وحید الدین خان: وحید الجمال نفسے وحید — عزیز ابن الحسن

0

 شد از آں باراں یکے برقے پدید
زد شـرارے در دل مرد وحـید

میں ان کی بارے میں کچھ کہنا لکھنا چاہتا تھا مگر میرے کہنے کی، اور نہ کہنے کی بھی، بہت سی باتیں لوگوں نے پہلے ہی کہہ دی ہیں۔ اب میں سوائے اس کے اور کیا کہوں کہ ان کے جانے کا مجھے کچھ ایسا ہی دکھ ہوا جیسے نوعمری کے دور کے بچھڑے ہوئے محبوب کے حالت جدائی ہی میں مر جانے کی خبر سن کر ہوتا ہے۔ آشوب حالات کے سبب محبوب سے رنجشیں لڑائیاں اور شکررنجیاں خواہ کتنی ہی ہوں اور بیچ میں میں عمروں کی جدائی بھی آن پڑیں مگر اس کے ساتھ گزری ہوئی گھڑیاں دن مہینے اور سال بھلا کوئی کیسے بھول سکتا ہے۔ ایک ایسا محبوب جس کو کبھی جی جان سے چاہا ہو مگر پھر جس کی کج ادائیوں سے ہار کر خود اختیاری ہجر کی اجرک اوڑھ لی اور پھر اس فراقیہ زندگی کے اگلے تیس پینتیس برسوں میں مڑ کر جب بھی اس کی طرف دیکھا تو اس احساس کے بموجب دل میں ہمیشہ ایک ہوک سی اٹھے کہ

جفا کرے وہ کسی سے تو شرم آئے مجھے

ہو سکتا ہے کہ مولانا مرحوم کیلئے یہ مصرع استعمال کرنا کسی کو عامیانہ لگے، اور خود مجھے بھی کچھ کچھ لگ رہا ہے، مگر معذرت کے ساتھ عرض ہے کہ مجھے اپنا احساس پوری طرح بیان کرنے کے لئے کوئی مناسب اسلوب ہاتھ نہیں آرہا لہذا سردست اسی پہ گزارا ہو۔۔۔

حیدرآباد میں طالب علمی کا یہ وہ زمانہ تھا کہ ہاتھ میں آنے والی ہر کتاب کو بلا انتخاب مصنف بلالحاظ موضوع اور سفر حضر رنج و راحت کی پرواہ کیے بغیر ندیدے پن کے ساتھ چاٹ جانا زندگی کا معمول تھا۔ مجلس نشریات اسلام، کراچی، کی شائع کردہ شاید ہی کوئی کتاب ہو جو اس دور خستگی و وارفتگی میں نہ خریدی ہو اور بلا نوشوں کی طرح نچوڑ نچوڑ کر نہ غٹغٹائی ہو۔

“علمِ جدید کا چیلنج” بھی انہی میں سے کی ایک کتاب تھی جو نہ صرف خود دسیوں بار بار پڑھی بلکہ دوستوں کو بھی منت گزاریاں کرکے پڑھائی تھی۔ یہ وہ زمانہ تھا میٹرک کی ریاضی کی کتاب سے استقرائی اور استخراجی منہاج کے تصور سے جو ادھ کچری آشنائی ہوئی تھی تو ان تصورات کے اطلاقی مذہبی نمونے “علم جدید کا چیلنج” میں پائے تھے اور اکبر معصوم کو جب یہ کتاب تحفتاً دی تو اس پر بظاہر عالمانہ، حقیقت میں جاہلانہ، انداز میں یہ جملہ لکھا تھا کہ

“جدید سائنس جو استقرائی طریقے پر چلنے کی مدعی ہے وہ استخراجی طریقہ کے آگے بے بس ہو جاتی ہے جبکہ کتاب ہذا کے مصنف نے مذہب کو استقرائی اور استخراجی دونوں میں منہاجوں سے ثابت کردیا ہے”😅

 اس عمر کے اکثر نوجوانوں کی طرح دین متین اور مذہب مبین کو جدید سائنسی اصولوں اور عصری اسلوب میں بامعنی ثابت کے مولانا وحید الدین کے انداز پر دل لہلوٹ ہو ہو جاتا تھا کہ نوعمری کی مذہبیت اسے طرح کے جذباتی رویوں میں لپٹے لپٹے جوان ہوا کرتی ہے۔ بیس بائیس سال کی بالی عمریا میں جب ان کی دو اور کتابیں “تعبیر کی غلطی” اور “دین کی سیاسی تعبیر” نظروں سے گزریں تو مولانا مودودی(رح) کی حد سے بڑھی ہوئی سیاسی حسیت کو دین پر غالب کرنے کے خیال سے بدمزہ ہوتی طبیعت کو وحید الدین خان نے اور بھی گرویدہ کر مارا تھا۔ اسی زمانے میں معلوم ہوا کہ وحید الدین خان ڈاکٹر اسرار احمد مرحوم کے محاضرات قرآنی کی کسی نشست میں شرکت کرنے کے لیے لاہور آئے ہوئے ہیں۔ خواہش کے باوجود بندہ اس میں شرکت نہیں کر سکا تھا کہ سانگھڑ سے سفر کر کے خفیہ خوفیہ لاہور جانے کی ہمت نہ تھی اور علی الاعلان جانے کی والدین کی طرف سے اجازت نہ تھی۔ ایک دوست قاضی غیاث الدین حیدرآبادی نے جو خاص اسی مقصد سے لاہور گئے تھے واپسی پہ خان صاحب کے درویشانہ طور کا یہ عجیب ماجرا سنایا کہ

 “وحید الدین خان اپنا مقالہ لکھ کے لائے تھے جو خاصہ طویل تھا انہوں نے یہ سوچے بغیر کے سامعین پر یہ طوالت بھاری گزرے گی بڑے رسان اور بےنیازی سے مقالہ پڑھنا شروع کر دیا لیکن جب انہیں محسوس ہوا کہ سامعین کماحقہ دلچسپی سے انہیں نہیں سن رہے تو یکایک انہوں نے اپنا پلندہ سمیٹا اور کھردرے پٹھنولی انداز سے یہ کہتے ہوئے سٹیج سے اتر آئے کہ ‘اگر آپ نے مقالہ نہیں سننا تو پھر خدا حافظ’!”

 ہم کہ پہلے ہی ان کے صاف سادہ سلیس منطقی اسلوب اور عصری انداز کی راست نگاری پر فریفتہ تھے وحید الدین خان کے کھرے پن کی اس ادا کا سن کر اب دیوانوں کی طرح باؤلائے ہوئے عاشق کی سی وارفتگی کے ساتھ وحید الدین خان کی مزید کتابوں کی تلاش میں جٹ گئے۔ پتہ چلا کہ تب (84-1983) میں پاکستان میں خان صاحب کی کتابیں چھپی ہی کم ہیں۔ اس زمانے میں محمد موسیٰ بھٹو سے کچھ یاد اللہ تھی جو ایک درویش صفت انسان تھے اور جماعت اسلامی سے بددل ہو کر تصوف کی طرف مائل اور اردو زبان و ادب کے معروف محقق اور صاحب دل عارف ڈاکٹر غلام مصطفی خان کے مرید ہو گئے تھے۔ انہی کی معیت میں مجھے بھی سندھ یونیورسٹی اولڈ کیمپس، حیدرآباد میں ایک دو دفعہ ڈاکٹر خان کی بعد از عصر والی مجالس میں شرکت کا موقع ملا تھا۔ سر پر سفید دوپلی ٹوپی سفید کرتے کھلی موری کے پیجامے میں ملبوس ڈاکٹر غلام مصطفی خان کا شفیق سراپا آج بھی دل پر نقش ہے۔

موسیٰ بھٹو بھی میری طرح وحید الدین خان کے دلدادہ تھے۔ ان بھلے وقتوں میں وحید الدین خان کی کتابیں وہ بطور خاص انڈیا سے منگوایا کرتے تھے۔ مجھ طالب علم کی انڈیا سے کتابیں منگوانے کی بساط نہ تھی مگر موسی بھٹو کے پاس دستیاب مولانا کی جو دس بارہ کتابیں تھیں وہ تو فوٹو کاپی کروا ہی سکتا تھا۔ سو وہ سب کتابی سائز میں فوٹو کاپی کروا کر تین چار خوبصورت مضبوط کاٹھی اور چرمی پشتوں میں مجلد کروا لیں اور اگلے کئی برسوں تک وہ پڑھتا رہا۔ تا آنکہ ان میں سے کسی کتاب میں وحید الدین خان کا ایک ایسا “مکاشفہ” نظروں سے گزرا کہ پروفیسر یوسف سلیم چشتی کی تحریروں سے اثرپزیر وحدۃ الوجود اور ابن عربی کی محبت میں سرشار خاکسار کا ننھا سا دل چھناکے سے تڑخ اور چھوٹا سا دماغ بھک سے اڑ گیا اور شبلی کے علم الکلام سے تشکیل پائی ہوئی عقل

 کہ کتاب عقل کی طاق پر جو دھری تھی سو وہ دھری رہی

کا مصداق بن گئی اور پھر اگلے کئی برسوں تک وحید الدین کی وہ مجلدات اور کئی دیگر کتابیں ــ بشمول ان کے جریدے الرسا لہ کے کئی شمارے، عقلیات اسلام، مذہب اور سائنس، راز حیات، ظہور اسلام اور پیغمبر انقلاب وغیرہ ــ گھر کے پچھلے کمرے کی نیم چھتی کے پیچھے والے ڈبوں کی نچلی تہہ میں منتقل ہوتی گئیں۔

  ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

 مولانا مودودی اور وحید الدین خانی ~ ایک سب آگ ایک سب پانی~ مزاجوں کا ایک دماغ میں سمانا مشکل ہے۔  یہ دو مختلف سانچوں میں ڈھلے دو عالم دو دنیائیں ہیں اور ایک اعتبار سے ایک خاص طرح کی اسٹڈی کیس بننے کی بے پناہ گنجائش رکھنے والا موضوع بھی۔ ایک طررف آزاد ذہنی ثقافت و ماحول میں لکھنے والا انقلابی ذہن اور قلم کی وسیع جولانگاہیں؛ اور دوسری طرف دن بہ دن ہندوٌتا کی وحشت میں سکڑتی “زمینی حقائق بھری” فضا کے اندر، جہدِ للبقا میں کوشاں ذہن۔ ان دو الگ الگ دنیاؤں کے دو ذہین اور بہترین دل و دماغ کی صلاحیت والے باسیوں کو قرآن کیسے سمجھ میں آتا ہے اور ان کا ماحول انہیں دین کی کیا تعبیر اختیار کرنے پر مائل کرتا ہے، مودودی صاحب اور وحید الدین خان اس کیس اسٹڈی کی بہترین مثالیں ہیں۔

اقبال کا ایک شعر(بہ ادنی تصرف) اس صورت حال کو بہت خوبی سے بیان کرتا ہے

 “ملکِ” آزاداں شکوہ ملک و دین
“ملکِ” محکـوماں ہجومِ مومنین

مودودی صاحب کی تمام تر جدوجہد اور تعبیر ایک خاص نظریے کے تحت حاصل کردہ پاکستان میں ملک و دین کو یکجا کرنے لگی ہوئی تھی اور وحید الدین خان کی ساری کاوشیں اور تفسیریں ہند میں ہجومِ مومنین کو مجتمع رکھنے میں صرف ہوتی رہی ہیں۔ وہی ہند جس کے لئے اقبال نے کہا تھا

ملا کو جو ہے ہند میں سجدے کی اجازت
ناداں یہ سمجھتا ہے کہ اسلام ہے آزاد

وحید الدین خان کی ساری دینی تذکیریں ہندوستان میں مسلمانوں کے لیے سجدے کا ماحول ساز گار بنائے رکھنے اور بپھری ہوئی ہندوتا کے سامنے رام رام کرنے سے آگے نہ بڑھ پائیں اور ادھر ہمارے ہاں، افسوس ہے کہ، اسلام اتنا “آزاد” ہوگیا کہ ایک طرف مودودی صاحب کی تعبیریں کچھ طاقتور جتھوں کے ہاتھ میں یرغمال ہوکر “ملک و قوم کے عظیم تر مفاد” میں صرف ہوکر مذہب کی شکل بگاڑنے اور اسے خوف کی علامت بنانے پر منتج ہوتی رہی ہیں اور دوسری طرف اسے سیکولرزم کی گود میں بٹھانے کے لیے ماحول تیار کیا جارہا ہے۔ ایک طرف صرف نعرہ بازی والے اسلام کے زبانی کلامی “نفاذ” پر زور ہے اور دوسری طرف شخصی زندگیوں میں “نفوذِ اسلام” کی آڑ میں اسلام کو ہر قسم کی ہمہ وقت اجتماعی زندگی و ریاستی امور سے بے دخل کرکے ‘گربۂ مسکیں نماز کرد’ تک محدود کرنے اور اسے صرف “ذاتی مسئلہ” بنائے رکھنے کی راہ ہموار کی جاتی رہی۔

اُدھر جو کام وحید الدین خان اور راشد شاذ وغیرھما نے کیا اِدھر یہی منصب جاوید احمد غامدی نے سنبھال لیا۔ مودودی صاحب کی تعبیر دین میں اگر سیاست کے سُر کچھ ضرورت سے زیادہ اونچے ہو گئے تھے تو تعبیر کی غلطی اور دین کی سیاسی تفسیر پر متنبہ کرنے والا یہ جدت مآب گروہ بھی نقطۂ توازن پر قائم نہیں رہا، ان کے لگائے سر بھی اتنے کومل ہو گئے کہ ان کا مذہب با مسلماں اللہ اللہ با برہمن رام رام والی موم کی ناک بن کے رہ گیا ہے۔

مگر، خیر یہ بہت بعد کے زمانوں کی باتیں ہیں۔

جو وحیدالدین خان ہمارا محبوب تھا وہ علم جدید کا چیلنج، مذہب اور سائنس اور پیغمبر انقلاب وغیرہ کے دور والا وحیدالدین تھا۔ اسی زمانے کے وحید الدین خان کی کسی کتاب میں راقم نے وہ “مکاشفاتی” جملہ پڑھا تھا جس میں خان صاحب نے ‘شانتی اوم شانتی’ والے صلح کل روئے کے جھوک میں حسِ توازن کے فقدان کی ایک ہولناک مثال پیش کرتے ہوئے شاہ ولی اللہ محدث دہلوی رحمہ اللہ کو مرزا غلام احمد قادیانی علیہ ما علیہ کی صف میں کھڑا کر کے خاکسار کے اندر وہ کھٹک پیدا کردی جس کے بعد نہ چاہتے ہوئے بھی راقم نے

جفا کرے وہ کسی سے تو شرم آئے مجھے

والے مصرعے سے اپنا احساس دل گرفتگی بیان کیا ہے اور مولانا وحید الدین خان مرحوم و مغفور کی فکر سے ہمیشہ ہمیشہ کے لئے خود مقررہ مہجوری اختیار کرکے ان کی کتابیں گھر کے پچھلے کمرے کی نیم چھتی کے پیچھے والے ڈبوں کی نچلی تہہ میں جا رکھی تھیں۔

آپ ہی کہیے کیا نیکوکارانِ امت کے ساتھ یہ جفائیں اور کج ادائیاں کیا درست ہیں؟ اگر میرا محبوب شرفائے محلہ کے ساتھ ٹھٹھول اور بدتہذیبی کرنے لگے تو کیا اس پر مجھے شرم نہیں ہونی چاہیے؟

  ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

مولانا وحید الدین خان رحمۃ اللہ علیہ جو چند روز قبل مرحوم و مغفور ہوگئے راقم کے ابتدائے شباب کا عشق تھے منہ زور اور دیوانگی والا عشق۔ مگر یہ دیوانگی صرف ہماری تھی جبکہ مولانا خود سراپا فرزانگی تھے۔ اسی فرزانگی کے زور پر شاہ ولی اللہ علیہ رحمہ کو مرزا غلام احمد قادیانی علیہ ما علیہ کی صف میں کھڑا کرکے مولانا مرحوم نے حفظ مراتب کے جس فقدان اور حسِ تناسب سے جس محرومی کا ثبوت دیا تھا کیا وہ درست تھا؟

عجیب بات ہے کہ کچھ ایسی ہی کج ادائی ان کے پاکستانی بروزی و ظلی مثیل کے بھی حصے میں آئی ہے۔ یہ بھی بعض معاملات میں انہی کا سا رویہ رکھتے ہیں! یعنی مولانا خان کی طرح ہی یہ بھی “متوازی دین” والوں کو مرزا غلام احمد قادیانی کی طرح کا، بلکہ “معصوم” سے مرزا کو خراب کرنے والا بھی، گردانتے ہیں!

اور پھر طرفہ تماشہ یہ ہے کہ “حقیقی اسلام” کے یہ دریافت کنندگان موجودہ عہد کی سب سے بڑی سامراجی طاقت امریکہ کے روبرو یکساں طور پر خود وہی فدویانہ رویہ رکھتے ہیں جو اپنے زمانے میں مرزا غلام احمد قادیانی کا انگریز مقتدرہ کے حضورِ پر فتور میں رہا ہے مگر اس سب کے باوجود یہ لوگ مداہنت رہبانیت، دنیا گریزی اور “ظالم سلاطین” کی کاسہ لیسی ان کے لیے فتوی فروشی قصیدہ خوانی اور جوازجوئی کا الزام یہ اگلے زمانوں کے صوفیاء اور فقہاء کے سر ہی مڑھتے ہیں!

یہ ٹھیک ہے کہ ہندوستان کے مخصوص ماحول میں دین کی ایک غیر سیاسی تعبیر اختیار کرنا اور مقدرہ کے سامنے بنا کے رکھنا وہاں کے مسلمان علماء و زعماء کی مجبوری رہی ہوگی، آخر ہندوستان کے رہنے والے ہمارے اردو کے ادیب و نقاد بھی، بہ استثنائے چند، کچھ ایسا ہی رویہ اختیار کرتے ہیں لیکن وہ اتنا تو کرتے ہیں کہ خوا مخواہ غُل کرنے کے بجائے خاموش رہتے ہیں۔ لیکن اب ایسا بھی کیا کہ مخالف ثقافتی دباؤ کی آڑ میں صدیوں کے تواتر اور محدثین صوفیاء و فقہاء کی مہتم بالشان روایت سے قطع تعلق کر لیا جائے اور جدید متشکک اذہان کے ہاں مذہب کی سائنسی و عقلی تعبیر کو مقبول بنانے کیلیے گزرے ہوؤں پر طعن کرنا اور چھینٹے اڑانا ہی ضروری ہو!

 بھئ سو باتوں کی ایک بات یہ ہے کہ دین مذہب کی ساٹیفکٹ تعبیرات اور “کائنات اللہ کا فعل اور قرآن اللہ کا قول اور اللہ کے قول و فعل میں تضاد نہیں ہو سکتا” کے “سنہرے اصول” کے بہانے قرآن کی عقلی تاویلات اورعلم طاقت و سرمائے کے جدید کلامیوں کے سامنے پسپا ہوتے ذہن کا قرآنی احکام کی موَقتی تفسیرات کرنے والا مزاج راقم کو ویسے بھی کچھ راس نہیں آتا کہ اس مزاج کا وطیرہ ہی خارجی حالات سے سازگاری اختیار کرکے

سدا ایک ہی رخ نہیں ناؤ چلتی
چلو تم ادھر کو ہوا ہو جدھر کی

کے ابن الوقتی رویے پر کاربند رہ کر مقتدرہ کے اشارے کے نظارے کرنا ہوتا ہے!

اور پھر اس پر طرہ یہ کہ ان لوگوں نے اپنے سادہ لوح بِروں کے اندر یہ غرہ بھی پیدا کر دیا ہے کہ قرآن کا حقیقی فہم صرف ان لوگوں کو نصیب ہوا ہے؛ پندرہ سو سال میں امت کے باقی عظیم اذہان تو نری جھک ہی مارتے رہے ہیں!

بعض لوگوں کا یہ خیال کہ ہمیں مختلف ذہن اور مزاج سے قرآن کی تعبیر کرنے والے علما سے حسن ظن رکھنا چاہیے اور ان کا احترام کرنا چاہیے، دل و جان سے قبول ہے۔ میں اصولی طور پر اس بات سے متفق ہوں۔ مگر سوال صرف یہ ہے کہ کیا جدید ذہن اور مزاج کے ان علماء نے خود بار ہا امت کی چودہ سو سالہ روایت پر خط تنسیخ پھیر کے اسے بے اعتبار کرنے کی کوشش نہیں کی؟ اس مزاج سے جو ذہن تشکیل پاتا ہے کیا وہ خود اور ان کے متبعین امت کے اکثر بڑے محدثین فقہاء اور صوفیاء کے بارے میں زبان طعن دراز نہیں کیا کرتے؟ کیا یہ امام بخاری کے منہ نہیں آتے، امام ابو حنیفہ پر چھینٹا نہیں اڑاتے، کیا یہ غزالی کے تصور توحید کا ٹھٹھہ نہیں اڑاتے، ابن عربی کو زندیق نہیں سمجھتے، مجدد الف ثانی اور شاہ ولی اللہ کو کو برا بھلا نہیں کہتے؟

سوال ہے کہ ان محدثین مفسرین فقہاء اور صوفیاء کے لئے حسنِ ظن کا اصول کیوں بکار نہیں لایا جاتا؟

میں بھی جمہوریت کے اصولِ عام کے تحت امت کے سواد اعظم کےلئے حسن ظن رکھتا ہوں اور دوسروں سے بھی اس کا طلبگار ہوں۔ میرے نزدیک معتزلہ اور ان کے منہاج پر کار فرما سب لوگ بشمول سرسید احمد خان، مولوی چراغ علی، ڈپٹی نذیر احمد، اسلم جیراجپوری، غلام احمد پرویز، وحید الدین دین خان، جاوید احمد غامدی اور راشد شاذ وغیرھما سب قابل احترام ہیں مگر بہرحال یہ امت کے سواد اعظم میں شامل نہیں ہیں۔ یہ سب اصحاب شواذ اور اہلِ تفردات ہیں؛ کیمسٹری کی زبان میں کہیں تو یہ لوگ امت کے آئسوٹوپس ہیں؛ بس قابل احترام آئسوٹوپس!

ہم اگر عدی گنتی کے بجائے صیابتِ رائے والے موقف کی درستگی کی بات کریں تو آپ جمہوریت پسند بن کر اکثریت کی رائے کے احترام کی وکالت کرنے لگتے ہیں اور اگر ہم جمہور امت کے سواد اعظم سے حسن ظن رکھنے کی بات کرکے شاذ آرا والے تفرد پسندوں کو رد کریں تو آپ حاشیے پہ رکھے تصورات و نظریات اور اشیا سے دلبستگی رکھنے والے مابعد جدید نہلسٹوں اور انارکسٹوں کے سے رنگ ڈھنگ اختیار کرتے ہوئے اقلیتی شاذ پسندوں کیلئے حسنِ ظن طلب کرنے لگتے ہیں۔

 سچ بتاؤ، اے جدت پسند مصنفین کے چِھتے اراکین، کہ آخر آپ چاہتے کیا ہیں ؟

  ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

بہرکیف جو گزر گیا سو گزر گیا۔ میں مولانا وحیدالدین خان کے بارے میں بہت کچھ کہنا لکھنا چاہتا تھا مگر ان کے انتقال کے بعد دیگر احباب نے کسی نہ کسی انداز میں وہ سارا کچھ کہہ دیا ہے اب میں کچھ کہوں بھی تو کیا کہوں سوائے اس کے کہ مولانا وحید الدین خان بھی آج مولانا مودودی ہی کی طرح اپنے رب کے حضور پہنچ گئے ہیں۔ اس امرکا بہتر فیصلہ اب خدا کے ہاں ہی ہوگا کہ “تعبیر کی غلطی” لکھنے والا درست تھا یا “دین کی سیاسی تفسیر” کرنے والا، اور یہ کہ تعبیر کی بڑی غلطی کس سرزد ہوئی ہے!

 ہماری دعا ہے کہ اللہ تعالی ان دونوں اصحاب علم کو اپنی رحمت بے پایاں کی چادر میں ڈھانپ لے اور انکی حسنِ نیت اور اچھے اعمال کے پیش نظر انہیں ہمیشہ اپنے قرب کے سائے میں رکھے اور اگر راقم آثم اس معاملے کسی فکری کج روی کا شکار ہے تو اسے بھی ان بزرگوں کی نیکیوں کے طفیل راہ ہدایت نصیب ہو۔ آمین!

 کیمیائے سعادت همه‌ اند
درهمه فعل خود بدید کنند
کیمیائے کنند همه افلاک
لیک در مدتے مدید کنند
خنک آن دم که جمله اجزا را
بے ز ترکیب‌ها وحید کنند

یہ بھی پڑھیں: جاوید غامدی کی تکفیری مہم: وحدت الوجود اور دبِستانِ شبلی ---------- نادر عقیل انصاری
(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20