موت کے سامان کیسے کیسے؟؟؟؟؟؟

0

گذشتہ رات ٹی وی کے چینل تبدیل کرتے ہوئےایک پروگرام پہ آکر رک گئی جس میں بائیک ریس اور ون وہیلینگ کی روداد و کاروائ دکھائ اور بتائ جارہی تھی۔ اس پروگرام کو دیکھ کر نہ صرف جسم کے بلکہ روح کے بھی رونگٹےکھڑےہوگئے کہ موت کے سامان کیسے کیسے دستیاب ہیں اور پیدا کئے جارہے ہیں نوجوان لڑکوں کو نگلنے کے لئے۔ دہشت گردی میں اگر مارے جائیں تو ٹی وی پہ بار بار سینہ کوبی کرتی مائیں اور بہنیں اور آنسو صاف کرتے باپ اور بھائ دکھائے جاتے ہیں لیکن کن کن طریقوں سے نوجوان لڑکوں کی نسل کشی کی جارہی ہے اس پہ بھی غور وفکر لازمی ہے اور بار بار شنوائ ہونی چاہئے اور قانون ہونا چاہئے۔ اگر قانون ہے تو کہاں ہے ؟ ہمیشہ کی طرح سورہا ہے؟ میری ادنیٖ سی عقل میں اس پروگرام کو دیکھ جو سمجھ آیا وہ تحریر کررہی ہوں کہ کیسے ایک عام سی CD70 یا CD50 کو 140 تک لے جاتے ہیں؟ انجن میں کچھ پرزوں کی ردوبدل سے بائیک کی رفتار میں اضافہ ممکن ہوجاتا ہے مزید اس کی بریکس نکال لی جاتی ہیں اور مڈگارڈ وغیرہ بھی اس طرح بائیک ریس کے لئے تیار ہوجاتی ہے۔ اس کے بعد کا مرحلہ یہ ہوتا ہے کہ بائیکر ریس کے لئے اپنی بائیک سمیت اپنی رجسٹریشن کہاں اور کیسے کروائے؟؟؟

یہاں تک تو ایک مرحلہ طے پا گیا اس کے پس منظر میں تھورا سا جھانکتے ہیں تو سوچنے کے لئے پہلا نقطہ یہ ہاتھ آتا ہے کہ یہ نوجوان لڑکے جن کی عمریں بمشکل 15-14 سے 22-20 برس کے درمیان ہوتی ہیں ان کو اچانک اس قدر شدید جوش کیوں آتا ہے موت کے اس کھیل کے لئے راضی ہوجاتے ہیں۔ ان لڑکوں کو کیسے خبر ملتی ہے کہ کون کون سی ریس کہاں کہاں منعقد ہورہی ہے اور ان کی بائیک کو ریس کے لئے کہاں سے تیار کروایا جاسکتا ہے؟ مزید یہ کہ ریس کی خواہش کو ہوا دے کر شدید خواہش میں کون بدلتا ہے؟ اس مقصد کو پورا کرنے کے لئے ایک منظم اور طاقتور مافیا کام کررہا ہے۔ فیس بک پہ ایسے کئ پیجز اور گروپس بنے ہوئے ہیں جہاں نوجوان لڑکوں کو مختلف پوسٹس کے ذریعے ریس کے لئے اکسایا جاتا ہے۔ ان صفحات پہ صرف مخالفین کے لئے شدت پیدا کی جاتی ہے۔ ریس کی تمام تر معلومات خفیہ ہوتی ہیں یعنی کہاں رجسٹریشن ہوگی ریس ٹریک کہاں ہوگا اور یہ کہ کن سے مقابلہ ہوگا، یہ تمام معلومات آپ کو فیس بک پہ نہیں ملے گی۔ کراچی میں ریس کے ہاٹ ٹریکس سی ویو، شاہراہ فیصل اور سپر ہائ وے ہیں اور اکثر مخبری کی خبر ملنے پر عین موقع پہ یہ ٹریکس تبدیل ہوجاتے ہیں۔ ان ریس میں دیگر کھیلوں کی طرح چیٹنگ بھی ہوتی ہے پیر مار کر 140 کی رفتار پہ جاتےہوئے بائیکر کو گرا دیا جاتا ہے۔ زرا سوچیے اس رفتار پہ اگر کوئ بنا ہیلمٹ کے بائیک سے گرے گا تو اس کا حال کیا موت سے کم ہوگا؟ اس ریس سے بائیکر کو کیا فائدہ ہوتا ہے؟ صرف ایک بائیک یا پھر پچیس ہزار روپے جی ہاں اگر آپ جیت گئیے اور زندہ و سالم رہے تو ایک عدد بائیک یا پچیس ہزار روپے۔

اب یہاں سوچنے کی بات یہ ہے کہ ایک جوان زندگی جس کو اس مقام پہ پہنچنے میں ماں باپ نے جو کئ برسوں کی تکالیف سہی ہیں اس کی قیمت بائیک ریس مافیا فقط پچیس ہزار میں طے کرتا ہے۔ کیوں یہ لڑکے اپنی زندگیوں کا سودا کرنے کا اختیار دوسروں کو دے رہے ہیں؟ ان کی موت سے کس کو فائدہ ہے ملک کو؟ عوام کو؟ یا ان کے ماں باپ کو؟ کس کو ؟؟؟ اس کا فائدہ صرف ریس پہ سٹہ یا جوا کھیلنے والوں کو ہے اس کے علاوہ کسی اور کو نہیں۔ یہ سٹے باز ملک کو کیا دے رہے ہیں؟ کچھ نہیں۔ صرف لے رہے ہیں جوان جوان زندگیاں۔ ارے عقل کے دشمن لڑکو کیوں سڑکوں پہ لاوارث لاشیں بننے کو تیار ہو۔ اور ماں باپ زرا آپ بھی متوجہ ہوں اگر آپ کی اولاد (لڑکے) اس قابل ہوگئیے ہیں کہ ان کے قدم بائیک کی کک لگا سکتے ہیں تو خدارا ذرا ہوشیار ہوجائیں۔ یہ جان لیوا سواری نہ خریدیں۔ آپ کی ضرورت آپ کے بیٹےکی زندگی سے بڑھ کر نہیں ہے اور اگر پہلے سے یہ سواری اپ کے گھر میں موجود ہے تو اس میں کسی بھی قسم کی ردوبدل کو خاطر میں لائیں اور تمام تر حفاظتی اقدامات فرمائیں۔ پچیس ہزار اور بائیک زندگی میں بے شمار لیکن اولاد کی زندگی فقط ایک بار۔

About Author

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: