صنم خانے ————– نیچر کے باب میں چند باتیں

0

نوٹ: ‘صنم خانے” یعنی الفاظ کی بت گری یا تصورات کی نقاشی کی مناسبت سے اس مضمون میں کہی گئی کسی بھی بات کو درست تسلیم کرنے سے یکسر انکار کر دینا قاری کا حق ہے ۔ قاری کو مکمل اختیار حاصل ہے کہ زیر نظر تحریر کو فضول گوئی، سطحی، یک رخا سمجھ کر چھوڑ دے۔ نیز، مصنف کے لیے خوب دشنام طرازی  کی بھی پوری پوری اجازت ہے ۔ مصنف کو کسی بات پر چنداں اصرار نہیں، نہ ہی اس بات کی پروا ہے کہ ادھوری بات کر نے پر کسی کو اعتراض ہے یا مرادِ مصنف حتمی طور پر سمجھ لی گئی ہے یا اس مضمون سے کلی و جزوی طور کسی بھی طرح کا فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے ۔


اردو زبان کے نابغہ روزگار ادیب سراج منیر نے اپنے ایک مضمون بعنوان “میں ، مغرب اور میری پناہ” میں مغربی علوم سے اپنے “حرکی تعلق ” کا جائزہ لیتے ہوئے (کم از کم)  تین اہم چیزوں کا ذکر کیا ۔ اول، مغرب کو یکسر مسترد کرنے کی بجائے تاریخ انسانی علوم کے ضمن میں مغرب کے تعصبات کو سمجھنے کی خاطر خواہ کاوش کی جائے۔ نیزیہ سوال اٹھایا کہ کیا ہمارے دانش وروں نے عموما اور اردو کے نقادوں نے خصوصاً مغربی علوم کے ڈھانچے یا مغرب میں علوم کی تقسیم کے اصول کو سمجھتے ہوئے ان مغربی علوم سے کوئی فائدہ اٹھا یا یا کس طرح فائدہ اٹھایا؟ دوم، خود سراج کا اپنی اس کوشش کا بیان کہ کیسے سراج نے نیچر (Nature) کے مغربی تصور کو سمجھنے کی بھرپور کاوش کی تاکہ انیسویں صدی کے اوائل تک مغرب کے علمی، سیاسی، معاشی، معاشرتی اور حیاتیاتی سفر کو سمجھا جا سکے کیونکہ بقول شخصے کم از کم اٹھارویں صدی تک تو تصور نیچر ہی مغربی علوم کو وحدت دیتا تھا ۔ سوم، سراج نے نیچر، کلچر اور ازموں کی بڑھتی ہوئی تعداد کا ذکر کرتے ہوئے اپنے مضمون کی آخری سطروں میں لکھا کہ اب “میرا اعتبار نیچر سے کلچر سے اور از م سے اٹھ چکا ہے۔ “اوراس اعتبار کے اٹھ جانے کے بعد سراج منیر خود محسوس کرتے ہیں کہ وہ “مغرب کے نظریاتی بلوے سے بچ کر اقبال کی، شاہ ولی اللہ کی، مجدد الف ثانی کی، جامی اور رومی کی ، ابن عربی کی اور سب سے بڑھ کر حضرت محمد الرسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی پناہ میں آتا جا رہا ہوں ۔”

دو حصوں پر مشتمل زیر نظرتحریر سراج منیر کے مندرجہ بالا نکات کے پس منظر میں لکھی گئی ہے یعنی مغربی تعصبات کو ہر ممکن حد تک منہا کرتے ہوئے چند باتیں سامنے رکھی جا رہی ہیں ۔ چنانچہ ہم نے یہ بات اپنے ذمہ لی کہ تصور نیچر کو موضوع بناتے ہوئے فکری ، قدرتی (natural) اور سماجی نیز جدید ترین علوم کی روشنی میں تصور نیچر پر معمول کی گفتگو سے قدرے ہٹ کر ایسی چند باتیں پیش کی جائیں جن کو میٹر ک کا طالب علم بھی سمجھ سکے یا جو اس کو سمجھائی جا سکیں ۔ اس ضمن میں زیر نظر تحریر نیچر پر گفتگو کرتے ہوئے ہمارے ادبی موضوعات و رجحانات پر اجمالی تبصرے پر مشتمل ہے اور اگلے حصے میں تصور نیچر کو مختلف علوم انسانی کے باب میں سمجھنے /سمجھانےکی کوشش کی جائے گی۔

آئیے سب سے پہلے سراج منیر کے اٹھائے گئے سوال پر ایک اجمالی بات کر لیں ۔ ایک غیر سرکاری محتاط اندازے کے مطابق 1970 تا 2017 پاکستان کی جامعات میں مختلف مضامین میں کم و بیش 13،000  پی ایچ ڈی کے تحقیقی مقالے لکھے جا چکے ہیں ۔ اس بحر مقالہ جات میں فطر ت نگاری و منظر نگاری کے بارے میں عمومی کام تو مل جائے گا لیکن سراج منیر کے بیان کردہ تصور نیچر بطور اصول وحدت کا حوالہ شاید ڈاکٹر ظفر الحسن کے “حالی و سرسید کا نظریہ فطرت ” میں ہی ملے ۔خیر،  اردو ادب کے تحقیقی موضوعات پر تفصیلی بات ادھا ر سہی۔ اقبالیات کا دامن بھی شاید خالی نکلےکیونکہ شاید اقبال شناسوں کے نزدیک تاریخ علوم انسانی کے حوالے سے اقبال کے بیان کردہ اشاروں کی حیثیت کیا ہے ،

اقبال کی باتیں (گستاخی ہوتی ہے ) مجذوب کی بڑ ہیں      (سلیم احمد)

اردو زبان میں لکھی جانے والی کتب اور ایچ ای سی (HEC) کی ویب سائٹ پر موجود اردومیں لکھے جانے والے تحقیقی مقالہ جات کے اجمالی جائزہ کی روشنی میں یہ کہنا نامناسب نہیں ہو گا کہ بدقسمتی سے ہمارے دانش ور بالعموم اور اردو کے نقاد بالخصوص نہ تو تاریخ علوم انسانی میں تصور نیچر کی کوئی جامع تفہیم سامنے لا سکے اور نہ ہی مغربی علوم کی کسی جامع تفہیم کے نتیجے میں اٹھائے جانے والے فوائد کے لئے کوئی مربوط پیرایہ اظہار مہیا کر سکے ۔ بلکہ نوبت یہاں تک آپہنچی ہے کہ اٹھارویں صدی سے لے کر اکیسویں صدی کے آغاز تک انسانی علوم کے سمندر میں جو نئی منزلیں طے کی جا چکی ہیں تو بطور “دینی روایت کے مفکر” ان منزلوں سے زندہ و بامعنی واقفیت قریب قریب ناپید ہے ۔اگر “دینی روایت کے مفکر” کا خطاب کسی وجہ سے پسند نہ آئے تو “تاریخ فکر انسانی کے ادنی طالب علم ” کی ترکیب استعمال کر لینی چاہیے۔ اس المناک حادثے کی بہترین وضاحت مرزا اطہر بیگ کے ناول “صفر سے ایک ” کی مدد سے دی جا سکتی ہے کہ کتنے ایسے دانش ور اور اردو کے نقاد ہیں جو اس پر بامعنی گفتگو کرنے کی اعلی قدرت رکھتے ہوں ۔ یا بیسویں صدی کے اواخر سے شروع ہونے والی نئی علمی فضا جس کو سائبر سپیس کہا جاتا ہے تو اس (Cyber Space)کے امکانات و مضمرات سے کتنے ہی دانش ور بخوبی واقف ہیں اور آسان زبان میں مغلق علمی اصطلاحیں استعمال کیے بنا سائبر سپیس کو سمجھا سکتے ہیں ۔ اردو ادب میں سائنس فکشن پر مبنی افسانوں (تراجم و طبع زاد) اور ناولوں کی تعداد انگلیوں پر گنی جا سکتی ہے ۔

اب آئیے ، سب سے پہلےEncyclopedia Britannica کے زیر اہتمام 1952 ء میں چھپنے والے The Great Ideas: A Syntopicon of Great Books of the Western World سے نیچر کے متعلق چند باتیں سن لیں ۔ اس  Syntopicon  کے تحت نہ صرف مغربی فکر کی (یونان سے لیکر بیسویں صدی تک کی) پچاس عظیم ترین کتب کی روشنی میں 102 فلسفیانہ نظریات پر مفصل گفتگو کی گئی بلکہ مزید مطالعے کی غرض سے ایک مربوط خاکہ بھی مہیا کیا گیا ہے ۔

 1۔ “Nature is a term which draws its meaning from the other terms with which it is associated by implication or contrast. Yet it is not one of a fixed pair of terms, like necessity and contingency, one and many, universal and particular, war and peace.”

یعنی مختصرا ً یہ بات سامنے رہے کہ نیچر کی اصطلاح کسی دوسری اصطلاح کے بنا جامع مفہوم ہی نہیں دے سکتی جبکہ ،

2۔ “Many of the terms which stand in opposition to nature represent the activity or being of man or God.”

نیچر بمقابلہ انسان کو سمجھنے کو لیے برٹرینڈ رسل کا مضمون A Free Man’s Worship ہی شاید کافی ہو ۔ جبکہ روایتی طور پر نیچر کو the work of God  ہی گردانا جاتا رہا جیسے کہ افلاطون کہتا ہے ، “Things which are said to be made by nature, are the work of divine art.” لیکن یونانی فلاسفہ کے نزدیک نیچر بمعنی مادی (Physical) ہی سمجھی جاتی تھی ۔یہ بات بھی یاد رہے کہ یونانی زبان کے لفظ  Phusis  کو ہی لاطینی زبان میں natura کہا گیااور مشہور یہودی فلسفی اسپی نوزا (Spinoza)  نے نیچرو تصورخدا پر گفتگو کرتے ہوئے natura naturans اور natura naturata کی تراکیب کو استعمال کیا جن کو سراج منیر کے متذکرہ مضمون میں حسن عسکری اور رینے گینوں کے حوالوں سے زیر بحث لایا گیا ۔ دلچسپ نکتہ یہ بھی ہے کہ اردو زبان میں اسپی نوزا کے فلسفیانہ کام کا تاحال کوئی خاطر خواہ ترجمہ موجود نہیں ہے (کم از کم میری معلومات کی حد تک : بحوالہ مرزا حامد بیگ ، مغرب کے نثری تراجم ؛ پی ایچ مقالہ بعنوان اردو میں فلسفیانہ کتب کے تراجم ، مقالہ نگار : احمد بلال اعوان)۔ جبکہ یہ وہی اسپی نوزا ہے جس کے تصور خدا کو دور حاضر کا زیرک سائنس دان آئن سٹائن (ؑEinstein) بھی بخوشی قبول کرنے کو رضامند ہے (بحوالہ آئن سٹائن : سائنس اور مذہب )۔ اگر ہمارے دانش وروں کو بارخاطر محسوس نہ ہو تو اسی اسپی نوزا کے فلسفہ اخلاق کو علامہ اقبال نے اپنی نجی ڈائری میں مسیحی تصور اخلا ق سے بہتر لکھا ہے ۔ کم از کم میری معلومات کی حد تک اقبالیات کے دامن میں بھی اسپی نوزا کے اس حوالے سےمتعلق کوئی خاطر خواہ کام نہیں ہے ۔ یہ چند نکات ہمارے مفروضہ کی ہلکی سی تائید کرتے ہیں کہ ہمارے دانش وروں نے مغربی علوم اور فکر انسانی کی تاریخ کی تفہیم میں کس قدر کوتاہی سے کام لیا ہے ۔

اب اِس کے بعد جسم و جاں جلانے سے بھی کیا حاصل       (ناصر کاظمی)

چلئے ، آگے بڑھتے ہیں ۔

3۔ “Kant, as we have seen, far from making nature the reality which exists independently of our experience or knowledge, conceives the realm of nature as identical with all possible experience. We possess two expressions, Kant writes, world and nature, which are generally interchanged.”

یعنی کانٹ کے نزدیک نیچر کو بمنزلہ عالم تصور کیا جا سکتا ہے۔ یاد رہے کہ کانٹ کے بعد سےمغربی علوم میں تخصص (specialization)کا رجحان بڑھ گیا یعنی تصور نیچر نے مغربی علوم میں جو وحدت صدیوں سے پیدا کر رکھی تھی اس کا شیرازہ دن بہ دن بکھرنے لگا اور فی زمانہ تو ۔ تھوڑی دیر کے لیے کانٹ کے مندرجہ بالا فقرے کی روشنی میں علامہ اقبال کے پہلے خطبہ میں دی گئی characteristics of experience پر ذرا غور کریں کہ اگر علامہ اقبال کے experience  کو عالم یعنی world کے ساتھ سامنے رکھتے ہوئے پوری توجہ دی جائے تو کیسے کیسے سوالات اٹھائے جا سکتے ہیں ۔ دلچسپی بڑھانے کے لیے ایک اور بات سن لیں کہ مشہور انگریز فلسفی G. E. Moore نے بھی عقل ِ عامہ (common sense) کے حق میں دلائل دیتے ہوئے physical experience کے بعینہ وہی خصائص بیان کیے ہیں جو کہ علامہ اقبال نے بیان کیے ۔ اس ضمن میں بھی غالباً اقبالیات کا دامن کسی بھی قسم کے تقابلی جائزہ سے یکسر خالی ہے ۔ اب خدا جانے کہ ایسے مطالعہ کی وجہ سے تفہیم اقبال میں آسانی پیدا ہو گی/اقبالیات کے چند نئے در کھلیں گے یا اقبال شناسوں کو کوہ پیمائی کا کوئی کورس کرنا ہو گا ۔

مختصرا ً ماحصل یہ ہے کہ

  • نیچر کو بنا تضاد سمجھا ہی نہیں جا سکتا ۔
  • نیچر کو تصور انسان اور تصور خدا کے مقابل رکھ کر سمجھا جاتا ہے ۔
  • نیچر اور عالم کو بطور مترادف استعمال کیا جا سکتا ہے ۔

ہم اگلی تحریر میں اسی نکتہ (نیچر و عالم ) سے اپنی بات کو علوم انسانی کے دائرے میں لے جانے کی کوشش کریں گے ۔

 

 

About Author

Daanish webdesk.

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: