مظہر کلیم کا “علی عمران” ابنِ صفی کے “علی عمران” سے مختلف کیسے؟‎ — گل ساج

0

سِری ادب کے لازوال کردار “عمران سیریز” کو کامیابی سے آگے بڑھانے والے چھ سو سے زائد ناول اور بچوں کے لیے کم و بیش 6 ہزار کہانیاں تصنیف کرنے والے نامور ادیب، صحافی، کالم نگار، ممتاز براڈ کاسٹر اور معروف قانون دان مظہر کلیم ایم اے ہمہ جہت شخصیت کے مالک تھے۔ سرائیکی وسیب کا فخر مظہر کلیم ایم اے 1942 میں ملتان میں پیدا ہوئے۔

مظہر کلیم مشہور شاعر “اسد ملتانی” کے داماد ہیں۔۔
ایم اے امتیازی نمبروں میں پاس کرنے کے بعد قانون کی تعلیم حاصل کی۔۔
ریڈیو ملتان کا مشہور سرائیکی ریڈیو ٹاک شو “جمہور دی آواز” کے لیئے اسکرپٹ رائٹنگ کی بعد ازاں اس پروگرام کی میزبان بھی رہے۔۔
“اُتم کھیتی” کے نام سے ایک اور پروگرام بھی کیا۔
مظہر کلیم ایم اے کی خوبصورت آواز آج بھی سامعین کے دلوں پہ نقش ہے۔۔

اصل ہیرو کون؟ - گل ساج - Daanish.pk دانشوکالت سے وابستہ ہوئے۔ ملتان بار کونسل کے نائب صدر منتخب ہوئے نیز ملتان کی ضلعی عدالتوں کی سربراہی بھی کی۔ صحافت میں آئے تو وہاں بھی کامیابی کی بلندیوں کو چُھوا۔ ملتان کے موقر روزنامہ “آفتاب” میں نیوز ایڈیٹر اور بعدازاں میگزین ایڈیٹر کے طور پر صحافت کا شعبے میں نام کمایا۔ کالم نگاری بھی کی اور خوب کی۔۔ مختلف اخبارات و جرائد میں کئی سماجی و تحقیقی مضامین قلمبند کئیے۔۔

مگر انکی اصل وجہ شہرت جاسوسی ادب کے لافانی کردار “عمران سیریز” کا احیاء و ترویج ہے۔۔
مظہر کلیم کے عمران اور ابنِ صفی کے عمران میں نمایاں فرق ہے۔۔
مظہر کلیم کا عمران میچور ، سنجیدہ اور زیادہ مُتحرک ہے۔۔ جسکا مظہر کلیم خود اقرار کرتے ہوئے کہتے ہیں:

“ابنِ صفی کے ہاں عمران کا کردارغیر سنجیدہ، کھلنڈرے اور تقریباً مسخرے کا تھا جو اپنی الٹی سیدھی حرکتوں سے مزاح پیدا کرتا ہے۔ لیکن میں نے ایسا نہیں کیا، میں نے شعوری طور پہ عمران کے کردار کوبدلنے کی کوشش اور اس کو انتہائی معیار پہ پہنچا دیا”

ابنِ صفی کے رحلت فرمانے کے بعد انکی لازوال تخلیق “عمران سیریز “بازیچہ اطفال ” بن چکی تھی۔۔
ہرکس و ناکس قلم کار” صفی” کا لاحقہ لگا کر قلمی طبع آزمائی میں مصروف تھا۔
“این صفی، صفی، نجمہ صفی ” کے نام سے قارئین کی آنکھوں میں دھول جھونک کے پیسہ کمانے کی دوڑ لگی ہوئی تھی۔
ایسے میں مظہر کلیم نے اپنے اصل نام کے ساتھ “عمران سیریز” لکھنے کا بیڑہ اٹھایا اور اسقدر شہرت حاصل کی کے “صفی” سے موسوم نام نہاد تمام چراغ گُل ہوتے گئیے۔

یوں تو “عمران سیریز” پہ انکے معاصر صفدر شاہین، مشتاق قریشی، ایم اے راحت، ایچ اقبال وغیرہ بھی لکھ رہے تھے مگر جو مقبولیت مظہر کلیم کے ناولز کو حاصل ہوئی انکا عشرِ عشیر بھی معاصرین کوحاصل نہ ہو سکا۔

گرچہ عمران سیریز ابنِ صفی کی تخلیق ہے مگر اسے بامِ عروج پہ پہنچانے کا سہرا مظہر کلیم کے سر ہے۔ انہوں نے اپنے ناولوں میں جدید سائینسی اصطلاحات کا استعمال کیا انکے ناولز میں مستقبل کی ایجادات کی جھلک ملتی تھی۔
یہ انکے ویژن انکے علم کو ظاہر کرتی تھی اسکے لیئے وہ درجنوں سائنسی تحقیقی رسائل کا مطالعہ کرتے۔۔

مظہر کلیم ایم اے نے عمران سیریز میں کئی کرداروں کا اضافہ کیا جیسے ٹائیگر، جو زیر زمین دنیا کا غنڈہ ٹائپ شخص تھا جسے عمران نے ایک مُہم کے دوران دریافت کیا علی عمران نے ٹائیگر کی شخصیت کی تعمیر کی۔۔ اور اسے اپنے متبادل کے طور پہ تیار کیا۔۔۔ کہیں کہیں تو مظہر کلیم کا ٹائیگر ابنِ صفی کے علی عمران سے آگے نکلتا ہوا محسوس ہوتا ہے۔۔
ٹائیگر علی عمران سے مشابہ حیرت انگیز صلاحیتوں کا مالک تھا۔
کافرستان کے اسپائی “سنگ ہی” سے موسوم برستی گولیوں سے بچنے کے فن “سنگ آرٹ” میں علی عمران کے بعد ٹائیگر ہی کو یدِ طولیٰ حاصل تھا۔

نیگر و جوزف کے مقابل جوانا کا کردار تراشا جو آگے چل کر بے پناہ مقبول ہوا۔
سپاٹ چہرے والا کیپٹن شکیل جو ہاتھوں کے کنگن سے رسیاں کاٹنے سمیت کئی کام لیتا تھا اور مارشل آرٹ کا ماہر تھا۔۔
علی عمران ایم ایس، سی ڈی ایس سی (آکسن) کے بعد ٹائیگر میرا فیورٹ کردار ہے۔۔

مظہر کلیم نے سِری ادب کو برائے ادب کے بجائے ادب برائے تعمیر کے طور پہ لیا۔۔ فِکشن خاص کر جاسوسی فِکشن میں یہ ایک کٹھن کام تھا۔۔
بقول شخصے “اگر فکری اعتبار سے دیکھا جائے تو مظہر کلیم صاحب میں development بہت ہوئیں۔
مظہر صاحب کا کہنا تھا کہ انہوں نے آغاز سے ہی علی عمران کے کردار کو بدلنے کی کوشش کی میرے نزدیک ان کی یہ بات درست ہے۔
تاہم ان کی اہم ترین تبدیلی کی معنویت اس وقت سمجھ آتی ہے جب ہم ان کی ماورائی سیریز کو پڑھتے ہیں اِس سیریز میں مروجہ تصوف پر تنقید ہے ، انسانی رذائل اور انسانی انا کی خوبیوں پر تبصرہ ہے،
جرم و گناہ کے تعلق کو واضح کرنے کے لئے مثالیں ہیں، خیر و شر کے حوالے سے ایسے سوالات اٹھانے کی کوششیں ہیں جن کو ہم جاسوسی ادب میں تو کم از کم تصور بھی نہیں کر سکتے ہیں۔

مظہر کلیم کے ہاں ایک اہم بات یہ بھی ہے کہ مذہب و سائنس کے مابین تعلقات پر بتدریج فِکری ترقی ہے
1۔سائنس کے سوا کچھ نہیں۔
2۔سائنس کے علاوہ بھی نظام ہیں۔ 3۔سائنسی فکر کو بامعنی انداز میں استعمال کیا جانا چاہئے۔

اس تناظر میں مظہر کلیم کا “علی عمران” نہ صرف سوال کرتا ہے بلکہ عمل کے دائرے میں اس ججھک کا مظاہرہ بھی کرتا ہے جو جدید ذہن کو درپیش ہے۔

بالخصوص ہماری نسل کے ذہنوں میں مذہب اور اہلِ مذہب سے متعلق اٹھنے والے سوالات ہیں۔
اسی طرح مظہر کلیم کے ہاں مُجرم(انفرادی )کی بجائے ادارے کے برے ہونے کا تصور ہے گویا فرد میں بہتر اخلاقیات ہو سکتی ہے لیکن وہ جس ادارے یا نظام کے تحت زندگی گزار رہا ہے ، اس نظام کے نتائج بالاخر اسے شر تک لے جانے میں منتج ہوتے ہیں۔ اس تناظر میں مظہر کلیم فرد یا مجرم کی اصلاح مبلغ کے حُسنِ کردار سے کرنے کی دلیل دیتے ہیں ”

اسکے علاوہ مظہر کلیم نے عمران سیریز کے ذریعےنوجوانوں کے کردار کی تعمیر کی۔ وطن سے محبت کے جذبے کو پروان چڑھایا۔
عمران سیریز کے قارئین میں وطن کی محبت اس درجہ سرایت کر گئی کہ عمر کے بڑے حصہ گزارنے کے باوجود یہ جذبہ ہنوز توانا ہے۔۔
عمران سیریز کا قاری ایک زمانہ بعد آج بھی خود کو وطن کا سپاہی سمجھتا ہے۔
حقیقت ہے کہ مظہر کلیم کے عمران سیریز نے دلوں میں حب الوطنی اور ماں دھرتی کے لئیے کٹ مرنے کا جذبہ انتہائی راسخ کر دیا ہے۔
ایک عرصہ گزر گیا مگر آج بھی انکے لکھے ہوئے ناول ذہن سے محو نہیں ہوئے۔۔
کبھی کبھی دل چاہتا ہے ہم دوبارہ سے اسی “فینٹسی ” کی دنیا میں پہنچ جائیں

مظہر کلیم ایک اے کا نام نہ صرف جاسوسی ادب میں ہمیشہ زندہ تابندہ رہے گا بلکہ پاکستان کی ایک نسل کی شخصیت کی تعمیر میں اہم عنصر کے طور پہ یاد رکھاجائے گا۔۔۔

یہ بھی پڑھیں: مظہر کلیم کی عمران سیریز : پیر الطاف
(Visited 1 times, 1 visits today)

About Author

Leave a Reply

Leave A Reply