بگڑا بچہ : کلیم شہزاد خان

0

ابن انشاء نے کہا تھا کہ دیکھا گیا ہے کہ گھر کا آخری بچہ لاڈ پیار کی وجہ سے اکثر بگڑ جاتا ہے، انھوں نے اس سلسلے میں کئی تجاویز بھی دی تھیں۔
 خیر موضوع یہ نہیں کہ آخری بچہ ہونا چاہیے یا نہیں۔ ہم کئی دن سے بگڑے بچے کے بارے میں نہ جانے کیوں سوچ رہے تھے۔ خدا نخواستہ ہمارا کوئی بچہ بگڑا ہوا نہیں، مگر ہم نے کافی گہرائی میں سوچا تو احساس ہوا کہ ایک بگڑا بچہ تو خود ہم میں چھپا بیٹھا ہے اور وقتاً فا وقتاً اپنی موجودگی کا احساس بھی دلاتا رہتا ہے۔ اب یہی دیکھیں کہ ایک بگڑا بچہ اپنی ضد کے  آگے کچھ نہی سنتا، ویسے بھی تین ہٹیں مشھور ہیں جس میں سے ایک بالک ہٹ ہے، لہٰذا کسی کی نہی سنتا اور جو ٹھان لی اس پر بضد رہتا ہے۔ وقت اور عمر کچھ  لگام ضرور ڈال دیتی ہیں مگر جہاں اسے موقع ملتا ہے وہ اپنی بالک ہٹ دیکھا دیتا ہے۔
اکثر اسکی یہ خواھش ہوتی ہے کہ لوگوں کی ساری  توجہ صرف اسی پر مرکوز رہے اور لوگ اس کے ناز نخرے اٹھاتے رہیں۔ ایک اور بھی صفت سے مالامال ہوتا ہے یہ بگڑا بچہ ، اور وہ یہ کہ، صرف اسکی بات کو صحیح مانا جائے، جو حکم کرے وہ فورا پورا ہو۔ کسی کام کو کرنے پر اڑ جائے تو دنیا ایک طرف اور وہ ایک طرف، اور وہ اسکو کر کے ہی چھوڑتا ہے، جب تک وہ کام پورا نہ ہوجائے اسکو سکوں نہیں ملتا۔
 وہ کسی کی تنقید، کسی کی مخالفت، کسی کی برائی اور راہ میں مشکل پیدا کرنے کی کوئی پروا نہیں کرتا۔
 یہ تمام صفات اگر غور کریں تو بیک وقت منفی تو ہیں ، مگر ساتھ ہی انتہا درجے کے مثبت نتائج کو جنم دیتی ہیں۔
 میں نے تو اپنے بگڑے بچے کو اب تک مرنے نہیں دیا۔ کوشش کریں کہ اپ سب بھی اسکو زندہ رکھیں اور کبھی کبھی اسے آزاد چھوڑ دیا کریں، یقین کریں اس کے نتائج آپکو حیرت زدہ کر دیں گے۔

 

About Author

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: