فاینانس ایوارڈزکی تاریخ : معیشت اور عوام کا نصیب: (11) لالہ صحرائی

0
  • 1
    Share

 

[فائنانس ایوارڈز کا پہلا دور]

قیام پاکستان کے بعد پہلا بجٹ حضرت قائد اعظم علیہ رحمۃ کی موجودگی میں ہی بنا تھا، یہ بات اسی موقع پر طے ہو گئی تھی کہ قومی آمدنی کس فارمولے کے تحت تقسیم کی جائے گی، یہ قانون ہمارا اپنا ہونا چاہئے تھا لیکن نوزائیدہ مملکت کے پاس ایک تو کوئی بڑی آمدنی نہیں تھی، دوسری طرف جو دولت تقسیم کے وقت متحدہ ہندوستان کے خزانے سے ہمیں ملنی چاہئے تھی وہ بھی کشمیر کی طرح برٹش گورنمنٹ اور بنیئے کی “منصفانہ پالیسی” کی نذر ہوچکی تھی، مہاجرین کی آمد، حکومتی مسائل اور دیگر معاملات کا بوجھ اسقدر زیادہ تھا کہ آئینِ پاکستان کی تشکیل سمیت ہر چیز ایک مختصر وقت میں انجام دینا کسی طور بھی ممکن نہیں تھا لہذا بجٹنگ کیلئے ایک مستعار شدہ فارمولا اختیار کر لیا گیا جو اسوقت تک مشاہیران پاکستان کے درمیان متفق علیہ بھی تھا بلکہ اس کے علاوہ کوئی دوسرا آپشن بھی موجود نہیں تھا۔

 

تقسیم سے پہلے ہندوستان میں ریوینیو کلیکشن اور ایوارڈز کیلئے انگریزوں کا قانون گورنمنٹ آف انڈیا فائنانس ایکٹ 1935 کے نام سے لاگو تھا، تقسیم کے بعد مالی معاملات چلانے کیلئے پاکستان اور انڈیا میں دونوں طرف ہی اس قانون کا طریقہ اختیار کر لیا گیا، اس طریقہ کار میں سیلزٹیکس اور لوکل ٹیکسز صوبائی حکومتیں وصول کرتیں اور انکم ٹیکس مرکزی حکومت وصول کیا کرتی تھی، پھر بجٹ کے موقع پر انکم ٹیکس کی کل سالانہ آمدنی کا پچاس فیصد مرکز اپنے بجٹ کیلئے رکھتا اور بقایا پچاس فیصد رقوم فی کس آبادی کی بنیاد پر تمام صوبوں میں بانٹ دی جاتی تھیں، اس ایوارڈ کو نیمیار ایوارڈ Niemeyer Award کہا جاتا تھا جو پانچ سال کیلئے جاری ہوتا تھا۔

 

اس قانون کے تحت قیام پاکستان کے بعد مغربی اور مشرقی دونوں حصوں سے مرکز صرف انکم ٹیکس وصول کرتا تھا، اس آمدنی میں سے فیڈرل گورنمنٹ اپنے اخراجات اور افواج پاکستان کا بجٹ ایلوکیٹ کرنے کیلئے 50% رقم اپنے پاس رکھتی اور بقیہ 50% رقم نیمیار ایوارڈ کے تحت دونوں ون۔یونٹوں یعنی مشرقی اور مغربی پاکستان میں آبادی کے تناسب سے تقسیم کر دی جاتی تھی جبکہ لوکل سطح پر اکٹھے کئے جانے والے ہرقسم کے دیگر ٹیکسز بشمول سیلزٹیکس دونوں ون یونٹس اپنے اپنے پاس ہی رکھتے تھے۔

 

1948 میں پاکستان کا پہلا بجٹ 89 کروڑ 57 لاکھ روپے تھا۔

1949 میں ایک ارب، گیارہ کروڑ، اٹھائیس لاکھ روپے تھا۔

1950 میں ایک ارب، پندرہ کروڑ، چونسٹھ لاکھ روپے تھا۔

1951 میں ایک ارب، انسٹھ کروڑ، پچاسی لاکھ روپے تھا۔

 

[فائنانس ایوارڈز کا دوسرا دور]

انکم ٹیکس کی مد میں اکٹھی کی جانے والی رقم کا پچاس فیصد حصہ ایک نوزائیدہ مملکت کے بنیادی تقاضوں کیلئے بھی ناکافی تھا کجا یہ کہ اس سے کوئی ترقیاتی کام شروع کیا جا سکتا لہذا مالیاتی ایوارڈ کو ری۔ڈیزائن کرنا پڑا جس کی وجہ سے مرکز اور ون۔یونٹوں کے درمیان اختلاف کی ایک بنیاد پڑ گئی۔

 

1951 میں مرکز نے یہ تقاضا کیا کہ انکم ٹیکس کے ریوینیو سے ملنے والی 50% رقم مرکزی حکومت کے اخراجات، معاشی اصلاحات، فوجی بجٹ، مواصلات، انفراسٹرکچر اور دیگر درپیش چیلنجز سے نمٹنے کیلئے قطعاً ناکافی ہے لہذا یہ ایک بڑی معقول وجہ ہے کہ جس کے تحت سیلزٹیکس کی آمدنی دونوں ون۔یونٹوں سے لے کر مرکز اپنے ہاتھ میں رکھ لے تاکہ بجٹ کا خسارہ اور دیگر ضروریات پوری ہو سکیں۔

 

خسارے کی صورتحال یہاں تک مخدوش تھی کہ ایسٹیبلشمنٹ کی تنخواہیں ادا کرنے کیلئے حکومت کے پاس ایک پائی پیسہ تک نہیں تھا، اس موقع پر لیاقت علی خان صاحب کی گزارش پر کراچی کے بڑے بڑے سوداگروں نے دل کھول کر عطیات بھی دیئے جن میں ولیکا ٹیکسٹائل والوں سے بڑی قربانی کسی کی نہیں تھی، ولی بھائی ولیکا جی نے لیاقت علی خان صاحب کو اپنے ذاتی اکاؤنٹ کے متعدد بلینک چیکس پیش کئے تھے تاکہ حکومت اپنے پاؤں پر کھڑی ہو سکے۔

 

انہی وجوہات کی بنا پر بیرونی قرضوں کی راہ بھی کھولنی پڑی، پہلے قرضے کی دستاویز 2 فروری 1951 کو امریکہ کیساتھ سائین ہوئی تھی اس میں قرضے کی مقدار کا کوئی ذکر نہیں کیا گیا، پھر دوسرے قرضے کا معاہدہ 27 مارچ 1952 کو انٹرنیشنل بینک فار ری۔کنسٹرکشن اینڈ ڈویلپمنٹ IBRD کیساتھ طے پایا جس کی مقدار 27.2 ملیئن ڈالر تھی جو پاکستانی کرنسی میں تقریباً 10 کروڑ روپے بنتے تھے۔

 

ان حالات میں ایک نئی مالیاتی سکیم کی ازحد ضرورت تھی، اس مقصد کیلئے قائد ملت لیاقت علی خان صاحب نے سر جیریمی ریزمین Sir Jeremy Raisman کو ایک ایسا فارمولہ ترتیب دینے کی ذمہ داری سونپی جو مرکز اور صوبوں کو دونوں طرف کفایت کرے، اس نئے فارمولے کو ریزمین ایوارڈ Raisman Award کا نام دیا گیا اور مالیاتی تقسیم کیلئے اسے پہلی بار 1952 میں اختیار کیا گیا۔

 

ریزمین نے انکم ٹیکس کیساتھ سیلز ٹیکس کو بھی مرکزی کلیکشن میں شامل کر لیا، پھر انکم ٹیکس کی ٹوٹل سالانہ کلیکشن کا 45 فیصد اور سیلزٹیکس کا 30 فیصد اور کبھی 50 فیصد دونوں یونٹوں کو واپس کر دیا جاتا، ان ایوارڈز میں حسب سابق آبادی کو بنیاد بنانے کی بجائے جی۔این۔پی یا گراس نیشنل پروڈکشن اور ٹیکس کلیکشن کی بنیاد پہ حصہ بانٹا جاتا تھا، اگر آبادی کو بنیاد بنایا جاتا تو پھر مشرقی پاکستان کو زیادہ حصہ ملتا کیونکہ ان کی آبادی مغربی پاکستان سے بہرحال زیادہ تھی جبکہ پروڈکشن اور کلیکشن یہاں کی زیادہ تھی۔

 

ریزمین کے تحت ابتداء میں تقسیم کا فارمولا وہی تھا جو اوپر بیان کیا گیا لیکن وقت کیساتھ ساتھ بڑھتی ہوئی ضرورتوں کے تحت حصے کا توازن مرکز کے حق میں زیادہ ہوتا گیا، 1961، 1964 اور 1970 میں جو تین ایوارڈ جاری کئے گئے ان میں پہلے پانچ سال کا ریشو وہی تھا، دوسرے پانچ سالوں کیلئے مرکز کو 65 فیصد اور یونٹس کو 35 فیصد جبکہ 1970 کے ایوارڈ میں مرکز کو 80 فیصد اور یونٹوں کو 20 فیصد ملنے لگا۔

 

پھر اس 20 فیصد حصے کا 55% موجودہ پاکستان کو اور 45% مشرقی پاکستان کو ملتا تھا، ون۔یونٹوں سے یہ رقم پھر لوکل گورنمنٹس کو منتقل ہوتی تھی اس حساب سے مغربی پاکستان کے حصے میں آنے والے 55% فنڈز موجودہ چاروں صوبوں میں آبادی کے ریشو سے تقسیم کئے جاتے جس میں سے پنجاب کو 56.5%… سندھ کو 23.5%… سرحد کو 15.5%… اور بلوچستان کو 4.5%حصہ ملتا تھا، یہ ماضی کے بینچ مارک بہت محنت سے ترتیب دیئے گئے ہیں تاکہ اس سے پچھلے اور اگلے چیپٹرز سے موازنہ کرکے آپ واضع طور پر دیکھ سکیں کہ آج جو کچھ بھی ہمارے موجودہ صوبوں کو مل رہا ہے اس میں ماضی کے مقابلے میں کوئی کمی واقع ہوئی ہے یا اضافہ ہوا ہے؟

 

اس تناؤ میں تیسرا فیکٹر یہ داخل ہوا کہ دارلخلافہ بھی چونکہ مغربی پاکستان میں تھا اس لئے ایوارڈ کے بعد مرکزی فنڈز اور صوبائی فنڈز دونوں اسی طرف رہ جاتے اور بنگال کی طرف کم رقم جاتی جس نے بنگالیوں کو کافی بدگمان کر دیا تھا، مشرقی پاکستان کی علیحدگی کی وجوہات میں یہ بھی ایک خاص وجہ بیان کی جاتی ہے۔

 

سچ تو یہ ہے کہ مرکز کی ضروریات پوری کئے بغیر بھی فیڈریشن نہیں چل سکتی اور صوبوں کو راضی رکھنا بھی ضروری ہوتا ہے لیکن جب صوبوں نے اس بات کو قبول کر لیا تھا کہ تقسیم پروڈکشن اور کلیکشن کی بنیاد پر ہوگی تو صرف پانچ فیصد کے جینوئین فرق کیلئے بنگال کا مغربی پاکستان سے بدگمان ہونا کسی طور بھی مناسب نہیں تھا البتہ مرکز کیساتھ ریشو کا توازن درست کرلیا جاتا تو مشرقی پاکستان کا مالیاتی حصہ بھی خودبخود بڑھ جاتا، پھر یہ بھی ایک سچائی ہے کہ جب کلیکش کے کلیئے پر اتفاق رائے ہوا تو بنگال نے کہا پھر ہماری جیوٹ یعنی پٹ۔سن کی پروڈکشن اور پروسیڈز پر ہمیں بھی رائلٹی ملنی چاہئے، یہ دعوٰی نہ صرف تسلیم کر لیا گیا بلکہ اس کا حصہ بھی انہیں دیا جاتا رہا تھا لیکن جب نیتوں میں ہی فتور ہو تو پھر کوئی علاج کارگر نہیں ہوتا لہذا بہت سی وجوہات کی بنیاد پر بنگال علیحدہ ہوگیا۔

 

1952 میں پاکستان کا بجٹ، ایک ارب، اٹھاون کروڑ، بیالس لاکھ تھا۔

1960 میں ایک ارب، انسٹھ کروڑ، پچانوے لاکھ تھا۔

1970 میں آٹھ ارب، چونسٹھ کروڑ، پینتالیس لاکھ تھا۔

1971 میں آٹھ ارب، ستتر کروڑ، چوالیس لاکھ تھا۔

 

[فائنانس ایوارڈز کا تیسرا دور]

بنگال کی علیحدگی کے بعد جب 73 کے آئین کی بنیاد رکھی گئی تو مالیاتی تقسیم کیلئے اس وقت تک صرف دو ہی کلیئے موجود تھے اور اپنے اپنے وقتوں میں دونوں کلیئے استعمال بھی ہو چکے تھے، ان دونوں کے نتائج بھی سب کے دیکھے بھالے تھے کہ پہلے کلیئے میں مرکز کا گزارا نہیں ہوتا تھا تو دوسرے کلیئے میں دیگر بدمزگیوں کا خدشہ درپیش تھا۔

 

اس موقع پر کوئی نیا کلیہ بھی بنایا جا سکتا تھا لیکن محدود وسائل میں کسی کمپاؤنڈ فارمولے کی گنجائش نہیں ہوتی لہذا این۔ایف۔سی ایوارڈ کیلئے دوبارہ سے نیمیار کی طرز کا کلیہ اختیار کر لیا گیا کہ کل ریوینیو کلیکشن کا 60% مرکز رکھے اور بقیہ 40% چاروں صوبوں میں آبادی کے حساب سے تقسیم کر دیا جائے، یہ ایک برابری کی سطح کا اصول تھا تاکہ ہر صوبے کو فی کس آبادی کے حساب سے فنڈز مل جائیں پھر جس کا جیسے جی چاہے وہ اپنے صوبے کیلئے اپنی ترجیحات کے مطابق اس فنڈ کو استعمال کرے۔

 

اگر ریز مین جیسا کلیہ اختیار کیا جاتا تو لازمی طور پر پنجاب کے ملٹیپلائینگ فیکٹرز کی وجہ سے پنجاب کو زیادہ فنڈز ملتے جو پھر سے بدگمانی کا باعث بنتے، اس سے قبل بھی پنجاب کے انہی فیکٹرز کی وجہ سے موجودہ پاکستان کو زیادہ فنڈز ملتے تھے جس کا فائدہ سندھ، سرحد اور بلوچستان کو بھی ہوتا تھا لیکن بنگال سے بدنامی اور گالیاں صرف پنجاب کے حصے میں آتی تھیں۔

 

73 کے نئے نظام میں پنجاب کیلئے یہی بہتر تھا کہ چاہے کچھ مالی نقصان برداشت کرلیا جائے لیکن اپنے سر کوئی الزام نہ لیا جائے لہذا یہی اس نے کیا ورنہ جی۔این۔پی کے ایڈوانٹیج پر اسے زیادہ حصہ ملتا جو اس وقت کل پیداوار کا 57% پروڈیوس کر رہا تھا اور ٹیکس کلیکشن بھی زیادہ تھی لیکن ان مفادات کو بھائی چارے پر قربان کر دیا اور سٹیپ۔ڈاؤن کرکے برابری کی سطح پر آکھڑا ہوا۔

 

اس طرح 73 کے آئین میں مالیاتی تقسیم کیلئے قیام پاکستان کے بعد والے اسی پہلے فارمولے کو این۔ایف۔سی ایوارڈ کے نام سے سب نے متفقہ طور پر قبول کر لیا جس میں ایوارڈ کی رقم کو کل ملکی آبادی پر تقسیم کرکے جو ریٹ برآمد ہوتا اسے ہر صوبے کی آبادی کیساتھ ضرب دے کر اس صوبے کو اتنی رقم دے دی جاتی تھی، اس طریقے سے جب فنڈ تقسیم ہونے لگے تو چونکہ پنجاب کی آبادی سب سے زیادہ تھی، آج بھی بیس کروڑ میں دس کروڑ سے زیادہ پنجابی ہیں، اسلئے پنجاب کو 57% کے قریب اور بقیہ میں سندھ کو 23%… سرحد کو 16%… اور بلوچستان کو 4% تک رقم ملنے لگی۔

(ان فیصدوں کو راؤنڈ۔آف کرکے بتایا ہے اسلئے اعشاریہ کے بعد یعنی decimal fraction کا معمولی سا فرق ہو سکتا ہے)۔

 

اس صورتحال کو بھی ٹھنڈے پیٹوں کسی نے قبول نہیں کیا بلکہ بعد کے ادوار میں دیگر صوبوں نے بار بار مختلف آوازیں اٹھائیں کہ این۔ایف۔سی کو سنگل فیکٹر رکھنے کی بجائے فلاں فلاں فیکٹرز بھی اس فارمولے میں ڈالے جائیں تاکہ ہمیں زیادہ رقوم مل سکیں ورنہ تو سب کچھ پنجاب کھا گیا، پنجاب کی غلطی صرف اتنی ہے کہ اس نے اپنے نام اور جغرافیائی نقشے کو تقسیم کرنے کی جرات نہیں کی ورنہ اس کے پانچ صوبے بنائے جاتے تو پنجاب کے ہر صوبے کو بھی بلوچستان جتنا ہی فنڈ ملتا جو کسی اعتراض کا باعث نہ بنتا لیکن اتنی بڑی آبادی کیلئے بڑا فنڈ اٹھاتے ہوئے سب کو یہی محسوس ہوتا ہے کہ پنجاب سب کچھ لے گیا حالانکہ وہ حصہ فارمولے کے اعتبار سے برابر کا ہوتا ہے۔

 

تاریخ کے اوراق انسانی سوچ کی چغلی اس طرح سے کھاتے ہیں کہ مٹھی بھر متعصب لوگوں کی نظر میں برابری کی بنیاد پر نیمیار ایوارڈ بھی غلط تھا، صلاحیتوں کی بنیاد پر ریزمین ایوارڈ بھی غلط تھا اور پھر سے برابری کی بنیاد پر این۔ایف۔سی بھی ان کے استحصال کا ہی باعث تھا، یا للعجب، ان حالات میں پھر انصاف صرف یہی نظر آتا ہے کہ ان چند لوگوں کی بات ہی مانی جائے جو صوبوں کی بھولی بھالی عوام کو ایکدوسرے سے نفرت کرنا سکھاتے ہیں۔

 

صوبوں کے مطالبات میں کچھ چیزیں جائز حقوق پر مبنی ہوتی ہیں انہیں پورا کرنا چاہئے لیکن چاہتے ہوئے بھی بعض اوقات دستیاب وسائل میں یہ سب کچھ ممکن نہیں ہوتا، کچھ مطالبات جنرل اور آپشنل ہوتے ہیں تنگ وسائل میں انہیں ماننا بھی ضروری بھی نہیں ہوتا، اگلے چیپٹر میں ہم ان مطالبات کی نوعیت اور بین الصوبائی نزاعی امور کا ایک جائزہ لیں گے تاکہ کسی کی حق تلفی اگر کوئی ہے تو وہ بھی سامنے آجائے، نہیں ہے تو پھر کھوکھلے جانبدار، گمراہ کن اور طبقاتی پروپیگنڈے سے صوبوں کی بھولی بھالی عوام میں نفرت گھولنے والوں کی قلعی بھی بیچ چوراہے میں کھل جانی چاہئے۔

۔۔۔۔۔جاری ہے۔۔۔۔۔۔

اگلے چیپٹر میں فائنانس ایوارڈز کی تاریخ اور بین الصوباعی تنازعات پر دوسرا حصہ پیش کریں گے۔

مضمون کا دسواں حصہ یہاں ملاحظہ کریں

About Author

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: