فرد اور معاشرہ کی وجودیات —- عمر فرید ٹوانہ

0

 ایسی عمارت جس کی اساس دو انواع کا باہمی احساسِ خوف ہو، معاشرہ کہلاتی ہے۔

جیسے انسان اور حیوان دو مختلف انواع ہیں۔ انسان نے دوسرے حیوانوں کی طرح جنگل ہی میں رہنا قبول نہیں کیا۔ بلکہ اس نے جنگل کے مقابل اپنی الگ بستی بنائی اور یہیں انسانی معاشرت کی داغ بیل پڑ گئی۔ انسان نے دوسرے حیوانوں سے الگ، جنگل سے باہر ڈیرے کیوں لگائے، اس پر لمبی ابحاث ذخیرہ انسانی علم میں محفوظ موجود ہیں۔ ماہرین کی آراء سے جو نچوڑ میں نے اخذ کیا ہے وہ دو لفظی ہے۔

بہتری کی آہ
دفاع کی چاہ

ہم اکثر سنتے پڑھتے ہیں کہ انسان ایک معاشرتی حیوان ہے۔ میں اسے یوں سمجھتا ہوں کہ معاشرت ایک حیوانی تصور ہے۔ جیسے جنگل میں بھیڑئیے اپنا ایک باقاعدہ نظام رکھتے ہیں۔ گویا حیوانوں میں معاشرت، منظم تصور کے تحت، تخلیق کا مرتبہ پا چکی ایک حقیقت ہے۔ معروف معنوں میں ہم انسان بھی اصل میں حیوان ہی ہیں اور ہم نے یہ تصورِ معاشرت بطور حیوانی عادت اپنایا ہے۔ ہاں فرق بس اتنا ہے کہ ہماری متنوع المزاجی عام حیوانی متنوع المزاجی سے کہیں زیادہ ہے۔ بلکہ ایک طرح ہم حیوانی متنوع المزاجی کی معراج پر ہیں۔

معاشرہ یا تصورِ معاشرت حیوانی متنوع المزاجی ہی کا آلہ ہے۔ ایک دریا کی مثال سے سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ یوں سمجھئیے حیوانی متنوع المزاجی ایک مونہہ زور بہاۏ کا نام ہے جبکہ معاشرہ یا معاشرت اس بہاؤ کو کنارے کرنا کوشش نام ہے۔ یہ کوشش ایک طرح کی ردعمل کی نفسیات سے عبارت ہے۔ کیونکہ اسکی اساس میں ہمیشہ احساسِ خوف ملتا ہے۔ اور خوف ہمارے ہی احساسات کے باہمی تعامل کا حاصل ہوتا ہے۔ کیسے؟

کائنات ایک الگ حقیقت اور میں انسان، کائنات کا ایک حصہ، الگ حقیقت ہوں۔ اس پر میں دلیل، ہمارے حاملِ مثلِ کائنات یعنی اپنے عاقل ہونے کو لاتا ہوں۔ وہ مشہور مقولہ ہے نا، میں سوچتا ہوں، اسلیے میں ہوں۔ اب فرض کیجیئے آپکے دو احساسات ہیں۔ ایک کا نام حقیقت ہے اور دوسرے کا سراب۔ حقیقت سے مراد، ہمیں ہمارے ہونے کا احساس ہے۔ جبکہ ہر وہ احساس و خیال جو ہم کائنات اور اسکے مظاہر کے بارے تراشتے ہیں، فی الاصل سراب ہوتا ہے۔ گویا ہمارا ہر احساس و خیال فی الاصل سراب ہی ہوتا ہے، حقیقت وہ عقل کی ایک خاص کسوٹی پر پورا اترتا، بنتا ہے۔ قصہ المختصر اب ہمارے پاس ہمارے ہی تراشے ہوئے دو مختلف احساسات ہیں۔ ان دونوں احساسات کے باہمی تعامل سے خوف پنپتا ہے۔ گویا حقیقت اور سراب کے باہمی تعامل سے خوف پنپتا ہے۔ یہ باہمی تعامل جس قدر زیادہ حادثاتی ہوگا، احساسِ خوف اتنا ہی شدید ہوگا۔ جیسے اچانک مجھے سانپ نظر آجائے اور سانپ کو میں، میں سانپ سے ڈرونگا اور سانپ مجھ سے ڈرے گا۔

بہتر تو یہی ہے کہ اب یہاں متنوع المزاجی پر بھی کچھ بات ہوجائے تاکہ مدعا مزید سہل ہوسکے۔

مقولہ مشہور ہے کہ انسان کو اسکی ماں نے آزاد جنا ہے۔ میں اس میں تھوڑا یہ اضافہ کرنا چاہونگا کہ کوئی بھی انسان بےسمتا پیدا نہیں ہوتا۔ ہر نومولود اپنی سمتِ حرکت لیے آزاد پیدا ہوا ہے۔ میرے نزدیک انسان کا یہ سمتی انوکھا پن ہی انسانی متنوع المزاجی کی شکل ہے۔ کسی بھی معاشرہ کے لیے اپنا وجود برقرار رکھنے اور اسے مسلسل پروان چڑھانے کے لیے لازم ہے کہ وہ اپنے افراد کے اسی سمتی انوکھے پن کو اپنے حق میں بہتر طور تعلیم کرسکے۔ ہمارے ہاں جو نظام تعلیم رائج ملتا ہے وہ اسی امر کی دلیل ہے۔ ویسے بھی مقولہ مشہور ہے، نوجوان نسل، ملک و معاشرہ کا اصل سرمایہ ہوا کرتی ہے۔ ترقی کی نئی راہیں معاشرہ نہیں فرد کھوجتا ہے۔ معاشرہ اپنے افراد کی آبیاری کرتا ہے اور دفاع بھی۔

انسان کا جنگل سے نکل کر الگ ڈیرا جمانا، یا جنگل کا انسان کے ڈیرے سے دھیرے دھیرے نکلتے چلے جانا، میرا کسی حیوان سے ڈرنا اور حیوان کا مجھ سے ڈرنا، یہ ایک طرح کا باہم دور ہٹنا، یہ ہمارا وہ باہمی خوف ہے جو آخرش ہمیں سینہء خاک پر باہم واضح خطوط کھینچنے اور کچھ احتیاطی حدود کی پابندی کا سبق سکھاتا ہے۔

قصہ المختصر معاشرہ ایسی حیوانی تخلیق ہے جو بیک وقت اوزار بھی ہے اور ہتھیار بھی۔ یہ ایک طرح کامل تخلیق حیوان ہے۔ جسے انسان نے اپنے ہاں بطور عادت اپنایا ہے۔ دوسرے لفظوں میں کوئی بھی انسانی یا حیوانی سیٹ جو باہم حصولِ بہتری و اصلاح کے ساتھ ساتھ اپنی اجتماعی دفاعی فکر کا بھی حامل ہو، معاشرہ کہلائے گا۔

ہم انسان چونکہ متنوع المزاجی کی معراج پر ہیں یا کم از کم ہماری متنوع المزاجی کے سامنے عام حیوانی متنوع المزاجی کی قدر تقریباً صفر ہی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ جب نوعِ انسانی کا ہر فرد انوکھی سمتِ حرکت لیے پیدا ہورہا ہے تو لازماً معاشرتی پچیدگی اور وضاحت کئی گنا بڑھے گی۔ دوسرے لفظوں میں زمین زادوں میں احساسِ حقیقت اور سراب جس قدر زیادہ ترقی کرے گا، انکے حادثاتی تعامل کے مواقع اور جہات اتنی ہی بڑھینگی۔ معاشرتی وضاحت کے اتنے ہی پکے رنگ ابھر کر سامنے آئینگے اور سینہء ارض پر اتنے ہی خطوط بڑھیں گے۔ اتنی ہی حدود متعارف ہونگی۔ باہمی احساسِ خوف کی وجہ سے، محفوظ اور تیز سفر کی خواہش میں انسان جتنا گھستا چلا جائے گا، حدود اور پابندیاں اتنی ہی متعارف کرواتا اور انکے اطلاق کی تگ و دو میں اتنا ہی زیادہ غرق ہوتا چلا جائے گا۔

بطور مثال انسانی معاشرتی سفر کا خاکہ ملاحظہ فرمائیں۔

حیوانی معاشرت، انسانی معاشرت
یہودی معاشرت، عیسائی معاشرت، مسلم معاشرت، ہندو معاشرت وغیرہ
ترک معاشرت، کرد معاشرت، عرب معاشرت وغیرہ
پاکستانی معاشرت، امریکی معاشرت، برطانوی معاشرت وغیرہ 

جیسے کہ اوپر بیان کیا گیا ہے کہ تصورِ معاشرت ایک قدر کامل تخلیق حیوان ہے۔ یہ بیک وقت اوزار بھی ہے اور ہتھیار بھی۔ گویا اندرونی اصلاح کا کام بھی اسی سے لیا جاتا ہے اور اجتماعی دفاعی فکر کی آبیاری بھی اسی کا ذمہ ہے۔ اسی لیے تو تاریخ انسانی میں ہمیں طرح طرح کے نظام ہائے انتظام ملتے ہیں۔

گویا معاشرت کسی بھی ایک مظہر و تصور میں، اوزار اور ہتھیار کی سی خصوصیات ڈھونڈنے بلکہ تراشنے کا نام ہے۔

جیسا کہ آپکو اوپر درج ملے گا کہ معاشرہ یا تصورِ معاشرت اصل میں حیوانی متنوع المزاجی ہی کا آلہ ہے۔ گویا اسے بطور اوزار اور ہتھیار استعمال میں لانا انسانی صوابدید پر ہے۔ کوئی انسان بےسمتا اور غلام پیدا نہیں ہوا۔ ہر آزاد اور اپنی سمتِ سفر کا حامل انسان اپنی خواہش کے مطابق زندگی کرنا چاہتا ہے۔ اس سے صاف ظاہر ہے کہ حیوان کو باندھ کر رکھنے والی رسی کی طاقت، ہمیشہ حیوان کی طاقت سے زیادہ ہونی چاہیے۔ عاقل انسان کے معاملہ میں لازم ہے کہ ایک تصورِ معاشرت کی اپنی “تفہیمِ فرد و کائنات” اپنے افراد سے زیادہ ہونی لازم ہے۔ دوسری صورت میں وہ معاشرہ یا تو اپنے افراد کے سامنے بہت کمزور ہوگا یعنی انتشار کا گڑھ ہوگا یا زیادہ سے زیادہ صفحہ ہستی سے اسکی انسانی بنیاد کا وجود مِٹ جائے گا۔ گویا ایک انسانی باہمی احساسِ خوف صفحہء ہستی سے مٹ جائے گا۔ یوں ایک طرح معاشرہ کا پنپنا اور مٹنا واضح ہوجاتا ہے۔

اب جبکہ معاشرہ اپنے افراد کے مقابل ایک زیادہ قوی اور عاقل وجود ہے، احساسِ تنوع اور اختیار جسکی سرشت میں شامل ہو، کیسے ممکن ہے کہ اس کا اپنے ہی جیسے کسی دوسرے مظہرِ فرد و کائنات سے ٹاکرا نہ ہو۔ جس طرح حقیقت اور سراب کے نام سے، انسان کے دو احساس اوپر گنوائے گئے ہیں۔ بعینہ معاشرہ کے بھی دو ہی احساس ہیں۔ احساسِ خوف یہاں بھی وجود کے اندر ہی پنپتا ہے۔۔۔۔۔۔ !!!

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20