کرونا سے اموات، بالی وڈ اور سستی شراب — عالیہ ممتاز

0

بالی وڈ کا اثر اگر کہا جائے کہ دنیا میں سب سے زیادہ ہے تو غلط نہیں ہوگا۔ ہم میں سے کون ہے جو اس کی فلمیں، آرٹ موویز اور اب سیزنز دیکھ کر بڑا نا ہوا ہو؟ ایک بھارت وہ ہے جو بالی وڈ میں دکھایا جاتا ہے، گلیمر سے بھرا ہوا، چڈی بنیان میں گھومتی حسنیائیں اور ان پہ نظربد نا ڈالنے والے مرد مجاہد، جہاں شیر اور بکری ایک گھاٹ پہ پانی پیتے ہی نہیں باہم گفت و شنید کرتے نظر آتے ہیں۔

بالی وڈ سے ذرا پرے دنیا کی سب سے بڑی slum کچی آبادی ہے۔ کبھی کسی کریٹیو ڈائرکٹر کا متھا گھوم جاتا ہے تو وہ اس آبادی کے مکینوں پے بھی فلم بنالیتا ہے، پاپ کارن اور کولڈ ڈرنک کے ساتھ یہ فلم بڑی اسکرین پے دیکھی جاتی ہے تو “سو سیڈ” “پور گائز” کے الفاظ ٹھنڈے ٹھار ہال میں گونجتے ہیں اور فلم ختم ہوجاتی ہے۔

Major parties woo Delhi slum dwellers ahead of polls - The Sunday Guardian Liveاس بستی کو کس نے دیکھا ہے؟ صرف یہی بستی کیوں؟ بھارت دنیا کی سب سے بڑی غریب آبادی ہے، ہمارے ہاں غربت کا مطلب یہ سمجھا جاتا ہے کہ کسی کو تین وقت کھانا نا ملے،جس کے امکان بھی بہت کم ہوتے ہیں، بھارتی غریب اس دن کو نہیں بھولتا جس دن اس کو پیٹ بھر کھانا مل جائے۔ ان آبادیوں میں انسانوں کے بدترین المیئے جنم لیتے ہیں، ایک ایک کھولی میں کئی کئی افراد جس طرح ٹھنسے ہوتے ہیں اس کا تصور بھی کسی دوسرے انسانی معاشرے میں ممکن نہیں۔ ابا بتاتے تھے کہ جب وہ ممبئی جاتے ہیں تو کیا دیکھتے ہیں کہ سر شام ہی فٹ پاتھ لوگوں سے بھر جاتے ہیں، یہ وہ لوگ ہوتے ہیں جو فٹ پاتھ پے ہی پیدا ہوئے اور فٹ پاتھ ہی ان کا گھر ہوتا ہے، انسانیت کی ایسی ذلت آمیز صورت خدا جانے کہیں اور ہوتی ہے کہ نہیں۔ مجھے نہیں پتہ کہ ممبئی کے فٹ پاتھ اب بھی ان مکینوں سے آباد ہیں یا وہ ترقی کر کے سلم ایریاز میں منتقل کردیئے گئے ہیں۔

آج بھارت میں غریبوں کا دکھ دیکھا نہیں جارہا۔ کسی نے غور کرنے کی کوشش کی کہ ان کے ساتھ ایسا کیوں ہورہا ہے؟بھارت کی غریب آبادی کا بہت بڑا سہارا مقامی شراب ہے، جسے پی کر وہ اپنے غم بھول جاتے ہیں، یہ شراب سستی ہوتی ہے۔ جو بندہ اپنے بچوں کے لئے رزق کا انتظام نہین کرسکتا وہاں ایک سستی بوتل پورے خاندان کو بھوک کے احساس سے بچالیتی ہے، لیکن یہ ان کے پھیپھڑے تباہ کردیتی ہے۔ غذائیت کی کمی کا شکار یہ عوام کسی بھی بیماری کا آسانی سے شکار ہوجاتے ہیں، اعداد شمار دیکھ لیں، بھارت میں روزانہ مرنے والوں کی تعداد کتنی ہے۔

دوسری طرف ہمارا دانشور طبقہ ہے جس نے ہر صورت بھارت کا گھوڑا ہی آگے رکھنا ہے، جن کو ان کی ترقی بہت بھاتی ہے۔ ہمارے ایک فرنچ ٹیچر ساری دنیا گھوم کر پاکستان میں مقیم ہوگئے تو ایک دن کہنے لگے “پاکستانی اچھے ہوتے ہیں، انڈیا میں لوگ غصے میں ہوتے ہیں”۔

مفلسی حس لطافت کو مٹادیتی ہے
بھوک آداب کے سانچوں میں ڈھل نہیں سکتی،

بھارت کا یہ چہرہ، انسانیت کی تذلیل ہے، جس کو انڈر دا کارپٹ کردینا ہی بہتر ہے۔

دوسری طرف وہ کارپوریٹ ظالم دنیا ہے، جس کو انڈیا ایک بہت بڑی مارکیٹ نظر آتی ہے، جو پاکستان کے مقابلے میں ہمیشہ بھارت کو ترجیح دیتے ہیں، دنیا کی ساری بڑی کمپنیوں کے آفس بھارت میں موجود ہیں، جہاں سستی لیبر ان کے اثاثوں میں مسلسل اضافہ کر رہی ہے۔

کرونا کی پہلی لہر کے آتے ہی اس کارپوریٹ مافیا نے لاکھوں بھارتیوں کو بے روزگار کردیا، ابھی ہم غریبوں کو رو رہے ہیں، وہ المیئے کوئی نہیں جانتا جو بھارتی مڈل کلاس پے گذرے ہیں، لاکھوں ایسے افراد ہیں جن کو آدھی تنخواہوں پے کام کرنے پے مجبور کیا گیا ہے۔

ہمارا خیال تھا بھارت کرونا کی وجہ سے کسی کرائسس کا شکار ہوا تو اس کے دوست جو بقول ہمارے دانشوروں کے، بھارتی حکومتوں کی داشمندی سے کمائے گئے ہیں فوری کمک لے کر پہنچ جائیں گے۔ لیکن یہ کرونا تھا پاکستان نہیں کہ جس کو ختم کرنے کے لئے سارے بڑھ بڑھ ہاتھ ملالیں، دانشوروں کو یہ عالمی سنگینی بھی نظر نہیں آتی، لے دے کر تان ٹوٹتی ہے تو ہمارے ڈیفنس بجٹ پے، ہمارے ایٹمی ہتھیاروں پے، کوئی عقل کو ہاتھ مار کر یہ بتادے کہ اگر انڈیا نے پہل نا کی ہوتی تو کیا پاکستان کو یہ روگ پالنا پڑتا؟

India's Covid-19 deaths seeing 'sharp growth' of 10.2%, cases rising alarmingly: Centre - Coronavirus Outbreak Newsالحمدللہ پاکستان کے حالات بھارت سے سو گنا بہتر ہیں، ہمارے دانشوروں نے جس منظر کی تمنا پاکستان کے لئے کی تھی افسوس وہ بھارت میں نظر آرہا ہے، لیکن ہم انسان ہونے کے ناطے ان کے لئے بھی دکھی ہیں، مجھے تو لگتا ہے بھارتی غریب دنیا کا سب سے مظلوم طبقہ ہے،جس نے ساری عمر اچھا کھانا اور اچھا کپڑا نہیں دیکھا اور اب مر رہا ہے تو اس کے لئے آگ بھی دستیاب نہیں۔

کبھی کبھی ایسا لگتا ہے کہ مالتھس کی تھیوری کو صحیح ثابت کرنے کے لئے دنیا نے بھارت کو اکیلا چھوڑ دیا ہے، تھیوری آف نیچرل سلیکشن، جہاں صرف طاقتور جی سکیں گے۔

یہ بھی پڑھیں: پدر سری نظام : فیمنزم کا فرضی دشمن 
(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20