“سیکولر ہونے یا سیکولریٹی” کے داخلی تضادات اور اطلاقی نتائج (2) — اطہر وقار

0

(اس سلسلہ کے پہلے مضمون (سیکولرازم اور سیکولرائزیشن:  ہوزے کاسانوا کی نظر سے) میں ہوزے کاسانوا کی نظر سے سیکولر، سیکولرازم اور سیکولرائزیشن کی تعریف متعین کی جا چکی ہے، یہاں ہم سیکولر اور سیکولریٹی کے حوالے سے ان کے خیالات کو مزید تفصیل سے جاننے کی کوشش کریں گے)

عام طور پر “سیکولر ہونے” کا مطلب ماسوا مذہبی و روحانی یا ہر وہ چیز جو غیر مذہبی ہو، لیا جاتا ہے۔ جیسے ہم اگر فطرت یا حقیقت سے مذہب کو علیحدہ کر دیں تو پھر جو چیز اپنے آپ میں باقی رہے گی یا بچے گی، وہ مذہب ہو گی، کاسانوا نووا نے اس کے لیے ایک اصطلاح residual category کو استعمال کیا ہے، یعنی مذہب کو الگ کر دیا جائے تو

سیکولر یا سیکولریٹی ایک فطری اور داخلی و اندرونی رہائشی قدر کے طور پر باقی بچے گی۔
لیکن بدقسمتی سے ہماری ماڈرن ایج یا جدید سیکولر دنیا میں، سیکولر ہونے یا سیکولریٹی کا مفہوم صرف اس حد تک مقید نہیں رہا بلکہ سیکولریٹی نے اپنا مطلق مفہوم میں تصور حقیقت خود تخلیق کرنے کے دعوٰی جات شروع کر رکھے ہیں اور اس تخلیقیت میں مذہب کو اس کے فطری مقام سے ہٹانا بھی شروع کر دیا گیا ہے جس کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ ہر گزرتے دن کے ساتھ سیکولر یا سیکولریٹی ہمارے سامنے اپنا fabricated تصور فطرت و قدرت اور حقیقت سامنے لارہا ہے، اگرچہ کمال عیاری سے فطری سائنس، سماجیاتی علمیت اور دیگر علوم کے ذریعے اس موقف کو بتدریج نمو پانے والی disenchantment کے پردے میں پیش کیا جا رہا ہے گویا مذہب کا پردہ اٹھا دیا جائے تو خود بخود جو چیز فطری طور پر اور تصور حقیقت کے سامنے آئے گی وہ سیکولر قدر یا وجود Secular Being ہو گی اور یہ وہ علمی تصور ہے جو مغرب اور مشرق کی غالب جدید یونیورسٹیوں اور کالجز میں علمیاتی اسلوب کے ذریعے پڑھایا جا رہا ہے۔ چارلس ٹیلر نے اپنی معروف کتاب “A Secular age” میں اسی علمیاتی رحجان پر تنقید کرتے ہوئے اسے “subtraction stories” کا نام دیا ہے۔

سیکولر یا سیکولریٹی کے بیک وقت، مذہب کے ماسوا ایک فطری اور residual قدر ہونے کے ساتھ ساتھ اس مطلق اور مکمل تصور حقیقت کے طور پر، سمجھنے کی وجہ سے خواص اور عوام میں یہ تصور نہایت سرعت سے پروان چڑھا ہے کہ مذہب کو سیکولر بمفہوم دنیاوی امور کے بمقابل سمجھنے کے بجائے ایک مابعد الطبیعیاتی اور افسانوی اضافت کے طور پر قبول کیا جائے۔ جیسا کہ کاسانوا نے ان الفاظ میں بیان کیا ہے:

“while the religious is increasingly perceived not only as the residual category, the other of the secular, but as a super structure۔ and superfluous additive, which both human and societies can do without۔”

دوسری جانب مذہب کو ایک ایسی فطری داخلی قدر (جو سیکولر بمفہوم دنیاوی امور کے بمقابل قائم رہتی ہے)، سمجھنے کے بجائے ایک مابعد الطبیعیاتی اور افسانوی اضافت کے طور پر پیش کیا جا سکتا ہے، جس کے بغیر بھی انسان اور انسانی سماج زندہ رہ سکتا ہے۔”
Rethinking Secularism, p56

کاسانوا کا یہ بھی ماننا ہے کہ سیکولر اور سیکولریٹی کا داخلی سطح پر متناقض مفہوم، اکادمیہ میں سیکولرائزیشن کی مختلف سماجی تھیوریز کو پیدا کرتا ہے یہ تھیوریز اپنی اصل میں “سیکولر اور سیکولریٹی” کے مفاہیم کی مذہبی سکوپ اور دائرہ کار سے آزادی اور تفریق differentiation بیان کرنے کی تفصیل ہے۔ جس میں یہ مفروضہ پہلے سے ہی فرض شدہ ہوتا ہے کہ سیکولرائزیشن ایک آفاقی تاریخی پروسس ہے جس سے مفر یا انکار کرنا، کسی بھی انسان کے لیے ممکن نہیں ہے۔ اور پھر اس آفاقی تاریخی سفر کے تسلسل کے دوران، آزاد خیال سیکولر دانشوروں کی طرف سے پیش کیے گئے سیکولر تصور جہاں Secular world views، دراصل اس۔ مذہب اور سیکولر کے سکوپ اور دائرہ عمل اور تعاملات کی الگ الگ ہونے کی وضاحتوں کے طور پر سامنے آئے۔ جس نے نہ صرف سیکولر تصور حقیقت کی برتری، مذہب پر ثابت کر دی بلکہ مذہب کو از کار رفتہ زمانے کی میتھالوجی جیسا بنانے کی کوشش کی۔

کاسانوا کہتے ہیں کہ سیکولرائزیشن بحیثیت آفاقی تاریخی پروسس اور اس کے جلو میں پنپنے والی سیکولسٹ تھیوریز نے اس مفروضے کو مزید تقویت دی ہے کہ سیکولرائزیشن واقعتاً حقیقی آفاقی پروسس ہے اور سیکولر تھیوریز ہی سماجی تبدیلی اور حقیت کی سب سے زیادہ وضاحت کرتیں ہیں۔ چنانچہ اس مفروضے نے ایک ماسک پیدا کیا جس کے پیچھے سیکولر اور سیکولریٹی کی بحیثیت عام انسانی نظریہ کے مطالعہ کرنے کے داعیات اور سیکولرائزیشن کا تاریخیت کے اصولوں کے تحت ناقدانہ مطالعہ جات کے امکانات معدوم ہو گئے:

“Both function as uncritical and unreflexive ideologies into far۔ as they disregard, indeed mask, the particular and contigent historicity of the process, projecting into level of universal human development۔”

(سیکولرائزیشن بحیثیت آفاقی تاریخی پروسس اور سیکولر تھیوریز) دونوں نے ایک ایسے ناقابل تنقید اور ناقابل منعطف نظریات کی حیثیت اختیار کر لی جس نے ایک ماسک (حجاب) پیدا کیا جس کے تحت سیکولرائزیشن کو بحیثیت ایک عارضی اور جزوی تاریخی تناظر و عمل کے تحت سمجھنے کے عمل کو معطل کر دیا گیا اور اس کو عالمی و آفاقی انسانی ترقی کے نمونے کے طور پر سامنے لایا گیا۔
Rethinking Secularism۔ p57

چنانچہ ان مفروضات کے علمی حلقوں اور عوامی سطح پر پھیلاؤ کی وجہ سے سیکولر اور سیکولریٹی نے مروجہ مغربی مفہومات میں، ایسی فطری اور آفاقی تعبیرات مزید تہیں پیدا کیں جس نے اس تاثر اور پروپیگنڈہ کو فروغ دیا کہ اگر مذہبی پردہ ہٹا دیا جائے یعنی ویبیرئن کے مفہوم disenchantment کر دی جائے کہ تو سیکولر و سیکولریٹی فطری و آفاقی قدر کے طور پر خود بخود ابھر کر سامنے آجاتی ہے۔

کاسانوا کے نزدیک اس علمی تاثر بندی اور پروپیگنڈہ کا ایک نقصان یہ بھی ہوا، کہ سوشل ساہنسز کے سماجی مطالعہ جات میں سیکولرلائزیشن کی تھیوریز نے سیکولر اور سیکولریٹی کی اصطلاحات کا تجزیہ، مطالعہ اور وضاحت کرنا ہی چھوڑ دیا گیا اور سیکولر اور سیکولریٹی کو متحد الجسم اور متحد الوجود قدر اور آفاقی سچائی کے طور پر اپنا لیا۔ گویا ان کے نزدیک یہ صرف مذہب ہی ہوتا ہے جو فرقے رکھتا ہے مختلف تعبیرات رکھتا ہے، منتشر خیالی پیدا کرتا ہے، تشدد پر ابھارتا ہے اور ہر قسم کی مشترکات سے عاری ہے۔ جبکہ اس کے برعکس جیسے سیکولر و سیکولریٹی سیدھی و فطری شاہراہ ہے جس پر سیکولر انسان ترقی کے زعم میں گامزن ہے۔ اور سیکولر ہونے کی نہ تو مختلف اقسام ہیں اور نہ ہی مختلف مفہومات ہیں اور نہ ہی کوئی درجہ بندی ہے۔

اس غیر حقیقی مفروضات نے حالیہ عشروں مغرب میں سیکولر سٹڈیز کے ناقدانہ سماجی مطالعہ جات کی راہ میں روڑے اٹکائے رکھے۔

حالانکہ حقیقت اس کے برعکس ہے، اس لیے یہی وجہ ہے کہ سیکولریٹی کی مختلف جہات اپنی اطلاقی حیثیت میں، مختلف مغربی سماجوں میں مختلف انداز سے ظہور پذیر ہوتی رہیں ہیں۔

لہذا مغربی مسحیت اور اس سے جڑے سماجوں میں سیکولر اور سیکولریٹی کو لے کر جو سماجی، ثقافتی و سیاسی اور تھیالوجیکل مباحث موجود رہیں ہیں، اس کی مثال دیگر مذاہب سے منسلک سماجوں میں موجود نہیں ہے، حتی کہ اس قسم کی سیکولریٹی و سیکولررائزیشن بذات خود مشرقی مسحیی سماجوں میں بھی موجود نہیں رہی۔

شاید یہی وجہ ہے کہ سیکولر اور سیکولریٹی کا مفہوم بھی مسلسل تبدیلیوں و اضافوں کی زد میں رہا ہے مثلاً اصل لاطینی لفظ saeculum, جسے عام طور پر saecula saeculorum بھی کہا جاتا تھا اس کا مطلب محض یہ تھا کہ وقت کا غیر معین دورانیہ۔۔۔

لیکن پھر وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اسے مذہبی /سیکولر دوہریت کو بیان کرنے کے تناظر میں استعمال کیا جانے لگا، جس نے آگے چل کر ان سٹرکچرز کی ہیت گری کی، جنہوں نے قرون وسطٰی کی مسحیت کی تاریخ کو دو مختلف دنیاؤں کے تناظر میں الگ الگ بیان کرنا تھا جہاں ایک طرف مذہبی و روحانی دنیا تھا جس پر مغربی مسیحی افراد کی۔  اخروی نجات کا دارومدار تھا اور دوسری طرف سیکولر بمفہوم دنیاوی، عارضی و فوری و فانی دنیا سے جڑے معاملات و امور تھے۔

اور ان دونوں جہات و امور کے لیے مسیحی مذہبی برداری کے الگ الگ گروہ تھے۔  اس میں سے ایک گروہ “خالصتاً” مذہبی نوعیت کا تھا جس نے مذہبی دائرے میں کمال (پرفیکشن) کے لیے خود کو وقف کر دیا تھا جس طرح ہمارے ہاں تزکیہ نفس کی اصطلاح ہے اس طرح مسحیت میں یہ گروہ روحانی درجہ کمال مختلف رہبانیت پر مبنی طریقوں سے حاصل کرتا تھا۔  جبکہ دوسری طرف دنیاوی زندگی میں عام لوگوں کی رہنمائی کے لیے “سیکولر” مذہبی رہنما تھے جو عام لوگوں کو رہنمائی فراہم کرتے تھے اور ان میں گھل مل کر رہتے تھے۔

ان دو سماجیاتی اطلاقی گروہوں پر مبنی مفاہیم کے علاوہ بھی سیکولر و سیکولریٹی کے تھیالوجیکل مفہوم، مسیحی سماجوں میں موجود رہے ہیں، جنہوں نے سیکولر و سیکولریٹی کے مختلف۔  ہییتوں کی بناوٹ میں امداد فراہم کی تھی۔  جس کا ذکر آگے کیا جائے گا۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply