سندھ طاس معاہدہ اور ماہرین فطرت: راو جاوید

0

. چونکہ بھارت کے ساتھ براہ راست تصادم بھگت چکے ہیں چنانچہ بھارت کی آبی جارحیت کی حقیقت پر کئی پہلؤوں سے غور کرنا ہوگا۔  حقیقی مسائل کا تعین کرتے ہوئے اپنے اصول و قوانین کی روشنی میں دنیا میں ایسی آواز بلند کرنا ہوگی جسکا ہماری بنیادی اور آئینی پالیسی سے کوئی تعلق ہو،  پانیوں کے بارے میں ہمارے مستقل ضابطے تشکیل دیئے جائیں. کہ بے پر کی ہانکتے رہنے سے ہم اپنی ترجیحات کو واضح نہیں کرسکتے اور اقوامِ عالم سے اپنی رائے منوا نہیں سکتے ۔  اس کے برعکس افراد اور گروہوں کے روز مرہ کے جھگڑوں میں الجھے ہوئے بے حیثیت معاشرے میں شمار کئے جاسکتے ہیں۔  فوجی پہلو اس کا صرف ایک رخ ہے۔   زراعت، آبپاشی، ماحولیات اور پہاڑوں کی گزرگاہیں، فطرت کے حسن اور سیرگاہوں کا اس سے دوسرا اور اہم ترین تعلق ہے۔  جسے ہم نظرانداز کرتے ہیں۔  دنیا بھر میں یہی رخ زیادہ اہم ہیں۔  ہمیں اس معاملے کو تمام رخوں سے سمجھنا ہوگا۔

سندھ طاس معاہدہ بہت اہم تھا۔  پاک بھارت  معاملات کا علم رکھنے والے اسے ایک بڑے اہم اقدام کے طور پر دیکھتے ہیں۔  اس معاہدے سے ہمیں فوری جنگ سے نجات ملی۔  جنرل ایوب خان کے اہم کارناموں میں اسکا ذکر کیا جاتا ہے۔  اس معاہدے کے تحت ہمیں اپنے تین دریاؤں کی غیر محدود ملکیت مل گئی۔  جسے ہم نے اپنے حق میں کافی سمجھا اور 1960 سے آج تک سوئے رہے۔ حالانکہ یہ تین دریا ہماری معیشت کے حوالے سے اہم ترین تھے۔  جہلم (بشمول نیلم)، سندھ (بشمول دریائے کابل) اور چناب (بشمول توی) ہمارے لئے اہم ترین دریاؤں میں سے تھے۔  ہمیں سندھ طاس معاہدے کو پارلیمانی سطح پر پڑھنے اور اس پر تبصرہ کرنے کو کوئی موقع نہیں ملا۔  قوم نے اسے سمجھنے اور اس پر سیر حاصل تبصرہ کی کوئی کوشش نہ کی۔  اسے صرف بھارت کی شرانگیزیوں کے طور پر الزامی انداز میں فوجی معاملہ سمجھ کر نظرانداز کیا۔  آج تک ہم اس کے منفی اثرات سمیٹ رہے ہیں۔  پہلے سندھ طاس کی مکمل حقیقت سمجھ کر اسے حل کرنا چاہیئے پھراس میں موجود بڑی خامیوں کو دیکھنا اور دنیا بھر میں دریاؤں پر ہونے والے جھگڑوں کی روشنی میں حقائق پر معاملہ فہمی کیساتھ اقوام عالم میں مسائل کے حل کی کوشش کرنی چاہیئے۔

سندھ طاس کے دور میں جواہر لال نہرو اپنے دور کے مضبوط ترین جمہوری اور سیاسی فرد تھے لیکن اس معاہدے پر دستخط کئے۔  جواہر لال نہرو کا سیاسی قد کاٹھ اگر قائداعظم جیسا نہ تھا تو لیاقت علی خان کے اریب قریب ضرور تھا۔  ایوب خان مارشلائی حکمران تھے، غیر جمہوری  حاکم مگر اس کے باوجود دنیا میں معتبر مانے جاتے تھے۔ اس کی کوئی وجہ تھی۔ دنیا میں کچھ حقائق تمام عالم پر واضح ہوتے ہیں۔  سندھ طاس معاہدے نے پاکستان کی عالمی حیثیت میں اضافہ کیا اور ہماری معاملہ فہمی کو تسلیم کیا گیا۔  آج بھی ایسا ہی ہوسکتا ہے ۔ مگر اس معاہدے میں پاکستان کو چونا ضرور لگایا گیا۔  جسکا ہمیں بہت بعد میں احساس ہوا یا شاید آج بھی نہیں ہوا۔

سندھ طاس میں ہمارے لئے ایک بڑا جال تھا جسے ہم آج تک بیان بھی نہ کرسکے ۔ یہ صرف ڈیموں کی تعمیر سے متعلق ہے۔  اس کے سوا باقی معاملات ہنوز تکنیکی طور پر سمجھنے اور وضاحت کے قابل ضرور ہیں۔ بگلیہار کے ڈیم پر پروفیسر ریمنڈ لافیتے نے اسکی تھوڑی سی وضاحت کی۔  ڈیم بنانے کی اجازت سندھ طاس معاہدے میں دی گئی ہے۔ لیکن اس سے معاہدے کے اندر موجود تضاد بھی واضح ہوتا ہے۔  آرٹیکل تین کے پیرا تین کی شق د میں بجلی بنانے کی اجازت مرحمت فرمائی گئی ۔ حالانکہ اس سے قبل پاکستان کو تمام مغربی دریاؤں پر غیر محدود رسائی دی گئی ہے۔

پانی کے ذخیرے کی اجازت تو سیلاب کے کنٹرول کیلئے بھی نہیں دی گئی۔ دیکھئے آرٹیکل 4 کی شق 2) اس شق میں مغربی دریاؤں  بارے انڈیا کو متنبہ کیا گیا ہے کہ وہ ذخیرہ نہیں بناسکتے۔  لیکن ہم نے اس شق کا بھرپور ادراک نہیں کیا۔  پانی ذخیرہ کرنے کی بعد ازاں ضمیمہ د میں اجازت دی گئی ہے کہ نہ صرف پن بجلی کا منصوبہ بنایا جائیگا بلکہ اس کیلئے راستہ رکھا جائے تو اسکی تفصیلات کا ذکر بھی معاہدے میں کیا گیا ہے۔  یہ کھلا تضاد ہے۔  ایسے کسی ذخیرے کی اجازت سے قبل مشاورت نہیں کی گئی۔  یہ اس منصوبے کا سب سے بڑا سقم ہے۔  بھارت کو مغربی دریاؤں کی رسائی دینے سے متعلق تمام شقیں مسائل کا باعث ہیں مگر یہ ایک شق اور اس سے متعلق ضمیمہ د بڑی مصیبت کا موقع دیتا ہے۔ جس سے بھارت نے کماحقہ فائدہ اٹھایا ہے اس سے آرٹیکل 4 کی شق نمبر 2 غیر اہم ہوجاتی ہے۔  اس پر ہمیں معاہدے کے وقت غور کرنا چاہیئے تھا یا بروقت (70 کی دہائی، 80 یا 90 کی دہائی میں) بات اٹھانی چاہیئےتھی۔  لیکن اس کی وضاحت نہیں کی گئی نہ ہی اس پر اقوام عالم کے تحریری و غیر تحریری معاہدات اور اندازِ کار پر توجہ دیکر کسی عدالت سے رجوع کیا گیا۔ اسکے قانونی و اخلاقی پہلؤوں پر توجہ بھی نہیں دی گئی جسکی بناء پر ہم آخری وقت پر سرسری غور و فکر کے بعد عالمی بینک کے فطرتی ماہرین کے فیصلے کے رحم و کرم پر موقوف ہوگئے۔  آخری وقت میں ہمارے پاس کوئی تحقیقاتی مقالہ، رپورٹ یا دنیا بھر سے کوئی شہادت موجود نہیں تھی۔  ہمارے پاس بے تحاشا غیرسرکاری (عالمی و مقامی) تنظیمات موجود ہیں۔ کسی کو ہم نے اس معاملے شامل نہیں کیا۔  آئی سی موڈ نیپال کا مؤقر ادارہ ہے۔  اس کے کسی فورم پر ہمارے ان معاملات کی بھر پور تحقیقی مقالہ جات موجود نہ تھے۔  اس بناء پر ہم آج بھی اس معاملے کو باربار اٹھا کر دفاعی بیانات تک محدود ہوکر رہ گئے ہیں۔

ماہرِ فطرت نے پاکستان کی جانب سے معاہدے میں موجود تضادات کا کوئی ذکر نہیں کیا۔ معلوم نہیں ہوپایا کہ پاکستان نے معاہدے کے اندرونی تضادات پر سوال بھی اٹھایا یا نہیں حالانکہ پاکستان کو اس بارے میں سوال اٹھانا چاہئے تھا۔ یہاں اس کا موقع و محل بھی تھا۔ ہماری غیر محدود رسائی (جو کہ اس معاہدے کی پہلی اور بنیادی شق ہے) اس کا دفاع کرنا چاہئیے تھا۔  ضمیمہ د کی اہمیت اپنی جگہ مگر اس کے ضمنی ہونے کو واضح کرنے کی ضرورت تھی۔ محدود استعمال اور 450 میگا واٹ جیسے بڑے پراجیکٹ کو لامحدود رسائی کے بنیادی اصول کی خلاف ورزی قرار دینا چاہئے تھا۔ عالمی بینک کے ماہرِ فطرت کا یہ تبصرہ بے محل ہے کہ “معاہدے کی زبان واضح اور صاف ہے”۔ حالانکہ معاہدے میں اس مقام پر بڑا سقم موجود ہے ۔ اس کے علاوہ ماہر نے صفحہ بارہ پر لکھا ہے کہ “ڈیم کی بھل صفائی کے بارے یہ معاہدہ واضح نہیں ہے”۔ تو ایسے میں معاہدے کے باقی مسائل اور سقم پر اسے غیر جانبدارانہ رائے دینا چاہئے تھی ۔ مگر ماہرِفطرت نے ایک انجینئر کے انداز میں اپنی رپورٹ مرتب کی ہے۔ معاہدے میں  صفحہ 4 سے اواخر صفحہ 20 تک ماہر نے صرف اور صرف ڈیم پر بات کی ہے۔  فطرت کا ایک چھوٹا سا ذکر بھی معدوم ہے۔  جس سے اسکے ماہرِ فطرت ہونے پر حرف آتا ہے ۔ پاکستانی فیصلہ ساز اور تزویراتی ادارے اور ہمارے نام نہاد ماحولیاتی و فطرتی ماہرین اور انکی تنظیمات شاید اس پر کوئی فیصلہ کن کردار ادا نہیں کرپائے۔  معلوم نہیں کہ انہوں نے تحریک کیوں نہیں چلائی .جب کہ اس سے قبل ہمارے نو تخلیق شدہ ترقیاتی ادارے اور تنظیمات پاکستان کی سول بیوروکریسی پر تنقید کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے تھے کہ پاکستان کی تمام تر ترقی صرف اور صرف سول انجینئرنگ پر مبنی ہے۔ ہم صرف اور صرف بڑے منصوبے بنا کر سٹرکچر کھڑے کردیتے ہیں۔  کہیں انسانوں کی ضروریات اور ماحولیات کا احترام نہیں کرتے۔  ایسے میں کسی ایک جانب سے بھی عالمی بینک کے مگرمچھوں پر کوئی حرفِ غلط نہیں کہا گیا۔  انہیں سول انجینئرنگ پر مبنی رپورٹ کو مکمل طور پر مسترد کرتے ہوئے اسے دوبارہ سے درست بنیادوں پر شروع کرنے کیلئے باقاعدہ تحریک چلانی چاہیئے تھی.۔ تکنیکی میدان میں یہی قومی بیداری شمار ہوتی۔

ہمالیہ، ہندوکش اور قراقرم پر بنائے گئے ادارے آئی سی موڈ )

International Centre for Integrated Mountain Development (ICIMOD)

نے نیپال سے اس معاہدے کے ماحولیاتی اثرات پر کوئی اداراتی نقد تبصرہ اس طریق پر شاید ہی جاری کیا ہو۔ حالانکہ اس علاقے کے ماحولیاتی ضامن کے طور پر ہمیں اس سے توقع تھی کہ وہ اس معاہدے سے قبل ہی کوئی تحریک چلائے گا جس سے فطرت کی ترجمانی کا فریضہ ضرور نبھ جائے گا۔  مگر صاحبان نے اس اہم ترین بین الممالک قضیئے پر بعد ازاں بھی فطرت کا دفاع بھی نہ کیا گیا.  اس کے برعکس اس پر چند انفرادی تحقیقی مقالے شائع کئے ہیں جن میں انڈین لکھاریوں نے جانبدارانہ تبصرے کرتے ہوئے پاکستان کے مؤقف کو یکطرفہ طور پر مسترد کردیا ہے۔ یا للعجب۔ (حوالہ بخشی جی و تراویدی ایس ۔

http://lib.icimod.org/record/20589

مصطفی صاحب نے آبی سیاسیات  کا ذکر کرتے ہوئے اپنے تحقیقاتی مقالے میں اس پر موہوم تبصرہ درج کیا کہ پاک بھارت کے درمیان قضیہ کی وجہ عدمِ اعتماد ہے اور انہیں ڈیٹا شئیر کرنا

چاہیئے  (دیکھئے

http://lib.icimod.org/record/20587

اس اہم موضوع پر سرسری تبصرے کی وجہ یہ ہے کہ پاکستانی اداروں نے اپنا آبی مؤقف اصولوں کی بنیاد پر نہیں بنایا اس بناء پر آبی سیاسیات کے ماہرین کوئی بھی اصولی تجزیہ کرنے کے قابل نہیں۔  آبی سیاسیات کے ماہرین کیلئے ٹھوس بنیادوں پر اصولی مؤقف اپنا کر تزویراتی میدان فراہم کرنا چاہیئے تھا،  تاکہ پاکستان کی ذمہ دارانہ حیثیت سامنے آسکے۔

شاید پاک بھارت کو کشمیر پر بندوقوں اور توپوں کے رحم و کرم چھوڑنا ہی ایک واحد حل ہے۔  وگرنہ فطرت نے ہمارے مؤقر اور باوسائل اداروں، ماہرین اور تنظیمات کو بے پناہ مواقع دیئے ہیں۔

وائے ناکامی متاع کاروں جاتا رہا۔  ہمارے قومی ماہرین اور ادارے بھی  نااہلی سے عبارت نظر آتے ہیں۔ اس کی کوئی خاص وجہ نہیں ہے۔ حالانکہ ہمارے پاس ماحولیاتی ادارے اور ماہرینِ فطرت کی ایک بڑی تعداد موجود ہے۔  ایسے ماہرِ فطرت کو قبول کرنے سے قبل ہمیں اپنی ضرورت اور حقیقت کا احساس نہیں ہوا. ہمیں یہ تک احساس نہیں تھا کہ ہمیں ایک ماحولیاتی ماہر کی بھی ضرورت ہوگی۔  ہمیں اس کیلئے اپنی بنیادی پالیسی وضع کرکے پھر ثالثی کیلئے عالمی بینک کے پاس جانا چاہئے تھا۔  جبکہ پہلے ہمیں یہ طے کرنا تھا کہ ہم نے کونسے آبی اصولوں کی بنیاد پر اپنے حقوق کا دفاع کرنا ہے۔  شاید ہمارے نام نہاد تزویراتی ماہرین کا خیال تھا کہ صرف شور ڈال کر ہم عالمی فضاء کو اپنے حق میں ہموار کرلیں گے اور ایوب خان کے دور کی غیر متنازعہ اور یک طرفہ اہمیت سے آج بھی ہم متصف ہیں۔  حالانکہ وہ دور تو کب کا گزر چکا کہ جب خلیل خان فاختہ اڑایا کرتے تھے۔  آج تو ہماری ہر ایک حرکت پر نظر ہے ۔ ہمیں پہلے ہی سے عالمی آبی اصولوں کو سامنے رکھتے ہوئے عالمی آبی تظیمات اور ماہرین ِفطرت و ماحولیات کو ساتھ لیکر اپنے لئے میدان تیار کرنا چاہیئے تھا۔ ہمارے ادارے میدان تیار کئے بغیر وہاں جاگھسے جہاں سے ایک انجینئرنگ کی بنیاد پر ڈیم کی طوالت اور اونچائی کا فیصلہ صادر ہوا نہ کہ اس کے تعمیر کے ہونے یا نہ ہونے پر رائے آتی اور ایسےمنصوبوں کو یک بارگی روک دیا جاتا۔  ہم آج بھی اسی انداز میں عالمِ بالا میں درخواستیں دیکر معجزوں کا انتظار کررہے ہیں۔ 

کہ عدمِ آگہی سے ہم شریکِ بے حساں ہی ہیں

یقیں و بے یقینی میں شمارِ بے کساں ہی ہیں)

عالمی بینک کے ماہرِفطرت کو اپنی رپورٹ میں  یہ ضرور ذکر کرنا چاہیئے تھا کہ اس سے پاکستان کے بنیادی حق “مغربی دریاؤں پر غیر محدود رسائی” پر بڑا حرف آتا۔ اس سے ہماری آبپاشی کی بنیادی ضرورت متاثر ہوتی ہے۔  ہمارے حریف اور ہمارے سر پر بیٹھے ہوئے بڑے دشمن کو ہمارے نیچے اور چھوٹے ہونے کی بناء پر ہمیں دبانے اور رگیدنے کا موقع ملتا ہے۔  اسے پورے ضمیمہ د کی حقیقت کو واضح کرنا چاہیئے تھا۔ اور یہ موقع بھی ایسے علاقے میں ملتا ہے جو کہ متنازعہ ہے۔  اس سے عالمی بینک نے اپنے غیر جانبدارانہ کردار سے اعراض برتا ہے۔  عالمی بینک کو اس معاہدے موجود سقم واضح کرکے اپنی رائے دینا چاہیئے تھی کیونکہ یہ ایک اہم عالمی مسئلہ ہے۔  اگر وہ ماہرِ فطرت تھا تو اسے ڈیم بنانے کی ضرورت اور ڈیموں پر اٹھائے جانے والے بنیادی سوال پر ضرور تبصرہ کرنا چاہیئے  تھا کہ یہ ڈیم بجلی کا واحد ذریعہ نہیں ہیں۔  یہ فطرت کی غیر ضروری انتظام کاری(مینیجمنٹ) ہے۔ اس کے بغیر بھی بہت سے مسائل حل ہوسکتے ہیں۔ مگر ایسا کچھ نہیں کیا گیا۔ ہمارے دور کے عالمی ماہرینِ فطرت جنہیں عالمی بینک باقاعدہ طور پر بھاری رقومات ادا کرتا ہے، اس بنیادی صفت ہی سے عاری نظر آتے ہیں کہ وہ آج کے دور کی اہم ترین آبی تحریکات کی روشنی میں اپنے فیصلے کریں۔ اگر فیصلے نہ بھی کریں، تو بھی انہیں اس حقیقت کو سامنے رکھتے ہوئے ایک تبصرہ ضرور کرنا چاہیئے تھا۔  مگر اس معاملے کو حذف کرکے عالمی بینک اور اس کے ماہر نے اپنی معاملہ فہمی کی حیثیت کی وضاحت کی ہے۔  پاکستان کو اس معاملے میں غفلت کا ذکر کرنا چاہئیے اور اس سوال کو مختلف تحقیقی مقالات اور ادارہ جات کے سامنے ضرور اٹھانا چاہیئے۔ اگر ہمارے مؤقر ادارے اس اہم ترین حقیقت کو نہیں سمجھ پائے اور اسے عالمی سطح پر نہیں اٹھاتے تو انکا قومی مؤاخذہ ہونا چاہیئے . یہ علمی سرقہ ہے اور ایسا نہ کرنا قومی بددیانتی شمار ہوگی۔

کشمیر ایک متنازعہ علاقہ ہے۔  اس میں بنائے جانے والے منصوبے اس معاہدے کی روح کے سراسر خلاف ہیں۔  اس معاہدے کی رو سے عالمی ثالث کو ماہر فطرت ہونے کے علاوہ اس معاملے کا کم از کم ذکر کردینا چاہیئے  تھا کہ متنازعہ علاقوں میں کوئی بھی ملک دوسرے کی واضح اور بھر پور قومی رائے کے بغیر ایسے منصوبے بنانا اخلاقیات کے سراسر خلاف ہے۔  مگر جمہوریت پسندوں کے عالمی اداروں کو انسانی اخلاقیات سکھانا مشکل تر ہوجاتا ہے کیونکہ وہ ایسے وقت میں اپنی تکنیکی حدود کی روشنی میں محدود ہوجاتے ہیں۔ اخلاقی اصول اور علاقائی حقائق ایسے معاملات میں بنیادی حیثیت رکھتے ہیں جن کی روشنی میں پانی جیسے ایک بنیادی اور اہم  معاملے کی بھی وضاضحت ہونی چاہیئے  نہ کہ آبی معاملات کی وضاحت کی روشنی میں جنگ و جدل ہی کی جائے اور امن عالم کے فیصلے اس سے صادر ہوں۔ یہاں اس اصول کو سمجھنا اور واضح کرنا چاہئے  کہ کیسے ایک متنازعہ علاقے میں کوئی ملک کشن گنگا (نیلم) جیسے بڑے دریا پرعالمی پیمانے کا درمیانی درجے کا آبی ذخیرہ تعمیر کرسکتا ہے ۔ جب تک اقوامِ متحدہ  مسئلہء کشمیر کا مستقل حل نہیں دیتا اس وقت تک ایسے بڑے ڈیم اس معاہدے کے تحت بنائے ہی نہیں جاسکتے۔

جہاں تک معاہدے کے بنیادی الفاظ ہیں، وہ پاکستان کی لامحدود رسائی کا تحفظ پہلے کرتے ہیں۔ اس معاہدے کی رو سے صرف مائیکرو ڈیم بنائے جاسکتے ہیں۔  عالمی بینک کو اس پر اپنی رائے دینا چاہیئے تھی اور مسئلہء کشمیر کے تناظر میں اس معاملے کو اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کی جانب بھیج دینا چاہیئے  تھا کہ یہ معاملہ ایک بڑے تناظر سے تعلق رکھتا ہے۔  عالمی بینک نے اس پر ماہرِفطرت کی دی گئی رائے پر چھوڑتے ہوئے نادانی کا ثبوت دیا۔  یہ ہمارے لئے ایک اور دھچکا تھا۔ اسے نہ ہمارے آبی ماہرین سمجھ پائے اور نہ ہی تزویراتی اداروں نے اسکا نوٹس لیا۔  حالانکہ پانی کا معاملہ یہاں پر بعد میں اور کشمیر کا تناظر یہاں پہلے ہے۔  مؤقر اداروں سے اس کا گلہ کرنا نامناسب ہے کہ اس سے قلم پر زد پڑ سکتی ہے۔  عالمی بینک نے اپنا کرداد ادا ہی نہیں کیا۔  وہ تو رائے دینے کی ایک مشین ہے۔  پاکستان کو اس رپورٹ پر معاملہ جنرل اسمبلی میں اٹھا کر عالمی بینک کو رگیدنا چاہیئے تھا کہ چھوٹے اور ڈاؤن اسٹریم پر واقع ممالک کے بارے میں عالمی ادارے اپنا مناسب کردار ادا کرنے کی بجائے محدود کردار ادا کرکے کنفیوزن کو ہوا دے رہے ہیں۔  جب عالمی ادارے پاکستان کو مختلف معاملات میں دباتے ہیں تو ہمیں بھی ان کے بنیادی کردار اور ان سے توقعات کی وضاحت کرتے ہوئے اقوام عالم میں انکی حیثیت اور ان کے فیصلوں کے نتائج کو دنیا بھر میں اٹھانا چاہیئے۔ باشعور قومیں اپنے حقوق کا دفاع ایسے ہی کرسکتی ہیں۔  یہاں ہم نے خاموشی دکھائی جس پر ہم مستقبل میں بڑے خطرے کا شکار ہوجائیں گے۔ ماہرِ فطرت نے جہاں دو اصول بیان کئے؛ ربط اور نتائج کا مؤثر ہونا، وہاں عالمی امن اور امن عامہ (پبلک آرڈر) کا اہم معاملہ، تو اسکا اطلاق یہاں ضروری تھا۔ اس کیلئے عالمی بینک کو اپنی ذاتی رائے اور ضمیمہ لگا کر دنیا کو محفوظ بنانے میں اپنا کردار ادا کرنا چاہیئے  تھا۔ مگر شاید یہ عالمی ادارے “غیر” ضروری کردار ادا کرنے سے احتراز کرتے ہیں تاقتیکہ کوئی بڑا حادثہ رونما نہ ہو جس سے دریاؤں کا وجود اور برفانی ذخیروں کا خاتمہ نہ ہوجائے۔  پاک بھارت کشیدگی کی صورت میں ایسا ہونا عین ممکن ہے۔

جہاں تک دوسرے معاملات کا ذکر ہے، ان میں دریائی آلودگی کا ذکر آرٹیکل 4 کے پیرا 10 میں کیا گیا ہے۔ پاکستان ڈاؤن سٹریم پر ہونے کی بناء پر ایسی حرکت کا متحمل نہیں۔  بھارت اس کا محرک ہوسکتا ہے۔  مگر ہم نے آج تک دریاؤں  کی آلودگی پر آواز نہیں اٹھائی۔  اس کیلئے ہمیں دنیا بھر سے فنڈ بھی مل سکتے ہیں۔  یہ آج کے دور کا اہم ترین معاملہ ہے۔ دریائی آلودگی کے ثبوت دریائے جہلم اور چناب سے ضرور بالضرور اکٹھے کئے جاسکتے ہیں۔ ڈیم بنانا بذات خود ایک آلودگی ہے۔  اس پر موجودہ دور میں بہت سی عالمی ماحولیاتی تنظیمات آواز اٹھا رہی ہیں۔  اس پر عالمی تحریکات چلائی جارہی ہیں۔  پاکستان نے موجودہ مسئلہ پر ایسی کوئی آواز نہیں اٹھائی اور نہ ہی پاکستان ایسی کسی تنظیم کا باقاعدہ ممبر بنا۔ حالانکہ پاکستان کوہ ہندوکش ، قراقرم اور ہمالیہ جیسے دنیا کے عظیم ترین پہاڑی  سلسلوں کا ایک بڑا مالک ہے۔  اسے یہاں کے برفانی سلسلوں، پہاڑوں اور پانی سے متعلق تمام معاملات پر اپنی ذمہ داری کا ثبوت دیتے ہوئے تمام ممالک میں ہونے والی خلاف ورزیوں پر آواز اٹھاتے ہوئے اہم کردار ادا کرنا تھا۔ لیکن پاکستان نے اسکا کوئی ثبوت نہیں دیا۔ ہم دنیا میں ایک دفعہ پھر خود غرضی کی آخری حد پر رہتے ہوئے غیرجانبدار ہوگئے۔  اس کا مطلب یہ بھی ہے کہ ہمیں اپنی رائے بنانا نہیں آئی۔  ہم وقتی اور محدود اغراض کو سامنے رکھتے ہوئے اپنی ضرورت پوری کرتے ہیں اور اصولوں کی بنیاد پر اپنے ضابطے تشکیل نہیں دیتے ۔ اس بناء پر اقوامِ عالم کے سمجھدار طبقات میں ہمارا شمار نہیں کیا جاتا اور نہ ہی ہمارے رائے کو خاطر خواہ اہمیت دی جاتی ہے۔  تزویراتی ادارے اور انکے ماہرین کس کام کے ہیں؟ 

پاکستان اہم دریائی ممالک میں شامل ہیں۔ اس کیلئے ہمیں عالمی دریائی معاملات میں تعلیمی و اداراتی تخصص حاصل کرنا چاہیئے ۔ جہاں کہیں بھی دریاؤں سے متعلق معاملات ہوں، ہمیں اس میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینا چاہیئے۔  دریاؤں کے معاملے میں اپنا واضح مؤقف اپنانا چاہیئے. جسکی منظوری باقاعدہ مقننہ سے لینی چاہیئے.  یہ تکنیکی معاملات پاکستان کے ایوان بالا سے تعلق رکھتے ہیں۔ اس اہم معاملے کیلئے ہمیں مجلسِ شوریٰ کے ایوانِ بالا میں ایک مخصوص نشست کا اضافہ کرنا چاہیئے. اسلامی ہدایات اور قرآنی احکامات کی روشنی میں اپنے اصول و ضوابط اپنا کر دنیا بھر میں انکے ممطابق مہمات چلانی چاہئیں۔  مختلف ممالک کیساتھ ایسے اصولوں کی حمایت یا مخالفت کرنی چاہیئے اور دنیا بھر میں دریائی معاملات میں اپنی رائے کیساتھ ساتھ وسائل بھی خرچ کرنے چاہئیں تاکہ ہم ایک اہم فریق کے طور پر اقوام عالم کے سامنے آسکیں۔ عالمی ماہرین اور عالمی اداروں کے فیصلوں پر تنقید کرنی چاہیئے۔  یہ ہماری طاقت کا ایک اہم رخ ہے جسے ہم نظرانداز کردیتے ہیں۔

About Author

Daanish webdesk.

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: