چامکا ———– اسٹیج کی دنیا کا خفیہ کردار بے نقاب

0

پانچ حرفی اس لفظ سے آشنائی تھیٹر سے وابستہ کچھ فنکاروں کے ذریعے صادق آباد میں ہوئی۔ یہ لفظ جتنا عجیب سا ہے اس کی کہانیاں اس سے بھی عجیب تر ہیں، بلکہ سنگین کہیں تو بہتر ہوگا۔ لغت میں اس لفظ کو تلاش کیا لیکن صرف ’’چام‘‘ ہاتھ آسکا جس کے معنی چمڑا یا کھال کے ہیں اور ایک محاورہ بھی ہاتھ آیا ’’چام پیارا نہیں، کام پیارا ہے‘‘ مطلب کسی کی صورت سے زیادہ اُس کے کام کی عزت ہوتی ہے۔ اسی لفظ کو گوگل پر سرچ کریں تو ایک ہی پوسٹ سامنے آتی ہے جو ہیجڑوں کی معلومات پر مبنی ہے۔
کچھ الفاظ ایسے ہیں جو مخصوص ماحول کے ہوتے ہیں جنہیں ڈکشنری یا لغات میں تلاش کرنا بیکار جاتا ہے جیسا کہ الیکٹرونک میڈیا کا ایک لفظ’’بھنڈ مارنا، بھنڈ کردیا، بھنڈ ہوگیا‘‘ یعنی بڑی غلطی بہت عام بولا جاتا ہے اسی طرح تھیٹراور تیسری جنس کی دنیا میں لفظ چامکا بہت عام اور بڑا ہی رغبت بھرا ہے۔ کیونکہ ایک ’’چامکا ‘‘ہی کسی اسٹیج کی فنکارہ یا ہیجڑے کا اصل سہارا سمجھا جاتا ہے۔ یہ چامکے نہ ہوں تو تھیٹر پر لگنے والی عارضی روزی سے کتنے دن پیٹ پالا جاسکتا ہے؟ مگر چامکا کی کوشش ہوتی ہے کہ وہ اپنی محبوب ہستی کی ہر خواہش کو پورا کرنے کی کوشش کرے۔ تھیٹر کی دنیا میں جس کے جتنے زیادہ چامکے ہوں وہ فنکارہ (ڈانسر خاص طور) پراتنی ہی زیادہ پروڈیوسر کی نظر میں قابل ہوتی ہے۔
٭٭

چامکا پاور ۔۔ (2)
تھیٹر پروڈیوسر (سرمایہ کار) کی کوشش ہوتی ہے کہ جتنا پیسہ لگا ہے بدلے میں چارگنا واپس آئے، اس کیلئے وہ انہی فنکارائوں کو کام کا موقع دیتا ہے جو اپنے چامکے سے اگلی پانچ سے دس نشستیں بُک کروا سکے۔ زیادہ تر تھیٹر کی اصل کمائی ہی اگلی نشستوں کے مرہونِ منت ہوتی ہے کیونکہ فنکارائیں ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کیلئے ’’چامکا پاور‘‘ شو کراتی ہیں اور پروڈیوسر کی نظر میں معتبر ٹھہرتی ہیں۔ فنکارائوں نے بھی ہر شہر، دیہات کیلئے ایک خاص چامکا سنبھال رکھا ہوتا ہے جو فنکارہ کے کہنے پر آٹھ سے دس دوستوں کو ساتھ لے کر آتا ہے کیونکہ اس نے بھی دوستوں میں بھرم کرانا ہوتا ہے کہ اس کی یاری کس طرح دار، خوبصورت اور نشیلی آنکھوں والی لڑکی کے ساتھ ہے اور اسی پیار کے ہاتھوں مجبور ہوکر وہ پانچ سے دس ہزار والی سیٹ بک کروا کر اپنی محبوبہ (فنکارہ) کی نظر میں اپنی اہمیت ثابت کرتا ہے کہ اس کیلئے تیس ہزار سے لاکھ روپے خرچ کرنا دائیں ہاتھ کا کھیل ہے۔ اسی سے اندازہ لگا لیں کہ ایک ڈرامے میں اگر چار سے پانچ لڑکیاں ہیں (اب تو پنجاب کے مختلف تھیٹر میں آٹھ سے دس ڈانسر لڑکیاں لازمی رکھی جاتی ہیں) تو پروڈیوسر کا سرمایہ کتنی آسانی سے واپس آجاتا ہے اور بعض اوقات تو شرائط طے ہوتی ہیں کہ چامکوں کی آمدنی سے ہی فنکارہ کو پیمننٹ کی جائے گی۔ بقیہ شوقین لوگوں کی آمد اور سستے ٹکٹ کی کمائی سے مرد فنکار با آسانی بھگتا دیئے جاتے ہیں۔
٭٭

چامکا کی پیداوار: (3)
سستی تفریح کیلئے ایک زمانے میں موت کے کنوئوں کا اہم کردار رَہا ہے اور اُن موت کے کنووں پرموٹر سائیکل یا کار کا کرتب تو دو سے چار منٹ کا ہوتا لیکن تیس سے چالیس منٹ کی تفریح ہیجڑے رقص کرکے یا پھر اپنی ادائوں سے فراہم کرتے۔ تماش بینوں میں سے دوچار ایسے بھی نکل آتے جنہیں کوئی ہیجڑا بے حد پسند آجاتا اور وہ اس کے چکر میں ٹکٹ لے کر موت کے کنویں پر حاضری دیتا اور کسی طرح ہیجڑے سے روابط بڑھا کر اسے اپنے دل کا حال بتا تا، اسے تحفے وغیرہ دیتا اور پھر کرتے کرتے وہ اسی ہیجڑے کا ہوکر رہ جاتا لیکن گھوڑا گھا س سے دوستی کرے گا تو کھائے گا کیا؟ کے مصداق ہیجڑا کسی کا نہ ہوتا کیونکہ اسے موت کے کنویں کے مالک نے رکھا ہی اس لیے ہوتا کہ وہ لوگوں کو اپنی جانب راغب کرکے کاروبار کو ترقی دے۔اس طرح کے عاشقوں کوہیجڑوں کی خفیہ زبان میں چامکا کہا جا نے لگا۔ ہیجڑوں میں اندرونِ خانہ شادیوں کا رواج ہے جس میں نکاح، حق مہر، ماہانہ اخراجات طے ہونے کے علاوہ باقاعدہ طلاقیں بھی ہوتی ہیں اور جن مردوں سے یہ معا معاملات طے پاتے ہیں وہ عموماً اِن کے عاشق یعنی چامکے ہوتے ہیں۔ ایک کے چامکے میں کوئی دوسرا زنانہ(خواجہ سرا) دلچسپی لے، تو وہی منظر ہوتا ہے، جو ایسی دو عورتوں کی لڑائی کی صورت دکھائی دے سکتا ہے جو ایک ہی مرد کے نکاح میں ہوں یا کوئی ایک نکاح میںہو اور دوسری اس کے شوہر کے رابطے میں ہو۔ضروری نہیں ہوتا کہ چامکا ہی تمام اخراجات برداشت کرے، کبھی کبھارکوئی خواجہ سرا کسی چامکے کی محبت میں گرفتار ہوجائے تو وہ بھی بخوشی اس کے اخراجات برداشت کرتا ہے لیکن کاروباری دنیا میں ایسا بہت کم دیکھنے میں آتا ہے زیادہ تر قربانی چامکے کو ہی دینی پڑتی ہے۔لیکن حالات اُس وقت سنگین رخ اختیار کرجاتے ہیں جب کوئی ہیجڑا اَپنے چامکے کے نکاح یا خاص بندھن میں ہوتے ہوئے کسی اور مرد سے تعلقات استوار کرے۔ اس صورت میں شریف چامکا تو طلاق دے کر کنارہ کش ہوجاتا ہے یا پھر غصے اور حسد میں پاگل ہوکرتشدد سے بھی باز نہیں آتا جیسا کہ حال ہی میں فیصل آباد کے ججا بٹ اور ہیجڑے کا معاملہ سرفہرست ہے۔ بہر حال یہی چامکا وقت کے ساتھ ساتھ تھیٹر کی فنکارائوں تک آن پہنچا کیونکہ ان کا مقصد بھی ایک اور پیشہ بھی ملتا جلتا تھا۔

قسمت کا چامکا (4)
2016ء کے آخری مہینوں میں فیصل آبادی ججا بٹ اور ہیجڑے کے اسکینڈل کو کچھ ہی دن گزرے تھے کہ لاہور تھیٹر کی ابھرتی ہوئی فنکارہ قسمت بیگ پر فائرنگ کی بریکنگ نیوز آگئی۔ ہزاروں دلوں کی دھڑکن قسمت بیگ کی قسمت کا ستارہ تھیٹر سے واپسی پر ڈوب گیا۔ وہ زخمی ہونے کے چند گھنٹوں بعد ہی اِس دنیا سے اُس دنیا کی ہوگئی۔ جیسے ہی یہ خبر بریک کی گئی میرے ذہن میں نجانے کیوں لفظ ’’چامکا ‘‘ چمکا۔ اگر چہ خبر نگاری سے وابستہ ساتھی اسے معمول کا قتل اور ڈکیتی کی کارروائی قرار دے رہے تھے لیکن میں چند ماہ قبل صادق آباد میں اسی سے ملتی جلتی بہت سی کہانیاں سن چکا تھا کہ کیسے چامکا اپنی عقل ٹھکانے آنے پر اپنی محبوبہ کو بھی ٹھکانے لگانے سے گریز نہیں کرتے اور بالآخر میرا خدشہ درست ثابت ہوا جب مقتولہ کی والدہ کا بیان آیا کہ یہ قتل ڈکیتی کی مزاحمت کا نتیجہ نہیں بلکہ حملہ آور قتل کی نیت سے آئے تھے اور کوئی چیز چھینے یا لوٹے بغیر اداکارہ پر فائرنگ کر کے فرار ہوگئے جبکہ اس سے پہلے بھی قسمت بیگ پر دو مرتبہ حملے ہوچکے ہیں تاہم قسمت بیگ کے اہل خانہ نے نہ کسی حملہ آور کا نام ظاہر کیا اور نہ ہی کسی کو ایف آئی آر میں براہ راست قتل کا ذمہ دار ٹھہرایا۔ اور ایسا کرنا اہل خانہ کیلئے فور ی طور پر ممکن بھی نہیں تھا کیونکہ خود قسمت بیگ کو بھی علم نہیں ہوگا کہ کس لیموں کی طرح نچوڑے گئے چامکے کی طرف سے یہ کارروائی کی جارہی ہے۔ بالآخر قاتل پکڑے گئے اور کسی رانا مزمل نامی شخص کو ذمہ دار قرا ر دیا کہ اس کے کہنے پر یہ سب کیا گیا اور جس کے کہنے پر سب کیا گیا اس نے خود اس بات کا اقرار کیا کہ وہ قسمت کو قتل کرنے کی بجائے اسے اپاہج کرکے خوفزدہ کرنا چاہتا تھا کیونکہ اس پر وہ کافی کچھ خرچ کرچکا تھا لیکن وفا پھر بھی ناپید رہی۔ بہر حال قسمت بیگ کی طرح اور بھی داستانیں ہیں جو زیادہ تر چھوٹے شہروں، دیہاتوں میں ہونے کے باعث منظر عام پر نہیں آتیں اگر قسمت بیگ بھی لاہور نہ آتی اور پہلے کی طرح چھوٹے شہر میں ہی ناچ کر گزارہ کرتی رہتی تو اس کی خبر بریک ہوتی نہ ہی قاتل اتنی جلدی پکڑے جاتے۔

۔۔۔۔۔۔جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔

About Author

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: