لزبئین فیمنزم : مردوں کے ساتھ زبان کا بھی دشمن؟ — وحید مراد

0

رد عمل کے طور پر وجود میں آنے والی تحریکوں کے سرکردہ افراد عموماً ضد، ہٹ دھرمی، غصے اور نفرت کے جذبات سے مغلوب ہوتے ہیں۔ وہ ڈیڑھ اینٹ کا آشرم الگ بنانے کی خاطر ہزاروں سال کی انسانی تاریخ، ثقافت، روایات، اقدار اور بعض اوقات زبان اور اصطلاحات کو بھی اپنے مذموم مقاصد کی بھینٹ چڑھا نے میں کوئی عار محسوس نہیں کرتے۔ یہی کچھ علیحدگی پسند لزبئین Lesbian فیمنزم کے رہنمائوں کے ہاتھوں سرزد ہوا۔

لزبئین Lesbian خواتین نے جب وومن لبریشن اور گے لبریشن موومنٹس سے علیحدگی اختیار کرتے ہوئے اپنی الگ تنظیم کی بنیاد رکھی تو منشور کا پہلا نکتہ یہ طے پایا کہ وہ ہر اس چیز کو مسترد کرتی ہیں جسکا مردانہ بالادستی سے ذرا سا بھی کوئی تعلق نظر آئے۔ چنانچہ انہوں نے مردوں سے بالکل علیحدگی اختیار کرتے ہوئے اعلان کیا کہ اب وہ نہ مردوں سے کسی قسم کا تعلق رکھیں گی اور نہ انکی طرف سے دی جانی والی مراعات اور تحفظ وغیرہ سے فائدہ اٹھائیں گی۔ خاندان جیسے معاشرتی اداروں کے ذریعے صرف مردوں کو جنسی خواہشات سے لطف اندوز ہونے کا استحقاق حاصل رہا ہے لہذا اس ادارے سے بھی علیحدگی اختیار کی جائے گی۔ مخالف اور متضاد اصناف (مرد و عورت) کا جنسی تعلق بھی پدرسری نظام کا شاخسانہ ہے اس لئے لزبئین عورتیں اسے مسترد کرتے ہوئے صرف آپس میں تعلق استوار کریں گی۔ ظلم کے نظام کو مسترد کرنے کیلئے ضروری ہے کہ عورت صرف عورت سے ہی محبت اور جنس کا تعلق رکھے اور جو عورتیں ایسا نہیں کرتیں وہ اپنی لزبئین بہنوں سے غداری کی مرتکب ہونگی۔

آکسفورڈ یونیورسٹی پریس کی جینڈر اسٹڈیز ڈکشنری کے مطابق لزبئین خواتین دو طرح کی ہوتی ہیں؛ ایک وہ جو پیدائشی طورپر اس طرح کے رجحانات رکھتی ہیں اور انہیں معاشرتی طور پر دبائو کا سامنا ہوتا ہے لیکن دوسری وہ جو بلوغت کی عمر میں پہنچ کر کسی وقت اپنی مرضی سے اس کا انتخاب کرتی ہیں۔ انہیں کسی دبائو یا جبر کا سامنا نہیں ہوتا اس لئے وہ اپنی اس شناخت کا سیاسی طور پر اظہار کرنا ضروری نہیں سمجھتیں۔ لیکن علیحدگی پسند لزبئن اسکالر شیرل کلارک (Cheryl Clarke) بضد ہیں کہ ان سب کو یکساں طور پر معاشرتی جبر کے خلاف کھل کر نفرت کا اظہار کرنا چاہیے تاکہ مردانہ ادارے (خاندان وغیرہ) کو یہ پیغام مل سکے کہ اب ہم  انہیں مزید برداشت کرنے کو تیار نہیں۔

لزبئن فیمنسٹ اسکالرز کی نفرت صرف ثقافت اور اقدار تک ہی محدود نہیں انگریزی زبان بھی انکا تختہ مشق بننے سے نہیں بچ سکی۔ یہ فلسفہ تراشا گیا کہ ‘Female’ کا لفظ ‘male’ سے نکلا ہے اور ‘man’، ‘woman’ سے مشتق ہے۔ یہ مغالطہ بھی پیدا کیا گیا کہ woman لفظ میں’wo’ دراصل ‘w/o’ ہے جسکا مطلب ہوتا ہے’کے بغیرwithout’ یعنی پدرسری نظام معاشرت می woman کی اپنی الگ کوئی شناخت ہی نہیں تھی، اسے ایک ایسی مخلوق سمجھا جاتا تھا جو مردانگی (man) کے بغیر ہو۔

اسی طرح یہ افسانہ گھڑا گیا کہ پدرسری نظام معاشرت میں عورت پر ہونے والے ظلم کی بنیادی وجہ یہ تھی کہ اس نظام نے ہر شعبے میں مرد کا راج قائم رکھنے کیلئے عورت کو نرم و نازک، کمزور اور مرد پر انحصار کرنے والی مخلوق باور کرایا۔ ‘woman’ کا لفظ آج بھی عورت کو مرد کی محکومی کی یاد دلاتا ہے لہذا یہ لفظ استعمال کرنے سے پرہیز کیا جائے۔ آج کی عورت اگر اس ظالمانہ نظام سے آزادی حاصل کرنا چاہتی ہے تو اسے چاہیے کہ دیگر مراعات کی طرح ‘woman’ کا لفظ بھی مردوں کے منہ پر دے مارے اور کوئی متبادل لفظ استعمال کرے۔

چنانچہ لزبئین فیمنسٹ اسکالر ز نے ‘woman’ لفظ ترک کرتے ہوئے ‘womyn’، ‘wimmin’ اور ‘womin’ جیسے الفاظ کا استعمال شروع کیا۔ اس سے انہیں کوئی نفسیاتی تسکین میسر آئی ہو تو کہہ نہیں سکتے لیکن اصل لفظ مین ہجوں کے علاوہ کوئی تبدیلی واقع نہیں ہوئی۔ اگر صرف الفاظ اور زبان میں تبدیلیاں کرنے سے معاشرے تبدیل ہوتے تو ایک لفظ انقلاب پھونکنے سے دنیا میں ہر طرف تبدیلی رونما ہوجاتی۔

اسی طرح مرد اور عورت کے بجائے Gender جیسے لفظ کا بھی بھرپور استعمال کیا گیا تاکہ عورت کو کم ازکم لفظی طور پر مردانہ تسلط سے آزاد کیا جا سکے۔ فیمنسٹ تاریخ میں یہ وہ موقع ہے جب مردوں سے علیحدگی کے بعد  ‘woman’ لفظ سے بھی مکمل علیحدگی اختیار کرتے ہوئے اسے حرف غلط کی طرح مٹا دیا گیا۔ یہ عہد کیا گیا کہ آئندہ یہ لفظ کسی پروجیکٹ میں استعمال نہیں کیا جائے گا۔ یو ایس ایڈ پروگرام کی طرف سے بھی دنیا بھر کی این جی اوز کو خاص ہدایت جاری کی گئی کہ مساوات (Equality) کے بجائے صنفی مساوات (Gender Equality) کا لفظ استعمال کیا جائے چنانچہ امریکی امداد پر چلنے والے پروگرام کا نام Gender Equality Program رکھا گیا۔ کسی این جی او کو اس وقت تک باہر سے فنڈز کا اجراء نہیں ہوتا جب تک وہ اس نظریے کی تبلیغ و ترویج پر کاربند نہ ہو۔

اسی طرح ‘Chairman’ اور ‘Businessman’ جیسی اصطلاحات کے بارے میں بھی غلط فہمیاں پھیلائی گئیں کہ ان سب کے آخر میں man آتا ہے اس لئے یہ مردانہ تسلط اور جنسی تعصب (Sexism) کی علامات ہیں۔ دلیل یہ پیش کی گئی کہ یہ الفاظ استعمال کرنے سے عورت کی مرئیت visibility کم ہوجاتی ہے اس لئے انکی جگہ غیر متعصبانہ الفاظ استعمال کئے جانے چاہیں جیسے Chairperson اور Businessperson وغیرہ۔ یہ مغالطہ اس وقت انتہا پر نظر آیا جب 2014 میں Rona Fairhead بی بی سی ٹرسٹ کی پہلی خاتون سربراہ بنیں۔ بین الاقوامی میڈیا میں یہ غلط فہمی شہ سرخیوں کا حصہ بنی کہ انہیں Chairman لکھا جائے، Chairperson، Female Chairman یا Women Chairman سے خطاب کیا جائے۔

حقیقت یہ ہے کہ انسان ہونے کی حیثیت سے عورت کا مرد سے بہت گہرا تعلق ہے لیکن لفظ ‘female’ کا لفظ ‘male’ سے کوئی تعلق نہیں۔ اسی طرح ‘woman’ ایک مکمل لفظ ہے، ‘wo’ اس لفظ کا حصہ ہے سابقہ نہیں۔ ‘woman’ کا لفظ لاطینی زبان کے لفظ ‘femella’ اور ‘femina’ سے نکلا ہے جنکے معنی ظاہر ہے عورت ہی ہیں۔ جبکہ ‘male’ لفظ قدیم فرانسیسی زبان کے لفظ ‘masle’ سے نکلا ہے اور جدید فرانسیسی زبان میں اسے ‘male’ بولا جاتا ہے۔ یعنی ‘male’ اور ‘female’ دو الگ زبانوں کے الفاظ ہیں لیکن وقت کے ساتھ یہ اس طرح مستعمل ہوئے کہ انہیں ایک دوسرے کے مقابل میں بولا جانے لگا لیکن ان میں سے کوئی بھی لفظ ایک دوسرے سے مشتق نہیں۔

اسی طرح ‘Man’ کا لفظ شخص کے معنی میں استعمال ہوتا تھا اور یہ کسی صنف کی طرف اشارہ نہیں کرتا تھا (gender neutral)۔ کسی انسان کے لئے بھی خواہ وہ مرد ہو یا عورت مین کا لفظ استعمال ہوتا تھا۔ یہ قدیم انگریزی زبان کے لفظ ‘mann’ سے نکلا ہے جسکا مطلب ‘انسان human, person’ ہے۔ یہ لفظ عورتوں، مردوں اور بچوں سب کیلئے استعمال ہوتا تھا لیکن جب اسے صرف مردوں کیلئے مخصوص کرنا ہوتا تو اسے ‘waepmann’ بولا جاتا۔ بعد میں ‘waep’ کا استعمال ختم ہوگیا لیکن لفظ’Man’ کو صنفی تخصص کے بغیر بولا جاتا رہا۔ پرانی انگلش میں عورت کیلئے’Wif’ یا ‘Wifmann’کا لفظ بھی بولا جاتا تھا جو بعد ازاں ‘wif’ اور پھرماڈرن لفظ ‘wife’ میں تبدیل ہوگیا۔ ‘wifmann’ کے بجائے لفظ ‘woman’ اپنا لیا گیا لیکن اس سارے عمل سے یہ بات کہیں بھی ثابت نہیں ہوتی کہ ‘man’ اور ‘woman’ کا ایک ہی روٹ ہے۔

ان الفاظ کے حوالے سے ابتدائی غلط فہمی شاید اس وقت پیدا ہوئی جب انگریزی زبان اور ثقافت پر کنگ جیمز ورژن آف بائیبل کا اثرورسوخ ہوا۔ عیسائی عقیدہ ہے کہ حوا کو آدم کی پسلی سے پیدا کیا گیا۔ اس کا بیان بائیبل میں اس طرح سے ہے:

Radical and Lesbian Feminism – Literary Theory and CriticismShe shall be called ‘woman’ for she was taken out of ‘man

وہ اب عورت کہلائے گی کیونکہ وہ مرد سے نکالی گئی ہے

اس عقیدے کے تناظر میں کچھ لوگوں نے یہ سمجھا کہ جس طرح عورت، مرد سے پیدا ہوئی ہے اسی طرح شاید لفظ ‘woman’ بھی ‘man’ سے نکلا ہے اور ‘woman’ لفظ میں’wo’ سابقہ ہے جس کا مطلب ‘out of کے بغیر’ ہوتا ہے۔ فیمنسٹ ماہرین نے چند لوگوں کی اس غلط فہمی کی بنیاد پر نفرت کا ایک نظریہ تشکیل دیتے ہوئے بے شمار لوگوں کو گمراہ کیا۔

مشرقی زبانوں خاص طور پر عربی، فارسی اور اردو وغیرہ میں مرد اور عورت کے لئے استعمال ہونے والے الفاظ میں کوئی غلط فہمی نہیں پائی جاتی اور نہ ہی مشرقی ممالک میں مرد دشمنی کی بنیاد پر کوئی لزبئین کمیونٹی وجود رکھتی ہے۔  اسکے باوجود ولایتی فیمنسٹ اسکالرز کے دیسی مریدین مرد دشمن روایت کی اندھی تقلید میں یہاں بھی مغرب کے مغالطے پھیلانے میں کوئی دقیقہ فروگذاشت نہیں کرتے۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

About Author

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20