میں غالب انگریز قوم کا فلسفہ اور اس کے خلاف مزاحمتی تحریکی مواد دونوں اطراف سے ہی حصہ ملا ہے۔ پاکستان کا قیام اس بات کا اگرچہ کافی ثبوت ہے کہ دونوں میں سے کونسا عنصر غالب رہا۔ تاہم ایک باریک نکتہ یہ ہے کہ غالب قوم کے فلسفہ سے کئی نظریات اس ملک کے تحریکی لوگوں کی سوچ میں بھی شامل اس بنیاد پر ہوگئے کہ ساری دنیا جس رنگ میں رنگی ہو اس سے دامن کو مکمل بچا کر رکھنا شاید ممکن نہیں۔

۔۔۔۔۔۔جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔

 

1. Urdu lughat.
2. The Diets and Sayings of the Philosophers(Early English Text Society, Original SeriesNo. 211, 1941; reprinted 1961), p. 154: “the book of Etiques and of Polettiques”.
3. Charlton T. Lewis, Charles Short. “A Latin Dictionary”. Perseus Digital Library. Retrieved 2016-02-19.
4. Henry George Liddell, Robert Scott.πολιτικός “A Greek-English Lexicon”Check |url= value (help). Perseus Digital Library. Retrieved 2016-02-19.
5. Merrium Webster Dictionary.

About Author

خالد ولی اللہ بلغاری. بلغار، گلگت بلتستان سے تعلق رکھتے ہیں۔ پیشہ ورانہ میدان طب ہے. فلسفہ کے علاوہ شعر و ادب اور موسیقی سے بھی دلچسپی رکھتے ہیں.۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: