فکر اقبال علامتوں کے آئینے میں: منیر احمد خلیلی

0

شاعر اور ادیب کسی سماج کی اجتماعی سوچ کے نمائندے ہوتے ہیں۔ معاشرے کی رگوں کی دھڑکن ان کے الفاظ سے محسوس کی جاتی ہے۔ قوموں کے زوال اور اس کے اسباب کو اس دور کے شاعروں اور ادیبوں کی فکر جانچ کر بھی پرکھا جاتا ہے۔ شعر و ادب میں جان ہو تو قوم اور معاشرہ بھی زندہ تصور ہوتا ہے لیکن جب شاعر اور ادیب مقاصدِ حیات کی بلندی سے گر جاتے ہیں تو یہ نشانی ہوتی ہے اس امر کی کہ وہ قوم بھی عروج کی رفعتوں سے پستی میں گر گئی ہے۔ فکر کی رَو زوال کی حالت میں تھمتی نہیں۔ اس کی کلوننگ ہوتی ہے اور زوال کے ایک نئے روپ میں نمودار ہوتی ہے۔ ہم برِّ صغیر پاک و ہند کے شعری و ادبی سرمائے پر نظر ڈالتے ہیں تو یہ حقیقت بہت اچھی طرح سمجھ میں آتی ہے۔ سترھویں صدی سے انیسویں صدی کے وسط تک قومی وجود اس طرح پستی کی طرف آ رہا تھا جیسے بارشوں میں پہاڑی علاقوں میں land sliding میں پوری پوری بستیاں اور گاؤں پھسلتے ہوئے بھاری چٹانوں تلے دب جاتے ہیں۔ شاعروں اور ادیبوں کے اظہارات بھی اس لینڈ سلائڈنگ کا شکار تھے۔ کیا یہ محض اتفاق تھا کہ جو ہمارے قومی زوال کا دور تھا وہی اردو غزل کے عروج کا عرصہ تھا۔ قوم قعر ِ مذلّت میں گری جا رہی تھی اور اردو غزل کی جلوہ افروزیاں بلندیوں کو چھو رہی تھیں۔شاعروں کی سوچ کا عامیانہ پن ان علامتوں سے ظاہر ہوتا تھا جو فارسی سے مستعار ہو کر اردو میں متداول و مقبول ہو گئی تھیں۔ حسن و عشق،شراب و شباب، جام و سبو، ہجر و وصال، گل و بلبل، لب و رخسار، چشم و ابرو، غمزہ و ادا اور جفا و وفا، جلوۂ ِ محبوب اور تجلّیِ طور،برق و قفس، زُلفِ محبوب اور تیرگیِ شب، غمِ جاناں اور چاکِ گریباں، قاصد اور رقیب، دردِ جدائی اور نالہ و فریاد، یہ اور اس طرح کی بیسیوں اور علامتیں تھیں جن سے کھینچ تان کر بھی سفلی جذبات کے سوا پاکیزگیء فکر کے کوئی معنی اخذ نہیں ہوتے تھے۔ غزل گوئی کے رجحان کو ایسا فروغ حاصل تھا کہ اسی سے شاعروں کے سماجی مرتبے متعین ہونے لگے تھے اور یہی ذریعہ ٔ عزت و وقار مان لی گئی تھی۔ عام لوگ ہی نہیں شرفاء کی اولادوں کے لئےباقاعدہ دعائیں کی اور کرائی جاتی تھیں کہ وہ بلند پایہ غزل گو شاعر بنیں۔ کیا اربابِ نشاط اور کیا صاحبانِ علم، کیارند اور کیا زاہد، کیا صوفی اور کیا مُلّا، دلّی کی جامع مسجد کی سیڑھیوں سے لے کر کوچہ و بازار تک یہ جنون پھیلا ہوا تھا۔ کوئی تسکینِ ذوق کہے یاتہذیب و ثقافت کے بام عروج سے تعبیر کرے،لیکن المیہ یہ تھا کہ ڈیڑھ دو سو سال کے اس عرصہ ٔ شاعری میں کوئی پاکیزہ پیغام، بلند اخلاقی اقدار اور اعلیٰ نصب العین نہیں جھلکتا تھا۔ زوال آمادہ اور جمود آشنا سوچ نے ایک متعفن جوہڑ کی شکل اختیار کر لی تھی۔

ایسا نہیں تھا کہ تاجدارانِ سخن کو اس سے پہنچنے والے زیاں کا احساس نہیں تھا۔احساس تھا تبھی تو ملِکُ الشُّعراء، خاقانیِ ہند شیخ ابراہیم ذوق وضو کے وقت پورا لوٹا پانی کا صرف کُلّی اور غرارے کرنے میں لگا دیتے تھے تا کہ وہ دہن، وہ زبان اور وہ منہ پاک ہو جائے جس سے فاسقانہ مضامین ادا ہوتے تھے۔استعماری طاقتوں کے ہاں صنعتی انقلاب آ چکا تھا اور ان کی فیکٹریوں میں دھڑا دھڑ اسلحہ تیار ہو رہا تھا لیکن دلی اور لکھنئو کی ساری دانش کلام کے صنائع بدائع میں سر کھپا رہی تھی۔ مغل اقتدار سمٹ کر شاہی قلعہ تک محدود رہ گیا تھا اور تیمور کے گھرانے کی طرف ادبار کی آندھیاں بڑھی چلی آ رہی تھیں لیکن شہنشاہِ معظّم ریاستِ سخن کو سنوارنے میں لگے ہوئے تھے۔ بہادر شاہ ظفر قلعے کی محصوری سے نکلے تو رنگون کی جلاوطنی مقدر ہوئی۔ وہاں سے رستگاری ملی تو موت کے ہاتھوں ملی۔ جسدِ خاکی کو نہ آباء و اجداد کی مٹی میں ملنا نصیب ہوا اور نہ آخری سانسیں وطن کی ہواؤں میں ضم ہوئیں۔ عین ان حالات میں بھی شہزادوں اور شاہی قلعہ کے باسیوں کا دل پسند مشغلہ شعر و شاعری اور مرغ لڑانا ہی تھا۔ شعر و شاعری کی لذتوں اور عیش و طرب کی عادتوں نے اتنا ناکارہ بنا دیا تھا کہ فرار تو درکنار زمین پر چلنا دشوار بنا دیا تھا۔ شہزادوں شہزادیوں کے زندہ رہنے کا اب کل مصرف یہ باقی رہا کہ خواجہ حسن نظامی ان کی مظلومیت اور کس مپرسی کی کہانیاں لکھ لکھ کر خود بھی روئیں اور ہمیں بھی رلائیں۔ گویا درسِ عبرت بن گیا تھا ان کا جینا۔ شاہ کی مصاحبی کے لئے رقابت کی دوڑ میں شریک عظیم شاعر اس کے کچھ کام نہ آسکے۔کیا عجب بات تھی کہ خیمہ پہلے گرا اور کیلیں طنابیں بعد میں اکھڑیں۔ غالب بلا شبہ بے بدل شاعر تھے لیکن اپنے محسن مغل خاندان کو بچانے میں ان کا ‘سو برس سے ہے پیشۂ ِ آباء سپہ گری‘ کا فخر پرِ کاہ برابر بھی مفید نہ نکلا۔

غزل کی سرور انگیزکیفیات ہی میں ملّت کی آزادی، عزت و آبرو اور مستقبل کے امکانات کا سرمایہ لٹ گیا تھا۔ اوپر ذکر ہوا ہے کہ جس موسم میں اردو غزل پر بہار آئی ہوئی تھی، اسی موسم میں ملّتِ اسلامیہ ہند کے چمن میں خزاں کی ہوائیں چل رہی تھیں۔ شاہ اور رعایا دونوں خمارِ غزل میں ڈوبے رہے اور اس بادِ صر صر کا اندازہ ہی نہ کر سکے تھے کہ وہ ان کے اقتدار، عزت اور آزادی اور معاشی حالات اور اخلاقی اقدار کی ساری متاع  اڑا کر لے جانے والی ہے۔ اگرچہ خواجہ میر درد، میر تقی میر اور خود مرزا غالب کی شاعری میں آشوبِ زمانہ کے ایسے واضح اشارے موجود تھے جومؤرخ کو اس دور کی تاریخ کے المیوں کی شہادت فراہم کرتے ہیں لیکن بات احساسِ زیاں کی تھی۔ کارواں کی متاع تو لٹ رہی تھی مگر اس سے بھی بڑا المیہ یہ تھا کہ کارواں کے دل سے احساسِ زیاں جاتا رہاتھا۔ اسی عہدِ بے خبری اور شیریں خوابی میں جب غزل کی گرم بازاری تھی ایک نئی آواز آئی جو اقبالؒ کی انقلاب آفریں شاعری کی تمہید بن گئی۔ بازارِ سخن کے ایک کونے میں انوکھے مال کے ساتھ ایک نئی دکان کھلی۔:

مال ہے نایاب پر گاہک ہیں اکثر بے خبر         شہر میں حالی نے کھولی ہے دکاں سب سے الگ

اس دکان پر وہ مال سجایا گیا جوتابناک عہدِ غزل کے بازارمیں کہیں نظر نہیں آتا تھا۔ تغزل کی ہوس خیزیوں کے بجائے حالی نے ’مسدّس‘ کے نام سے اپنی طویل نظم سے اپنی دکان کو سجایا۔جس میں سادگی بھی تھی اور سوز و گداز، درد و کرب بھی۔ زیاں کی روداد بھی تھی اور اس کے اسباب کا ذکر بھی۔ تھوڑے فاصلے پر ایک اور دکان اکبر الٰہ آبادی کے ظریفانہ کلام کی کھلی۔گویا یہ اعلان تھا کہ قوم کے شعور کو بیدار کرنا ہے اور اس کو اپنی متاع کے لٹنے کے اسباب اور تلافیِ مافات کی تدبیروں سے بھی آگاہ کرنا ہے تو نظم کو ہتھیار بنانا ہو گا۔ حالی اور اکبر دونوں ہی کو اقبال ؒ نے اپنا اِمام بنایا اور ان کی تقلید کی۔اقبال ؒ کے دل میں ان دونوں بزرگوں کے لئے جو عقیدت تھی اسی کا نتیجہ تھا کہ بانگِ درا میں ظریفانہ کلام اکبر الٰہ آبادی کی پیروی میں اور شکوہ و جوابِ شکوہ حالی کے ’مسدّس ‘ کے رنگ میں وجود میں آیا۔ وہ راہی ِ ملکِ عدم ہوئے تو اقبال ؒنے ملّت کی امامت کا منصب سنبھال لیا۔ ایسا نہیں کہ اقبال ؒ نے عہدِ غزل کے عظیم شعراء سے کچھ بھی اخذ و اکتساب نہ کیا ہو اور اپنی راہ نکالتے ہوئے ان کے مقام و مرتبہ کی یکسر نفی کر دی ہو۔ لیکن مقاصد کے فرق نے اسلوب ِ اظہار میں بھی بڑا فرق پیدا کیا۔ زبان و بیان کی جدّت طرازی اور الفاظ و اصطلاحات کو نئے معنی پہنانا ان مقاصد کا تقاضا تھا۔ یہ کام اگرچہ غالب نے بھی کیا تھا لیکن وہ اس کے ذریعے اپنے ہم عصر اور پیش رو شاعروں سے جدا تو نظر آنے لگے تھے لیکن ان کی جدّت آفرینی میں مقاصد کی وہ علویت نہیں تھی جو اقبال ؒ کی نئی راہوں کی پہچان بنی۔ مظروف کی مقدار کے لحاظ ہی سے ظرف کا حجم تیار کرنا پڑتا ہے۔ اقبالؒ اپنی شاعری سے جو کام لینا چاہتے تھے اس کے مطابق انہیں جو الفاظ و اصطلاحات مطلوب تھیں، روایتی شاعری کی پامال اصطلاحیں اس کے لیے کافی اور مفید نہیں تھیں۔ اسی لیے انہوں نے نئی اصطلاحیں تراشیں اور پرانی اصطلاحات و الفاظ کو نئے معنی پہنائے۔ عشق کو بوالہوسی کی غلاظت سے نکال کر اسے __

عشق دمِ جبریل، عشق دلِ مصطفیٰ ؐ۔۔۔عشق خدا کا رسول، عشق خدا کا کلام__ عشق فقیہِِ حرم، عشق امیرِجنود۔۔۔

عشق ہے ابن السّبیل، اس کے ہزاروں مقام __

صدقِ خلیلؑ بھی ہے عشق، صبرِ حسین ؓ بھی ہے عشق۔۔۔

معرکۂ ِ وجود میں بدرو حنین بھی ہے عشق __

جیسی تقدیس بخشی۔ فقرو درویشی کے الفاظ سے ذلّت و مسکنت اور محتاجی و تحقیری کی جو کیفیت جھلکتی تھی، اقبال ؒ نے جب ان الفاظ کو برتا تو یہ سکندری سے بھی بلند منزلت بن گئے۔اقبال ؒ کے ہاں فقرقناعت و استغنا، غیرت و حمیت اور بے نیازی جیسی اعلیٰ اخلاقی اقدار کا جوہرِ خاص ہے۔ بالِ جبریل کی صرف 59ویں غزل ہی کو ذرا پڑھیں اور دیکھیں کہ اقبالؒ فقر کو کہاں سے اٹھا کر کتنا اونچا لے گئے ہیں۔ خودی کا لفظ سرسید اور حالی کی تحریروں میں بھی تکبّر اور خود پسندی کے معنوں میں استعمال ہوا ہے لیکن اقبالؒ نے خودی کو وہ معنی بخشے کہ یہ لفظ صاحبِ خُودی کے لئے قدسیوں سے بھی برتر مقام کی نشاندہی کرنے لگا۔’ساقی نامہ ‘ اقبالؒ کی شاہکار اور علمی شعری ادب میں بہت بڑے شاعروں کے مقابل رکھے جانے کے قابل نظم ہے۔بہت سی فنّی خوبیوں میں سے بہتی ندی کی طرح اس کی چھوٹی بحر اورپھیلتے پاٹ والے دریا کی طرح اس کے بڑے بند اس کے دو خاص طور قابلِ ذکر خوبیاں ہیں۔چھٹا بند خودی کا خلاصہ یانچوڑ ہے۔ اگرچہ بانگِ درا اور ضربِ کلیم بھی ان کے ذکر سے خالی نہیں لیکن کلامِ  اقبال ؒ میں’ بالِ جبریل‘ کی یہ خصوصیت ہے کہ اس میں خودی، عشق اورفقر تینوں اصطلاحات ایک مکمل فلسفہ و فکر کی صورت میں، اپنے بلند ترین معنوں کے ساتھ، پوری آب و تاب سے جلوہ گر نظر آتی ہیں۔ خدا شناسی،خود آگہی، خود اعتمادی، عزتِ نفس، شعورِنصب العین جیسی درجنوں خصوصیات سمٹ کر ایک لفظ خودی میں آ گئیں۔

علامتیں شاعرکے اظہارِ فکر کا سب سے مؤثر ہتھیار ہوتی ہیں۔ جس چیز، شخصیت، گروہ اور نظریہ و فکرکا پیکرِ محسوس نگاہوں کے سامنے نہ ہو، شاعر کی علامتیں ان کو تصورکی آنکھوں کے سامنے لا کر کھڑا کر دیتی ہیں۔ ہمارے موضوع کا اصل نکتہ وہ منفرد علامتیں ہیں جو اقبال ؒ نے روایتی شعراء سے ہٹ کر اختیار کیں۔طور، تجلّی، عصاء، ید بیضا، شاہین، شیر، چیتا، لالہ، شعلہ، شرر، موج، خورشید، جگنو،چراغ،سیماب (پارا) جیسی متعدد اور علامتیں ہیں جن سے شاعر نے اپنے فکر و فلسفہ کے ابلاغ کا کام لیا۔ملّت کے جمود کی برفانی سلوں پر اکبر الٰہ آبادی اور الطاف حسین حالی نے اپنے طرزِ اظہار کے برموں سے چھید ڈالنے کی مخلصانہ اور کسی حد تک کامیاب کوشش کی تھی۔ اقبالؒ جانتے تھے کہ برف حرارت سے پگھلتی ہے۔ اقبالؒ کی شاعری کی رگ رگ سے حرکت اور حرارت پھوٹتی ہے۔ ڈاکٹر سیّد عبداللہ مرحوم نے کہیں لکھا تھا کہ اقبالؒ کے 22ہزار اشعار سے حرکت اور حرارت کا تصور نکلتا ہے۔ انہوں نے جتنی علامتیں اختیار کیں ان سب کے اندر سے حرکت اور حرارت ہی کی کیفیات اجاگر ہوتی ہیں۔اس چیز نے اقبال ؒ کو اردو شاعری ہی میں نہیں بلکہ عالمی شعری ادب میں ایک منفرد مقام عطا کر دیا۔انہوں نے ملّت کو انیسویں صدی کے نصف اوّل تک کی شاعری کے بخشے ہوئے خمار اور غنودگی سے نکالا اور ہوش و خرد کی فضا میں لا کھڑا کیا۔ فارسی شاعری میں حافظ کی بڑی اہمیت ہے۔ اس کے دیوان سے لوگوں کی ایسی عقیدت وابستہ ہو گئی کہ لوگ اس سے فال نکالنے کا کام بھی لیتے ہیں لیکن اقبال ؒ نے عامیانہ عشق و مستی اور جام و سبو کی ان لذّتوں سے کوئی اعتناءنہیں برتاجو حافظ کی شاعری سے جھلکتی ہیں۔ حافظ کا خواہ کیسابڑا مقام رہا ہولیکن اقبال ؒ نے جو رومی کو اپنا مرشد بنایا تو وجہ یہ تھی کہ رومی کی شاعری بھی حرکت و حرارت اور بیداری کی ترجمان ہے۔

About Author

Daanish webdesk.

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: