کتنی تصویروں کے ساتھ آئی ہے شامِ زندگی   – انور عباسی کی آپ بیتی حصہ 6

0

جدید سائنسی علاج

جیسا کہ ابھی ذکر ہوا جہالت اور توہم پرستی ہر معاشرے میں کسی نہ کسی صورت میں موجود رہی ہیں۔ اگر علم کی روشنی کا گزر نہ ہوا ہو تو یہی طور طریقے عقائد کا روپ دھار لیتے ہیں۔ ان کی کوئی علمی بنیاد ہو یا نہ ہو، عام طور پر ان کو چیلنج کرنا خاصا مشکل ہوتا ہے۔ اگر کوئی پوچھے کہ بھئی یہ کیوں کر رہے ہو تو پوچھنے والے کا منہ حیرت سے تکتے ہیں کہ یہ بھی کوئی پوچھنے والی بات ہے۔ جب ہم دوسری تیسری جماعت کے طالب علم تھے تو اسکول جاتے ہوئے اکثر لیٹ ہو جاتے تھے۔ اگر اساتذہ کرام جلد پہنچ جاتے تو دیر سے آنے والے طلبا کی اچھی خاصی گوشمالی ہو جاتی۔ ہم لوگ دعا کرتے رہتے کہ اللہ کرے آج فلاں ماسٹر صاحب نہ آئے ہوں۔ دعا تو خیر بعد میں قبول ہوتی یا نہ ہوتی اس لیے اپنے آپ کو اطمینان دلانا ضروری تھا کہ واقعی فلاں ماسٹر صاحب نہیں آئے۔ اس کے لیے ایک سائنسی طریقہ نہ معلوم کس نے دریافت کیا تھا، بہرحال ہماری رہنمائی کے لیے موجود تھا۔
وہ طریقہ یہ تھا کہ ایک مخصوص جگہ پر ہم کنکریاںپھینکتے اور کہتے کہ اگریہ کنکری اس طرف گرے گی تو ماسٹر صاحب نہیں آئے ہوں گے۔ یہ جگہ تنگ گھاٹی میں واقع تھی جو ڈھلوان کی شکل میں دور تک نیچے چلی گئی تھی۔ ظاہر ہے سب لڑکوں کی کنکریاں ایک ہی رخ پر نہیں گرتی تھیں۔ پس جس لڑکے کی کنکری ہماری خواہش کے مطابق منزلِ مقصود پر پہنچ جاتی ہم باقی کنکریوں کو نظر انداز کرکے اس پر اجماع کر لیتے کہ چلو جی پتہ چل گیا، ماسٹر صاحب ابھی نہیں پہنچے۔ استاد صاحب بھی بہت دور سے آتے تھے اس لیے اکثر ہمارے طریقہِ تحقیق کے مطابق وہ واقعی دیر سے آتے اور یوں ہم اس عقیدے پر پختہ تر ہوتے گئے۔ لیکن جس دن یہ طریقہِ علم ساتھ نہ دیتا اس دن ماسٹر صاحب کی طرف سے مار بھی پڑتی لیکن اس کے باوجود ہمیں یقین تھا کہ اس کی وجہ ہمارے سائنسی طریقے کی خامی نہیں ہو سکتی۔ برسوں بعد معلوم ہوا کہ یہ سائنسی طریقہ ایامِ جاہلیت میں قریش کے ہاں بھی مقبول تھا۔ وہ بھی اپنا کام کرنے سے پہلے خانہ کعبہ میں تیر پھینک کر معلوم کرتے تھے کہ فلاں کام کرنا چاہیے یا نہیں۔ اگر ان کی خواہش کے مطابق تیر نشانے پر نہ بیٹھتا تو دوسری دفعہ اور تیسری دفعہ پھینکتے چلے جاتے تا آنکہ ان کا تیر نشانے پر نہ بیٹھ جاتا۔ اور یوں بھی ہوتا کہ ان کی خواہش کے مطابق تیر نشانے پر نہ بیٹھتا  تب بھی اپنے بتوں کی شان میں چند جملے ادا کرکے اپنا مشن بہرحال پورا کرتے۔
مختلف عوارض اور اسباب کے سدِ باب کے لیے مولوی حضرات تعویذ دیتے تھے جو ان کی طرف سے جاری شدہ ہدایات کے مطابق ہی استعمال کرنے ہوتے تھے۔ پکی پنسل یا سیاہی سے لکھے گئے تعویذ کو دو طرح استعمال کیا جاتا تھا۔ ایک طریقہ تو یہ تھا تعویذ کو پانی کے گلاس میں گھول کر پلایا جائے۔ تعویذ میں جو بھی لکھا گیا ہوتا تھا وہ کاغذ سے جان چھوڑا کرپانی میں منتقل ہو جاتا تھا۔ اب پتہ نہیں الفاظ اس صورت میں بھی اپنا اثربحال رکھتے تھے یا صرف سیاہی کی کڑواہٹ میں تبدیل ہو جاتے تھے۔ ویسے کاغذ پر لکھے ہوئے الفاظ بھی کیا اثرات رکھ سکتے ہیں، لیکن یہ کہیں شرعی معاملات میں مداخلت نہ سمجھی جائے، اس لیے اس پر تبصرہ شاید مناسب نہیں ہوگا۔ بہرحال اس طریقہِ استعمال سے پانی اپنی اصل حالت ضرور تبدیل کر دیتا تھا۔ صرف صورت ہی نہیں، ذائقہ بھی پانی والا نہیں ہوتا تھا۔ دوسرا طریقہ یہ ہوتا کہ تعویذ کو کسی کپڑے میں سی کر اور بعض اوقات چاندی کی ڈبیا میں بند کر کے گلے میں یا بازو پر باندھا جاتا تھا۔یہ سائنسی طریقہ استعمال نہ کرنے والے جاہل اور گستاخ متصور کیے جاتے تھا۔ اس سائنسی طریقہ کے متعلق عام عقیدہ یہی تھاکہ دو اور دو چار کی طرح استعمال کرنے والے کے تمام مقاصد پورے ہو جاتے ہیں۔

یہ معاملہ انسانوں تک ہی محدود نہیں تھا، بلکہ جانور بھی اس کی زد میں آتے تھے۔ بلکہ ان کے معاملے میں تعویذ سے ہٹ کر بھی کئی اور سائنسی طریقے موجود تھے۔ جیسا کہ پہلے کہیں مذکور ہوا، تقریباًہر گھر میں گائے، بھینس اور بکریاں وغیرہ موجود ہوتی تھیں جو گھر بھر کی ضروریات کو پورا کرتی تھیں۔ دودھ کی سپلائی کو یقینی بنانے کے لیے گائے بھینسوں کی ہر طرح دیکھ بھال انسانوں سے بڑھ کر کی جاتی تھی۔ گابھن بھینس کا تو یوں سمجھئے سب کی آنکھوں کا تارا ہوتی تھی۔ حفاظتی اقدامات کے لیے سائنسی طریقے، تعویذوں سے الگ ہوتے تھے۔خصوصاً وہ گائے بھینسیں جو وقت سے پہلے (pre-mature)بچھڑادنیا میں لے آتی تھیں یعنی ’ ترُ و ‘ جاتی تھیں، ان کے لیے حیرت انگیز طریقہ ہماری’ سائنس‘ نے دریافت کر رکھا تھا، جو نہ صرف ہماری سمجھ سے بالا تھا بلکہ ہر کوئی اس معاملے میں ہماری ہی طرح عقل سے پیدل تھا۔ویسے سائنس کے بہت سے قوانین ہماری سمجھ سے بالا ہیں۔ مثلاً نظریہِ اضافت کا نام ہم نے بھی سن رکھا ہے، لیکن حرام ہے جو سمجھ میں آیا ہو۔ مگر چونکہ سب کہتے ہیں کہ یہ سچ ہے اور اسی کی بنیاد پر نہ معلوم کیا کیا دریافتیں سائنس نے ہماری بہتری اور بربادی کے لیے تیار کر رکھی ہیں اس لیے یقین تو کرنا ہی پڑتا ہے۔ اسی لیے ہم نے اس سائنسی قانون پر بھی ایمان بالغیب لانا ضروری سمجھا۔
خیر ہم کہہ یہ رہے تھے کہ وقت سے پہلے بچھڑا دینے والی (ترُونے والی) گا ئے یا بھینس کے لیے بھی ہمارے مقامی سائنسدانوں نے ایسا ہی ایک حیرت انگیز طریقہ ایجاد کر لیا تھا۔ وہ طریقہ یہ تھا کہ بھینس یا گائے کے گلے میں اچھا سا مظبوط تالا رسی سے باندھ کر لٹکایا جاتا تھا اور بس۔ اس کا نتیجہ یہ نکلتا تھا یا اگر نہیں نکلتا تھا تو نکلنا چاہیے تھا کہ گابھن بھینس یا گائے اپنے فطری وقت پر بچھڑا دیتی۔ یقین جانیے کبھی کبھار یہ نتیجہ بالکل حسبِ توقع برآمد بھی ہوجاتا تھا! ایسا کیوں ہوتا تھا؟ گلے میں لٹکائے ہوئے تالے کا قانونِ فطرت سے کس قسم کا تعلق ہے؟ یہ سوالات نظریہ اضافیت کی طرح ہماری سمجھ سے بالا تر ہیں، سو ہم اس قانون پر بھی نظریہِ اضافیت کی طرح ایمان بالغیب لا کر سائنس کی بالاتری کا اعلان کرنا ضروری سمجھتے ہیں۔
تاہم اس قانون کے عملی اطلاق کے بارے میں ایک دوسری تجویز آزاد کشمیر کے ایک بڑے جید عالم مولانا عبدالعزیز صاحب تھوراڑوی مرحوم کی طرف سے سامنے آئی تھی۔ مولانا مرحوم، سنا ہے، بڑے ہی ذہین و فطین،صاحبِ ذوق اور حسِ مزاح رکھنے والے فرد تھے۔ وہ ایک روز کہیں جا رہے تھے، انہوں نے دیکھا کہ نزدیک ہی ایک عمر رسیدہ خاتون اپنی بھینس کے ساتھ چراہ گاہ میں کھڑی ہے۔ بھینس کے گلے میں تالا لٹکا ہوا تھا۔ مولانا کی رگِ ظرافت پھڑکی اور گویا ہوئے: ’بھاوی تساںمھنجی نے گلے وچ تالا کیاں لڑکایا ناں؟‘ بھابی جی، یہ بھینس کے گلے میں تالا کیوں لٹکا رکھا ہے؟ بھابی بولیں: ’مولوی صیب، مھنج ترُویانی اے تے فیر کی کراں؟‘ مولوی صاحب بھینس وقت سے پہلے بچھڑا دے دیتی ہے اس لیے اور کیا کروں؟ بھابی صاحبہ کی بات بالکل درست تھی۔ توہم پرستی کی بات نہیں تھی، سائنس نے ایک طریقہ ایجاد کر کھا تھا، اس پر عمل نہ کرنا ایک دقیانوسی بات ہی ہو سکتی تھی، سو بھابی نے اسی پر عمل کیا تھا۔ لیکن مولوی صاحب نے تُرت جواب ’ اگرایہہ گل دی تے تساں فیر تالا غلط جگہ لگادتا اے‘۔ یعنی اگر یہ بات درست ہے توپھر آپ نے تالا غلط جگہ پر لٹکا رکھا ہے! بھابی صاحبہ کا منہ حیرت سے پہلے کھلا اور بند ہو گیا۔ مولوی صاحب تو سائنسی قانون کا متبادل طریقہِ استعمال بتا کر رخصت ہو گئے، معلوم نہیں اس خاتون نے کیا جواب دیا۔ اس تجویز پر عمل کیا یا پرانے طریقے پر ہی اکتفا کیا، راوی اس معاملہ میں خاموش ہے۔ ہم نے اکثر دیکھا ہے کہ ایسے معاملات میں راوی عام طور پر خاموش ہی رہتا ہے۔ شاید اس کی وجہ فسادِ خلق کا خوف ہو ہے۔
اب بھینس کی بات چل نکلی ہے تو دیکھیں کہاں تک پہنچے۔ تالا بندی یا اسی طرح کی اتنی احتیاط اس لیے کی جاتی تھی کہ گائے بھینسیں وقت پر ڈیلیوری کر سکیں تا کہ اس کا دودھ وافر مقدار میںمیسر آتا رہے۔ لیکن بعض اوقات ایسا بھی ہوتا کہ اچھی بھلی لَیری بھینس بھی اچھل کود کرتی اور شریفانہ طریقے سے دودھ دینے پر آمادہ نہ ہوتی۔ بعض لوگوں کی بھی یہی عادت ہوتی ہے کہ وہ اپنے فرائض بھی خوشدلی سے ادا نہیں کرتے۔ ان کے لیے بھی غیر معمولی قدم اٹھانا پڑتا ہے، لیکن سر دست یہ ہمارے موضوع سے خارج ہے۔ خیر بھینسوں کے سلسلے میں پہلے مرحلے پر مولوی صاحب سے رجوع کیا جاتا جو حسبِ معمول نظرِبد یا کسی اورغیر مرئی بیماری کا تعویذ دے دیتے۔ اس سے بھی جب کام نہ چلے تو ظاہر ہے کہ کچھ اور طور طریقے اختیار کرنے پڑتے ہیں۔ غالب نے شاید اسی طرف اشارہ کیا ہے  ؎ عجزونیاز سے تو وہ آیا نہ راہ پر دامن کو اس کے آج حریفانہ کھینچئے۔

جو بھینس شریفانہ طریقے سے دودھ دینے پر آمادہ نہ ہو، اور مولوی صاحب کی بات کی بھی پرواہ نہ کرے تو اس کا دامن، بلکہ دُم، حریفانہ کھینچے بغیر چارہ نہیں۔ بھینسوں کے سلسلے میں یہ غیرمعمولی قدم ذرا احتیاط سے بتانے کی ضرورت ہے۔ بصورت دیگر ایسے لوگوں کی کمی نہیں جو ہم پر منٹو کی طرح فحش نگاری کا مقدمہ قائم کرنے کے لیے میدان میں آ سکتے ہیں۔ ابنِ صفی کی ایک کتاب ’کبڑا عاشق‘  پر بعض لوگوں نے اسی طرح کا یا اس سے ملتا جلتا اعتراض کیا تھا۔ اگلی کتاب میں ابنِ صفی نے اپنے پیش رس میں لکھا کہ میں نے تو کوئی ایسی بات نہیں لکھی، لیکن اس کا کیا کیا جائے کہ بعض لوگ بہشتی زیور پڑھتے ہوئے بھی سسکاریاں بھرتے ہیں۔ سوایسے لوگوں سے پیشگی معذرت۔ ہم صرف یہ بتانا چاہ رہے تھے کہ شریفانہ طریقے سے دودھ نہ دینے والی بھینس کا علاج بھی غیر شریفانہ طریقے سے کیا جاتا۔ اس علاج کو مقامی زبان میں ’درا دینا‘ کہتے تھے۔ اس کا اردو متبادل ہوتا بھی تو ہم نہ لکھتے بلکہ یوسفی کی طرح وارث سرہندی کی لُغت کے صفحے کا حوالہ دے کر اپنی جان چھڑا لیتے۔ بس اتنا سمجھ لیجئے کہ یہ ایک ’ہتھ‘ کنڈا ہے یعنی ایسا طریقہ ہے جس میں ہتھ استعمال کیا جاتا ہے۔ یہ ایک اصطلاح بھی ہو سکتی ہے۔ ہمارے محمود بھائی نے کہیں سے سن رکھا ہے کہ الفاظ کا مفہوم الفاظ میں نہیں انسان کے ذہن میں ہوتا ہے۔ ویسے بھی الفاظ کے پیچوں میں الجھتے نہیں دانا، سو قارئین کرام اپنے رسک پر اس اصطلاح کا اپنا پنا مفہوم خود متعین کر لیں۔
موجودہ زمانے میں بعض عالمی طاقتیں اپنا کام نکالنے کے لیے اسی طرح کا ’ہتھ‘ کنڈا استعمال کرتی ہیں۔ مثلاً امریکہ کی جب کوئی کمزورملک آسان زبان نہ سمجھے تو وہ یہی طریقہ آزماتا ہے۔ ایسا نہ سمجھا جائے کہ صرف طاقتور ملک ہی کمزور ملکوں کے ساتھ ہی یہ روا رکھتے ہیں۔ نسبتاً کمزور ممالک بھی اپنے سے طاقتور ملک سے اسی طرح کام نکلواتے ہیں۔ مثلاً اسرائیل اور بھارت کئی دفعہ اسی طریقہِ علاج سے امریکہ سے بڑی امداد حاصل کر لیتے ہیں۔ فرق صرف یہ ہے کہ بڑی طاقتیں حقیقتاً اپنا ’ہتھ‘ استعمال کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں اور بلا ضرورت استعمال بھی کر دیتی ہیں۔ لیکن کمزور طاقتیں، ظاہر ہے، اپنا ہاتھ ذرا ہلکا رکھتی ہیں بلکہ ہاتھ کی بجائے زبان استعمال کرتی ہیں۔

۔۔۔۔۔جاری ہے۔۔۔۔

اس تحریر کا پانچواں حصہ یہاں ملاحظہ کریں

اس تحریر کا پانچواں حصہ یہاں ملاحظہ کریں

About Author

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: