قومی زبان کا مسئلہ: سندھی اخبارات کے ادارتی خیالات ۲

0

تمام پاکستانی زبانوں کو قومی زبان کے طور پر تسلیم کیا جائے

گذشتہ دنوں سندھی اخبارات نے مادری زبانوں کو درپیش خطرات پر ادارتی نوٹ لکھےجس میں بتایا گیا کہ مادری زبانوں کا تحفظ بنیادی حقوق کے زمرےمیں آتا ہے۔ ہمارے ملک میں لوگ انگریزی اور دیگرغیر ملکی زبانیں سیکھنے پر تو توجہ دیتے ہیں لیکن اپنے ملک کی زبانوں کوحکومتی سطح پر قبولیت کا شرف حاصل نہیں ہوتا۔ قانوں ساز اداروں نے سینیٹر ڈاکٹر کریم خواجہ کی طرف سے پیش کردہ پاکستان کی 9 زبانوں کو قومی زبانوں کا درجہ دینے کے لئے سینیٹ میں بل حکومت کی طرف سے رد کرنے پر غم اور غصے کا اظہار کیا اور اس بات کو ملک کی وحدت کے خلاف ناپسندیدہ قرار دیا ہے۔ اخبار میں لکھا ہے مقتدرہ قوتیں اس چیز کی اہمیت کو نہیں سمجھتی کہ یہ مادری زبان کا ہی مسئلہ تھا جو مشرقی پاکستان علیحدہ ہونے کا سبب بنا اور اب بھی حکمرانوں کو احساس نہیں۔

 روزنامہ کاوش نے مادری زبانوں کی ترقی اور تحفظ کو بنیادی حقوق کا حصہ قرا دیا ہے۔ اخبار نے مزید لکھا کہ اردو، سندھی، بلوچی، پشتو، پنجابی، سرائکی، براہوی، ہندکواور بلتی کو پاکستان کی قومی زبانوں کا درجہ دیا جائے۔ اس سے ملک میں باہمی لسانی روابط اور محبتوں میں اضافہ ہوگا۔انہوں نے کہا کہ سندھی زبان کو انگریزوں کے زمانے میں بھی سرکاری زبان کی حیثیت حاصل تھی اور کراچی شہر میں 300 سندھی میڈیم اسکول موجود تھے۔ اور ان اسکولوں میں سندھ مدرسۃ الاسلام بھی ایک تھا جس میں قائد اعظم محمد علی جناح نے تعلیم حاصل کی۔ لیکن آج سندھ کی شہری آبادی کے اسکولوں میں انگریزی میڈیم کے نام پر اردو اور سندھی زبان کی تعلیم کو ختم کیا جارہا ہے۔ جو قومی اتحاد کے خلاف ایک تکلیف دہ عمل ہے۔

روزنامہ عبرت نے اس سلسلے میں لکھا ہے کہ زبان انسان کے اندرونی اظہار کا نام ہے۔ جس میں سماج کے لوگ ایک دوسرے سے وابستہ رہتے ہیں۔ ماں بولی کے بغیر سماج کا تصور نامکمل ہے۔ یہ بدقسمتی ہے کہ ہمارے حکمرانوں نے ماضی سے کوئی سبق نہیں سیکھااور ملک کی زبانوں کو قومی اتحاد کے لئے خطرہ قرار دیا گیا۔ دنیا کے دوسرے ممالک نے اپنی مختلف زبانوں کو قومی زبانوں کا درجہ دیا اور انہوں نے کوئی خطرہ محسوس نہیں کیا۔ جہاں تک سندھی زبان کا تعلق ہے تو یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ قرآن پاک کا سب سے پہلا ترجمہ سندھی زبان میں ہوا تھا۔ روزنامہ عبرت نے پیپلز پارٹی کے سیاسی رھنمائوں کو یاد دلایا کہ ان کی مرکز اور صوبے سندھ میں حکومت ہونے کے باوجود سندھی زبان کے لئے انہوں نے کچھ نہیں کیا۔ اخبار نے لکھا ہے کہ اس بات سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ قومیں اور تہذیبیں زبان کہ ساتھ وابستہ رہتی ہیں۔ اور ماں بولی ایک فطری حقیقت ہےجس سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔

روزنامہ عوامی آواز نے مادری زبانوں کی اہمیت کے حوالے سے امریکا میں موجود نیوز 10 چینل کے سربراہ ابوبکر میمن کا ایک انٹرویو شایع کیا ہے جس نے بتایا کہ مادری زبان کے تحفظ کے لئے ذریعہ تعلیم موثر ذریعہ ہے۔بچہ سب سے پہلے اپنے مادری زبان سیکھتا ہے اس لئے تعلیم بھی اسی میں آسانی سے حاصل کر سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ غیر مادری زبان کےذریعے تعلیم حاصل کرنے والی قومیں غلامی اور محرومی میں رہتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سندھ کے سرکاری تعلیمی اداروں کو مزید فعال کرکے ان کے اندر مادری زبانوں میں تعلیم دی جائے اور عدالتی اور سرکاری محکموں میں بھی احکامات اور فیصلے مادری زبانوں میں لکھے جائیں۔انہوں نے کہا کہ زبانوں کے معاملے کو 1971ء کے حالات کے پس منظر میں دیکھا جائے اور پاکستانی زبانوں کو قومی حیثیت دی جائے۔ روزنامہ عوامی آواز نے اس سلسلے میں کچھ سیاسی، سماجی شخصیات کے خیالات شایع کئے ہیں جن میں پنجاب کے سیاستدانوں کو خبردار کیا گیا ہے کہ وہ اس سلسلے میں ماضی سے سبق سیکھیں اور رکاوٹ نہ بنے۔ کیونکہ پاکستان کی اسٹیبلشمنٹ پہ وہ قابض ہیں۔ سینیٹر سسی پلیجو نے کہا ہے کہ اس سلسلے میں سینیٹ میں تمام پاکستانی زبانوں کو قومی زبان کا درجہ دینے کا بل پیش کیا گیا۔ لیکن ہمیں بغیر کسی تیاری کے بل پیش کرنا نہیں چاہیے کیونکہ نواز لیگ بل کی منظوری میں سنجیدہ نہیں ہیں اور پیپلز پارٹی کو اکثریت حاصل نہیں ہے۔ ہم کوشش کر رہے ہیں کہ دوسری سیاسی جماعتوں کے اراکین سے رابطہ قائم کر کے اس کو منظور کروائیں۔ اخبار نےممتاز دانشور اور کالم نگارنصیر میمن کا نقطہ نظر شایع کیا ہے جس میں انہوں نے کہا ہے کہ ملک کو لسانی طور پہ وحدانی ریاست کے طور پہ چلایا جا رہا ہے جو ملک کی وحدت کے خلاف ہے۔

About Author

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: