نائن الیون، کرونا وباء اور عالمی سرمایہ داری نظام — محمد عثمان

0

اکیسویں صدی میں وقوع پذیر ہونے والے بڑے واقعات کا شمار کیا جائے تو نائن الیون اور کرونا وباء اہم ترین شمار ہونگے۔ دونوں واقعات نے دنیا بھر میں انسانوں کے طرز ِفکر اور طرز ِعمل کو حیران کن حد تک بدلنے میں بنیادی کردار ادا کیا ہے۔ ذیل میں اِن دونوں واقعات اور انسانی معاشروں پر اِن کے اثرات کا مختصر جائزہ لیا جائے گا۔

نائن الیون کا پس منظر

سرمایہ داری نظام میں نظر آنے والی خوشحالی اور ترقی دراصل تیسری دنیا کی اقوام کے وسائل کی لوٹ مار پر مبنی ہے۔ اِس لوٹ مار کے نتیجے میں جو لامحدود دولت مغربی ممالک میں منتقل ہوتی ہے اُس کا ایک قلیل حصہ مغربی ممالک کے عوام کی فلاح وبہبود پر خرچ کرکےوہاں انصاف اور خوشحالی کی ایک مصنوعی فضاء قائم رکھی جاتی ہے تاکہ عوام میں کسی بھی سطح پر سرمایہ داری نظام کے خلاف شعوری بیداری پیدا نہ ہوسکے۔ دوسری طرف عوام کے ذہنوں پر ایک ایسے انجان دشمن کا خوف بھی مسلط رکھا جاتا ہے جو اُن کے رہن سہن اور اَمن و امان کو تہس نہس کرنا چاہتا ہے۔ سرد جنگ کے دوران سوویت یونین کے نام پر جس دشمن سے عوام کو ڈرایا جاتا تھا، اُس کا خاتمہ بیسویں صدی کی آخری دہائی میں ہوچکا تھا، اِس لئے عوام میں جنگی اخراجات میں کمی اور عوامی سہولیات میں اضافے کے مطالبات جنم لینے کا امکان بڑھ رہا تھا۔

9 ستمبر 2001ء کا دن

ایسے میں نائن الیون کا حیران کن واقعہ وَقوع پذیر ہوتا ہے جس میں دنیا کی سب سے بڑی فوجی اور سائنسی طاقت، امریکہ کے شہر نیویارک کے تجارتی مرکز پر اغواء شدہ مسافر فضائی طیارے ٹکرائے جِس کے نتیجے میں تھوڑی ہی دیر میں ورلڈ ٹریڈ سینٹر کی دو عمارات زمین بوس ہوگئیں، جبکہ تیسری عمارت بغیر کسی جہاز کے ٹکرائے ہی ملبے کا ڈھیر بن گئی۔ یہ معمہ آج تک حل نہیں ہوسکا کہ ہوائی جہازکے جلنے والے تیل نے لاکھوں ٹن وزنی سٹیل کے ڈھانچوں کو کس طرح پگھلا دیا کیونکہ ماہرین کے مطابق ہوائی جہاز میں استعمال ہونے والا تیل مقدار اور درجہ حرارت کے لحاظ سے یہ صلاحیت نہیں رکھتا کہ وہ ایک دیو ہیکل عمارت کو زمین بوس کردے۔ دوسری طرف پینٹاگون کی عمارت کا ایک حصہ بھی تباہ گیا جس کی وجہ جہاز ٹکرانا بتائی جاتی ہے لیکن موقع پر کسی جہاز کا ملبہ نہیں مل پایا۔ اس حوالے سے شکوک و شبہات کا اظہار کرنے پرآپ پر مغربی استعمار کے وفا دار میڈیا اور اُس کے خیر خواہ مشرقی دانشوروں کی طرف سے فورا ًکانسپائریسی تھیورسٹ یعنی سازشی نظریات میں یقین رکھنے والے غیر سنجیدہ انسان کا لیبل سکتا ہے۔ اِس لئے ہم نائن الیون کی تکنیکی تفصیلات کو فی الحال نظرانداز کرکے اِس معاملےکے سیاسی، معاشی اور سماجی پہلوؤں کو زیرِ غور لاتے ہیں۔

ذمہ داروں کا تعین

اِس واقعے کی ذمہ داری افغانستان میں موجود اُن جنگجوؤں پر عائد کی گئی جنہیں خود امریکی سامراج نےاَسّی اور نَوّے کی دہائی میں پروان چڑھایا تھا۔ سامراج کے تاریخی کردار کے عین مطابق خود ہی اسامہ بن لادن پر حملے کا الزام عائد کیا گیا، خود ہی سزا سنائی گئی اور خود ہی سزا پر عملدآمد کرتے ہوئے افغانستان کا تورا بورا بنا دیا گیا۔ ورلڈ ٹریڈ سینٹر پر حملہ کرنے والے افراد کا تعلق امریکہ کے حلیف ممالک سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور مصر سے تھا، لیکن تب پوری دنیا میں خوف، دہشت اور انتقام کی ایسی کیفیت پیدا کی گئی کہ دنیا کے نام نہاد ’مہذب اور ترقی یافتہ ‘ممالک کی افواج اپنے جدید ترین اسلحے اور فوجی طاقت کی بنیاد پر دنیا کے کمزور ترین ملکوں میں سے ایک پر ٹوٹ پڑیں۔ اِس وحشیانہ عمل کی منظوری اقوام متحدہ جیسے نمائشی اور طفیلی ادارے سے بھی لی گئی جس کا بنیادی مقصد ہی دنیا میں امن قائم کرنا اور انسانی حقوق کا تحفظ طے کیا گیا ہے۔

Capitalism is the Virus - Home | Facebookنائن الیون کے سامراجی مقاصد اور انسانی معاشروں پر اثرات

وار آن ٹیرر کے نام سے جس جنگ کا آغاز کیا گیا، اُس کے نتیجے میں امریکہ اور اُس کے حواریوں نے درج ذیل مقاصد حاصل کئے گئے:-

الف۔ مغربی اقوام میں اِسلام کو ایک انتہا پسند مذہب اور تمام مسلمانوں کو دہشت گرد کے روپ میں پیش کرکے عوام کو اسلاموفوبیا کا شکار بنایا گیا۔ بدلے میں عوام سے سرمایہ داری نظام کی مکمل اَطاعت اور شہری آزادیوں پر قَدغَن کو قبول کروایا گیا۔

ب۔ افغانستان پر قبضے کے زریعے سے وسطی ایشیاء کے تیل اور گیس کے وسائل میں امریکی حصہ داری کو یقینی بنایا گیا۔ دوسری طرف جنوبی ایشیاء، روس اور چین کے ہمسائے میں رہتے ہوئے خطے میں اپنا اثرورسوخ قائم کیا گیا اور پاکستان سمیت دیگر ممالک میں بدامنی پیدا کرنے کی حکمت عملی بنائی گئی تاکہ پوری خطے کی ترقی اور یکجہتی کو نقصان پہنچایا جاسکے۔

ج۔ اِسی نام نہاد وار آن ٹیرر کے اگلے مرحلے میں میڈیا ہاؤسز کے زریعے عراق میں جوہری ہتھیاروں کی موجودگی کا جھوٹا پراپیگنڈا کیا گیا اور پھر اقوام متحدہ سمیت تمام مہذب ممالک کے انسانوں کی مخالفت کے باوجود عراق پر حملہ کر کے ایک پُرامن ملک کو تباہ و برباد اور لاکھوں انسانوں کو قتل کردیا گیا۔ تیل کے وسائل پر سامراجی ملٹی نیشنل کمپنیوں کا قبضہ قائم کیا گیا اور ملک میں فرقہ وارانہ تضادات کو ابھار کر خانہ جنگی پیدا کی گئی۔ عراق کے بعد لیبیا اور شام پر قبضے کے لئے اِسی حکمت عملی کو دہرایا گیا۔ نتیجے کے طور پر لیبیا کے تیل کے وسائل پر مغربی کمپنیاں قابض ہیں جب کہ لیبیاء پچھلے آٹھ سال سے بدترین خانہ جنگی کا شکار ہے۔ دوسری طرف شام جیسےخود کفیل اور پرامن سماج کو تباہ کرنے کے لئے امریکی سامراج اور اُس کے حلیف ممالک نےداعش اور دیگر دہشت گرد جنگجوؤں کو ٹریننگ، اسلحہ اور فوجی امداد فراہم کی جس کے نتیجے میں ملک کا بڑا حصہ کھنڈر بن گیا اور لاکھوں لوگ بے گھر ہوکر پناہ گزین بننے پر مجبور ہوگئے۔ یہ الگ بات ہے کہ شام اپنے مضبوط قومی نظام اور حلیف ملکوں کی مدد کے بدولت اِس خانہ جنگی سے بچ نکلا ہے۔ امریکہ میں بائیڈن کی نئی حکومت آتے ہی ایک بار پھر شام پر حملوں اور معاشی پابندیوں کا آغاز کر دیا گیا ہے۔

د. پوری دنیا میں عدم تحفظ اور جنگی جنون کی فضاء پیدا کی گئی جس کے نتیجے میں اسلحہ سازی کی صنعت پر کھربوں ڈالر خرچ کئے گئے۔ اس رقم کا دسواں حصہ بھی اگر انسانی ترقی کے کاموں پر خرچ کیا جاتا تو دنیا بھرسے بھوک، جہالت، غربت اور بے روزگاری کا خاتمہ کیا جاسکتا تھا۔

ہ۔ دہشت گردی سے تحفظ کے نام پر سیکیورٹی کمپنیوں، کیمروں اورسکیننگ مشینوں وغیرہ کی پوری ایک صنعت وجود میں آئی جس کے نتیجے میں قومی اور تجارتی اخراجات میں اضافہ ہوا اور تمام بوجھ عام عوام پر منتقل کردیا گيا۔

coronavirus Archives - Progress in Political Economy (PPE)نائن الیون کی حقیقت

نائن الیون کو گزرے آج انیس سال مکمل ہوچکے ہیں اور پوری دنیا پر یہ حقیقت آشکارا ہوچکی ہے کہ ورلڈ ٹریڈ سینٹر کی تباہی محض ایک بہانہ تھا۔ اصل مقصد دنیا کے کمزور ممالک پر قبضہ اوران کے وسائل لوٹ کر مغربی دنیا میں قائم کردہ شیطانی جنت کو برقرار رکھنا تھا۔ لیکن یہی بات اگر آپ 2001ء میں کرتے تو آپ کو ہر طرف سے سازشی نظریات میں یقین رکھنے والا کانسپریسی تھیورسٹ اور دہشت گردوں کا حامی ہونے کا طعنہ ملتا اور ذرائع ابلاغ اور آپ کے دفتری کام کی جگہ پر آپ کا بائیکاٹ کردیا جاتا۔

کرونا وباءکا آغاز

جس طرح نائن الیون کے بعد دنیا پہلے جیسی نہ رہی تھی، اسی طرح کرونا وباء کے بعد بھی دنیا ہمہ گير تبدیلی کے عمل سے گزر رہی ہے۔ اس وباء کی طبی تفصیلات تو طبی شعبے سے وابستہ لوگ ہی بہتر جانتے ہوں گے لیکن یہ بات سامنے لانا ضروری ہے کہ ایک ایسی بیماری جس کا دائرہ پوری دنیا تک پھیل گیا ہو اور جس کے نام پر پوری دنیا کی سیاسی، معاشی اور سماجی سرگرمیاں متاثر ہوئی ہوں، اُسے صرف ایک طبی معاملہ قرار دے کرڈبلیو ایچ او (ورلڈہیلتھ آرگنائزیشن) میں کام کرنے والے ملٹی نیشنل کمپنیوں کے تنخواہ دار گنتی کے ڈاکٹروں اور ریاستی اربابِ اختیار کے ہاتھ میں نہیں چھوڑا جاسکتا کہ جو ڈُگڈُگی وہ بجائیں، پوری دنیا کے انسان اُس پر بِلا سوچے سمجھے ناچنے لگیں۔

اِس وباء سے متعلق تفصیلات اور حقائق پر شکوک وشبہات اور تضادات کی ایک گہری چادر تَنی ہوئی ہے۔ ابھی تک یہ واضح نہیں ہوسکا کہ یہ بیماری قدرتی ہےیا پھر اسے مصنوعی طور پر پھیلایا گیا ہےاور اگربیماری مصنوعی ہے تو اسے پھیلانے کا ذمہ دار کونسا ملک ہے۔ دنیا کی دو بڑی طاقتیں، یعنی امریکہ اور چین ایک دوسرے پر اس بیماری کو پھیلانے کے الزامات لگاتی رہی ہیں۔ اگر حیاتیاتی جنگوں اور سامراج کی تاریخ کا مطالعہ کیا جائے تو اس وائرس کا کسی لیب میں بننا اور اسے جان بوجھ کر انسانی معاشروں میں پھیلا کر استحصالی مقاصد حاصل کرنا بَعید اَزقیاس قرار نہیں دیا جاسکتا 1۔

غیر واضح صورت حال

دوسری طرف اِس بیماری سے ہونے والی اموات کا معاملہ بھی واضح نہیں ہے کیونکہ مختلف ممالک میں اِس کی شرح اموات مختلف ہے۔ ایک طرف امریکہ جیسے ملک میں لاکھوں افراد (مبینہ طور پر) اِس بیماری کے ہاتھوں ہلاک ہوچکے ہیں، جبکہ دوسری طرف پاکستان جیسے تیسری دنیا کے ممالک میں اِس کے نتیجے میں ہونے والی اموات کی شرح انتہائی کم ہے۔ اس صورت حال کی ایک وضاحت تو یہ ہو سکتی ہے کہ زیادہ شرح اموات رکھنے والے ممالک میں طبی شعبے کو یہ گائید لائن ملی ہوئی ہے کہ سانس کے مسئلے کی وجہ سے ہونے والی تمام اموات کی ممکنہ وجہ کرونا قرار دی جائے چاہے مریض کینسر جیسے دیگر موذی امراض میں مبتلا ہی کیوں نہ ہو۔ لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر ایک مریض جو پہلے سے شوگر، بلڈ پریشر، امراض قلب، کینسر یا ہیپٹائٹس جیسے جان لیوا امراض کی آخری سٹیج میں مبتلا ہے اور وفات کے وقت اس میں کرونا وائرس کی بھی تصدیق ہوجاتی ہے، تو اس کی موت کی بنیادی اور واحد وجہ کرونا کو قرار دینا کیا طبی اور عقلی طور پر درست عمل ہے؟

اعداد و شمار کی حقیقت

کرونا کے نام پر حد سے زیادہ خوف کو پوری دنیا پر مسلط کیا جارہا ہے کہ جیسے یہ دنیا کی سب سے خطرناک اور جان لیوا بیماری ہے لیکن اگر اعداد و شمار کی روشنی میں دیکھا جائے تو ایک مختلف تصویر سامنے آتی ہے۔ عالمی سطح پر دنیا میں سالانہ تقریبا چھ کروڑ اموات ہوتی ہے۔ اب تک کے اعداد و شمار کے مطابق دنیا بھر میں اٹھائیس لاکھ افراد اس مرض سے ہلاک ہوئے ہیں (حقیقت میں ہلاک ہونے والوں کی بڑی تعداد ساٹھ سال سے زائد عمر کی اور دیگر بیماریوں میں مبتلا تھی)۔ کرونا سے مبینہ طور پر ہلاک ہونے والوں کی شرح نکالی جائے تو وہ کل اموات کا صرف چار فی صد بنتی ہے۔

اگر پاکستان کے حوالے سے اعداد و شمار کو دیکھا جائے تو ایک محتاط اندازے کے مطابق پاکستان میں روزانہ 4400 افراد ہلاک ہوتے ہیں۔ جبکہ پاکستان میں کرونا سے اب تک تقریباً 14 ہزار افراد ہلاک ہوئے ہیں جو کہ قومی سالانہ شرح اموات کے مطابق صفر اعشاریہ آٹھ فی صد بنتے ہیں۔Premium Photo | Portrait of benjamin franklin 100 dollar bills with a medical mask from the coronavirus covid-19.

اس کے مقابلے میں پاکستان میں صحت کی ناقص سہولیات اور صاف پانی و خوراک کی عدم فراہمی کی وجہ سے

  • ہیپٹائیٹس سے 400 افراد 2،
  • پانچ سال سے کم عمر 700بچے 3،
  • ذچگی کے عمل کے دوران 140 خواتین 4 اور
  • سگریٹ نوشی کی وجہ سے 300 افراد 5

روزانہ موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں۔ پاکستان میں کرونا کی وجہ سے ایک دن میں زیادہ سے زیادہ اموات کی تعداد 20 جون 2020ء کو ریکارڈ کی گئی۔ اس دن 153 افراد مبینہ طور پر کرونا کی وجہ سے موت کا شکار ہوئے۔ جبکہ پچھلے ایک سال (مارچ 2020ء سے مارچ 2021ء) کے دوران کرونا کےنتیجے میں ہونے والی اموات کا اوسط صرف 38 افراد روزانہ بنتا ہے6۔

یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر 50 افراد روزانہ بچانے کے لئے پورے ملک میں ہنگامی حالت نافذ کی جاسکتی ہے، تعلیمی ادارے اور کاروبار زبردستی بند کروائے جائے سکتے ہیں، لاکھوں افراد کو بے روزگار کیا جاسکتا ہے اور ملکی معیشت کو تباہ کیا جاسکتا ہے، تو سینکڑوں افراد روزانہ مارنے والے سگریٹ کے خاتمے، صاف پانی کی فراہمی، حاملہ ماؤں اور معصوم بچوں کو بچانے کے لئے کوئی اقدام کیوں نہیں کیا جاسکتا؟ دیگر امراض اور اسباب کی وجہ سے مرنے والوں شہریوں کے حوالے سے انتہائی بے حِس ریاست، ایک نسبتاً کم جان لیوا بیماری کے حوالے سے اتنی حساس کیوں بن رہی ہے؟

اِسی طرح انسان کے ذہن میں یہ سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ ایک فی صد سے بھی کم شرح اموات کی حامل بیماری کو ہرخبر نامے میں ہیڈلائن کے طور پر پیش کیا جارہا ہے، جبکہ بقیہ نناوے فی صدمرنے والو ں کا تذکرہ اتنے زور و شور سے کیوں نہیں کیا جارہا؟ کیا ہیپٹائٹس، کینسر یا ہیضہ سے مرنے والے انسان کمتردرجے کے ہیں جن کی موت کوئی قابلِ ذکر واقعہ نہیں ہے؟

درج بالا اعداد و شمار پیش کرنے کا مقصد کرونا سے ہونے والی اموات کو غیر اہم ظاہر کرنا نہیں ہے بلکہ صرف یہ بات واضح کرنا ہے کہ کرونا کے نام پر جس خوف وہراس کی فضاء کو عالمی زرائع ابلاغ، عالمی سامراجی اداروں اور مقامی حکومتوں کے زریعے مسلط کیا جارہا ہے، وہ کسی طور پربھی مناسب نہیں ہے۔

حکومتی اقدامات کا جائزہ

دوسری طرف کرونا کے نام پر کئے جانے والے حکومتی اقدامات بھی غیر منطقی معلوم ہورہے ہیں۔ چونکہ ہر ملک کی صورت حال اور پالیسیاں مختلف اور پیچیدہ ہیں اور پاکستان میں رہنے والے ایک عام شہری کے لئے دوسرے ممالک کی تفصیلات سو فی صد یقین سے حاصل کرنا ممکن نہیں ہے، اس لئے دوسرے ملکوں کی پالیسیوں پر تبصرے کی بجائے ہم اپنے تجزیے کو پاکستان تک محدود رکھیں گے۔

پاکستان میں کرونا سے بچاؤ کے لئے جو اقدامات کئے گئے، ان میں صنعت، کاروبار، ہوٹل اور تعلیم سمیت زندگی کے دیگر شعبوں کی سرگرمیوں کو معطل کرنا شامل ہے۔ ابتدائی چند ماہ میں تو ٹرانسپورٹ کی سہولیات بھی بند یا انتہائی محدود کردی گئی تھیں۔ اِن اقدامات کے نتیجے میں کتنے لوگ بے روزگار ہوئے، کتنے لوگ خط غربت سے نیچے گرے، کتنے لوگوں کو اپنی سفید پوشی کا بَھرم توڑ کر دوسروں کے سامنے ہاتھ پھیلانا پڑےاور کتنے سفید پوش اپنا بھرم برقرار رکھنے میں کامیاب ہوئے، کتنے لوگ دوائی نہ خرید پانے یا ڈاکٹر کے دستیاب نہ ہونے سے ہلاک ہوئے اور کتنوں نےبیماری کی اذیت میں وقت گزارا، اس حوالے سے کوئی ڈیٹا موجود نہیں ہے لیکن اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ تعداد کروڑوں میں نہیں تو لاکھوں میں ضرور ہوگی۔

لاک ڈاؤن کا حمایتی طبقہ

ایک اور قابل ذکر بات یہ ہے کہ کرونا کے نام پر لگائے جانے والی پابندیوں اور لاک ڈاؤن کی وکالت کرنے والے لوگ یا تو کوئی پکی سرکاری نوکری کررہے ہیں جنہیں گھر بیٹھے بٹھائے بھی پوری تنخواہ مل جائے گی، یا پھر ایسی پرائیویٹ نوکری، صحافت یا آن لائن کاروبارسے وابسطہ ہیں جنہیں یہ کرونا خصوصی طور پر راس آیا ہے۔ اس کے مقابلے میں انسانوں کی وسیع اکثریت جن میں دیہاڑی دار مزدور طبقہ، چھوٹا کاروباری طبقہ اور نجی شعبے میں کام کرنے والے اساتذہ وغیرہ انتہائی تکلیف دہ معاشی صورت حال سے گزر رہے ہیں۔ یہاں بلھے شاہ کا وہ شعر یاد آتا ہے کہ’ جس تن لاگے، اوہی تن جانے‘۔ یعنی مصیبت جس پر نازل ہوتی ہے وہی اس کی سختی کو جانتا ہے، باقیوں کے لئے تو وہ محض ایک خبرہوتی ہے۔

قوت مدافعت اور خوف کا کاروبار

کرونا وباء کے علاج سے متعلق ابتدائی دنوں میں تمام ماہرین کا اتفاق تھا کہ چونکہ اِس وائرس کی کوئی دوا فی الحال میسر نہیں ہے، اس لئے اِس کا بہترین علاج قوتِ مدافعت کو مضبوط بنانا تجویز کیا گیا۔ لیکن حیران کن اَمریہ ہے کہ حکومتی پالیسیاں ایسی بنائی گئیں جس کے نتیجے میں قوت مدافعت مضبوط کی بجائے کمزور ہوتی ہے۔ مثلاً یہ بات ایک مسلّمہ طبی حقیقت ہے کہ خوف کی کیفیت انسان کی قوتِ مدافعت کو کمزور کرتی ہے، ایسے میں ٹی وی کی سکرینوں پر اونچے میوزک کے ساتھ کرونا کے بڑھتے ہوئے کیسز اور اموات کے نام پر خوف پھیلا کر شہریوں کی خدمت کی جارہی ہے یا انہيں نفسیاتی بیمار بنایا جارہاہے؟ اس حوالے سے سوچ بچار کی ضرورت ہے۔

Coronavirus: China's income inequality could expand in 2020 as outbreak rattles world's No 2 economy | South China Morning Postصحت مند طرزِ زندگی کی اہمیت

قوتِ مدافعت کی مضبوطی کے لئے صاف غذا اور ورزش کی اہمیت بھی مسلّمہ ہے۔ لاک ڈاؤن کے دوران ایک طرف تو پارکس اور کھیلوں کی سہولیات کو بند کردیا گیا جبکہ دوسری طرف بازار، منڈیوں اور کارخانوں میں لوگوں کی بھیڑ کی اجازت دے دی گئی۔ اسی طرح لوگوں کو ماسک اور سماجی فاصلہ اختیار کرنے کا وَعظ تو بہت کیا گیا لیکن صحت بخش گھریلو خوراک کے فوائد، بازار وں میں دستیاب ناقص خوراک اور مضر صحت کولڈ ڈرنکس اور تمباکو نوشی وغیرہ کے صحت پر منفی اثرات کے حوالے سے کوئی مؤثر معلوماتی مہم نہیں چلائی گئی اور نہ ہی کوئی عملی اقدامات کئے گئے۔ کون نہیں جانتا کہ ٹھنڈی بوتلیں، ٹھنڈا پانی اور بازاری تیل میں بنی خوراک کھانسی، زکام، بخار اور سانس کی بیماری کی اہم وجہ بنتی ہے۔ اب کرونا کی ”سیکنڈ/تھرڈ/فورتھ ویو“کا شور تو ہر طرف پھیلایا جارہا ہے، لیکن بیماری کی اہم وجوہات کا ذکر نہیں کیا جارہا۔ وجہ شاید یہی ہے کہ کولڈ ڈرنکس اور جنک فوڈ کی ملٹی نیشنل انڈسٹری سے میڈیا کو اشتہارات ملتے ہیں اور بیماری کی صورت میں دوائیاں بھی اِنہی کی شراکت دار ملٹی نیشنل کمپنیوں کی بکتی ہیں۔

عالمی امداد اور کرونا کی بہتی گنگا

کرونا کے نام پر پاکستانی حکومت کو اربوں ڈالر کی بین الاقوامی امداد ملی جس کا بڑا حصہ ملک کے سرمایہ داروں اور صنعتکاروں کی جھولی میں ڈال دیا گیا۔ اِن سرمایہ داروں نے ایک طرف لاکھوں ملازمین کو برطرف کیا جبکہ دوسری طرف اِنہیں ملازمین کے نام پر حکومت سے مراعات اور پرکشش قرضے حاصل کئے۔ حکومت کے پاس بھی اپنی نااہلی اور اس کے نتیجے میں عوام کی مشکل ہوتی زندگی پر پردہ ڈالنے کا موقع مل گیا کہ اب اگلے ایک دوسال تک ہر بحران کی وجہ کرونا قرار دی جاسکے گی۔ یعنی مختصراً اگرغورکیا جائے تو کرونا کی اِس بہتی گنگا میں حکومت، ریاستی اداروں، سرمایہ داروں، میڈیاہاؤسز، پرائیویٹ ہسپتالوں اور ملٹی نیشنل کمپنیوں نے خوب ہاتھ دھوئے ہیں جبکہ عوام سے خوراک کا آخری نوالہ اور پانی کا آخری قطرہ بھی چھین لینے کا پروگرام بنایا جارہا ہے۔

یہاں یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ ملکی معیشت کا بیڑہ غرق کرنے کے لئے پانچ چھ بڑے شہروں کو تو بند کردیا گیا، جبکہ بقیہ پورا ملک خصوصا دیہات اور قصبات میں معمول کے مطابق زندگی رواں دواں رہی اور وہاں کرونا کیسز کی تعداد بھی نہ ہونے کے برابر رہی۔ اسی طریقے سے جن فیکٹریوں، سرکاری ونجی کاروباری اداروں میں مزدوروں کی ضرورت تھی، وہاں نام نہاد ایس او پیز کے نام پر بیشتر کاروباری سرگرمیوں کو بحال کردیا گيا جبکہ شعبہ تعلیم کو مکمل طور پر بند کے آن لائن تعلیم پر منتقل کردیا گیا۔ شادی ہال اور ہوٹلوں کو بند کرنے کا نمائشی اقدام بھی کسی قسم کی ٹھوس حکمت عملی سے عاری نظر آیا۔

شعبہ تعلیم کی تباہی

شعبہ تعلیم کے حوالے سے ریاستی پالیسیوں کا جائزہ لیا جائے تو یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ کرونا کے نام پر ایس او پیز کی سب سے زیادہ پابندی تعلیمی اداروں میں کی گئی۔ لیکن اِس کے باوجود تعلیمی شعبے کو عارضی طور پر بند کرکے اور آن لائن زریعہ تعلیم پر منتقل کر کے طلبہ کی ذہنی استعداد اورپہلے سے گئے گزرے تعلیمی معیار کا بیڑہ غرق کردیا گیا ہے۔ نہ استاد ٹھیک سے اپنی بات سمجھا پارہا ہے اور نہ شاگرد سبق کو سمجھ پارہا ہے۔ اِس حکمت ِعملی کے نتیجے میں بڑے تعلیمی برینڈز اور یونیورسٹیوں کی تو چاندی ہوگئی ہے کہ انہیں بیٹھے بٹھائے پوری فیسیں مل رہی ہیں جبکہ ان کے اخراجات نہ ہونے کے برابر رہ گئے ہیں۔ لیکن اس کےنتیجے میں چھوٹے تعلیمی ادارے، اکیڈمیاں، ٹیوشن سینٹرز کے مالکان اور ان میں پڑھانے والے اساتذہ کی معاشی صورت حال انتہائی قابل رَحم ہوچکی ہے۔

انسانی نفسیات اور اخلاقی اقدار پر حملہ

کرونا کے نام پر پیدا کردہ خوف کی اِس فضاء کے انسانی نفسیات پر بھی انتہائی منفی اثرات مرتب ہورہے ہیں۔ اِس مرض میں مبتلا ہونے والے افراد کی کثیر تعداد بغیر علاج کے ہی ٹھیک ہوجاتی ہے، لیکن جو لوگ خوف اور مایوسی کی کیفیت میں چلے جائیں، اُن کی صحت میں بہتری کی امید کم ہونے لگتی ہے کیونکہ بیماری کا حَد سے بڑھا ہوا خوف قوت ِمدافعت کو کم کردیتا ہے اوراستعمال کردہ دوائی بھی مطلوبہ نتائج پیدا نہیں کرپاتی۔ ایسے میں ڈاکٹر حضرات کا کردار بھی انتہائی اہم ہوجاتا ہے کہ وہ مریض کو خوف میں مبتلا کرنے کی بجائے اُسے ہمت وحوصلہ دیں اور مرض کے علاج پر توجہ مرکوز رکھیں۔

اِس وباء کے نتیجے میں پیداکردہ صورت حال کا سب سے خطرناک حملہ انسانی اَقدار اور اجتماعی رویوں پر ہوا ہے۔ لوگوں کو حَد سے زیادہ خوف زَدہ کرکے اُن میں سے انسانیت، ہمدردی اور خیرخواہی کے جذبات ختم کئے جارہے ہیں۔ حتٰی کہ خاندان جیسے بنیادی اجتماعی ادارے میں خودغرضی اور اِنفرادیت کو پروان چڑھایا جارہا ہے۔ ورنہ یہ کیسے ممکن تھا کہ آپ کےوالدین، بہن بھائی اور شریک حیات بیماری میں مبتلا ہوں، اور آپ بیماری سے ڈر کر انہیں اپنے آپ سے الگ کردیں۔ جدید تحقیق بھی اِس بات کو ثابت کررہی ہے کہ بیماری کی صورت میں سماجی میل جول سے پیدا شدہ ہمدردی (سوشل سپورٹ) اور جذباتی وابستگی کے مریض کی صحت یابی پر مثبت اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ اسی طرح یہ بات بھی سامنے آرہی ہے کہ کرونا کا شکار ہونے والے افراد کی اکثریت نفسیاتی مسائل میں مبتلا ہورہی ہے اور کرونا کے مرض سے زیادہ محنت مریض کو مایوسی اور ڈپریشن سے نکالنے میں لگ رہی ہے۔ خود غرضی، انفرادیت، خوف، لا تعلقی اور بے حِسی کے نتیجے میں پیداہونے والے اِن نفیساتی رویوں کا مستقبل میں کیا نتیجہ نکلے گا، اِس کا اندازہ لگانا زیادہ مشکل کام نہیں ہے۔

ویکسین، فیس ماسک اوردیگر طبی اشیاءکا کاروبار

ایک مشہور مقولہ ہے کہ سرمایہ پرست ذہنیت کے لوگوں کو اگر پھانسی دی جائے، تو یہ لوگ منافع کے حصول کے لئے اپنی پھانسی کے لئے استعمال ہونے والی رسی بیچنے آجائیں گے۔ یہی معاملہ کرونا وباء کے دوران بھی جاری ہے کہ ایک طرف انسانیت بیماری اور اُس کے نام پر کئے جانے والے بے تکے حفاظتی اقدامات کی وجہ سے تکلیف اور پریشانی کا شکار ہے، جبکہ دوسری طرف سرمایہ پرست ذہنیت کے لوگ اِس موقع سے فائدہ اٹھانے کےلئے میدان میں متحرک ہیں۔ لوگوں کی مجبوری سے فائدہ اٹھاتے ہوئے منہ مانگی قیمت پر چہرے پر لگانے والے ماسک، سینیٹائزر، جان بچانے والے انجکشن اور دیگر طبی اشیاء بیچنےمیں مصروف ہیں۔ حالانکہ اِس بات کی کوئی گارنٹی نہیں کہ پہنا جانےوالا فیس ماسک وائرس کو انسان کے اندر جانے سے روک بھی سکتا ہے یا نہیں یا خریدا جانے والا سینیٹائزر وائرس کو انسانی ہاتھوں سے ختم کربھی سکتا ہے یا نہیں۔ لیکن شاید ماسک اور سینیٹائزر سے وائرس کے خاتمے کی بجائے صرف اِس بات کا اظہار مَقصود ہے کہ ماسک لگانے والا خود بھی خوف زدہ رہے اور دوسروں کو بھی ایک انجانے خطرے سے خوف زدہ رکھے۔

حال ہی میں دنیا کے مختلف ممالک اور دوا ساز ملٹی نیشنل کمپنیوں نے کرونا وائرس کے لئے حفاظتی ویکسین بنانے کا اعلان کیا ہے۔ یہ ویکسین وباء کے تدارک کے لئے کس حد تک اور کتنے عرصے کے لئے مؤثر ہے اور انسانوں پر اِس کے کیا مثبت یا منفی اثرات مرتب ہونگے، اِس حوالے سے کوئی یقینی معلومات فی الحال میسر نہیں ہیں۔ لیکن یہ بات یقینی ہے کہ اِس ویکسین کے زریعے دوا ساز ملٹی نیشنل کمپنیوں کے وَارے نِیارے ہوجائیں گے اور ویکسین کے نام پر ہر سال وہ اربوں ڈالر عوام سے نکلواتی رہیں گی۔ یہاں پاکستان جیسے تیسری دنیا کے ممالک کا ذکر دلچسپی سے خالی نہیں کہ جہاں ملٹی نیشنل کمپنیوں کے ساتھ ساتھ ریاستی ادارے اور مقامی مافیا بھی بہتی گنگا ميں ہاتھ دھونے آجاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ روس کی تیار کردہ سپٹنک وی نامی ویکسین بھارت میں 20ڈالر جبکہ پاکستان میں 80 ڈالر میں بک رہی ہے۔

بقیہ تمام امور کی طرح، ویکسین کے گرد تخلیق کردہ کرونا کہانی بھی تضادات کا مجموعہ ہے۔ مثلا یہ کہ اگر کرونا وائرس کی تیسری لہر آچکی ہے، تو پہلی لہر کے لئے بنائی جانے والی ویکسین تیسری لہر والے وائرس کے لئے کیسے کارگر ہوگی؟ عین ممکن ہے کہ مستقبل میں کرونا وباء کی آڑ میں شخصی آزادیوں مثلاً سفر اور تعلیم حاصل کرنے کی آزادی کو کرونا ویکسین کے ساتھ جوڑ دیا جائے اور جو انسان یہ ویکسین لگانے کی استطاعت نہ رکھتے ہوں، انہیں اُن کے بنیادی حقوق سے محروم کردیا جائے۔ یہ بھی ممکن ہے کہ وباءکا بہانا بنا کر کسی بھی اجتماعی سرگرمی اورجدوجہد پر پابندی لگا دی جائےجس کا لازمی نتیجہ مروجہ سرمایہ دارانہ نظام کے ا ستحصالی کرداراور سرمایہ دارانہ آمریت (فاشزم) کی مضبوطی میں نکلے گا۔

حاصلِ بحث

درج بالا نکات سے یہ بات واضح ہورہی ہے کہ کرونا وباء محض ایک طبی معاملہ نہیں ہے جسے ڈاکٹروں، صحافیوں اور حکمرانوں کی منشاء پر چھوڑ دیا جائے، بلکہ یہ ایک سیاسی، سماجی، معاشی، نفسیاتی اور بین الاقوامی مضمرات رکھنے والا معاملہ ہے جس کے تمام انسانیت پر انتہائی گہرے اور دور رَس اثرات مرتب ہوں گے۔ ایسے میں باشعور شہریوں کو آنکھیں اور دماغ بند کر کے کسی بھی بات کو قبول کرنے سے انکار کرنا ہوگا، چاہے وہ بات کتنے ہی بڑے قومی یا بین اقوامی ادارے کی طرف سے کی جائے۔ خاص کر میڈيا کے موضوعات کا تنقیدی جائزہ لیا جائے کہ یہ کن جزوی موضوعات میں الجھا کر ہماری توجہ اصل اور بنیادی مسائل سے ہٹا رہے ہیں۔

عین ممکن ہے کہ وباء سے تحفظ کے نام پر موجودہ سرگرمیاں مستقبل کے نئے عالمی بندوبست کےحوالے سے ایک تجرباتی مشق کے طور پر کی جارہی ہوں جس میں دنیا کو کنٹرول کرنے والی طاقتیں تعلیم، کاروبار اور انسانی روابط کاموجودہ نظام مکمل طور پرتبدیل کرنے کا ارادہ رکھتی ہوں۔ انسان دشمن عناصر انسانیت کو اپنا فرمانبردار رکھنے کے لئے ایک پراسرار اور انجانے دشمن کا خوف طاری کئےرکھتے ہیں۔ آج یہ خوف ایک ایسی بیماری کے نام پر طاری کیا جارہا ہے جس کے حوالے سے تفصیلات، طریقہ کار اور اعداد وشمار انتہائی غیر واضح اور مبہم ہیں۔ پورے منظر نامے پر غیر یقینی دھند کی ایک دبیز چادر پھیلی ہوئی ہے لیکن غالب بیانیے سے معمولی سا اختلاف آپ کو ایڈیٹ(احمق)، گمراہ کن، غیر سائنسی اور کانسپائریسی تھیورسٹ جیسے اَلقابات کا حقدار بنا سکتا ہے۔ اِس حوالے سے مشہور اسرائیلی صحافی جوناتھن کک کے مضمون ”انسانیت کے لئے تباہ کن نظام: ہم لاعلم کیوں؟“ کا درج ذیل اقتباس لائق توجہ ہے۔

اگرآپ اپنی سیاسی بصیرت اور دنیا کو دیکھنے کے انداز کو واضع سچائیوں پر قائم کریں گے اور طاقتور ترین طبقات کو مشکوک نگاہوں سے دیکھیں گے (کیونکہ یہی طبقات طاقت کے بدترین استعمال کا اختیار اور خواہش رکھتے ہیں)، تو آپ کو حقارت آمیز تمسخر کا سامنا کرنا پڑے گا۔ آپ کو سازشی نظریات اور خیالی دنیا میں رہنے والا کہا جائے گا۔ آپ کو انگور کھٹے ہونے، احساس کمتری کا شکار، امریکا کا مخالف، ایک جھگڑالو، ماضی پرست، اسرائیل مخالف، مغربی تہذیب کا مخالف، روسی صدر پیوٹن اور بشار الاسد کا حامی یا مارکسسٹ ہونے کا طعنہ دیا جائے گا۔

اور اِس میں حیران ہونے والی کوئی بات نہیں ہے کیونکہ طاقت کا نظام اور اُس سے فائدہ اٹھانے والے افراد اپنے آپ کو بچانے کے لئے ہر طرح کے ہتھکنڈے استعمال کرتے ہیں۔ جب میڈیا، سیاستدان اور تعلیمی نظام آپ کے ماتحت ہوں تو مخالفین کے دلائل کا منطقی جواب دینے کی بجائےانہیں حقارت سے ”مخبوط الحَواس“ قرار دلوادینا زیادہ آسان اور فائدہ مند کام ہوتا ہے۔

درحقیقت، یہ بہت اہم ہے کہ کسی بھی تبادلہ خیال یا حقیقی بحث کو وقوع پذیر ہونے سے روکا جائے، کیونکہ جس لمحے ہم مختلف دلائل کو شعوری اور تنقیدی انداز میں تولنا شروع کرتے ہیں، عین اُس لمحے یہ امکان پیدا ہونے لگتا ہے کہ ہماری آنکھوں کے آگے موجود پردے غائب ہونے لگیں گے۔ ایسے میں یہ خدشہ بڑھ جاتا ہے کہ ہم سکرین سے پیچھے ہٹ کر مکمل تصویر دیکھنے کے قابل ہوجائیں گے۔ 7

فطرت نے کائنات میں ہر چیز کی بقاء اور نشونما اِعتدال و توازن میں رکھی ہے۔ یہی حال انسانی جذبات کا بھی ہے کہ یہ اگر ایک حَد کے اندر رہیں تو انسانی فائدے اور ترقی کا باعث بنتے ہیں۔ مثلا ًخوف اور دلیری کے جذبات، عقل کے ساتھ مل کر انسان کو خطرات سے بچاتے ہیں۔ لیکن خوف اگر اِس حد تک بڑھ جائے کہ وہ انسان کی سوچنے سمجھنے اور خطرات سے نمٹنے کی صلاحیتوں کو ماؤف کردے تو انسان ایک ایسی کٹھ پُتلی بن جاتا ہے جس کا ریموٹ خوف پھیلانے والی طاقت کے ہاتھ میں ہو۔

موجودہ حالات میں ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم مثبت اور تعمیری مکالمے کو فروغ دیں، نِیزیہ کہ حَد سے بڑھے ہوئےخوف کی اِس فضاء سے خود بھی نکلیں اور دوسروں کو بھی نکالیں کہ انسانیت نے آج تک کا ارتقائی سفر ہمت، حوصلے، سوال اور عقل و شعور کی بنیاد پر ہی طے کیا ہے۔

حوالہ جات:

  1. https://baseeratafroz.pk/article/268
  2. https://www.thenews.com.pk/print/348089-400-people-losing-life-to-hepatitis-in-pakistan-daily
  3. https://data.worldbank.org/indicator/SH.DYN.MORT?locations=PK
  4. https://www.dawn.com/news/1595085
  5. http://tcc.gov.pk/activities.php#:~:text=Tobacco%20use%20is%20single%20largest,is%20298%20deaths%20per%20day.
  6. https://covid.gov.pk
  7. http://daanish.pk/32305
(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20