عدلیہ ۔ لٹکتی شلوار۔ محفوظ فیصلہ: مظفر عباس

0

ہماری عدلیہ قیامِ پاکستان کے بعد سے ہی مصلحتوں کا شکار رہی۔ جس کی ابتدا جنرل ایوب خان کے مارشل لاء کو “نظریہ ضرورت” کے تحت جائز قراردیاگیا جو اس کے بعد ضیاء کی آمریت اورجنرل مشرف کے PCOسے ابھی تک جاری ہے۔

پاکستان کی تاریخ کے ساتھ ہمیشہ سے یہ المیہ رہاہے کہ یہاں پہ موجود ہر ادارہ غلط اور صحیح میں فرق کے بغیر مطلق العنان حکومتوں کے زیرِسایہ پروان چڑھا اور جمہوریت کے نام پہ عوام سے بہترین انتظام کی صورت یہ جمہوری حکومتیں، اپنے غیر ملکی آقاؤں کے اشاروں پہ کت پُتلی کاکردار ادا کرتی رہیں۔

ہماری عدلیہ میں بہت سے ایسے بہترین جج حضرات گزرے ہیں۔جن کے فیصلے اصولوں کی بنیاد پہ تھے اور ملزموں کو کیفرکردر تک پہنچایا اور کچھ اعلیٰ پائے کے جج بھی جن کی ابتدا عدلیہ کی آزادی سے ہوئی مگر سیاسی مصلحتوں کا شکار ہوکر آزادانہ فیصلے کرنے سے محروم رہے۔

بلاشبہ 2007ء عدلیہ کی تاریخ کاایک فیصلہ کن موڑتھا۔ جب موجود وقت کے چیف جسٹس نے ایک آمر کو نہ کی اور اس کو معزول کیاگیا۔ظلم وستم اورناانصافیوں کی شکار عوام ایک مسیحا کے لئے سڑکوں پہ نکل آئی کہ شاید ان کے دکھوں کا مداوا ہوسکے اوردنیا بھر میں چیف جسٹس صاحب نے اقدام کو سراہاگیا اور Haward Law School کی طرف سے ان کو Medal of Freedomسے نوازکے ان کو Nelson Mandela اور Deliver W. Will, Srکی فہرست میں لاکھڑا کیا۔مگر پاکستان کی عوام کویہ بھی برداشت کرنا پڑا کہ معزز جج صاحب اور ماتحت عدلیہ پرانے عدالتی نظام میں کوئی خاطر خواہ تبدیلی نہ لاسکی اور سیاسی مصلحتوں کا شکار رہی اورکبھی دو بوتلوں پہ اور کبھی تھیٹروں پہ سوموٹو لیتی نظر آئی اور الیکشن میں دھاندلی کا سہرا  سجانے کا اعزاز بھی اپنے نام کرگئی جو کل تک اصولوں کی بنیاد پہ ایک وزیراعظم کو فارغ کررہے تھے۔ وہ دبئی ایئرپورٹ پہ لائن توڑتے ہوئے تضحیک کا نشانہ بنتے رہے۔

ہمارا کام تاریخ کی ورق گردانی ہے۔ کسی چیز کو مثبت یہ منفی ثابت کرنانہیں۔ یہ کام عدلیہ کاہے کہ اپنی قلم سے کسی کی تقریر کا فیصلہ کردے۔کسی وزیراعظم کو پھانسی پہ لٹکادے۔یہ سپریم کورٹ کی دیواروں پہ لٹکتی شلواروں پہ سوموٹولے لے اور چاہے تو ماڈل ٹاؤن میں لٹکتی لاشوں پہ خاموش رہے۔

چاہے تو پیچیدہ نظام میں آسانیاں پیدا نہ کرسکے چاہے تو مظہرحسین نامی 302کے ملزم کو19سال کے طویل انتظار کے بعدباعزت بَری کردے اور جب یہ خبراس کے خاندان تک پہنچے تو وہ جیتے جی مظہرحسین کے ساتھ مرنا پسند کریں جو اسیری میں دوسال پہلے 2014ء میں دارفانی سے انصاف کے حصول کا انتظار کرتے کرتے رخصت ہوجاتے۔

یہ وجیہہ عروج کو جامعہ پنجاب کی ایک چھوٹی سی غلطی کی وجہ سے ان کو فیل قراردیاجائے اور ان کے کردار پر سوالات اٹھائے جائیں۔اپنے دامن پہ لگے داگ کو غلط ثابت کرنے کے لئے 17سال کا اذیت ناک سفر طے کرنا پڑے۔جب اس کی جامعہ کا کلرک اس کے باپ کے سامنے کہے کہ “آپ کوکیا پتا کہ آپ کی بیٹی نے پرچہ دیابھی تھا کہ کہیں اور تھی۔”21سال کی وجیہہ عروج 38سال کی عمرمیں اپنے کردر پہ اٹھے سوالوں کوخاموش کرسکیں۔عدالت انکے حق میں فیصلہ دے اور جامعہ کو 8لاکھ ہتک عزت کا جرمانہ عائد کرے۔جس میں جامعہ ابھی تک اپیل کا حق ملحوظ رکھتی ہے۔

ہمارا عدالتی نظام اس قدر پیچیدہ ہے کہ ایک عام آدمی سے لیکر ایک پارٹی کا سربراہ انصاف کے حصول کے لئے سالوں انتظار کرتارہے۔بلاشبہ پاناما کیس عدالتی نظام میں تاریخی اہمیت کا حامل ہے۔

پانامہ کیس دراصل دو پارٹیوں کے درمیان فیصلہ نہیں۔ یہ ایک ایسا فیصلہ ہےکہ جس میں اعلیٰ عدلیہ کواپنے اوپر لگے “نظریہ ضرورت” کے داغ کو صاف کرنا ہے اور عدلیہ کو اسی وقار میں لانا ہے۔جس کی وہ حق دار ہے اور 70 سال سے ظلم اور ناانصافیوں کو برداشت کرتی قوم کو یہ باور کرانا ہے کہ عدالتوں کا کام فوری اورسستا انصاف فراہم کرناہے اور عدل وانصاف پہ مبنی پانامہ کےمحفوظ فیصلے کا جلد سے جلد فیصلہ سنانا ہے تاکہ یہ قوم ہیجانی کیفیت سے نکل سکے۔

 

About Author

Daanish webdesk.

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: