عورت کی نجات ۔۔۔ ملازمت یا گھر داری

0

ہمارے معاشرے میں جس صنف کا ذکر سب سے زیادہ دلچسپی اور رغبت سے کیا جاتا ہے وہ ہے “عورت “۔جس کے چرچے صرف لکھنے لکھانے کے شغف کو سنبھالے ہوؤں کے حرفوں میں ہی نہیں ملیں گے۔۔۔ بلکہ انگنت استھان اس کی روداد سنانے اور سمجھانے میں دن رات الجھے رہتے ہیں۔اس کی زندگی کو کہانی کا مرکزی خیال بنایا جاتا ہے۔اور اگر کہانی کہنے کا موقع نہ مل سکے تو اس کے لئے حکایتوں اور نصیحتوں کے پندار باندھے جاتے ہیں۔اور کچھ نہیں تو دن بھر دفتر کی مشقت شاقہ کو جھیلتی عورت اگر چند لمحوں کو اپنے مرد کولیگز کی نظروں سے اوجھل ہو جائے تو یہی سنگی ساتھی جو اس کی عزت و تکریم میں بچھے چلے جاتے ہیں اس کے اٹھ جانے کے بعد اپنی کرسیاں ملا ئے، سر باہم جوڑ ے اسی عورت کی تکریم کی خوب دھجیاں اڑاتے اور اپنے شغف اور شوخیءبیاں کا سامان کرنے لگتے ہیں۔ ایسے ایسے گرے ہوئے الفاظ استعمال کئے جاتے ہیں کہ خدا کی پناہ۔اس سمے کوئی یہ نہیں سوچتا کہ وہ کس مجبوری اور ضرورت کے تحت گھر سے باہر نکلتی اور اپنی تمام تر محنتوں کے ساتھ ساتھ دنیا جہاں کے طعنوں کے جہنم سے گزرتی ہے۔ وہ بھی سب جانتی ہے اپنے شعور کے بظاہر ادھ کھلے کواڑ سے بھی اسے سب سنائی اور دکھائی دیتا ہے۔وہ جانتی ہے کہ یہ سبھی بظاہر تعلیم یافتہ اور سلجھے ہوئے دکھائی دینے والے اشخاص، کس طرح،چوری چھپے عریاں لفظوں اور اپنے بے باک تبصروں سے اس کی عصمت کی دھجیاں اڑاتے ہیں۔ عورت کا لفظوں کی صورت ہونے والا یہ استحصال اگرچہ کہ عیاں نہیں ہو پاتا اور اس پر جرم کی کوئی تعزیر بھی عائد نہیں ہوتی۔ لیکن یہ گہرا وار اس کی روح پر کیا جاتا ہے،جو جسم کے گھاؤ سے کہیں ذیادہ تکلیف دہ ہوتا ہے۔ ایسا نہیں کہ اس نے ایسے استحصال پر شکایت نہیں کی۔ اس نے شور مچایا، واویلا کیا،وہ ہلکان ہوئی،لیکن اپنی عزت و احترام کے حصول کی خاطر ڈٹی رہی۔ پھر اس نے ایسے احتجاج میں لڑ بھڑ کر کچھ حقوق بھی پائے لیکن مرد نے اسے یہ حقوق خوش دلی سے نہیں بلکہ بھیک سمجھ کر دیئے۔ سو کہا جاتا ہے کہ آج کی عورت بہادر ہو چکی ہے لیکن وہ بہادر نہیں بلکہ بے پرواہ ہو چکی ہے۔ وہ جانتی ہے کہ آواز اٹھانے سے یا ملازمت کو ٹھوکر مارنے سے نہ تو دوبارہ نوکری ملے گی اور نہ ہی عزت کا حصول ممکن ہے۔ اس لئے وہ بھی ان مردوں کے قہقہوں میں برابر کی شرکت سے اپنے تئیں یہ کوشش کرتی رہتی ہے کہ اس کی غیر موجودگی میں مرد اسے کم سے کم ہی موضوع بحث بناسکیں۔ وہ اپنے ڈھیٹ پن کے ساتھ ساتھ ضبط کرنا بھی سیکھ گئی ہے ۔ وہ سب کا ہنسی ٹھٹھا کڑوے گھونٹ کی طرح حلق میں اتار لیتی ہے۔ وہ اس سماج کے رواجوں کی بھینٹ چڑھ چڑھ کر اب سخت جاں ہو چکی ہے۔ اسے ملازمت کرنے جیسی بغاوت کے عوض اپنی طرف اڑ کر آنے والے، اس معاشرے کی ناگواری اور کے زہر سے لتھڑے تیروں نے درد پینے کی خو بہت اچھی طرح سے سمجھا رکھی ہے۔ اسے اس کے سسرال بھر کی سازشوں اور رقابتوں نے کئی طرح کا زہر نگلنے کے قابل بنا ڈالا ہے۔ اب وہ لڑ جھگڑ بھی لے گی اور کبھی کبھی خاموش رہ کر انجان بننے کی ناکام کاوشوں سے سر بھی پھوڑ لے گی لیکن وہ سب سہہ جائے گی۔


کہا جاتا ہے کہ آج کی عورت بہادر ہو چکی ہے لیکن وہ بہادر نہیں بلکہ بے پرواہ ہو چکی ہے.  وہ جانتی ہے کہ آواز اٹھانے سے یا ملازمت کو ٹھوکر مارنے سے نہ تو دوبارہ نوکری ملے گی اور نہ ہی عزت کا حصول ممکن ہے.


ملازمت پیشہ عورت تو پھر بھی باہر نکل کر اپنا کیتھارسس کر لے گی۔ اپنے دوست احباب سے کچھ کہہ سن لے گی۔وہ تو چاہے تو کسی کے کاندھے پر سر دھر کر دو چار آنسو بہا کر سپھل بھی ہو جائے گی۔ لیکن اس کے دکھ کا کیا مداوا ہو سکے گا، جو گھر کی چار دیواری کے اندر مقید ہے۔ وہ جو اپنے باپ اور بھائیوں کے سخت مزاج کی دھمک سے دن بھر لزرتی اور سسکتی رہتی ہے۔جس کے سانس لینے تک کے لئے کوئی درز کوئی روزن نہیں۔۔۔۔۔یا وہ جو اعلیٰ تعلیم یا فتہ ہو کر بھی سسرال کی دیواروں میں چن دی جاتی ہے۔ جہاں اس کے ہنسنے، بولنے،کھانے،پینے، ملنے ملانے،اوڑھنے،پہننے،سنورنے حتیٰ کہ سانس لینے کے بھی انداز،طور طریقے، ادب آداب سسرال سے ہی جاری کئے جاتے ہیں۔ جو اپنی تعلیم اور اپنی ماں سے بہت کچھ سیکھ سمجھ کر آتی ہے لیکن پل بھر میں اس کی سالہا سال کی اس سیکھ کی توہین کر دی جاتی ہے۔ اسے مجبور کیا جاتا ہے کہ وہ اپنی سبھی عادتوں اور طور طریقوں کو اب سسرال کے طے کردہ آداب میں ڈھال لے۔اس پر ہر صورت سسرال کا ہی رنگ چڑھنا ضروری ہے۔وہ اپنی شناخت اور پہچان کو بھول جائے اور اب اپنے شوہر ہی کی پہچان اور شناخت سے جانی جائے ۔ ورنہ اس کا جینا محال ہو جائے گا یا محال کر دیا جائے گا۔ وہ بیچاری اعلیٰ تعلیم کی ڈگریوں کے پرزوں کو کہیں دور پڑی کسی ردی کے ڈھیر میں چھپا دیتی ہے۔ چند ہی سالوں میں بہت کچھ بھول جاتی ہے۔ اپنے طور پر ہنسنا،اپنی مرضی سے رونا،اپنی طرح کا سوچنا،خیال کرنا حتیٰ کہ آنے والے وقت کے اپنے معیار کے مطابق خواب دیکھنا بھی چھوڑ دیتی ہے۔ بچے پیدا کرنے، شوہر کے احکامات بجا لانے اور سسرال بھر کی خدمت کرنے میں اس قدر محو ہو جاتی ہے کہ خود اپنا آپ بھی کہیں رکھ کر بھول جاتی ہے۔۔۔اسے تو اس کی خوشی اور دکھ بھی یاد نہیں رہتے، بیتے وقتوں کے سبھی سنگی ساتھی بھی چھوٹ چکے ہیں۔ بہت کچھ فراموش کرتے کرتے وہ اپنے وجود کے رنگ بھی کھو بیٹھتی ہے اور اپنی جوانی میں بھی عمر رسیدہ دکھنے لگتی ہے۔۔۔۔اور اس کا مجازی خدا اپنے اہنکار اور مقام مرتبے کے سنگھاسن پر بیٹھا ان چند سالوں میں ہی کسی شہنشاہ جیسا دکھنے لگتا ہے۔۔۔اور پھر اس شہنشاہ کی اپنائیت، محبت،دل لگی اور انتخاب کے معیار بھی بدلنے لگتے ہیں ان معیاروں پر اب وہ عورت کسی طور بھی پورا اترنے کے قابل نہیں رہتی۔پھر وہ بختوں جلی، اپنے دونوں ہاتھوں کی ہتھیلیاں پھیلا کر ان میں قسمت کی لکیریں تکنے لگتی ہے کہ نجانے اب ان میں کیا لکھا ہے، لیکن وہاں تو لکیریں بھی جھوٹے برتن مانجھ مانجھ کر مٹ چکی ہیں اسے کیا معلوم کے آگے کیا لکھا ہے۔۔

پھر شروع ہوتا ہے ایسی” اکثر عورتوں “کی شادی شدہ زندگی کا سیکنڈ ہاف۔۔۔۔اب بھلا کہانی کیا موڑ لے گی۔؟ مرد کی دلچسپیوں اور ضرورتوں کا بدلاؤ، بیوی سے تو اب سرسوں کے ساگ اور لہسن پیاز کی کی باس آنے لگتی ہے۔ اس کے پاس تو وقت ہی نہیں بننے سنورنے کا، لیکن مرد کو تو اک بار پھر دل کو لبھانے والی ادائیں درکار ہیں۔ اسے تو پھر سے دو مست نینوں کی طلب ہے ڈوب جانے کے لئے،جو اب اسے بیوی نہیں کوئی محبوبہ ہی دے سکتی ہے کوئی “دوسری عورت ” اس کی کوشش کا سفر اک بار پھر جاری ہو جاتا ہے۔ کسی طرح کوئی اچھا برا شکار اس کے ہاتھ لگ ہی جائے گا،ویسے تو ہمارے معاشرے میں مرد کی دوسری شادی کے پیچھے ذیادہ تر ایسے ہی عوامل چھپے ہوئے ہوتے ہیں لیکن اس کہانی میں اگر دوسری شادی کا ٹوئسٹ نہیں تو بھی چلے گا، کیونکہ جو مزہ دل لگی میں ہے وہ شادی بیاہ کی الجھنوں میں کہاں۔۔۔۔۔۔ لیکن اب اس کا کیا ہو گا جس نے اس کی خوشی کی خاطر اپنا سب کچھ گنوا دیا، اپنا رنگ روپ، اپنے خواب، اپنی امیدیں، اپنا خیال، اپنا ہر ہنر، اپنی مرضی، اپنی خوشی، اپنے دکھ، سبھی کچھ، اب وہ کیا کرے۔ لیکن بھلا اس کے دل پر کیا گزرتی ہو گی جب اسے اپنی سبھی ریاضتیں اور عبادتیں اکارت ہوتی نظر آتی ہوں گی ۔جب اسے اپنی عمر کے سنہری سال کسی اندھے کنوئیں میں تیرتے پھرتے دکھائی پڑتے ہوں گے۔اب وہ کیا کرے؟ کیا مرد سے بدلہ لے ؟ اسے چھوڑ دے۔؟ وہ آئینہ تکتی چلی جاتی ہے کہیں تو کوئی بچا کھچا رنگ،کوئی خواہش نظر پڑے۔۔۔لیکن نہیں یہاں اب کچھ بھی بچا کچھا نہیں رہا۔ کیا کرے اب تو واپسی بھی ممکن نہیں ۔


یہ فیصلہ کرنا انتہائی دشوار ہے، کہ کس کے دکھ کا پلڑا ذیادہ بھاری ہے ملازمت کے لئے گھر سے نکلی عورت کا یا گھر کی چار دیواری میں چنی عورت کا۔۔۔۔


اس کی سوچ کے کالے سائے اس کے وجود پر مردنی طاری کر دیتے ہیں۔ وہ مرد کی بیوفائی کا داغ اندر ہی اندر پینے لگتی ہے۔ اسے سبھی دکھوں کے زہر اپنے حلق میں اتارنے کی عادت جو ٹھہری ۔مرد کیا سوچتا ہے کہ کیا عورت کا دل اس سے اچاٹ نہیں ہو سکتا ؟کیا اسے کسی ایسے شخص کی ضرورت نہیں پڑ سکتی جو اس کے دکھ درد کو سمجھ سکے وہ جس کے کاندھے پر وہ اپناسر دھر کر مسیحائی کی تاثیر اپنی روح میں اتار سکے۔عورت بھی خود کو تنہا سمجھتی ہے جب مرد کی دھتکار اور بے پروائی کے آزار سہتی ہے۔ لیکن وہ اپنی اس خواہش کو بھی کسی گہرے دکھ ہی کی طرح پی جائے گی اسے تشنہ کام حسرتوں کا زہر پینے کی عادت جو ٹھہری۔۔۔ وہ جان بوجھ کر اپنی اس تمنا کا گلا خود اپنے ہاتھوں گھونٹ لے گی لیکن اسے کبھی بھول کر بھی زبان پر نہ لائے گی۔۔کیونکہ وہ چاہتی ہے کہ وقت کی دیوار پر بیوفائی کی سیاہ کارتحریر مرد کے ہی نام سے منسوب رہے۔ دھوکہ دہی اور مکاری کا الزام مرد ہی کا نصیب رہے۔۔۔۔وہ شکست اور ناکامی میں لتھڑا،نفرت اور حقارت کے ساز بکھیرتا ایک بھرپور قہقہہ لگاتی ہے اور آنسوؤں کے چراغاں کے بعد پھر سے چاکری میں جت جاتی ہے۔۔۔۔۔ الغرض یہ فیصلہ کرنا انتہائی دشوار ہے، کہ کس کے دکھ کا پلڑا ذیادہ بھاری ہے ملازمت کے لئے گھر سے نکلی عورت کا یا گھر کی چار دیواری میں چنی عورت کا۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟

About Author

فارینہ الماس نے سیاسیات کے مضمون میں تعلیم میں حاصل کی لیکن اپنے تخیل اور مشاہدے کی آبیاری کے لئے اردو ادب کے مطالعہ کو اہمیت دی۔ احساسات کو لفظوں میں پرونے کی طلب میں "جیون مایا ” اور "اندر کی چپ ” کے عنوان سے ناول اور افسانوی مجموعہ لکھا ۔پھر کچھ عرصہ بیت گیا،اپنے اندر کے شور کو چپ کے تالے لگائے ۔اب ایک بار پھر سے خود شناسی کی بازیافت میں لکھنے کے سلسلے کا آغاز کیا ہے ۔سو جب وقت ملےقطرہ قطرہ زندگی کے لاکھ بکھیڑوں کی گنجلک حقیقتوں کا کوئی سرا تلاشنےلگتی ہیں

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: