این۔ایف۔سی ایوارڈزکی تاریخ : معیشت اور عوام کا نصیب: (10) لالہ صحرائی

0

اب تک جو این۔ ایف۔ سی ایوارڈز ہوئے ہیں ان کی تفصیل اس طرح سے ہے۔

1974-79…… پہلا ایوارڈ……… بھٹو صاحب……… متفقہ

1979-84…‌..‌.‌. دوسرا ایوارڈ…… ضیاءالحق صاحب….. غیر متفقہ

1985-90…… تیسرا ایوارڈ…… ضیاءالحق صاحب…… غیر متفقہ

1991-96…… چوتھا ایوارڈ…… میاں صاحب……….. متفقہ

1996-2002…پانچواں ایوارڈ…… بینظیر صاحبہ……… غیر متفقہ

1997-2002…پانچواں ری۔ایوارڈ…میاں صاحب…… … متفقہ

2002-2007…چھٹا ایوارڈ………پرویز مشرف صاحب…. غیر متفقہ

2010-2015…ساتواں ایوارڈ…… گیلانی صاحب……… متفقہ

 

[پہلا ایوارڈ]

73 کا آئین بننے کے بعد پہلا این۔ایف۔سی ایوارڈ 74 میں قائد عوام بھٹو صاحب کے انتظام اور نگرانی میں چاروں صوبوں میں فی کس آبادی کی بنیاد پر بالاتفاق دیا گیا تھا جس کی تقسیم کے فارمولے پر وفاق پاکستان اور چاروں صوبے بھی راضی تھے، ڈویژیبل پول کو اگر فیصد کے چارٹ پر دیکھنا چاہیں تو ہر صوبے کو ملنے والی رقم شرح فیصد میں یہ بنتی تھیں۔

 

پنجاب 60.25%… سندھ 22.50%… سرحد 13.39%… اور بلوچستان 03.86%… ساتھ ہی بلوچستان کو پچاس ملیئن اور سرحد کو سوملیئن کی پسماندگی کی مد میں خصوصی گرانٹ بھی دی گئی تھی۔

 

 

1979 کے ایوارڈ میں شرح فیصد یہ تھی

پنجاب 57.97%… سندھ 23.34%… سرحد 13.39%… بلوچستان 05.30%

 

 

[دوسرا و تیسرا ایوارڈ]

ضیاءالحق صاحب کے دور میں دونوں ایوارڈز پر جب کنسینسس نہ ہوا تو وہی 1979 والی شرح پر ہی 1991 تک چاروں صوبوں کو فنڈز بمع گرانٹس ملتے رہے۔

 

 

[چوتھا ایوارڈ]

چوتھا ایوارڈ 1992 میں نوازشریف صاحب کی حکومت نے دیا جو متفقہ تھا، اس ایوارڈ کی شرح فیصد اس طرح سے تھی۔

پنجاب 57.88%… سندھ 23.28%… سرحد 13.54%… بلوچستان 05.30%‍… حسب سابق اس کیساتھ اسپیشل گرانٹس بھی دی جاتی رہیں جو 1996 میں سرحد کیلئے 4 ارب اور بلوچستان کیلئے 3.3 ارب روپے تک پہنچ چکی تھی۔

 

 

[پانچواں ایوارڈ]

پانچواں ایوارڈ 1995 میں پی۔پی گورنمنٹ نے جاری کیا لیکن غیر متفقہ تھا پھر پی۔پی گورنمنٹ قبل از وقت رخصت کر دی گئی تو نئے انتخابات کے بعد میاں صاحب کی حکومت آگئی، انہوں نے اسی پانچویں ایوارڈ کو ری۔شیپ کرکے دوبارہ پیش کیا جو پانچویں ایوارڈ کا سیکنڈ ورژن کہلاتا ہے، یہ متفقہ ایوارڈ تھا،

اسی میں صوبوں کے ریسورسز جو قومی سطح پر استعمال ہو رہے تھے انہیں رائلٹی دینے کا فیصلہ بھی کیا، اس مقصد کیلئے یوٹیلٹی بلوں پر سرچارج لگایا گیا تاکہ رائلیٹی ادا بھی کی جاسکے جو دینی بہرحال عوام نے ہی تھی کیونکہ عوام ہی صارفین تھے تو یوٹیلٹی اور ٹیکسز بھی انہوں نے ہی ادا کرنے تھے، 73 کا آئین صوبوں کے نیچرل ریسورسز جو قومی سطح پر استعمال ہو رہے ہوں ان پر صوبوں کو رائیلٹی کا حق دیتا ہے لیکن اس سے قبل رائیلٹی کا نفاذ یا تو عوام پہ بوجھ ڈالنے سے بچانے کیلئے نہیں کیا گیا یا پھر یہ اس مجموعی غفلت کا نتیجہ تھا جو ٹیکس نیٹ کو بہتر کرنے میں ہمیشہ روا رکھی گئی جس کا تفصیلی تذکرہ ہم چیپٹر۔فائیو۔سکس اور چیپٹر۔ایٹ میں کر چکے ہیں۔

 

 

[چھٹا ایورڈ]

ایک سنہری دور ک آغاز:

1991 کے جمہوری دور تک کل ریوینیو کلیکشن کا 63% مرکز اپنے پاس رکھتا کیونکہ کلیکشن کم تھی اور 37% صوبوں کو دیتا تھا، اس کے بعد 1998 میں کل ریوینیو کلیکشن کا 62.89% حصہ مرکز نے اپنے پاس رکھا اور باقی ڈویژیبل پول میں دے دیا لیکن اگلی “آمریت” کے دور میں یہ سچوایشن یکسر الٹ ہو گئی۔

 

 

چھٹا ایوارڈ 2001 میں شوکت عزیز صاحب نے فائنانس منسٹر کی حیثیت سے پیش کیا تھا جسے مشرف صاحب نے جاری کیا، لیکن پرانی روایت کے برعکس مشرف صاحب نے ملکی تاریخ میں پہلی بار مرکز کے حصے میں 12.89% تخفیف کر کے صوبوں کا حصہ بڑھا دیا اور کل ریوینیو کلیکشن کی تقریباً 50% رقم صوبوں کو دے دی۔

 

 

پھر 2005 میں مشرف صاحب نے مرکز کے حصے میں مزید تخفیف کرکے صوبوں کو 52.48% رقم جاری کی اور اپنے دور حکومت کے اگلے دو تین سال میں مرکز کو 63%سے بتدریج کم کرکے 46% پہ لاکھڑا کیا اور صوبوں کو اپنے آٹھ سالہ دور حکومت میں 37.11% سے 54% تک لے جانے کا سنہری موقع دیا، اس کشائش میں “ڈکٹیٹر” کی بھرپور ریوینیو کلیکشن اور صوبوں کیلئے فراخدلی کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا جس کا تفصیلی تذکرہ ہم نے چیپٹر۔ایٹ میں کیا تھا۔

 

 

 

[ساتوں ایوارڈ]

ایک دوسرے سنہری دور کا آغاز:

مشرف صاحب کا ایوارڈ 2009 تک چلنا تھا اس کے بعد 2010 میں نیا ایوارڈ ہونا تھا لیکن الیکشن کے بعد انہیں صدارت چھوڑنا پڑی، ان کے بعد 2009 میں پی۔پی گورنمنٹ کی طرف سے فیڈرل فائنانس منسٹر شوکت ترین صاحب نے اعلان کیا کہ اگلے این۔ایف۔سی ایوارڈ میں مالیاتی تقسیم کیلئے صرف آبادی ہی سنگل فیکٹر نہیں ہونا چاہئے بلکہ اس میں غربت poverty اور انورس۔پاپولیشن۔ڈینسٹی inverse population density کو بھی شامل کرنا چاہئے، اس پر تمام سیاسی پارٹیوں کی اتفاق رائے سے این۔ایف۔سی ایوارڈ کے فارمولے کو اٹھارھویں آئینی ترمیم میں ری۔شیپ کر دیا گیا۔

 

 

غربت poverty کا الاؤنس تو ہر کوئی سمجھ سکتا ہے لیکن inverse population density کی کچھ تشریح ہو جانی چاہئے، پاپولیشن ڈینسٹی یہ ہوتی ہے کہ کسی بھی علاقے میں فی مربع کلومیٹر کے اندر کتنے لوگ مستقل بنیادوں پر آباد ہیں، زراعت، کھیتی باڑی، مال مویشی پالنے، تجارت یا کسی بھی دوسرے روزگار سے منسلک ان لوگوں کو کسی بھی غیر معمولی حالات میں کبھی نقل مکانی نہیں کرنی پڑتی۔

 

 

انورس پاپولیشن ڈینسٹی یہ ہوتی ہے کہ کسی مخصوص علاقے میں فی مربع کلومیٹر میں رہنے والے لوگوں کی وہ تعداد جنہیں وقت کے کسی مخصوص حصے میں ہرسال خوراک کی قلت یا موسمی حالات کی شدت سے اپنی اور مال مویشیوں کی جان بچانے کیلئے دیگر علاقوں کی طرف نقل مکانی کرنی پڑتی ہے، اس کی خاص مثال پنجاب میں چولستان، سندھ میں صحرائے تھر، کے۔پی۔کے اور بلوچستان میں سرد پہاڑی علاقوں کے مکین جنہیں بالترتیب پانی کی کمی، موسمی شدت یا برفباری کی صورت میں کچھ عرصے کیلئے اپنا علاقہ چھوڑنا پڑتا ہے، ایسے لوگوں کیلئے کیمپوں کی سہولت یا عارضی آبادگاری کا کوئی انتظام کرنے کیلئے ایک مخصوص فنڈ قائم کرنا خصوصاً کے۔پی۔کے اور بلوچستان کی خاص ضرورت تھی۔

 

 

ڈویژیبل پول پہلے صرف آبادی پر تقسیم کیا جاتا تھا پھر 2010 سے نئے فارمولے میں تین دیگر فیکٹرز بھی شامل کرلئے گئے جو اس طرح سے ہیں:

 

آبادی کی بنیاد پر 82.98%… شرح غربت پر 10.30%… ٹیکس کلیکش پر 05.00%… اور انورس ڈینسٹی پر 01.72% حصہ ملے گا، مثال کے طور پر اگر فیڈرل ریوینیو کلیکشن سو روپے ہے تو اس میں سے مرکز اپنے خرچے کیلئے 46 روپے رکھے گا باقی 54 روپے کی رقم ڈویژایبل پول میں چلی جائے گی، اس قابل تقسیم رقم سے 82.98%رقم علیحدہ کرکے کل ملکی آبادی پر تقسیم کرکے جو فی کس ریٹ حاصل ہو اس سے تمام صوبوں کو ان کی آبادی کے مطابق دے دی جائے گی، اسی طرح سے باقی بچنے والی رقم بھی ہر صوبے کی شرح غربت، شرح ڈینسٹی اور شرح کلیکش کے مطابق ان کو دے دی جائے گی۔

 

 

یہ ایوارڈ گوادر میں ہوا تھا اس لئے بلوچستان کو 83 ارب کا ایک خصوصی پیکج بھی دیا گیا جو باقی تین صوبوں نے اپنے حصے کی رقم سے دیا تھا، ان میں

پنجاب نے 1.27%… سندھ نے 0.39%… اور کے۔پی نے 0.26% اپنے حصے سے ڈونیشن دیا، کل ملا کر ٹوٹل ڈویژایبل پول سے 1.92% بلوچستان کو تحفے کے طور پر دیا گیا جو اگلا ایوارڈ آنے تک ہر سال مسلسل دیا جاتا رہے گا، اس نئے سسٹم کے بعد تمام صوبوں کی پوزیشن یوں بنتی ہے کہ ماضی کے مقابلے میں اس بار بلوچستان کو 175 فیصد بجٹ زیادہ ملا، کے۔پی کو 79 فیصد، سندھ کو 61 فیصد اور پنجاب کو 48 فیصد۔

 

 

اب آپ 2010 کے ایوارڈ کی شرح فیصد بھی دیکھ لیجئے۔

پنجاب 51.74%… سندھ 24.55%… کے۔پی 14.62%… بلوچستان 09.09%

 

 

بلوچستان کا سفر 3 فیصد سے شروع ہوا تھا اور ابھی 9 فیصد پہ کھڑا ہے اور پنجاب 60%سے نیچے ہوتا ہوتا 51% پہ آگیا ہے پھر بھی کوئی یہ کہے کہ چھوٹے صوبوں کے ساتھ زیادتی ہے اور پنجاب کھا گیا تو کہنے والے کی یہ بات بذات خود گمراہ کن، تعصب اور شقاوت قلبی پر مبنی ہے اور کچھ بھی نہیں۔

 

 

تاریخ میں پہلی بار 2010 کا ایوارڈ ایسا تھا جس میں صوبوں کی ڈیمانڈز کو ہر لحاظ سے بہرصورت پورا کر دیا گیا ہے، پنجاب کی خواہش تھی کہ وہی آبادی والا کلیہ ہی ٹھیک ہے ورنہ صوبوں کی ڈیمانڈ پوری کرنے سے برابری کی بجائے پنجاب کو کم فنڈز ملیں گے جن کا نیٹ ایفیکٹ اربوں روپے سالانہ بنے گا، پھر بھی آصف علی زرداری صاحب کی خواہش ہر میاں شہباز شریف نے پنجاب کے حقوق سے دستبرداری کرتے ہوئے یہ فارمولا مان لیا، میاں شہباز شریف کی اس قربانی کے بغیر یہ ایوارڈ ممکن بھی نہیں تھا، بلاشبہ پنجاب نے چھوٹے صوبوں کو خوش کرنے کیلئے ان کی مرضی کا فارمولا مان کر اربوں روپے سالانہ قربان کئے ہیں جس کا صلہ آج بھی یہ مل رہا ہے کہ “پنجاب کھا گیا” جیسی آوازیں سننے کو ملتی ہیں۔

 

صوبائی بجٹوں میں اضافے کی ریشو ایک تو مشرف صاحب کے ریوینیو جنریشن سسٹم کی بدولت بڑھی ہے جس پر آپ غداری کا مقدمہ چلانا چاہتے ہیں تو دوسرا اس میں میاں شہباز شریف کی فراخدلی کا سب سے بڑا ہاتھ ہے جس کی وجہ سے پنجاب کا گراف اربوں روپے سالانہ کے حساب سے نیچے گیا اور باقی سب کا اوپر آیا۔

 

 

[ مرکزی و صوبائی ‌بجٹس بنانے کا طریقہ ]

آنے والے سال کیلئے بجٹ پہلے بنا لیا جاتا ہے اور مالی سال شروع ہونے سے پہلے ہی اناؤنس کر دیا جاتا ہے جس کی بنیاد پچھلے سال حاصل ہونے والی آمدنی یا ریوینیو کلیکشن ہوتی ہے، اس آمدنی میں دس پندرہ فیصد اضافہ کرکے آنے والے سال کی کلیکشن کا ٹارگیٹ متعین کیا جاتا ہے اور اسی متوقع کلیکشن پر بجٹ کا دارومدار ہوتا ہے، مرکزی اور صوبائی بجٹوں کا پہلا مرحلہ یہی ہوتا ہے۔

 

دوسرے مرحلے میں مرکز اپنی متوقع کلیکشن سے این۔ایف۔سی ایوارڈ کے مطابق صوبوں کا حصہ انہیں دے کر باقی رقم میں کیپیٹل پروسیڈز جمع کرتا ہے جو بیرونی قرضوں، پرائیویٹائزیشن، کسی کمپنی کو لائسنس جاری کرنے یا راہداری دینے سے حاصل ہونے والی رقوم پر مشتمل ہوتے ہے، جیسے سیلولر کمپنیز کو کام کی اجازت دینا، ایران۔انڈیا گیس پائپ لائن کی راہداری دینا، نیٹو کو روٹ فرام کرنا یا کسی ملک کی امداد سے کوئی پروجیکٹ شروع کرنے جیسا کوئی بھی کام یا ذریعہ آمدنی اس میں شامل ہو سکتا ہے۔

 

مرکز ان رقوم پر مشتمل اپنا بجٹ پیش کرتا ہے جس میں مرکزی محکموں کے اخراجات، فوجی بجٹ، صوبوں کیلئے چند گرانٹس، محکموں کیلئے سبسڈیز اور عوام کیلئے انکم سپورٹ یا روزگار سپورٹ جیسے پروگراموں کیلئے مخصوص رقمیں شامل ہوتی ہیں۔

 

تیسرے مرحلے میں صوبے اپنی لوکل کلیکش کا اندازہ مقرر کرتے ہیں پھر اس میں مرکز سے ملنے والی این۔ایف۔سی ایوارڈ کی رقم، اپنے کیپیٹل پروسیڈز اور غیرملکی امداد شامل کرکے اپنا بجٹ پیش کرتے ہیں، صوبوں کا بجٹ صرف صوبائی کاموں کیلئے ہوتا ہے اس میں مرکز، دوسرے صوبے یا فوج کا کوئی حصہ نہیں ہوتا۔

۔۔۔۔۔

اگلے چیپٹر میں فائنانس ایوارڈز کی تاریخ اور بین الصوباعی تنازعات پر پہلا حصہ پیش کریں گے۔

 

مضمون کا نواں حصہ یہاں ملاحظہ کریں

About Author

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: