اسلام اور مغرب کے مابین مکالمہ: اہل علم کی آرا —- راجہ قاسم محمود

0

اسلام اور مغرب کے مابین مکالمہ کے موضوع پر کچھ عرصہ قبل اسلام آباد میں ہونے والی کانفرنس میں پیش کردہ مقالات کو کتابی صورت میں جمع کیا گیا ہے۔ کتاب میں شامل چودہ مقالات کا مختصر تعارف قارئین کی دلچسپی کے لئے پیش ہے۔

۱.اسلام اور ادیان عالم میں باہمی رواداری کے اصول و ضوابط: ڈاکٹر طاہر مسعود
۲.اسلام اور مغرب کے مابین مکالمہ میں رکاوٹوں کی نشاندھی: سجاد میر
۳.علم، ادب اور انسانیت: ڈاکٹر امینہ ہوتی
۴.ویسٹوفوبیا اور اسلاموفوبیا: ایک متبادل بیانیہ: ڈاکٹر قبلہ آیاز
۵.اسلام اور مغرب تعلقات-چند قابلِ غور پہلو: ڈاکٹر ممتاز احمد
۶.رواداری سے ماورا: ڈاکٹر محمد الغزالی
۷.اسلام اور مغرب، مکالمہ اور رکاوٹیں: خورشید احمد ندیم
۸. اسلام اور مغرب، فکر اقبال کے تناظر میں: سید متین احمد شاہ
۹.مغرب سے مکالمہ: چند قابل توجہ پہلو: مولانا زاہد الراشدی
۱۰.مغرب کا تہذیبی و سیاسی غلبہ: محمد عمار خان ناصر
۱۱. برصغیر اور مسلم، مغرب تعلقات: مفتی محمد زاہد
۱۲.پختون اکثریت میں سکھ اقلیت: ڈاکٹر الطاف قادر
۱۳.اسلام اور مغرب، تصور علم کا تصادم: ساجد حمید خان
۱۴.بین الاقوامی قانون اور مغرب: ڈاکٹر محمد مشتاق احمد

اسلام اور مغرب کے مابین مکالمہ کے حوالے سے ایک بنیادی سوال یہ سامنے آتا ہے کہ مغرب سے مراد کیا ہے؟
یہ سوال خورشید ندیم صاحب نے اٹھایا اور جواب میں کہا کہ مغرب سے تین چیزیں ذہن میں آتی ہیں جغرافیائی وحدت،سیاسی قوت اور تہذیبی اکائی۔اور جب ہم گہرائی سے جائزہ لیں تو یہ بحث ایک تہذیبی اکائی میں سمٹ کر آجاتی ہے۔ پھر جب یہ بات مان لی جائے تو مشرق میں رہنے والا شخص بھی تہذیبی اعتبار سے مغربی ہو سکتا ہے۔
اسلام کے بارے میں بھی خورشید ندیم صاحب بات کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ یہ بھی تہذیبی اکائی و نظریاتی وحدت ہے جو کہ کسی مادی قوت کی تلاش میں ہے۔

جب ہم مغرب کو تہذیبی اکائی مان لیتے ہیں تو پھر یہ بھی ماننا ہو گا کہ تہذیبی اکائی اپنے برتری برقرار رکھنے کے لیے ہر اس تہذیب کے خلاف برسر پیکار ہو گی جو اس کی حاکمیت کو چیلنج کرے گی۔ پھر مغربی تہذیب کی بات ہوتی ہے تو اس کا مسیحی پس منظر اور دور حاضر کا سیکولر تشخص سامنے آتا ہے اور یہ دونوں چیزیں اسلامی تہذیب کے لیے قابل قبول نہیں ہیں۔

خورشید صاحب نے کہا ہے کہ اسلام و مغرب کے مابین رواداری اور معنی خیز مکالمہ کی بات کرنی ہے تو ہمیں اپنے تصورات کہ مغرب سے کیا مراد ہے اور اسلام سے کیا مراد ہے اس پر ازسر نو غور کرنا ہو گا۔

خورشید صاحب کا مقالہ اس لحاظ سے بہت اہم ہے کہ جب تک ہم صیح طرح سے جان نہیں پائیں گے کہ مغرب کیا ہے اور پھر اس کے خدو خال کیا ہے تو اس وقت تک اس سے ٹھوس مکالمہ کرنے کی راہ ہموار نہیں ہو سکتی۔

مفتی زاہد صاحب نے کہا کہ ہمارے ہاں دستیاب قدیم مذہبی لٹریچر میں مغرب کو بطور تہذیب کم ہی مخاطب کیا گیا ہے۔بلکہ اس بارے میں انگریزوں کے حوالے سے لکھا گیا مگر اس میں مخاطب انگریز بطور انگریز کم اور بطور نصاریٰ زیادہ تھے۔ اس لیے دینی روایت میں مغرب کو بطور تہذیب کم ہی ڈسکس کیا گیا ہے۔ اس بارے میں اپنی گفتگو کے آخر میں مفتی صاحب نے سوال اٹھایا ہے کہ کیا اسلام ایسی تہذیب دیتا ہے جس کا باقی تہذیب سے تباین کی نسبت ہے کہ اپنے ماننے والوں کو دیگر تہذیبوں سے رشتے توڑنے کا کہتا ہے یا اسلام ایک خاص حد تک تہذیبی تعلیم دے کر غیر جانبدار ہو جاتا ہے کہ اسلام کو فقط اس سے غرض ہے کہ کوئی حکم پامال نہ ہو۔ اس بارے میں روایتی دینی حلقوں کے طرزِ عمل پر بھی مفتی صاحب نے سوال اٹھایا ہے کہ یہ رویہ سادگی پر مبنی ہے یا انہوں نے خود اپنے آپ کو ایک دائرے میں محدود کر لیا ہے۔

ڈاکٹر محمد الغزالی صاحب نے مغربی اصطلاح کو اپنے الفاظ میں بیان کرنے کا ذکر کیا ہے جیسے کہ رواداری۔ انہوں نے بتایا ہے کہ رواداری کا جو مفہوم ہمارے ہاں ذہنوں میں قائم ہو چکا ہے یہ مغربی ہے اس کا اسلام کے تصور تحمل و برداشت سے کوئی تعلق نہیں۔ مغرب کی غالب قوتوں کا عالم اسلام سمیت اپنے سے مختلف اقوام کے ساتھ ظلم و استحصال اور بغض و عناد کا رویہ ہے۔ مغرب نے جو کلیسائی آمریت کے خلاف جنگ لڑی ہے تو اس کے نتیجے میں ایک مختلف نظریہ حیات سامنے آیا ہے جو عقلیت کی بنیاد پر ہے اور اس نظام کا فرد ہر قسم کی حدود و قیود سے آزاد ہے کیونکہ وہ کسی برتر ہستی کو جوابدہ نہیں ہے مگر چونکہ ہر فرد آزاد ہے تو اس خوف سے کہ ان کے مفادات کا آپس میں ٹکراؤ نہ ہو انہوں نے اپنی آزادی کا ایک حصہ منتخب پارلیمنٹ کے سپرد کر دیا ہے جو تمام افراد کے مشترکہ مفادات کی محافظ ہے۔رواداری کا مغربی تصور یہ ہی ہے کہ مشترکہ مفادات کی خاطر اپنی خواہشات میں سے کچھ کو قربان کیا جائے تاکہ ہر کسی کا مفاد خطرہ میں نہ رہے۔

جبکہ اس کے برعکس اسلام میں فرد کو لامحدود آزادی نہیں ہے وہ اپنے خالق کو جوابدہ ہے۔ اسلام میں تو آپ اس حد تک پابند ہیں کہ عین حالتِ جنگ میں آپ کا مقابل مسلمان ہو جائے تو آپ کے لئے جنگ جاری رکھنا جائز نہیں رہتا۔
سو اسلام کا امن و آشتی کا پیغام مغرب کے تصور رواداری سے کوئی میل نہیں کھاتا۔

مغربی اصطلاحات اور ان کے مختلف تصور علم کے بارے میں ساجد حمید خان صاحب کا مقالہ بھی بڑی اہمیت رکھتا ہے۔ مغربی اصطلاحات اپنا ایک الگ وجود اور نظریہ رکھتی ہیں جب ہم ان کو اپنی اصطلاحات میں بیان کر کے دونوں کو مترادف قرار دیں تو ہم غلط فہمی کا شکار ہوتے ہیں۔ اس میں سب سے بنیادی چیز ایمان بالغیب ہے، کسی بات کا قرآن مجید و صحیح حدیث میں ذکر ہمارے لئے علم کی حیثیت رکھتا ہے جبکہ وہ لوگ جو کسی برتر ہستی کو مانتے ہی نہیں ان کے نزدیک آپ کا یہ والا علم ان کے تصور علم سے کوئی تعلق نہیں رکھتا۔وہاں علم کی جانچ کے پیمانے ہی الگ ہیں جس پر ہمارا یہ والا علم پورا نہیں اترتا۔

ڈاکٹر امینہ ہوتی صاحبہ نے اپنے مغرب کے اسفار کی روداد لکھی ہے جس میں بوسنیا میں مسلمانوں سے ملاقات کا ذکر ہے جن پر پڑوسی ممالک کے مظالم کی تکلیف دہ داستان کا ذکر ہے۔ انہوں نے بوسنیا کے ایک بڑے مفتی کی بات بتائی کہ انہوں نے کہا کہ ہماری جدوجہد کفر، لادینیت کے خلاف نہیں بلکہ متشدد جہالت کے خلاف ہے۔ ڈاکٹر امینہ ہوتی صاحبہ نے بتایا کہ بوسنیائی مسلمان باوقار، ذہین اور علم سے محبت کرنے والے لوگ ہیں۔ انہوں نے لکھا ہے کہ بوسنیائی مسلمانوں کا وجود مغرب کی رواداری، انسان دوستی اور مساوات کا امتحان ہے۔ یورپ اگر ان کو برابر کے حقوق دینے میں کامیاب ہوا تو یہ امتحان پاس کر لے گا۔

ڈاکٹر قبلہ آیاز صاحب نے اسلاموفوبیا کے ساتھ ویسٹوفوبیا کی بھی بات کی ہے۔ انہوں نے مغربی معاشرے کو دو حصوں میں تقسیم کیا ہے ایک تخلیقی اقلیت (Creative Minority) جبکہ دوسری Imitative Majority ہے۔ پہلا حصہ پالیساں بناتا ہے جبکہ دوسرا بڑا حصہ اس کے مطابق چلتا ہے۔اس کو ایک نظام دے دیا گیا ہے جہاں ان کی ضرورت کی ہر شے دے دی گئی ہے وہ اچھا کھاتے ہیں، اچھا پہنتے ہیں بہترین گھروں میں رہتے ہیں انہیں اس سے کوئی غرض نہیں کہ افغانستان میں کیا ہو رہا ہے یا عراق میں کیا ہو رہا ہے یہ کام انہوں نے تخلیقی اقلیت کے لیے چھوڑ دیا ہے۔

ڈاکٹر قبلہ آیاز صاحب نے یہ بھی بتایا ہے کہ مغرب کی پالیسی میں مذہب کا عمل دخل ہے مگر یہ مذہب عیسائیت نہیں بلکہ ہومیونزم ہے اس کو انسان پرستی بھی کہا جا سکتا ہے اور سائنٹفک میٹریلزم بھی۔ اس مذہب کا بنیادی فلسفہ یہ ہے کہ انسان اتنا بالغ نظر ہو چکا کہ اپنے لیے خود قانون سازی کر سکے اس کو کسی خدا کی ضرورت نہیں ہے۔ ڈاکٹر صاحب نے یہ بھی کہا ہے کہ بیشک اللہ تعالیٰ قادر مطلق ہے مگر اس وقت غالب زمینی قوت مغرب کے پاس ہے، چنانچہ کوئی بھی ایسی تحریک جس کا ہدف اسلحہ کے ذریعے ریاست یا خلافت کا قیام ہے مغرب اس کو ماننے کے لیے تیار نہیں ہے۔

حافظ عمار خان ناصر صاحب نے مغربی غلبے پر زیادہ کھل کر بات کی ہے اور بتایا ہے کہ پچھلے دو سو سالوں سے مغرب نے صرف سیاسی و عسکری نہیں بلکہ تہذیبی و اقتصادی میدان میں غلبہ حاصل کیا ہے اور پوری انسانی معاشرت کو نئے خطوط پر استوار کرنے کی کوشش کی ہے اور سچ یہ ہی ہے کہ ہم اس وقت مغرب کی بنائی دنیا میں جی رہے ہیں۔ عمار خان ناصر صاحب نے بتایا ہے کہ مسلم تہذیب کے مقابلے میں مغربی تہذیب کا غلبہ کسی سازش کا نتیجہ نہیں بلکہ قوموں کے عروج و زوال سے متعلق سنن الٰہیہ کا ظہور ہے۔اس غلبے کی مثال سمندر میں اٹھنے والی چھوٹی بڑی لہروں کی نہیں بلکہ ایک سمندری طوفان کی ہے۔

عمار خان ناصر صاحب نے کہا ہے کہ تاریخ کا سبق یہ ہی ہے کہ کسی بھی قوم سے اس کے دور عروج میں ٹکرا کر شکست نہیں دی جا سکتی۔ اس وقت تمام عوامل امت مسلمہ کو تصادم سےعدم گریز کی راہنمائی کر رہے ہیں۔
عمار خان ناصر صاحب نے سوالات کی صورت میں بتایا ہے کہ کسی تہذیب کا غالب ہونا اس کی حقانیت کی دلیل نہیں ہوتی اور امت مسلمہ کے لیے کہا ہے کہ جو زوال دو سو سال میں آیا ہو اس کو محض چند سال کی Short Term Strategy سے نہیں بدلا جا سکتا۔ اس طرح ایک ممکن حل جس کی تاریخ میں نظیر ملتی ہے جب اہل حق کا گروہ باطل کے آگے سیاسی و عسکری میدان میں ناکام ہوا مگر دعوت کے میدان میں اس نے باطل کو مغلوب کر کے اپنا ہمنوا بنا لیا جیسے کہ مسلمانوں نے تاتاریوں کے باب میں کیا۔ یہ ہی ایک ممکن میدان ہے جس میں مغرب کی طاقت کو اپنے حق میں بدلہ جا سکتا ہے۔

عمار خان ناصر صاحب نے ایک اور بہت اہم بات کی ہے کہ یورپ میں ریاست کی سطح پر مذہبی جبر کے خاتمے نے اب اپنے مذہب کی تبلیغ کے لیے سازگار ماحول فراہم کیا ہے۔ یوں ہی پر امن انتقال اقتدار ایک ایسی شئے ہے جس سے ہم کو مغرب سے سیکھنا چاہیے کیونکہ یہ وہ چیز ہے جس کے نا ہونے سے ہمیں مسلم تاریخ میں موروثی بادشاہت یا جبری اقتدار جیسی چیزیں ملتی ہے۔ مغرب سے حاصل کردہ ایسی بہت سے مفید چیزیں ہیں جن کو عمار صاحب نے بیان کیا ہے۔

مولانا زاہد الراشدی صاحب نے اپنے مقالہ میں ایک نو مسلم امریکی خاتون کے حوالے سے بتایا کہ مغرب میں اگر آپ نے اسلام کی بات کرنی ہے تو شاہ ولی اللہ رح کی زبان میں بات کریں۔ اس بات کو مولانا نے ڈاکٹر یحییٰ بٹ کے حوالے سے بھی بیان کیا۔ شاہ ولی اللہ رح کی زبان سے مراد یہ ہے کہ مغرب سے لاجیکل گفتگو کی جا سکتی ہے اس منطق کے لہجے میں روحانیت کو ملا کر ہی مغرب کو قائل کیا جا سکتا ہے۔

مولانا زاہد الراشدی صاحب نے ڈاکٹر مہاتیر محمد کے حوالے سے بھی ایک اور جانب توجہ دلائی کہ اقوام متحدہ کا جو انسانی منشور اور بین الاقوامی معاہدات ہیں ان کے بارے میں مسلمانوں کے تحفظات ہیں۔ کیونکہ جب یہ معاہدات ہوئے تو اس وقت اکثر مسلم ممالک آزاد نہیں تھے اب صورتحال بدل چکی ہے اب ان معاہدوں اور منشور پر ازسرنو غور ہونا چاہیے اور اس کے لیے مسلم ممالک مکالمہ کے لیے تیار ہیں۔ یہ مسلم و مغرب کے مابین مکالمہ کی ایک عمدہ صورت ہو سکتی ہے اس پر اگر کوشش کی جائے تو اچھے نتائج برآمد ہو سکتے ہیں۔

ڈاکٹر ممتاز احمد صاحب کی گفتگو بھی کافی اہم اور غور طلب ہے۔ اس کے آغاز میں ڈاکٹر صاحب نے کہا کہ اسلام اور مغرب کے بارے میں یہ بات یاد رکھنے کی ہے کہ اسلام ایک عالمی نظریہ ہے جبکہ مغرب جغرافیائی اکائی ہے۔ اس لیے یہ مکالمہ اسلام اور مغرب کے مابین بلکہ عالم اسلام اور مغرب کے مابین بنتا ہے۔ پھر عالم اسلام اور مغرب کے اندر بھی اتنے اختلافات ہیں کہ یہ اندرونی اختلافات و تضادات اتنے ہی اہم جتنے مغرب اور عالم اسلام کے۔

ڈاکٹر صاحب نے ایک اور بہت اہم بات کی کہ اسلام کو تقابل ادیان کے ماہرین Eastern Region میں شمار نہیں کرتے بلکہ اس کو ہمیشہ مغربی مذاہب میں شمار کیا جاتا ہے۔ کیونکہ اسلام مشرقی مذاہب ہندومت، کنفیوشس، بدھ مت کی بنسبت مغربی مذاہب عیسائیت و یہودیت کے زیادہ قریب ہے۔

ڈاکٹر ممتاز احمد صاحب نے لکھا ہے کہ ہمیں مغرب کے بارے میں کوئی فیصلہ کرنے سے پہلے یہ سوچنا چاہیے کہ مغرب سارے کے سارا غلط نہیں ہے وہاں پر افغانستان و عراق پر حملے کے خلاف مظاہرے ہوئے۔ نوم چومسکی کی صورت میں ایک توانا آواز ہے جو مظلوموں کے حق میں مسلسل لکھ رہے ہیں بالخصوص فلسطینوں کے حق میں انہوں نے بہت مضبوط لکھا ہے۔

ڈاکٹر ممتاز احمد صاحب نے اپنا تجربہ بیان کیا ہے کہ امریکہ میں ایک چرچ میں ایک پریکٹس کی کہ اسلام کا لفظ سنتے ہی آپ کے ذہن میں کیا آتا ہے تو شرکاء نے لکھا اسامہ بن لادن، صدام حسین، طالبان، انتہا پسندی، دہشت گردی صرف ایک شخص نے باکسر محمد علی کا نام لیا۔ یہ پریکٹس بتاتی ہے کہ مغرب میں اسلام کا تعارف کن لوگوں اور چیزوں سے جانا جاتا ہے جب تک ہم مغرب کو اسلام کے درست چہرے سے متعارف نہیں کراتے تب تک وہ ہماری بات نہیں سنیں گے۔
ڈاکٹر مشتاق صاحب نے بین الاقوامی قانون کے بارے میں بتایا کہ اس کے دو مآخذ ہیں ایک معاہدات جس کے ذریعے ریاستیں اپنی مرضی کا اظہار کرتی ہیں اور دوسرا عرف۔ دوسری جانب اسلامی قانون میں مسلمانوں کے دوسری اقوام کے ساتھ تعلقات کے حوالے سے بتایا ہے کہ جب فقہاء نے اس کے اصول و قواعد لکھے تو اس وقت وطنی ریاست یا قومی ریاست کا تصور نہیں تھا اس لیے استعماری عہد کے بعد لوگوں کو دارالاسلام اور دارالحرب کی اصطلاحات عجیب لگیں۔ اسی کی دہائی میں ڈاکٹر وحبہ ذحیلی، ابو زہرہ مصری اور عبدالحمید سلمان نے متبادل نظریات پیش کئے مگر ڈاکٹر مشتاق صاحب نے منٹگمری واٹ کا بات کا حوالہ دیا ہے کہ جیسے جیسے روایتی اسلام مضبوطی سے سامنے آئے گا دارالاسلام اور دارلحرب کے تصورات دوبارہ زندہ ہو جائیں گے۔ ڈاکٹر صاحب نے اسلام اور مغرب کو بحث کو شریعت اسلامی اور مغربی قانون کی بحث تک بڑھانے کی بات کی ہے۔ ڈاکٹر صاحب نے بین الاقوامی قانون سے متاثر مسلم راہنما جو اس کے اثر میں اس حد تک گھرے ہوئے ہیں کہ شریعت کو کم سے کم حد تک لانے کی بات کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ شریعت چند چیزوں کا نام ہے باقی کو عقل و فطرت پر چھوڑ دیا گیا ہے کی فکر کو مسترد کیا ہے۔ان متجددین کا عقل و فطرت پر زور ہیومنزم سے متاثر ہونے کا ثبوت ہے کیونکہ عقل و فطرت کا پروپیگنڈا ہیومنزم سب سے زیادہ کرتا ہے۔ ڈاکٹر صاحب نے بتایا ہے کہ ہم انسانیت سے کوئی اختلاف نہیں مگر ہیومنٹی جس فکر کی اصطلاح ہے اس کی الگ تعبیرات ہیں۔

ڈاکٹر الطاف قادر نے سوات اور شمالی علاقہ جات میں موجود سکھ اقلیت کے حوالے سے بات کی ہے کہ مقامی مسلم آبادی کا ان سے رویہ دوستانہ ہے، یہ بھی مسلم آبادی سے گھل مل کر رہتے ہیں۔ تقسیم سے پہلے بھی سکھ یہاں موجود تھے۔ یہاں کے سکھ اس سماج میں ایسے گھلے ملے ہیں کہ کچھ سکھوں نے ہندوستان ہجرت کی تو کچھ سالوں بعد وہ واپس آ گئے کیونکہ وہاں کا سماج ان کو نہیں بھاتا تھا۔ یہاں کی اکثریت مون سکھ ہیں جو داڑھی منڈواتے، بال بھی کٹواتے ہیں اور پگڑی بھی نہیں پہنتے۔ سوات میں تحریک طالبان کے زمانے کے علاوہ مجموعی طور پر ان کو مکمل آزادی حاصل رہی ہے۔اود جب 1969 کے بعد سوات پاکستان کا حصہ بنا ہے ان کو حصول جائیداد میں بھی کوئی رکاوٹ نہیں ہے۔

ڈاکٹر طاہر مسعود نے کہا کہ بیشک دین اسلام حق ہے مگر اہل اسلام کے ہاں اس تصور حقانیت سے ایک چیز در آئی ہے کہ ہم دوسری اقوام کو اپنے سے کمتر سمجھتے ہیں اور یہ رویہ ہمیں اپنی خامیوں سے صرف نظر کا موقع دیتی ہے جو کہ خطرناک بات ہے کیونکہ یہ اصلاح کے دروازے بند کرنے کا سبب ہے۔

سجاد میر صاحب نے بھی ڈاکٹر طاہر مسعود صاحب سے ملتی جلتی بات کی اور اس بارے میں سلیم احمد صاحب کا خیال نقل کیا ہے کہ ہمیں غور کرنے کی ضرورت ہے کہ شفاعت کے تصور نے ہمیں بے عملی کی طرف تو راغب نہیں کیا؟
سجاد میر صاحب نے مغرب کو مغربی یورپ اور مشرقی یورپ میں بھی تقسیم کیا ہے اور اصل مسئلہ سرمایہ دارانہ نظام کو قرار دیا ہے جو دنیا کے تمام وسائل پر قابض ہونا چاہتا ہے اس قبضے نے ہی مختلف مسائل کو جنم دیا ہے۔ انتہاء پسندی، دہشتگردی اور بنیاد پرستی اسی سامراجی قبضے کا نتیجہ ہے۔

سید متین احمد شاہ صاحب کا مضمون بہت اہم مضمون ہے جس میں علامہ اقبال رح کی فکر کے تناظر میں اسلام اور مغرب کے مابین تعلقات پر غور کیا گیا ہے۔ علامہ اقبال رح اس لحاظ سے بہت اہم شخصیت ہیں کہ انہوں نے افکار مغرب کا جس گہرائی سے جائزہ لیا ہے وہ دوسرے مسلم مفکرین کے ہاں کم ملتا ہے۔ کیونکہ اقبال رح نے اپنی زندگی کا ایک وقت مغرب میں گزارا اور وہ وقت مغربی استعمار کے عروج کا زمانہ تھا اور بیشتر مسلم ممالک پر ان کا قبضہ تھا۔

اقبال کے حوالے سے بارے میں لوگوں کے ہاں یہ غلط فہمی پائی جاتی ہے کہ وہ مغرب کے مداح تھے۔ اس کے لیے دلیل کے طور پر اقبال کا وہ کلام پیش کیا جاتا ہے جس میں انہوں نے مغرب کی علم دوستی اور حریت فکر کی تعریف کی ہے۔ متین شاہ صاحب نے اس غلط فہمی کو تفصیل سے دور کرنے کی کوشش کی ہے انہوں نے ڈاکٹر سیّد عبداللہ کے حوالے سے بتایا ہے کہ مغرب کے حوالے سے اقبال کے افکار کو تین عنوانات میں تقسیم کیا جاتا ہے۔
مغربی سیاست
مغربی معاشرت
مغربی فکریات

اس پر متین احمد شاہ صاحب نے بتایا ہے کہ اقبال مغربی سیاست کے سخت ناقد تھے بالخصوص دین و سیاست کی تفریق کے وہ سخت مخالف تھے جو کہ یورپ کے مخصوص تصور حیات کے تحت عمل میں آئی۔

ایسے ہی اقبال نے اشتراکیت جو کہ مغرب کا ہی سیاسی نظام ہے پر بھی اقبال نے نقد کیا ہے اگرچہ اس کے مثبت پہلوؤں کی تائید بھی کی ہے۔ اقبال رح نے اشتراکیت بطور فلسفہ حیات کے کو خالص ملحدانہ تحریک قرار دیا، جس کی بنیاد خدا پرستی کی بجائے شکم پرستی پر ہے۔

مغربی معاشرت پر بھی اقبال رح کی فکر کا جائزہ لیا جائے تو ہمیں اقبال رح اس کے ناقد نظر آتے ہیں کیونکہ یہ انسان کو اس کی فطری شرافت سے محروم کر کے اسے حیوان کی سطح پر لے آئی ہے۔ اس کے سب سے بڑے خصائص مے خوری، عریانی ہیں۔ یہ فساد آدمیت کے سوا کچھ بھی نہیں۔

جہاں تک تیسرے پہلو کا تعلق ہے تو اقبال رح کی مغربی فکریات پر تنقید آج بھی اسی طرح Relevant ہے جیسی اقبال کے اپنے عہد میں تھی کیونکہ مابعد جدیدیت نے فکری گمراہوں کے سفر کو تیز کیا ہے کم نہیں۔فکر اقبال رح جدیدیت کے خلاف ایک جنگ تھی جس سے مابعد جدیدیت کے افکار سے نمٹنے کے لیے بھی مدد لی جا سکتی ہے۔

متین احمد شاہ صاحب نے بتایا ہے کہ اقبال رح مغرب کے متعصب ناقد ہرگز نہیں تھے۔ اس لیے جہاں انہوں نے اس کی خرابیوں پر تنقید کی ہے اس کے محاسن اور مثبت پہلوؤں کو سراہا اور اس میں کسی بخل کا کام نہیں کیا۔ میرے خیال سے یہ متین احمد شاہ صاحب کا اقبال رح کو بہترین خراجِ تحسین ہے جس میں انہوں نے اقبال رح کے فکری توازن کو بیان کیا ہے۔

اس مضمون میں مغربی تہذیب کے حوالے سے مسلمانوں کے رویے کے بارے میں ڈاکٹر محمود احمد غازی رح کا ایک واقعہ بیان کیا ہے کہ ڈاکٹر صاحب نے یورپ میں ایک اجتماع میں خذ ما صفا والا رویہ تفصیل سے بیان کیا تو وہاں موجود تقریباً سبھی مغرب کے نمائندہ لوگوں نے کہا کہ مغرب آپ کو آپ کی شرائط پر اپنی ٹیکنالوجی اور تہذیب وتمدن سے استفادہ کی اجازت نہیں دے گا مغرب کی رائے میں یہ پورا پیکج ہے جسے آپ کو جوں کا توں قبول کرنا پڑے اس میں آپ کو اخذ و انتخاب کی اجازت نہیں ہے۔

متین احمد شاہ صاحب کا یہ مضمون فکر اقبال کے حوالے سے ایک بہترین کاوش ہے جس کو فکر اقبال رح کے ماہرین کو ضرور پڑھنا بھی چاہیے۔

یہ بھی پڑھیں: مغربی ذرائع ابلاغ : اسلامی اصطلاحات کی متعصبانہ کوریج 
(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20