صد سالہ اجتماع اور مجوزہ منشور انسانی: مجید رحمانی

0

قدرت ہر انسان کو کئی مواقع عطا کرتی ہے جب وہ اپنی زندگی کا اہم ترین فیصلہ کرنے کی پوزیشن میں ہوتا ہے۔
کچھ ایسی ہی صورت جماعتوں، معاشروں اور قوموں کو بھی درپیش ہوتی ہے جب وہ اپنے سفرِ زیست کو ایک نیا تعمیری موڑ دیتے ہیں یا دے سکتے ہیں۔

آئیے ہم اپنی گفتگو کا آغاز صد سالہ اجتماع کے افتتاحی اجلاس سے کرتے ہیں جس سے خطاب کرتے ہوئے امامِ کعبہ الشیخ صالح محمد ابراہیم الطالب نے تاریخی جملہ فرمایا کہ

‘اسلام دنیا کا واحد مذہب ہے جس میں دنیا کے ہر مذہب کااحترام کیاجاتا ہے۔

برِصغیر کی عظیم دینی اور علمی درسگاہ اور اس سے وابستہ علما و فضلا مولانا قاسم نانوتوی، مولانا رشید احمد گنگوہی، مولانا اشرف علی تھانوی، مولانا محمود الحسن، مولانا شبیر احمد عثمانی، مولانا سید حسین احمد مدنی اور مولانا مفتی محمود کی روایات اور اقدار کے پیروکاران کے سامنے اکیسویں صدی ایک چیلنج کے طور سامنے کھڑی ہے۔

18 ویں اور 19 صدی کے مسائل اور حالات سے دنیا بہت آگے نکل چکی ہے- استعماری قوتیں اب میڈیا اور ٹکنالوجی کے جدید ہتھیاروں سے لیس ہیں- عالمی سیاست کی بساط پر نئے شاطر اور نئے مہرے ہیں۔

قرائن بتاتےہیں کہ مسلم امہ کی بقا کافیصلہ جنوبی اور وسطی ایشیا کے خطے میں ہوگا۔
برِصغیر کے اہلِ سیاست بالعموم اور دینی حلقے بالخصوص منتظر ہیں کہ وادیِ پشاور کے دامن میں منعقد ہونے والے اجتماع کے قائدین مسقبل بیں کے طور قوم کو کیا معروضی راہ دکھاتے ہیں؟
یا پھر ماضی کے ورثے میں کوئی اضافہ یا ترمیم کئے بغیر اسے حرزِ جاں سمجھتے ہوئے شاہراہِ جمود پر قیام کئے کسی معجزے کے منتظر ہوں گے۔

گذشتہ دو صدیوں کےدوران برِ صغیر میں مسلمانوں کے سیاسی اور علمی عہدِ زوال میں دیوبند سے وابستہ اساتذہ اور طلبہ کا تحریکِ آزادی میں نمایاں کردار رہا ہے۔

علی گڑھ تحریک سے شدید علمی اور سیاسی محاذآرائی کے باوجود اہلِ دیوبند کے کردار, خلوص اور سیاسی خدمات سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔

اردو زبان کے فروغ میں شاعروں، ادیبوں، صحافیوں اور فلموں کے کردار کا ذکر کرتے ہوئے مدارس کے ان اساتذہ اور طلبہ کی خدمات کو بھلا دیا جاتا ہے جو اردو زبان اور اس کی پاکیزگی کو اب تک محفوظ رکھے ہوئے ہیں۔

آج جبکہ فیشن ایبل انگریزی اور میڈیائی آلودگی نے زبان و ادب کی حرمت کو پارہ پارہ کر رکھا ہے تو ہمیں یہ دینی درس گاہیں ہی اردو کی آخری پناہ گاہیں دکھائی دیتی ہیں۔

آج اس اجتماع کے آخری دن وطن کے سب اہلِ درد( ان اہلِ درد میں راقم سمیت جمعیت اور اس کی قیادت سے شدید اختلاف رکھنے والے دینی، دنیاوی، سیاسی، سیکولر , لبرل اور پروگریسو سوچ کے حامل لوگ بھی شامل ہیں ) منتظر ہیں ایک نئے منشورِ انسانی کے، جس کا اعلان جنوبی ایشیا کی عظیم درسگاہ کے ورثے کے امین پشاور کی سرزمین پر کریں گے۔

مجوزہ منشورِ انسانی کے اہم نکات

1- اکابرین دیوبند کے علمی اور دینی ورثے کے امین عہد کرتے ہیں کہ محترم امامِ کعبہ کے خطاب کا اولین نکتہ ہمارے نئے منشورِ انسانی کی اساس ہوگا۔

2- پاکستان میں مذہب اور مسلک کے نام پر کسی سے مذہبی, سیاسی, سماجی, معاشی اور ثقافتی نفرت, تعصب اور امتیاز روا نہیں رکھا جائے گا۔

3- اکابرین دیوبند نے تقسیمِ ہند کے وقت ہندو اکثریتی ریاست میں بطورِ ہندوستانی شہری متحدہ ہندوستان کو سیکولر ریاست قبول کرنے پر آمادگی ظاہر کی تھی۔ اسی اصول کی بنیاد پر تمام غیر مسلم پاکستانیوں کو یکساں انسانی حقوق حاصل ہوں گے۔

4- استعماری طاقتوں کے مسلم دشمن اقدامات کے خلاف سیاسی، سفارتی اور نظریاتی جدوجہد کو کو کسی ریاست اور اس کے شہری کے بجائے ان کی حکومتوں کی جانب منتقل کیا جائے گا۔

5- کرہِ ارض پر موجود ہر ریاست, اس کے آئین, شہری, روایات اور قومی پرچم کی حرمت کا احترام لازم ہوگا۔

6- کرہِ ارض کے تمام وسائل اور تسخیرِ کائنات تمام انسانوں کا مشترکہ ورثہ اور حق ہیں۔

7- صنفی بنیادوں پر مرد وعورت کے انسانی حقوق کی غیر منصفانہ تفریق غیر اسلامی اور غیر قانونی تصور کی جائے گی۔

8- مدارس کے نصاب اور طریقہِ تعلیم کو جدید خطوط پر استوار کرتے ہوئے عصری تقاضوں کے مطابق جدید مضامین شامل کئے جائیں گے۔

9- قرونِ اولیٰ میں بغداد اور قرطبہ کی درسگاہوں میں فلسفہ اور لسانیات لازمی مضامین ہوتے تھے- مدارس میں یہ مضامین لازمی تصور ہوں گے۔

10- علی گڑھ تحریک اور اور مکتبہِ دیوبند کے درمیان نظریاتی خلیج نے برِ صغیرکے مسلمانوں میں جو تفریق پیدا کی اسکی وجہ سے قوم دو متضاد دھاروں میں تقسیم ہوگئی۔ اس تقسیم کو ختم کرنے کے لیئے مدارس کے جید اساتذہ اور طلبہ کو انگریزی تعلیم کے اداروں سے رابطہ رکھنے اور عصری مسائل پر مکالمے کےلیئے ماحول پیدا کیا جائے گا-

مجید رحمانی. کراچی

About Author

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: