لبرل اور اسلامسٹ: فرق اور مماثلت ۔۔۔۔ ثمینہ رشید

0
 
یوں تو لبرل اور اسلامی ونگ کی تکرار اور آپس میں کھینچا تانی کوئی نئی بات نہیں لیکن انٹرنیٹ کی با آسانی دستیابی اور سوشل میڈیا کے بڑھتے ہوئے استعمال نے اس بحث کو ایک نیا رنگ دے دیا ہے۔ مختلف مکاتب فکر کی اردو ویب سائٹس کے آنے سےسوشل میڈیا پہ یہ بحث عام انسان تک پہنچ گئی ہے۔ فیس بک کے فورم کی عام انسان تک رسائی نے ایک نئے محاز کو جنم دیا ہے۔ وہ موضوع جن پہ بات کرنا پہلے صرف اہلِ قلم اور دانشوروں کی زمہ داری ہوا کرتی تھی اب عام انسان کی پہنچ میں ہے۔ عام انسان اور اہلِ علم کے نقطۂ نظر میں ظاہر ہے واضح فرق ہوتا ہے۔ عام مذہبی انسان کی تعلیم کا ناقص معیار، فہم کی کمی اور اندھی تقلید کے وجہ سے ایک خاص قسم کے غیر لچکدار رویے نے فیس بک کو واضح طور پہ دو گروپوں میں تقسیم کردیا ہے لبرل اور اسلامسٹ۔
 
ان دونوں گروپس کے حوالے سے اس روئیے کا غیر جانبدارانہ تجزیہ کیا جائے تو کچھ بنیادی وجوہات سمجھ میں آتی ہیں۔
 
اس سلسلے میں پہلا غور طلب پہلو دونوں گروپس کے نمائندہ لوگوں کا رویہ ہے۔ اسلامسٹ گروپ کے بارے میں یہ واضح طور پہ مشاہدے میں آیا ہے کہ وہ اپنی فکر میں تنوع کے قائل نہیں اور کسی بھی معاملے میں اپنی رائے کو ہی حرفِ آخر سمجھتے ہیں۔ اپنے عقائد و فکر کے معاملے میں علم کی محدودیت کو وہ اپنے غیر لچکدار روئیے سے چھپانے کی کوشش کرتے ہیں۔
 
بد قسمتی سے اسلامسٹ گروپ کے نمائندوں کے الفاظ کا انتخاب، ہٹ دھرمی، غیرعقلی و غیر منطقی دلائل کو مذہب کے نام پہ منوانے پہ اصرار ان کا عمومی رویہ ہے۔ صرف یہی نہیں بلکہ معمولی سے اختلاف پہ یہ مخالف گروپ کے ایمان کے متعلق حتمی فیصلے جاری کرنے سے بھی نہیں کتراتے۔ ان کے مسلم اور ملحد کے فتوے اور توہین رسالت و مذہب کے الزامات سے کئی بے گناہوں کی جان خطرے میں پڑ چکی ہے۔
 

اس ہٹ دھرمی اور سخت روئیے کی کئی وجوہات ہوسکتی ہیں۔ پہلی وجہ تو ان کے گروپ کے لوگوں کا اپنے عقائد و نظریات کے حوالے سےکئی فرقوں میں تقسیم ہونا ہے۔ کہیں مسلکی قضیہ، کہیں سیاسی نقطۂ نظر کا فرق، ایسے ہی دیگر مسائل کی بنا پہ اسلامسٹ بلاک کئی حصوں میں تقسیم نظر آتا ہے۔ اب اپنے عقائد کے حوالے سے ہر فرقے کا ماننا ہے کہ ان کے عقائد عین اسلامی” ہیں اور دوسرے فرقے کے “عین غیر اسلامی”۔ اب یہ ایک طرح کا محاز ہے جہاں وہ اپنے ہی بلاک میں تقسیم ہو جاتے ہیں، عقائد کے اختلاف کی بنیاد پر۔ اور ہر گروہ اپنے عقائد پہ عقلی دلائل نہ ہونے کے باوجود نہ اس پہ کوئی تنقید برداشت کرنے کا قائل ہوتا ہے نہ غور و فکر کرنے کا۔ ستم تو یہ بھی ہے کہ اسلامسٹ بلاک والے اپنے مخالف فرقے کے بارے میں کفر کا فتوی لگانے سے نہیں بھی چوکتے۔

Samina Rasheed

اسلامسٹ کے اس متشدد روئیے کہ پیچھے ان کی ذہنی تربیت ہے جو ان میں غیر لچکداری کو جنم دیتی ہے۔

اسلامسٹ کی بدقسمتی ہے کہ ان کے عقائد و نظریات کی بنیاد پہ فرقہ بندی نے ان کی صفوں کو کمزور کردیا ہے۔ کیونکہ لبرلز کی نسبت اسلامسٹ کو ایک طرح سے چومکھی لڑنی پڑتی ہے۔ اوّل اپنے ہی گروپ کے دیگر فرقوں سے اختلاف کی جنگ، دوم لبرلز کے خلاف صف بندی، سوئم الحاد سے دفاع اور چہارم ہر فرقے کا اپنے عقائد کی روشنی میں اسلام کو بچانے اور فروغ دینے کی خود ساختہ زمہ داری۔ اب اس چومکھی جنگ کا پریشر ہی ہے کہ وہ اپنے روئیے میں نرمی اور دلائل کی جگہ ہٹ دھرمی کو دے چکے ہیں۔

یہ تواس بحث کا ایک پہلو ہے، اب دوسرا پہلو ہے اُن کی لبرلز کے ساتھ رسہ کشی کا۔ تناؤ اور تضاد تو بہت گہرا ہے سو ہے لیکن گزرتے وقت کے ساتھ خلیج بڑھتی جارہی ہے۔

اگر لبرلز کی بات کی جائے تو حقیقتاً ان کا رویہ استہزاء کا عنصر لئے ہوئے اور “میں نہ مانوں” کا ہی ہوتا ہے۔ لیکن لبرلز کا ایک مثبت پہلو ان کی فکر کا تنوع ہے۔ اسلامسٹ کے برعکس عمومی طور پہ ان کا ردعمل فوری رَد کرنے کا نہیں دیکھا گیا۔ مختلف مسائل پہ ان کا نقطۂ نظرعقائد کی محدودیت کے پیمانے پہ پرکھ کر رَد کرنے کے بجائے اس پہ عقل اور منطق کے حوالے سے غور و فکر کرنےکا ہوتا ہے۔


پاکستان کے لبرلز کی ایک خامی اور کمزوری یہ رہی ہے کہ وہ بلا تفریق، اسلامسٹ کے پورے ونگ کے بارے میں ایک خاص اور کسی حد تک متعصب نقطۂ نظر رکھتے ہیں۔ 

اس حوالے سے ان کا نقطۂ نظر اسلامسٹ کے نظرئیے سے دور ہونے کے باوجود متوازن سوچ رکھنے والوں کے لئے بھی کسی حد تک قابلِ قبول ہوتا ہے۔ اس کے برعکس اسلامسٹ گروپ کا رویہ اپنے بنے بنائے اصولوں اور عقائد کے حوالے سے منطقی دلائل کو عموماً رد کرنے کا ہی رہا ہے۔

ایسا نہیں کہ لبرلز کے ہاں شدت پسندی کا عنصر سِرے سے موجود نہیں۔ حقیقتاً ان کے ہاں بھی مذہبی لوگوں کے حوالے سے اپنایا گیا نقطۂ نظر ایک حد تک شدت پسندی کا شکار نظر آتا ہے۔ اس حوالے سے بعض اوقات وہ اچھے متوازن سوچ کے حامل افراد کو بھی ایک ہی کٹہرے میں کھڑا کردیتے ہیں۔
دنیا بھر میں لبرلز کی تعریف کے برخلاف پاکستان کے لبرلز کی ایک خامی اور کمزوری یہ رہی ہے کہ وہ بلا تفریق، اسلامسٹ کے پورے ونگ کے بارے میں ایک خاص اور کسی حد تک متعصب نقطۂ نظر رکھتے ہیں۔ جس کی وجہ دونوں گروپوں کے درمیان نہ تو خلیج کم ہوتی دکھائی دیتی ہے اور نہ ہی کسی مکالمے یا ڈائیلاگ کی صورت، بلکہ اس رویہ کو سامنے رکھا جائے تو اس نقطے پر متوازن سوچ رکھنے والے لوگ لبرلز سے بھی خائف نظر آتے ہیں۔ کیونکہ وہ کم از کم لبرلز سے کسی حد تک روشن خیالی اور غیر متعصب روئیے کی توقع رکھتے ہیں۔

حقیقت تو یہ ہے کہ مذہب جس رواداری، برداشت اور نرمی کا سبق دیتا ہے اس حوالے سے اسلامسٹ پہ اس کی دوہری زمہ داری ہے کہ وہ نرمی، دلائل اور اچھے اخلاق سے لوگوں کو مذہب کی جانب راغب کریں۔ لیکن حقیقت میں ان کا رویہ بدزبانی اور بد اخلاقی نئ نسل اور با شعور لوگوں کو مسلسل اس گروپ سے دور کرنے کا سبب بن رہی ہے۔ ان کی اسلام کے نام پہ شدت پسندی سے نئ نسل خوفزدہ نظر آتی ہے۔

اس حوالے سے دونوں طرف کے گروپس پہ اخلاقی طور پہ زمہ داری عائد ہوتی ہے کہ اپنی اپنی سوچ کو متوازن کرکے ایک دوسرے کے قریب آنے کی کوشش کی جائے تاکہ مخاصمت کی فضا کے بجائے معاشرے میں مفاہمت، نرمی اور رواداری کو فروغ دیا جائے۔

اس ضمن میں ہر حقیقی لبرل انسان کو اپنی سوچ کی وسعت اور بالا نظری کو ثابت کرنے کی کوشش کرنا چاہئے۔ اور اس مقصد کےکئیے کم از کم انہیں مذہب کے معاملے میں ان نقاط کی نشاندہی کرنا چاہئے جو عمومی طور پر اُن کے لئے قابلِ قبول ہیں۔

اسی طرح ہر سلجھے ہوئے اور سچے اسلامسٹ ہونے کے دعویدار کا بھی یہی فرض ہے کہ وہ لبرلز کے اُن تمام نقاط کی نشاندہی کرے جن کو عمومی طور پہ وہ اپنے مذہبی عقائد کے مطابق صحیح سمجھتا ہے۔

دونوں گروپس کو اختلافی نقاط کے بجائے اتفاقی نقاط پہ کام کرنے کی سخت ضرورت ہے۔ تاکہ اس دن بدن بڑھتی ہوئی خلیج کو کم کیا جاسکے اور اس کی وجہ سے جو منفی اثرات نوجوان نسلوں پہ مرتب ہورہے ہیں ان کو ختم کیا جاسکے۔ اور سب سے بڑھ کر اپنی اپنی قوتوں کو آپس کے اختلافات پہ ضائع کرنے کے بجائے ملکر مثبت طور پہ ملک و معاشرے کے کام میں لایا جاسکے۔

About Author

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: