سوئمبر سے طوق تک —- سعدیہ بشیر

0

ورمالا اور طوق ہم معانی نہیں پھر بھی بین المفہوم ان میں کسی حد تک یگانگت موجود ہے۔ شادی کے لیے گلے میں ورمالا ڈالی جاتی ہے اور ورمالا پہنانے کی اس تقریب کو سوئمبر کہا جاتا ہے۔

اس کی کنیا مِترا بندا جب بیاہنے جوگ ہوء تب اس نے سومبر کیا
اور طوق بھی لوہے کا وہ بھاری حلقہ
جو غلامی یا گرفتار کے نشان کے بطور
مجرموں یا دیوانوں کے گلے میں ڈالتے ہیں تاکہ گردن نہ اٹھا سکیں۔
اسے پٹّا اور گلوبند بھی کہا جاتا ہے
یہ اور بات ہے کہ جدید دور نے تھوڑا منظر نامہ تبدیل کیا ہے۔

ایک شادی میں ورمالا پہنانے کے بعد دلہا نے خوشی کا اظہار کرنے کے لیے ناگن ڈانس شروع کیا تو دلہن نے اسے نامناسب رویہ قرار دیتے ہوئے عین موقع پر ہی شادی سے انکار کردیا۔

دلہن کا انکار سننے کے بعد دلہا غصے میں آیا اور اُس نے لڑکی کے منہ پر زور دار طمانچہ رسید کیا جس کے بعد فریقین میں اس قدر ہاتھا پائی ہوئی کہ انہیں منتشر کرنے کے لیے پولیس کو مداخلت کرنا پڑی۔ اب مداخلت کا مطلب صرف ویڈیوز بنانا ہے۔ شاید ٹک ٹاکرز پر پابندی کے پس پردہ بھی ایسا ہی کوئی ڈانس ہو۔

ایسا بھی کہا جا سکتا ہے کہ ورمالا کے ساتھ ہی کچھ لوگ زندہ دفن بھی ہو جاتے ہیں۔ لیکن مداخلت ندارد !!! کیونکہ ایک اور شادی میں ورمالا پہناتے وقت دولہا کو مرگی کا دورہ پڑ گیا اور دلہن نے کسی اور شخص کو ورمالا پہنا دی۔ ہمارے یہاں یہ عمل صاحبان اختیار نے کچھ اس طرح نبھایا کہ عام ملازمین کی تنخواہ کا فیصلہ آنے تک اپنی تنخواہوں میں اضافہ کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا۔

لیکن مہنگائی اور محکومیت کا جو طوق عوام کے گلے میں پہنایا گیا ہے وہ شاید گردن کا ناپ لے کر بنایا گیا ہے۔ اتارے نہیں اتر سکتا۔

چھوٹے موٹے سوئمبر تو میڈیا کے ہر پروگرام میں رچائے جاتے ہیں۔ یہ اور بات ہے کہ جس گلے میں ورمالا پہنانے کی کوشش کی جاتی ہے وہ اس سے بے خبر ہی رہتا ہے۔ مان نہ مان میں ترا مہمان کے مصداق یہ سوال تک نہیں کیا جاتا کہ آیا وہ اس سوئمبر میں شامل ہونا چاہتا ہے یا نہیں۔ دو چار لوگوں کی تصویر اور نام بتا کر یہ سوال اس تکرار اور اصرار سے کیا جاتا ہے کہ ایک نام توضرور ہی چن لیجئے۔ پچھلے دنوں ایک پروگرام میں مفتاح اسماعیل نے بہت خوب صورت جواب دیا کہ خواتین کی زندگی پہلے ہی مشکل ہے اس لیے ان کے بارے میں ایسے سوالات نہیں کرنا چاہیئں لیکن میزبان کے اصرار پر انھیں ورمالا پہنانا ہی پڑی۔ انصاف کی ورمالا اور طوق میں البتہ صدیوں کا فاصلہ ہے۔ ایک فریق کی ورمالا دوسرے کے لیے طوق بن جاتی ہے۔

منیرنیازی کا شاید یہ ہی مفہوم ہے کہ جن کے گلے میں غم کے طوق ہوتے ہیں ان پر شہر کی ہوائیں زہر اگلنے لگتی ہیں۔ ایک طوق ملامت کا بھی ہوتا ہے جس کا فرقہ ملامتیہ سے کوئی تعلق نہیں۔ اب یہ طوق ہر شہری کے ہاتھ میں ہے اور وہ جب چاہے، جہاں چاہے کی بنیاد پر کالی سیاہی کی طرح کسی کو بھی پہنا سکتا ہے۔ ایسا بہت کم ہوتا ہے کہ یہ طوق پہنانے والے کی گردن پر فٹ ہو جائے۔ حکمران اور سیاست دان البتہ نشستوں کے چناو میں جب اور جیسے چاہیں سوئمبر رچا سکتے ہیں لیکن ورمالا کے طور پر وہ صرف مذمت کے علامتی طوق رکھتے ہیں جو کبھی بھی ظالم کے گلے تک نہیں پہنچ پاتے۔ مذمت کے یہ طوق عوام کو میسر نہیں کہ

ان مذمت کاریوں سے حکمرانوں پر کوئی اثر نہیں ہوتا۔

نئے پاکستان میں انصاف کے طوق کم یاب ہیں ان کی کمی پوری کرنے کے لیے اب انھیں ماسک کا نام دیا گیا ہے۔ یہ اور بات ہے کہ یہ ماسک عوام کے منہ، انصاف کی آنکھوں اور حکمرانوں کے کانوں کے لیے تیار کیے گئے ہیں۔ بجٹ کا طوق صرف عوام کے لیے بنایا جاتا ہے اور یہ بم کی طرح گرتا ہے جیسے کچھ پھول صرف مزاروں کے لیے کھلتے ہیں۔ یہاں دس دن کی مہلت کے نام پر کوئی خوش خبری نہیں۔ کوئی پوچھے کہ انصاف کے دان کیے گئے دس دن عاشق کے لیے تو ہجر کی کالی رات بن کر آتے ہیں۔ جدید اصطلاح میں جانوروں کے پٹوں اور انسان کا طوق ایک ہی چیز ہے۔ آزادی رائے کے اظہار میں اس طوق کے پٹہ کو دوپٹہ بھی کہا جاتا ہے۔ آج کل

غربت، بے بسی کے طوق جب مہنگائی سے ملتے ہیں تو وہ گتھم گتھا نہیں بلکہ طوقم طوق ہو جاتے ہیں اور حتمی سزا کے طور پر مسلط ہی رہتے ہیں۔ ہر نئی حکومت اسے مذید کس دیتی ہے۔ کرونا میں سانس مشکل سے آتا ہے۔ عوام کی بے حسی اور لاپرواہی کو سمجھنے کے لیے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ وہ سالوں سے ایسے ہی سانس لینے کے عادی ہیں۔

کوئی پوچھے تو ہم بتلائیں کیا

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply