سندھی اخبارات کے ادارتی خیالات ۳: فوجی عدالتیں، سندھ میں نقل اور اے ڈی خواجہ

0

فوجی عدالتوں کی مدت میں توسیع

فوجی عدالتوں کی مدت میں دو سال کا اضافہ کرنے والے فیصلے پر  روزنامہ عوامی آواز نے اپنے ادارتی نوٹ میں لکھا ہے کہ ہمارے منتخب نمائندوں کو یہ بات ذہن میں رکھنی چاہیئے کہ یہ ان کے لئے آخری موقع ہے ورنہ آگے چل کر قوم کو انہیں مزید جواز اور جواب دینا پڑیگا۔ اس لئے ان کے لئے ضروری ہے کہ فوجی عدالتوں کو جتنی بھی مدت دی جائے اس پر پارلیمنٹ کو نظر رکھے اور وقت بوقت یہ دیکھنےکہ جن مقاصد کے لئے یہ عدالتیں قائم کی گئیں تھیں اس پر کتنا عمل ہو رہا ہے۔روزنامہ عبرت نے لکھا ہے کہ پارلیمینٹ نے آئین میں 21ویں ترمیم کے ذریعے 7 جنوری 2015 کو فوجی عدالتوں کے قیام کے سلسلے میں پہلا فیصلہ کیا تھا اور ان کے قیام کے اسباب میں عام عدالتوں میں نامکمل ثبوت پیش کرنے کی وجہ سے اکثر دیکھا گیا کہ دہشتگرد اور مجرم سزائوں سے بچ جاتے تھے اور گواہوں سے لیکر پولیس عملدار اور جج حضرات بھی ان کی دہشتگردی کا ھدف ہوتے رہے۔ یہاں تک کہ آئی جی سندھ نے یہ بیان جاری کیا کہ سینکڑوں پولیس عملداروں کو نشانہ بنایا گیا لیکن ہمارے منتخب نمائندوں نےاس پر کوئی توجہ نہیں کی اور اس طرح دہشتگرد سزا سے بچتے رہے۔ یہ پانچ اگست 2015 کا دن تھا جب سپریم کورٹ آف پاکستان کے سترہ رکنی بینچ نے ملک بھر میں فوجی عدالتوں کے قیام کے فیصلے کو کثرتِ رائے سے برقرار رکھا۔ واضع رہے کہ 2 سالوں کے دوران 11 فوجی عدالتوں میں 274 افراد کو سزائیں دی گئیں، ان میں 161 کو سزا ئے موت سنائی گئی جس پر 12 افراد کی سزائے موت پر عمل درآمد بھی ہوا اور 113 کو عمر قید کی سزا دے دی گئی اور یہ مدت 6 جنوری 2017 کو پوری ہوگئی ۔اس کے بعد اس مدت میں مزید دو سال کی توسیع کی گئی ہے۔اب صورتحال یہ ہے کہ مدت پوری ہونے کہ بعد ملک میں ایک بار پھر دہشتگردی کی لہر چھا گئی اور مسلسل دو ہفتوں کے دوران پشاور، کوئٹہ، لاہور، سیہون شریف، حیدرآباد وار کراچی میں دہشتگردی کے واقعات دوبارہ شروع ہوگئے۔ اس صورتحال کے پیش نظر فوجی عدالتوں کی مدت میں اضافے کی مزید ضرورت محسوس کی گئی اور گذشتہ کافی دنوں سے مختلف پارٹیوں کی صلاح ومصلحت کے مراحل کے بعد تمام پارٹیوں نے مشترکہ طور پہ فیصلہ کیا جو ایک خوش آئند قدم ہے لیکن ساتھ ساتھ نیشنل ایکشن پلان کے دوسرے نقاط پر بھی اتفاق رائے سے عمل کی ضرورت ہے۔ اخبارات کا موقف ہے کہ ملک کے عدالتی نظام کو جب تک موثر نہیں بنایا جائے گااس وقت تک اس طرح کے شارٹ کٹس مسائل کاحل نہیں۔ اس لئے قومی ایکشن پلان پر مکمل طور پر عمل درآمد کرنے کی ضرورت ہے جس پر حکومت کی گذشتہ دنوں میں عدم توجہی کی وجہ سے احداف حاصل نہیں ہوسکے ہیں۔

سندھ میں نقل کلچر کی روایت

سندھی اخبارات نے اس وقت سندھ میں بورڈ کے نویں اور دسویں کے امتحانات میں نقل کلچر پر محکمہ تعلیم اور ضلعی انتظامیہ پر بھی شدید تنقید کی ہے۔ روزنامہ سندھو حیدرآبادنے اپنے ادارتی نوٹ میں لکھا ہے کہ اس وقت طلباء وطالبات امتحان دینے کے بجاے امتحان گاہوں میں امتحانی کاپی کو فیئر کاپی کی طرح لکھ کر رہے ہیں اور اطمنان کے ساتھ نقل کر رہے ہیں اور نقل کی یہ روایت دس سال سے عروج پر ہے۔ بورڈانتظامیہ کی ٹیموں کے پر عزم دورے بھی جاری ہیں اور دوسری طرف طلباء وطالبات کا نقل بھی بڑے جوش وجزبہ کے ساتھ جاری وساری ہے۔ پہلے فقط کاغذی کارتوس نقل کے لئےاستعمال ہوتے تھے اب ماشاءاللہ واٹس ایپ کا بھرپور استعمال ہورہا ہے۔نااہل طلباء کی لائن لگی ہوئی ہےاور یہ طلباء آگے چل کر قوم اور ملک کی کیا خدمت کریں گے؟ بلکہ جو محنتی طلباء کے لئے بھی ایک مایوسی کا منظرنامہ پیدا کر رہے ہیں۔ اخبار نے منتخب نمائندوں، انتظامیہ، اساتذہ،والدیں، عزیز اور رشتہ داروں کو اس کا ذمہ دار قرار دیا ہے۔ خاص طور پر ان منتخب نمائندوں کو جنہوں نے مالی مفاد حاصل کرکے اور سفارشات کی بنیاد پر اپنے علاقوں سے اس طرح کے اساتذہ بھرتی کروائے ہیں جو اس وقت اس کام کو نفع بخش سمجھ رہے ہیں اور حکومتی نمائندوں کو ہمیشہ کی طرح اس کی کوئی پرواہ نہیں ہے۔ روزنامہ کاوش نے سندھ کے وزیر اعلیٰ سید مراد علی شاہ کے نقل کلچر روکنے والے بیان کو ایک روایتی اعلان قرار دیاہے اور اپنے ادارتی نوٹ میں یہ لکھا ہے کہ انتظامی سربراہان اس سلسلے میں سنجیدہ نہیں ہیں۔ نہ امتحانی سینٹرز میں موبائل فونس پر جیمر لگائے گئے اور نہ ہی فوٹو کاپی کی دوکانیں بند کرائی گئیں۔ اسکا نتیجہ یہ ہے کہ بورڈ آفس کی وجیلنس ٹیموں کے دوروں کے باوجود بھی نقل کے عمل کو روکا نہیں جا سکا۔اخبار نے لکھا ہے کہ نقل کلچر کا خاتمہ فقط اعلانات سے نہیں بلکہ مستقل مزاجی سے، قانون کی عملداری اور اخلاقی قدروں کے فروغ سے عملی اقدامات کرنے ہونگے۔ بتایا گیا ہے کہ سندھ کے مختلف امتحانی سینٹرس کی شہرت کو دیکھ کر پنجاب اور خیبر پختونخواہ سے سینکڑوں طلباء یہاں آکر امتحان دے رہے ہیں۔

“کیا حکم ہے میرے آقا” کی طرز حکمرانی

روزنامہ کاوش نے حکومت سندھ پر تنقید کرتے ہوئے لکھا ہے کہ یہاں کے منتظمین حکومت کو بادشاہت کے طرز پر چلا رہے ہیں، وہ اپنے آپ کو ریاستی قانوں کے بدلےاپنی مرضی اور منشا کے مطابق چلانے کے خواہشمند ہیں۔ اخبار نے لکھا ہے کہ اسی خواہش کی تکمیل کرتے ہوئے سندھ پولیس کے سربراہ ای ڈی خواجہ کو بار بار ہٹانے کی کوششیں جاری ہیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ سندھ کی انتظامیہ قانوں کی بالادستی کے بجائے”کیا حکم ہے میرے آقا” والے انداز میں اطاعت اور فرمانبرداری کریں جس سے سندھ میں بڑا انتظامی بحران پیداہوگا اور اس خواہش کی تکمیل اب اس لئے ممکن نہیں کہ میڈیا اب چوکس اور عدالتیں فعال ہیں۔ اخبار نے حکومت سندھ کو یہ مشورہ دیا ہےکہ معاملات کو انتظامی بحران کی طرف روکنے کے لئے تدبر سے فیصلے کرنے کی ضرورت ہے اور انتظامی معملات میں سیاسی مداخلت کو ختم کرنے سے ہی ادارے فعال کردار ادا کر سکتے ہیں۔ اور ان کی مجموعی کارکردگی بہتر ہوسکتی ہے۔

About Author

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: