بے بس عاشق رسول کی فریاد —- سحرش عثمان

0

پچھلے کئی دنوں سے میں حرف حرف لفظ جوڑتی ہوں مٹا دیتی ہوں۔
کوئی لفظ ایسا نہیں بن پاتا جو آپ کے شایان شان ہو۔ جو احساسات کے اس ہجوم کو بیان کرسکے یا پھر جو تعلق کو ڈیفائن کرسکے۔

آپ سے پہلا تعارف کہانیوں کی اس کتاب نے کروایا جس میں موجود بڑھیا کوڑا پھینکا کرتی تھی۔
کئی دن تک تو یقین ہی نہیں آیا ایسا کیسے ممکن ہے کوڑا پھینکنے پر تو لڑائی ہوجاتی ہے۔
سکول میں ڈیسک پر ساتھ بیٹھے کزن کو کہانی سنائی تو اس نے بھی یہ ہی کہا ایسا نہیں ممکن۔۔ مصنف نے یونہی لکھ دیا ہوگا۔
ڈرتے ڈرتے ٹیچر سے اور پھر امی سے پوچھا تو دونوں نے کہا یہ سچ ہے۔ اب مانے بنا چارہ نہیں تھا۔ اگر یہ سچ تھا تو وہ بڑھیا کون تھی؟
ذہن نے اردگرد نگاہ دوڑائی تو ساتھ والی گلی کی وہ بڑھیا نظروں میں گھوم گئی جو ہمیں آتے جاتے گھورا کرتی تھی گیند کبھی واپس نہیں کرتی تھی۔ شور کرنے پر سخت غصہ کرتی تھی۔
دل نے کہا لازما یہ ہی وہ بڑھیا ہے جو کوڑا پھینکتی ہے۔ اب اس کے مکان کے سامنے سے گزرتے احتیاط دو چند ہوگئی کہ لازما یہ اب بھی کوڑا پھینکتی ہو گی۔
کبھی اس کے ہاتھ میں موجود غیر مرئی شاپرز کو گھورا کرتے کیوں کہ کوڑا کالے رنگ کے بڑے سے شاپر میں ہوتا تھا اور اس میں سے سمیل بھی آتی تھی اور وہ زور سے پھینک کر ہاتھ جھاڑ لیے جاتے تھے۔

ایک دن ذہن میں سوال ابھرا کہ اگر بڑھیا یہ ہے تو پھر “وہ” کون ہیں؟
ابو؟؟ ارے نہیں وہ تو کوڑا پھینکنے والے کو ماریں۔
وہ ٹیچر؟؟ ہرگز نہیں وہ تو غصے میں سخت ڈانٹا کرتے ہیں پھر کون؟
امی سے پوچھا تو جواب آیا انہیں کسی نے نہیں دیکھا۔
لو بھلا یہ کیا بات ہوئی جن کو کسی نے دیکھا نہیں ان کی باتیں کیسے معلوم ہیں؟

شک امید خوف نے محبت کو کئی سال یقین نہ بننے دیا۔
کئی سال بعد سیرت کی کسی کتاب میں لکھا دیکھا آپ بچوں سے بے حد محبت کرتے تھے۔ لیکن کیا؟ اب تو ہم بچے نہیں رہے۔

پھر سنا آپ سب سے محبت کرتے تھے۔
یہ کیسے ممکن ہے سب سے کوئی کیسے محبت کرسکتا ہے۔ لیکن پھر راز کھلا کہ آپ سب کی محبت میں روتے تھے۔ اوروں کو نقصان پہنچ جانے کے خدشے سے روتے تھے۔

اچانک وہ کوڑے والی بڑھیا یاد آئی۔
اب کہانی سمجھ آنے لگی تھی نقصان پہنچانے والے کے لیے دعائیں کرنے والے کوڑا پھینکنے والی کی عیادت کرنے والے۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم۔

آپ جو سراپا محبت تھے آپ ہمارے نبی ہیں برسوں سے سنتے آئے اس ایک جملے کی حقیقت اس دن عیاں ہوئی۔ جس دن سیرت کی کتاب میں ام ہانی کی آواز گونجی اور آپ بے ساختہ بھاگ کر آئے پھر۔ دل پر ہاتھ رکھا اور حسرت سے کہا یہ تو ہانی ہے۔ ام ہانی ہے___ کیسا درد کیسی کسک اور کیسا امر عشق تھا جس نے دو جہانوں کے سردار کو بیوی کی یاد میں دکھی ہونے پر مجبور کردیا تھا۔ اس دن محبت کا مفہوم سمجھ آیا۔ ہماری بستی میں زندہ بیوی سے محبت کرنا طعنہ ہے یہ کیا آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) وفات پاگئی بیوی سے محبت کرتے تھے۔ مال غنیمت میں ہار دیکھ کر آبدیدہ ہوجانے والے۔ خدیجہ کا ہار پہچان جانے والے۔ یہاں تو زندہ بیوی کا ہار نہیں پہچانتا کوئی آپ نے بعد از وفات پہچان لیا۔

تعلق محبت میں ڈھلنے لگا تھا۔ تھوڑا تھوڑا یقین ہونے لگا تھا۔ وہ کوڑے والی کہانی سچی تھی دل آمادہ ہونے لگا تھا۔

سیرت کی وہ کتاب کتابوں کے ریک سے سائیڈ ٹیبل پھر بیڈ اور پھر تکیے کے نیچے آگئی۔ تعلق بھی رسول خدا سے ہمارے رسول اور پھر آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) تک آن پہنچی۔ کتاب اب ساتھ لیے لیے پھرا کرتی تھی کبھی طائف میں رلاتی تھی کبھی حسنین کو کندھوں پہ اٹھائے ہنسا دیتی تھی۔ کبھی عائشہ (رضی) کا آٹا بکری کھا جاتی تو دل سہم جاتا اب تو لازمی غصہ کریں گے۔ اور آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) کی مسکراہٹ سہم جڑ سے اکھاڑ پھینکتی۔

دل کتاب والی سیرت کا دیوانہ ہوئے جاتا تھا اور دماغ زمینی مثالوں سے بھٹک بھٹک جاتا تھا۔ دل اب سجدوں میں رونے والے کی محبت میں دھڑکنے لگا تھا۔ وہ جو لمبی لمبی نمازوں میں خدا کو ڈھونڈنے کی بجائے اندر سرگوشی کرتے دین معاملات کا نام ہے دین معاملات کا۔۔۔ اور کبھی سینے پر ہاتھ دھرے کوئی تصور میں جگمگاتا کہ تقوی یہاں ہے تقویٰ یہاں ہے تقویٰ یہاں۔۔ کبھی وہ علی رضی کو مٹی سے اٹھاتے اٹھا کر بٹھاتے ابو تراب اٹھو۔۔

کبھی کسی کو کہتے بلیوں کے باپ کہاں سے آرہے ہو اور بلیوں کا وہ باپ تاریخ میں اسی نام سے امر ہوگیا۔ میرے لیے محبت یہ تھی کہ صفیہ رض کو اونٹ پر چڑھنے میں دشواری پیش آتی تو رسول خدا گھٹنا موڑ کر سیڑھی بنا دیتے۔ جنگی قیدی پیش کیے جاتے تو رضاعی بہن کے لیے اپنی چادر بچھا دیتے اس رشتے کے بدلے سارے قبیلے کو آزاد کردیتے۔

محبت کے یہ والے باب تک پہنچی تو گھٹن سوا ہوگئی۔۔۔ یا خدا ہم تو اس بستی کے باسی ہیں جہاں بہنوں کا شرعی حق مارنے کے لیے بھائی ان کی شادیاں نہیں کرواتے یا پھر شادیوں کے بعد ان سے قطع تعلق کرلیتے ہیں اور ہم دم بھی محبت کا بھرتے ہیں۔

کیا ہم محب ہیں؟ ہم میں چاہنے والی تو کوئی ادا نہیں۔۔ محبت تو سر تسلیم خم کرنے کا نام ہے۔ رب جب پکار کر کہتا ہے اگر چاہتے ہو رب تم سے محبت کرے تو نبی کی اطاعت کرو تو پھر ہم میں اور اطاعت میں کیا چیز مانع ہے۔
ہم محبت کا نام لے لے کر وحشت کا کاروبار کیوں کرتے ہیں۔
ہم محبت کے نام پر صرف جان لینے پر ہی کیوں تلے رہتے ہیں۔ ہم محبت کے لیے اطاعت کیوں نہیں کرتے۔

میرا دماغ آجکل پھر سے مجھے بہکانے لگا ہے۔
میں نے اپنی بستی میں پچھلے دنوں عشق اور ناموس کے نام پر تماشا دیکھا ہے۔
جس میں ماں چھت سے گر گئی بیٹی کو ہسپتال کے جانے کے لیے تڑپ رہی تھی اور “عشاق” اسے رستہ نہیں دے رہے تھے۔
وہ ماں جو بیٹی کو گھر چھوڑ کر پیپر دینے گئی تھی۔ اور واپسی پر سڑک بند تھی فون پر بیٹی رو رہی تھی ماں کے ہلتے ہونٹوں پر دورود تھا۔ کیونکہ اس کو سکھایا ہی یہ گیا تھا کہ مشکل میں آپ پر درود بھیجا جائے۔ لیکن “عشاق” نہیں مان رہے تھے۔
آپ جو بچوں کے رونے کے ڈر سے قرات چھوٹی کرتے تھے نمازیں مختصر کرتے تھے۔ آپ کی محبت کے دعویداروں پر وہ رونا وہ آنسو اثر نہیں کررہے تھے۔
میں نے ان دونوں ماؤں کی بے بسی ان کے کرب کو دل پر اترتے دیکھا۔ میں ان “عشاق” سے برات کا اظہار کرتی ہوں۔

یہ کیسا عشق ہے جو نہ زباں پاک کرتا ہے نہ دل۔
میری بستی کے باسیوں کو محبت کا مفہوم نہیں معلوم۔۔ یا شائد مجھے نہیں معلوم۔
میرے لیے تو محبت وہ جملہ تھا جب صدیق اکبر کو پیچھے ہٹایا تھا آنکھوں پر بازو رکھے لیٹی عائشہ (رضی اللہ عنہ)سے کہا تھا ہاں عائشہ کرلو معاملہ۔
میرے لیے تو آپ وہ ہیں جنہوں نے ہندہ کو بھی معاف کردیا تھا۔۔ وحشی کو بھی۔۔ بھلا بتائیے کوئی خو تھی ان میں درگزر والی؟
آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) نے انہیں بھی معاف فرما دیا۔
میں نے تو عشق کا وہ باب پڑھا ہے جسمیں ثرید گرا دینے والی عائشہ کو مسکرا کر دیکھتے ہیں آپ۔
میں کیسے مان لوں آپ کا محب گالی دیتا ہوگا۔ آپ سے عشق کے دعویدار کو دوسروں کا نقصان کرتے کیسے دیکھ لوں؟
میں ان دونوں ماؤں کا کرب کیسے بھول جاؤں؟
میں کیسے مان لوں آپ کا محب درگزر نہیں کرتا آپ کا عاشق کیسے سخت دل ہوسکتا ہے کیسے خائن ہوسکتا ہے۔
کیسے جھوٹا ہوسکتا ہے۔
رستہ کیسے روک سکتا ہے منزل کیسے تنگ کرسکتا ہے۔ خوبصورتی کیسے تباہ کرسکتا ہے۔
میں کیسے مان لوں چھوٹوں پر رحم نہ کرنے والا آپ کا محب ہے۔

میرا دل۔۔۔۔ سیرت کی اس کتاب کے آخری باب میں اٹکا ہے جہاں صرف ایک پکار ہے امتی امتی امتی۔۔
اور میرا دماغ اپنی بستی میں چنگھاڑتے اس شخص سے خوفزدہ ہے جو بظاہر کہتا ہے یا نبی یا نبی یا نبی۔
میرا دل اس پکار پر لپک لپک جاتا ہے اور میرا دماغ اس چنگھاڑ سے دہل دہل جاتا ہے۔

میں دکھ اور شرمندگی کے عجب دور سے گزر رہی ہوں مجھے دکھ ہے میری بستی کے لوگ محبت کو سمجھے نہیں ہیں۔ مجھے شرمندگی ہے کہ ایسے عہد میں جینا پڑ رہا ہے جس میں دنیا آپ کی ناموس سے جڑے ہمارے احساسات سمجھنے سے عاری ہے۔

اس سے زیادہ دل چیر دینے والا کوئی لمحہ نہیں کوئی واقعہ نہیں۔ کہ دنیا سراپا محبت کو جانے کیا سمجھتی ہے۔ ہمارا درود سلام پہنچتا ہے تو شائد یہ آہ و بکا بھی پہنچ جائے نہ پہنچ پائے تو آپ کا محب تو سنے گا ہی نا۔ اس کی ادائے بے نیازی ہی سہی ہمارا درد دل سوا بھی نہ ہوگا کیا؟

دیکھیں نا یہ جگہ رہنے کے قابل رہی ہے اب کیا؟
میرے بچے سڑکوں پر مارے جاتے ہیں۔ اور آپ پر لوگ زبانیں دراز کرتے ہیں اور ہمیں دیکھیں بے بسی سی بے بسی ہے کچھ کر پانا تو درکنار کہہ بھی نہیں سکتے۔
نہ اپنے بچوں کے قاتل پکڑ سکتے ہیں نہ ملعونوں کی زبانیں۔
آزادی اظہار کے نام پر یہ دنیا ہمارے کلیجے چیرنے لگی ہے۔
دلوں پر چھریاں چلتی ہیں۔

ہم تو پہلے ہی نظریں ملانے کے قابل نہیں تھے اس پر ظلم یہ اس دور میں جینا ہے جہاں پر آپ (صلی علیہ وسلم) پر لوگ زبانیں دراز کریں۔
ہائے یہ کیسی بے اختیاری ہے اسی دور ابتلا میں جینا ہے اور اپنی بے اختیاری کو کوسنا ہے۔
جانے ہمیں کب سمجھ آئے گا جرم ضیعفی کی یہ ہی سزا ہوتی ہے۔
اور پتا نہیں ہمیں کب سمجھ آئے گی فرد قائم ربط ملت سے ہے۔
جانے کب مفاد پرستی سے اوپر اٹھ پائیں گے ہم۔

نہ کچھ لکھا جاتا ہے نہ ہی کہا جاتا ہے۔ یہ دنیا ہماری بے بسی کا مذاق اڑاتی ہے اور ہم بے بس بس اسی میں خوش ہولیتے ہیں کہ ہمارے فرقے کے مولوی نے مذمت کی ہے۔

بے بسوں کی کوئی زور زبردستی تو ہوتی نہیں بس ترلہ منت ہی ہوتی ہے آپ کی ناموس کے لیے منت بھی گورا ہمیں لیکن مسئلہ یہ کہ ہم ایسے نااہل کے منت بھی نہیں کرنا اتی۔ دکھ حد سے سوا ہوجاتا ہے یہ سوچ کر کے آپ (صلی علیہ وآلہ وسلم) میں کی ناموس کی حفاظت کسقدر نااہلوں کے ہاتھ میں آگئی ہے۔

آپ ہی بتائیے اپنے ساتھ سوئے اپنے رفیق خطاب کے بیٹے سے پوچھئے نا بھلا کمزوروں کی بھی کوئی عزت اور عزت نفس ہوتی ہے؟
بتائیے نا انہیں کیسا دور ابتلا ہے۔۔ کوئی اب للکارا کر نہیں کہتا کسی مائی کے لعل میں ہمت ہے تو آئے آزمائے ہمارا جذبہ ایمانی۔
اب تپتی ریت پر سینے پر پتھر اٹھائے احد احد کہنے والے نہیں اس امت میں۔ ہم تو ذرا ذرا مادی فائدے کے پیچھے ایمان بیچ آنے والے رہ گئے ہیں۔
اب کوئی مضحکہ اڑانے والے کی آنکھوں میں آنکھ ڈال کر یہ نہیں کہتا نا اگر رب کے حبیب نے کہا ہے تو دنیا پر یہ ہی سچ ہی یہ ہے۔
کوئی ایسا جو کہہ دے یہ سارا مال و اسباب یہ گھوڑے یہ ہتھیار یہ خوراک آپ کی ناموس پر قربان۔
“یہ پہلے اونٹ کی مہار پکڑیئے اور سارا قافلہ آپ کے لیے”

کیا کہوں اور کیا لکھوں۔۔

ہم ایسے نااہل کے نہ ہمیں محبتیں کرنا آئیں اور نہ ہم ڈھنگ سے دنیا میں رہنا آیا۔
ہم ایسے بے بسوں کی بے اختیاروں کی بھی کیا محبت بھلا۔ محبت تو اختیاری مضمون ہے اور ہم اختیار سے عاری۔
لیکن یہ بھی شائد محبت ہے کہ ہم جب تھک جاتے ہیں دنیا میں۔ کہیں اماں نہیں پاتے تو مدینہ جانے کی دعا کرتے ہیں۔

ہم آپ کے شہر کوامن اور محبت کا استعارہ سمجھتے ہیں۔ ہمارے لیے آپ سراپا عشق ہیں اور معاف کیے جانے کی امید۔۔ شایدکبھی سیکھ جائیں ہم محبت کرنا۔
ابھی تو بس یہ بےبسی ہے اور ایک امید ناز کہ ہم بھی سیرت کی کتاب کے آخری باب کی پکار کا حصہ ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: خواتین کی نسوانی شناخت مسخ کرنے کے سرمایہ دارانہ ہتھکنڈے 
(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20