کتنی تصویروں کے ساتھ آئی ہے شامِ زندگی   – انور عباسی کی آپ بیتی حصہ 7

1

(۳) رسم و رواج

شرعی طہارت

ہرملکے و ہر رسمے۔ ہر ملک میں چند رواج ایسے ملتے ہیں جو دوسرے میں لائقِ تعزیرسمجھے جائیں تو تعجب نہ ہونا چاہیے۔ الحمد للہ ہمارے علاقے کے لوگ سب مسلمان ہیں۔ہم کلچر کو مذہب سمجھتے ہیں اور الحمد للہ ’کلچری مذہب‘ پر سو فیصد عمل کرتے ہیں۔ اپنے علاقے سے تھوڑا اِدھر اُدھر ہوں تو سمجھتے ہیں وہاں کے لوگوں کا اسلام خطرے میں جا پڑا۔ معاشرے نے جو بات سمجھا دی اس پر سو فیصد عمل کرکے جنت حاصل کرنے کی ترکیبوں پر عمل کرنا ضروری سمجھتے ہیں۔ بالخصوص ایسی ترکیبیں اور رسومات جن پر کچھ زیادہ محنت نہ کرنی پڑے۔ ہم نے دیکھا لوگ روزہ افطار کرنے کا سوچیں گے بھی نہیں چاہے سفر میں پیاس کی وجہ سے ان کی جان ہی کیوں نہ چلی جائے، لیکن نماز کے قریب بھی نہ جائیں گے۔ ہم نے اپنے مطلب کا پِک اینڈ چوزکر کے اسلام کو اختیارکر رکھا ہے۔خیر یہ بھی گوارا سہی لیکن۔۔۔، چلیں جانے دیں ان اصولی باتوں کو، یہ بہت بعد میں ہمیں سمجھ آئیں۔ ’کلچری مذہب‘ نے ہمیں بچپن میں شرعی طہارت حاصل کرنے کا ایک طریقہ سکھایا تھا، جو(شاید) کم بخت مغربی تعلیم نے تباہ و برباد کر کے رکھ دیا۔ یہ ایک ایسا رواج تھا جو ہمارے گائوں کے علاوہ آزاد کشمیر کے دیگر گاصوں میں بھی دیکھنے کو ملتا تھا۔ لیکن افسوس ؎ وے صورتیں الہٰی کس ملک بستیاں ہیں اب دیکھنے کو جن کے آنکھیں ترستیاں ہیں۔ اب چراغِ رخِ زیبا لے کر بھی نکلیں تو یہ رواج یا طریقہ کہیں دکھائی نہ دے۔
طہارت کے اِس عمل کو ’بٹوانی‘ کہتے تھے۔ آج جب یہ عمل تو کیا یہ لفظ ہی متروک ہو چکا ہے تو ایسے ہی شیطانی خیال ذہن میں آیا کہ ان لوگوں کا کیا بنے گا جو اس عمل سے محروم رہ گئے؟ اس شرعی عمل کی مکمل تشریح و توضیح تو شاید قابلِ دست اندازیِ پولیس ہو سکتی ہو لہذا ہم صرف اشارے ہی کر سکتے ہیں۔ آج کل شرفا رفع حاجت کے بعد آبدست لیتے ہیں اور طہارت حاصل کرتے ہیں۔ مگر جس دور کی بات ہم کر رہے ہیں اس میں آبدست سے پہلے بھی ایک مرحلہ ہوا کرتا تھا۔ عام حالات میں تو لوگ کھیتوں کا رخ کرتے تھے مگر ایمرجینسی میں راستے میں ہی کوئی مناسب سی جگہ دیکھ کر تھوڑا سا ہٹ کرفارغ ہوتے۔ لیکن اس سے پہلے ایک دو بڑے سائز کے کنکر اٹھانا نہ بھولتے۔ان کو پتھر اٹھاتے اور تولتے دیکھ کر دور سے ایسا لگتا تھا کہ کتوں کو مارنے کی مہم پر نکلے ہیں۔ فارغ ہو کر اٹھتے، دائیں ہاتھ میں ازاربند اور بائیں میں پتھر پکڑکر شلوار کے اندرگھسیڑتے اور سب کے سامنے یہ شہادت پیش کرتے کہ شرعی طہارت یوں حاصل کی جاتی ہے! یہ فعل کھڑے کھڑے اور چلتے چلتے بھی کیا جاسکتا تھا۔ زیادہ متقی حضرات کو کرِس کراس کر کے ٹانگوں کو دائیں بائیں مروڑتے رہتے اور آخری قطرہ تک نچوڑ کر دم لیتے۔ ایسے افراد کواسی مہارت کی وجہ سے آج کل محکمہ انکم ٹیکس میں لیا جا سکتا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ جس کے کپڑے پر پیشاب کا قطرہ لگ جائے وہ جہنم میں داخل کیا جائے گا۔ لہذا یہ عام رواج تھا جس کی خلاف ورزی کا تصوّربھی نہیں کیا جاسکتا تھا۔
آزاد کشمیر سے باہر پاکستان میں ہزارہ اور خیبرپختونخواہ کے باسی بھی اس پر عمل پیرا تھے۔ ہم جب شعور کو پہنچے تو ہمارے ہاں یہ شریفانہ فعل متروک ہو چکا تھا۔ ہم کراچی گئے اور بھول بھال گئے۔ ہمارے سعودی عرب کے دوران میں بینک میں ایک سعودی ساتھی فریاد کرتا ہوا آیا کہ تم پاکستانی یہ اور وہ ہو۔ پوچھا، بھلے آدمی کیا ہوا۔ اس نے سب کے سامنے تفصیل سنائی کہ فلاں سڑک کے کنارے ایک پاکستانی یہ نامعقول حرکت کر رہا تھا۔ ہم نے کہا بھئی یہ طہارت کا طریقہ ہے اور بعض جگہوں پر خال خال ہی ملتا ہے۔ لیکن اس اللہ کے بندے نے ہم کو نکو بنا کر چھوڑ دیا۔ سب لوگ ایک طرف تھے اور ہم شرمسار سے منہ چھپاتے پھرے۔ بچپن میں تو شرم نہیں آئی، نہ فاعل کو نہ تماشائی کو۔ یہاں تویہ شرعی فعل تماشہ بن کر رہ گیا۔ انجانے میں وہ کیا کہہ رہے ہیں، ان کو پتہ ہی نہیں۔ یقینا اللہ ان سب کو معاف فرمائے گا۔ ہم ان کے لیے اللہ سے ان کی ہدایت کی دعا ہی کرسکتے ہیں۔

جاری ہے

اس تحریر کا چھٹا حصہ یہاں ملاحظہ کریں

اس تحریر کا آٹھواں حصہ یہاں ملاحظہ کریں

About Author

Leave a Reply

1 تبصرہ

Leave A Reply

%d bloggers like this: