مولاناابوالکلام آزاد کی تحریریں: نقد ونظرکی کسوٹی پر (حصہ 5)

0

 کسی بھی معاشرے میں شخصیات کے مطالعہ کیلیے انکا تجزیہ انسانی سطح پر کیا جانا اسلیے ضروری ہوتا ہے کہ شخصیت پرستی کے بجاے انکے اعلی اوصاف حقیقی تناظر میں سامنے لاے جاسکیں۔ دانش کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ مولانا ابوالکلام آزاد کی شخصیت پر ایک جامع تحقیق و تنقید کا آغاز یہاں سے ہو رہا ہے۔ یہ اس سلسلے کا چوتھا مضمون ہے۔  زیر نظر مضمون شایع کرنے کا مقصد محض ایک علمی بحث کا آغاز ہے، اگر کوئی صاحب اسکے جواب میں کچھ لکھنا چاہیں تو دانش کا پلیٹ فارم موجود ہے۔

 

(5) مولانا آزاد کا سفرِ ایران، مصر و عراق

مولانا ابوالکلام آزاد نے اپنے بعض خطوط اور کتب میں اپنے سفرِ ایران، مصر و عراق اور شام کا تذکرہ کیا ہے۔ مگر اتنا متضاد کہ نہیں معلوم ہوتا یہ کس عمر اور سن کی بات ہے۔

؎ یہ معمہ ہے سمجھنے کا نہ سمجھانے کا

سب سے پہلے مولانا آزاد کے سفرِ مصر کا ذکر1940ء میں گاندھی کے پرائیویٹ سیکرٹری مسٹرمہادیو ڈیسائی نے مولانا آزاد پر انگریزی میں لکھی گئی سوانح میں کیا۔ جس کا کتاب ترجمہ مسٹر آصف عمل نے کیا۔ یہ کتاب مولانا آزاد سے کیے گئے سوالات کے مولانا آزاد کی طرف سے دیے گئے جوابات اور مولانا کی کتاب “تذکرہ” سے حاصل کی گئی معلومات سے تیار کی گئی تھی۔ مسٹر ڈیسائی نے لکھا۔

’’”وہ (یعنی مولانا آزاد کے والد) یہ چاہتے تھے کہ میں (یعنی مولانا آزاد) کسی نہ کسی طرح فاضل ترین علما ء کی جماعت میں اپنا نام پیدا کروں۔ لہٰذا انہوں نے مجھے 1905ء میں اپنے ذاتی مصارف سے مصر بھیجا تا کہ قاہرہ کی مشہور یونیورسٹی الازہر میں عربی تعلیم حاصل کر سکوں ۔ وہاں دو سال مقیم رہا اور 1907ء میں ہندوستان واپس آیا۔”‘‘

یہ کتاب چھپنے کے بعد سوال پوچھا جانے لگا کہ آیا مولانا آزاد نے واقعی الازہر سے تعلیم حاصل کی تھی ۔ مگر کہیں سے تردیدی یا توضیحی بیان نہ آیا۔ حالانکہ 1903ء اور1904ء میں مولانا کلکتہ میں’’لسان الصدق‘‘ کے ایڈیٹر تھے، 1905اور 1906میں’’الندوہ‘‘ کے پھر 1908تک’’الوکیل‘‘ کے ایڈیٹر رہے تھے۔ درمیان میں’’دارالسلطنت‘‘ اورپھرواپس’’الوکیل‘‘ امرتسر میں۔ جب باتیں زبانوں سے تحریر میں آئیں تو پھر17فروری1949ء کو’’نیا ہندوستان‘‘ میں مولانا آزاد کے حاشیہ نشین شاہد شیروانی نے ایک مضمون’’امام الہند‘‘ کے عنوان سے تحریر کیا۔ جس میں انہوں نے لکھا۔

’’”یہ غلط ہے کہ مولانا نے جامعہ الازہر قاہرہ میں تعلیم پائی ہے۔ مسٹر آصف علی کی طرح دوسرے سوانح نگاروں مہادیو ڈیسائی وغیرہ نے بھی دھوکا کھایا ہے۔ 1907میں مصر وغیرہ گئے تھے۔ ظاہر ہے اس وقت 18سال کی عمر تھی اور ہندوستان کی صحافتی اور علمی دنیا میں اپنے معرکتہ لآرا مضامین کی بدولت کافی شہرت و وقعت حاصل کر چکے تھے۔ تکمیلِ تعلیم 16-15کی عمر ہی میں ہو چکی تھی۔ یہ ضرور ہے کہ مولانا نے علامہ شبلی نعمانی مرحوم کی طرح اکابر جامعہ ازہر اور مفتی محمد عبدہ‘کے دارالعلوم کے شیوخ سے استفادہ کیااور ان کی علمی مجا لس کی زینت بنے، اس کی تحقیق24 جنوری 1947ء کی ایک ملاقات میں خود امام الہند سے کر چکا ہوں۔ اس سفر میں برادرِ گرامی غلام یٰسینِ آہ مرحوم بھی امام الہند کے ساتھ تھے۔ مگر وہ عراق سے واپس آگئے۔ اور مولانا 1907ء میں ایک سال کی سیر و سیاحت کے بعد واپس ہوئے۔”‘‘

مولانا آزاد سے بذاتِ خود پوچھنے کے بعد شاہد شیروانی نے اس بات کی تو تردید کر دی کہ آیا مولانا نے الازہر سے تعلیم حاصل کی تھی۔ مگر ساتھ ہی یہ بھی بتا دیا کہ وہ190ء میں اپنے بھائی کے ساتھ مصر اور پھر عراق گئے تھے۔ وہاں ان کے بھائی بیمار ہو گئے تھے وہ راستے سے واپس لوٹ آئے تھے۔ اسی طرح خود مولانا آزاد نے بھی ’’آزادی ہند‘‘ میں الازہر سے تعلیم حاصل کرنے کی یوں تردید کی۔

’’”اس موقع پر میں ایک غلطی کو درست کرنا چاہوں گاجسے مہا دیو ڈیسائی نے عام کیا تھا۔ انہوں نے جب میری سوانح عمری لکھی تو بہت سے سوال ترتیب دیے اور مجھ سے ان کے جواب کی فرمائش کی۔ ایک سوال کے جواب میں میں نے کہا کہ جب میری عمر بیس برس کے قریب تھی۔ میں نے مشرقِ وسطیٰ کا ایک دورہ کیا اور خاصا وقت مصر میں گزارا۔ ایک اور سوال کے جواب میں میں نے کہا تھا کہ روایتی تعلیم صرف ہندوستان ہی میں غیر تشفی بخش اور غیر موثر نہیں تھی بلکہ قاہرہ کی مشہور جامعہ الازہر کا حال بھی ایسا ہی تھا۔ مہادیوڈیوسائی نے ان جوابات سے کسی طرح یہ نتیجہ نکال لیا کہ میں مصر الازہر میں پڑھائی کی غرض سے گیا تھا۔ واقعہ یہ ہے کہ میں وہاں ایک روز کے لیے بھی طالبِ علم نہیں رہا۔ شاید یہ غلطی ان کے اس گمان سے پیدا ہوئی کہ اگرکسی شخص نے کچھ علم حاصل کیا ہے تو لازماً کسی یونیورسٹی میں کیا ہو گا۔ مہا دیو ڈیسائی کو جب پتہ چلا کہ میں کسی ہندوستانی یونیورسٹی کا طالبِ علم نہیں رہا تو انہوں نے یہ سمجھ لیا میں نے الازہر سے ضرور سند حاصل کی ہوگی۔” اس بیان سے یہ بات تو صاف ہوگئی کہ مولانا آزاد نے ازہرسے تعلیم حاصل نہیں کی تھی۔ ہاں وہ مصر اور عراق گئے تھے۔ اسی طرح “غبارِ خاطر” کے “خط16” میں ان کے لبنان و ایران میں گزارے دنوں کا تذکرہ بھی ہے۔ مگر سال کا ذکر نہیں۔

مولانا آزاد کی اپنی زندگی میں ہی، مولانا کے قریبی ساتھی مولانا سید سلیمان ندوی جو “الندوہ” میں ان کے ساتھ رہے تھے اور کچھ عرصہ الہلال میں بھی رہے، اشاروں کنایوں میں کہہ چکے تھے کہ مولانا ہندوستان سے باہر نہیں گئے۔ پھر ماہنامہ “برہان” میں مولوی میر محمد خاں صاحب، شہاب ماہر کوئلوی نے مولانا آزاد کے سفرِ مصر و ایران کو غلط قرار دیا۔ اس کے بعد 1951ء میں مولانا رئیس احمد جعفری نے اپنا مضمون مولانا ماہر القادری کو”فاران” میں چھپنے کے لیے بھیجا۔ جس میں بقول ماہر القادری دو ٹوک الفاظ میں مولانا آزاد کے سفرِ عراق و ایران کو افسا نہ ثابت کیا گیا تھا۔ یہ مضمون مولانا ماہر القادری نے شائع تو نہ کیا مگر تحقیقِ حال کے لیے 31اگست 1951ء کو مولانا آزاد کو ایک خط لکھا جس میں چند سوالات میں سے ایک سوال یہ بھی پوچھا تھا کہ مصر، عراق، ایران اور شام کے سفر آپ نے کس سن میں فرمائے تھے۔ اور شیوخ الازہر سے کس زمانے میں ملاقاتیں کی تھیں۔ مگر مولانا نے کوئی جواب نہ دیا۔ پھر رجسٹرڈ خط یاد دہانی کے لیے 18ستمبر 1951ء کو لکھا مگر مولانا نے اس کا بھی جواب دینے کی زحمت گوارا نہ کی۔

بڑے آدمیوں کے مرنے کے بعد ان کے وطن، سن پیدائش، تصانیف اور دوسرے حالات کے بارے میں تحقیق ہوتی رہتی ہے۔ اور طرح طرح کی بحثیں چلتی رہتی ہیں۔ ایک مصنف، ادیب، مفسر، عالم اور سیاسی رہنما کی زندگی میں ہی اس کے حالات پر بحث چھڑ جائے تو عظیم شخصیت پر اس کی ذمہ داری ہوتی ہے کہ وہ اپنے بارے صحیح معلومات دے کر بات کو صاف کر دے اور ان بحثوں کو مشتبہ اور مبہم نہ رہنے دے۔ مگرنہ جانے کیوں مولانا آزاد نے اپنے بیرونِ ہندوستان سفر کو کچھ زیادہ ہی مبہم رہنے دیا ۔

“آزاد کی کہانی” میں بھی سفرِ عراق کا تذکرہ موجود ہے۔۔ اس کتاب میں مولانا آزاد اپنے بھائی کا ذکر کرتے ہوئے بیان کرتے ہیں۔

’’”انہیں بلادِ اسلامیہ کی سیاحت کا بہت شوق تھا۔ چنانچہ اس سلسلے میں جب ایک ساتھی یعنی عبد الرحمان امر تسری مل گئے تو انہوں نے عراق کاارادہ کیا۔ عراق ہم دونوں ساتھ گئے۔ لیکن میں وہاں پہنچ کر سخت بیمار ہو گیا اور واپس چلا آیا اور وہ حافظہ صاحب کے ہمراہ موصل دیارِبکر شام کی طرف گئے۔ وہیں بیمارہو گئے۔ انگریزی قونصل کے ذریعہ بغداد پہنچائے گئے۔ اتفاق سے مسٹر سجاد حیدر اس وقت بغداد میں قونصل خانے میں اسٹنٹی پر موجود تھے۔ انہوں نے ہمدردری کی اور بمبئی میں والد کو مطلع کر دیا۔ بہر حال برٹش قونصل کے ذریعے سے روپیہ بھیجا گیا اور وہ بمبئی آئے۔ حد درجہ نحیف تھے۔ بالآخر چند ماہ بعد 1907ء میں راہ گزارِ عدم ہوئے۔” اب قارئین ذرا غور کریں۔ شاہد شیروانی کا بھی کہنا ہے کہ مولانا آزاد اپنے بھائی کے ساتھ عراق و شام گئے تھے اور”آزاد کی کہانی” بھی یہی کہتی ہے کہ دونوں بھائی اکٹھے گئے تھے۔ مگر شاہد شیروانی کے مولانا آزاد سے پوچھے ہوئے بیان کے مطابق مولانا کے بڑے بھائی عراق میں بیمار ہو گئے تھے اور وہ واپس آگئے تھے جبکہ مولانا آزاد ایک سال کی سیاحت کے بعدواپس لوٹے۔ مگر”آزاد کی کہانی” بتاتی ہے کہ مولانا پہلے خود بیمار ہو کر عراق سے واپس لوٹ آئے تھے اور ان کے بھائی شام چلے گئے تھے۔ وہیں بیمار ہوئے اور پھر واپس لائے گئے۔ دونوں بیانوں میں کھلا تضاد ہے۔ اسی طرح “آزاد کی کہانی” میں اگرچہ مولانا کے بھائی کے انتقال کا سال 1907ء لکھا ہے جو کہ درست نہیں ہے۔ کیونکہ ان کا انتقال 1906ء میں ہوا تھا جس کا ثبوت وصل بلگرامی کا وہ تعزیتی مضمون ہے جو انہوں نے رسالہ “عالمگیر” میں اکتوبر1906ء میں لکھا۔ وہ لکھتے ہیں

’’”مولوی ابو النصر غلام یٰسین آہ دہلوی مرحوم نہایت لائق مضمون نویس اور عمدہ شاعر تھے۔ آپ کا کلام خدنگ نظر اور دیگر علمی رسالوں میں شائع ہوتا رہا ہے۔ حال ہی میں آپ اسلامی ممالک کی سیر کو گئے تھے۔ وہاں سے آتے ہی آپ کا انتقال ہو گیا۔”‘‘

اس مضمون سے ایک تو یہ ثابت ہوا کہ مولانا آزاد کے بھائی اسلامی ممالک کی سیر کو گئے تھے اور دوسرا یہ کہ یہ سفر 1905ء اور 1906ء میں ہی ہوا تھا۔ اگر مولانا آزاد ساتھ تھے تو وصل بلگرامی یہ ضرور لکھتے کہ وہ بھی بھائی کے ساتھ تھے۔ چونکہ وصل بلگرامی غلام یٰسین آہ سے ذاتی مراسم رکھتے تھے۔ پھر مولانا آزاد 06-1905 میں جا بھی کیسے سکتے ہیں کیونکہ یہ بات پہلے بتائی جا چکی کہ 06-1905ء میں وہ’’الندوہ‘‘ لکھنو کے ایڈیٹر تھے۔ وہاں سے ان کے مضمون چھپ رہے تھے۔ لہٰذا ان سالوں میں ان کا کسی غیر ملک کا سفر نا ممکن ہے۔ 1902سے 1905ء میں مولانا آزاد ’’لسان الصدق‘‘ نکال رہے تھے۔ 1906ء سے 1908ء تک وہ ’’الوکیل‘‘ اور دارالسلطنت کے ایڈیٹر تھے۔ یہ تو ایک معمہ ہے۔ اگر مولانا آزاد کا کوئی مرید اسے حل کر سکے تو اور بات ہے۔ ورنہ مولانا رئیس احمد جعفری اور مولانا ماہر القادری کا مولانا آزاد کے سفرِ ایران و عراق کو افسانہ کہنا کسی طرح بھی غلط نہیں لگتا۔

بیرونِ ہندوستان مولانا ابوالکلام آزاد کے سفر کا تذکرہ “آزادی ہند” میں بھی ملتا ہے۔ 1905ء میں بنگال کی تقسیم اور وہاں کے انقلابی ورکروں سے اپنے میل جول کے واقعات کے بعد مولانا فرماتے ہیں۔ “یہی وہ زمانہ تھاجب مجھے ہندوستان سے باہر جانے اور عراق، مصر، شام اور ترکی کا ایک دورہ کرنے کاموقع ملا۔ 1908ء میں جب میں نے قاہرہ کا سفر کیا، اس وقت الازہر کا انتظام اتنا ناقص تھا کہ اس سے نہ تو دینی تربیت ملتی تھی اور نہ قدیم اسلامی علوم اور فلسفے کا کچھ علم حاصل ہو سکتا تھا۔ مصر سے میں ترکی اور فرانس گیا اور وہاں میرا ارادہ لندن جانے کا تھا۔ مجھ سے یہ نہیں ہو سکاکیونکہ مجھے یہ خبر ملی کہ میرے والد بیمار ہیں۔ میں پیرس سے واپس آگیا اور بعد کے بہت برسوں تک لندن نہیں دیکھ سکا۔”‘‘

پہلے ہی مولانا آزاد کے بیرونِ ہندوستان سفر کے متعلق سوالات تھوڑے تھے کہ مولانا کے آخری زندگی کے اس بیان نے ان میں مزید اضافہ کر دیا۔ پہلے ایران، عراق، مصر اور شام کے سفر کے تذکرے تھے اور اب ترکی اور فرانس بھی شامل ہو گئے۔ مولانا آزاد کے والد کا انتقال اگست 1908میں ہوا تھا۔ لہٰذا مولانا کا مذکورہ بالا سفر اس سے پہلے ہی ہونا چاہئے کیونکہ مولانا فرماتے ہیں وہیں مجھے اپنے والد کی بیماری کی اطلاع ملی مگر ہم پہلے ہی بتا چکے 1907ء اور 1908ء میں مولانا آزاد اخبار’’الوکیل‘‘ امرتسر کے ایڈیٹر تھے۔ یہ تو ہو نہیں سکتا کہ ہندوستان میں کسی اخبار کے ایڈیٹر بھی ہوں اور ادھر کئی ممالک کی سیر و سیاحت بھی فرما رہے ہوں۔

قارئیں کی دلچسپی کے لیے ضروری معلوم ہوتا ہے کہ اس زمانے میں مولانا کی صحافتی مصروفیات کا خاکہ پیش کر دیا جائے تا کہ کوئی ابہام نہ رہے۔ مولانا آزاد نے 1899ء میں’’نیرنگِ عالم‘‘ اور 1901ء میں ’’المصباح‘‘ کا اجرا ء کیا۔ پھر نومبر1903ء میں’’لسان الصدق‘‘جاری کیا جس کا آخری شمارہ 1905ء میں شائع ہوا۔ ’’لسان الصدق‘‘ کا عکسی ایڈیشن شائع ہو چکا ہے جس سے تاریخوں کی تصدیق ہو جاتی ہے۔ اس کے بعد مولانا شبلی نے انہیں لکھنئو بلا لیاجہاں وہ اکتوبر 1905سے اپریل 1906ء تک’’الندوہ‘‘کے ایڈیٹر رہے۔ جس میں چھپنے والے مضامین تاریخوار کتابی صورت میں شائع ہو چکے ہیں۔ یہاں سے وہ امر تسر آگئے اور اخبار’’الوکیل‘‘ کے ایڈیٹر بن گئے۔ یہ جون جولائی 1906ء کی بات ہے کچھ عرصہ والد کے بلانے پر کلکتہ چلے گئے جہاں وہ اخبار’’دارالسلطنت‘‘ کی ادارت کرتے رہے۔ والد سے اجازت لے کر اگست 1907ء میں دوبارہ امر تسر آگئے اور ’’الوکیل‘‘ کی ادارت سنبھال لی۔ اور اگست1908ء تک ’’الوکیل‘‘ کے ایڈیٹر کی حیثیت سے کام کرتے رہے۔

ایک طرف مولانا آزاد کی ان مصروفیات کو ذہن میں رکھئے اور دوسری طرف ان کے بیرونِ ہندوستان کے انتہائی متضاد بیانات کو پڑھئے۔ 1899سے لے کر اگست 1908تک کے درمیان چند ماہ بھی ایسے نہیں ملتے جب وہ کسی رسالے یا اخبار سے منسلک نہ ہوں۔ مگر دعویٰ ہے سیر و سیاحت کا۔ پھر اگر کسی نے ان اسفار کو ہوائی باتیں کہا ہے تو بجا ہی لگتا ہے۔ آخر میں ایک اور حوالے کا ذکر بھی ضروری ہے تا کہ اس سلسلے میں مزید کسی سوال کی گنجائش نہ رہے۔ مولانا آزاد کے انتقال کے بعد مولانا آزاد کےسیکرٹری ہمایوں کبیر نے انگریزی میں مولانا پر ایک کتاب مرتب کی تھی جس میں مشہور فرانسیسی مستشرق لوئی ماسینوں کے ایک مضمون کا حوالہ تھا۔

’’”ان (مولانا آزاد) سے میری ملاقات پچاس سال پہلے 1908-1907میں بغداد میں ہوئی تھی۔ ہم مسجد مرجان میں ملے تھے۔ ہم دونوں اپنے محترم استاد الحاج علی آلوسی کے شاگرد تھے۔ جن کا مرقد اسی مسجد میں ہے۔” یہ حوالہ معلوم نہیں کہاں سے ہاتھ لگا یا لگایا گیا اور مولانا کے مریدین اچھل پڑے کہ دیکھئے۔ مولانا آزاد کے جس سفرِ عراق کو افسانہ کہا جا رہا تھا اس کا ثبوت مل گیااور ناقدین کو اپنی زبانیں بند کر دینی چاہئیں۔

مگر کہاں جناب!پرنالہ وہیں کا وہیں رہا۔ ایک تو مولانا آزاد نے کبھی نہیں کہا کہ وہ باہر کے کسی عالم کے شاگرد بھی رہے۔ اور اس کی تردید(یعنی باہر کسی ملک میں تعلیم) وہ مہا دیوڈیسائی کی غلط فہمی دور کرنے کے ضمن میں فرما چکے۔ دوسرا پھر اس حوالے میں سن1907اور 1908ء کا ذکر ہے جبکہ ہم بتا چکے اس وقت مولانا آزاد’’الوکیل‘‘ امر تسر کے ایڈیٹر تھے۔

اور آخری بات یہ کہ لوئی ماسینوں کا جو حوالہ دیا گیا اس کی تردید خود لوئی ماسینوں نے کر دی تھی۔ 1968ء میں ابو سلمان شاہجہاں پوری نے مولانا کے خطوط کا ایک مجموعہ’’مکا تیب ابو الکلام آزاد‘‘ کے نام سے مرتب کیا تھا۔ جس پر مولانا ماہر القادری نے اپنے رسالے’’فاران‘‘ میں تبصرہ کیا تھا اور اسی میں لوئی ماسینوں کے مولانا آزاد سے متعلق اوپر دیئے گئے مضمون کا حوالہ بھی آیا تھا۔ ابو سلمان شاہجہاں پوری نے مجموعے کے دیباچے میں لکھا تھا کہ ’’دنوں تک یہ بات موضوعِ گفتگو بنی رہی کہ آیا یہ واقعہ ہے یا محض افسانہ سرائی (یعنی سفرِ عراق) یہ غلط فہمی حضرت علامہ سید سلیمان ندوی نور اللہ مرقدہ کے بعض جملوں سے پیدا ہوئی۔ فرانسیسی مستشرق کی اس شہادت نے تمام شبہات کو دور کر دیا ہے۔ اب اس مسئلہ میں کوئی اختلاف نہیں رہا۔‘‘ یہ شمارہ پڑھنے کے بعد فرانس سے نامور عالم ڈاکٹر محمد حمید اللہ مرحوم نے ایک مکتوب مولانا ماہر القادری کے نام بھیجا تھا۔ جس میں انہوں نے فرمایا۔

“دسمبر کے’’فاران‘‘ میں’’مکاتیبِ ابوالکلام آزاد‘‘ اور ابو سلمان شاہجہان پوری پر تنقید چھپی ہے۔ صفحہ 59-58پر مولانا ابو الکلام کے سفرِ عراق پر لوئی ماسینوں کے بیان سے استدلال کا ذکر ہے۔ لوئی ماسینوں اب انجہانی ہو چکے ہیں۔ آٹھ دس سال کی بات ہے۔ ایک دن وہ مجھ سے پوچھنے لگے کہ آیا ابو الکلام کبھی بغداد گئے تھے میں نے لا علمی کا اظہار کیاتو پریشانی کے انداز میں کہنے لگے کہ کوئی صاحب مجھ سے دریافت کر رہے ہیں اور ایک بیان سے استدلال کرنا چاہتے ہیں۔ مگر مجھے کچھ علم نہیں۔ ممکن ہے یہ ابو سلمان صاحب ہی کے خط کا معاملہ ہو۔ اگر ایسا ہے تو مناسب ہے کہ وہ لوئی ماسینوں کے تازہ تر بیان کو بھی شائع کریں۔ محض کسی پرانے بیان پر اکتفا نہ کریں۔ ابو الکلام عراق گئے تھے تو، نہ گئے تھے تو، ان کی عظمت میں نہ کمی ہوتی ہے نہ زیادتی۔”‘‘

ڈاکٹر حمید اللہ صاحب کا فرمانا تو خوب ہے کہ سفرِ عراق کے اثباق و نفی سے مولانا آزاد کی عظمت میں نہ کمی ہوتی ہے نہ زیادتی۔ پر اگر یہ سفر ہوا ہی نہیں اور یہ محض افسانہ آرائی ہے تو پھر یقینا” فرق پڑتا ہے۔

۔۔۔۔جاری ہے۔۔۔۔۔۔

اس تحریر کا پہلا حصہ اس لنک پہ ملاحظہ کریں۔

اس تحریر کا دوسرا حصہ اس لنک پہ ملاحظہ کریں۔

اس تحریر کا تیسرا حصہ اس لنک پہ ملاحظہ کریں۔

اس تحریر کا چوتھا حصہ اس لنک پہ ملاحظہ کریں۔

About Author

Daanish webdesk.

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: