ملک بچانا ہے یا ملائیت؟ —– عطا محمد تبسم

0

ریاست جب اپنے کردار کا تعین نہ کرسکے، اور عوامی مطالبات کو اپنے اقتدار کے حصول کے لیے استعمال کرے، اور انھیں دھوکہ دے اور اپنے وعدوں سے مکر جائے تو عوام کے پاس اپنے جائز مطالبات کو منوانے کے لیے کیا باقی رہ جاتا ہے۔ گذشتہ دو دن سے ان مطالبات میں شدت ہی نہیں آئی، بلکہ اب گولیاں چل رہی ہیں، شہادتیں ہورہی ہیں، خون بہہ رہا ہے، اور آگ لگی ہوئی ہے۔ لیکن کسی کے پاس نہ مصدقہ اطلاعات ہیں، نہ ایسی اطلاعات قومی میڈیا پر نظر آرہی ہیں، افواہوں کا ایک سیلاب ہے، جو ہر آن آپ کو واٹس ایپ، سوشل میڈیا، یو ٹیوب، ٹیوٹر، اور مسیج کے شکل میں مل رہا اور عوام اس میں بہے چلے جارہے ہیں۔

اس وقت میڈیا اخبارات اور ذرائع ابلاغ کے ادارے اپنی ذمہ داری پوری کرنے سے قاصر ہیں، ریاست میں ابلاغ کے تمام مصدقہ ذرائع کا گلا گھونٹ دیا گیا ہے۔ جس سے قومی یک جہتی پارہ پارہ ہورہی ہے۔ سچ وہی ہے جو پریس نوٹ میں لکھا ہے۔ ،، کسی دوسرے فریق کا کوئی موقف ہے، نہ وہاں کی حقیقی صورت حال کے بارے میں کوئی مستند معلومات، جھوٹی خبریں، تصاویر، ویڈیوز کے بھرمار ہے۔ پارٹی پروپیگنڈہ ہر طرف اس طرح دھند کی طرح پھیلا ہوا ہے کہ اس میں سچ کو ڈھونڈنا مشکل ہوگیا ہے۔ معاہدہ کیا تھا، کب ہوا، اس میں کیا لکھا ہے۔ یہ بات قومی اسمبلی کے ارکان کو بھی نہیں معلوم، مطالبات کے بارے میں بھی کچھ نہیں پتہ کہ احتجاج کرنے والے اور دھرنا دینے والے کیا چاہتے ہیں۔ لیکن اس بات کی گونج سب سے زیادہ ہے، اور اس میں کوئی شک بھی نہیں کہ مظاہرین کی اکثریت ختم نبوتﷺ اور ناموس رسالتﷺ کے پروانے اور ان پر کٹ مرنے کا عزم لیے ہوئے ہیں۔ پاکستان کے قیام کے بعد ریاست نے وہ ذمہ داری نہ پوری کی، جس کے لیے عوام نے جدوجہد کی تھی اور یہ خطہ حاصل کیا تھا۔ رمضان کا مقدس مہینہ اور جس انداز میں لاہور میں دھرنا ختم کرانے کے لیے آپریشن کیا گیا ۔ اس نے ہر مسلمان کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے۔ ختم نبوت اور ناموس رسالت صلی اللہ علیہ وسلم کے پروانوں پر گولیاں برسانے والوں نے دنیا اور آخرت میں اپنے منہ پر سیاہی پھیر لی۔ ریاست مدینہ کا نعرہ لگانے والوں کے لیے یہ ایک سیاہ داغ ہے، جو ان کی پیشانی پر ہمیشہ لگا رہے گا۔

ہماری قومی تعمیر میں ایک خرابی مضمر رہی اور وہ مذہب کو وطنیت یا قومیت کی بنیاد سمجھنا تھا جس کا خمیازہ ہم بھگت رہے ہیں۔ لیکن ہم اس طرف اشارہ کرنا بھی مناسب نہیں جانتے۔ ہمارا سارا زور انتظامی نااہلی پر ٹوٹتا ہے جو اپنی جگہ ایک مسئلہ ہے پر بنیادی مسئلہ نہیں ہے۔ اگر اس ریاست کی بنیاد مذہب ہے تو پھر اس پر پیش رفت کرنی ہوگی۔ مدرارس کے علماء تمام کے تما م ملائیت کے نظریات نہیں رکھتے۔ ان میں اچھے پڑھے لکھے معتدل افراد بھی ہیں۔ لیکن سب کو ملاء کہنے سے اور ملائیت کا طعنہ دینے سے بات نہیں بنتی۔ قادیانیوں کا ایک بہت فعال گروہ اس وقت لوگوں کو اسلام، مذہب، اور مساجد اور مدارس سے برگشتہ کرنے کے لیے دن رات سرگرداں ہیں۔ وہ فائینل راونڈ کی تیاری کررہے ہیں۔ اس گروہ کا موقف یہ ہے کہ بالاآخر فائنل وقت آ پچار ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ “ہمارے سامنے دو آپشن ہیں۔ ملک بچانا ہے۔ یا ملائیت کو بچانا ہے؟۔ اگر ہم ملائیت کو بچاتے ہیں تو ملک ہاتھ سے نکل جاے گا جس کے نتیجے میں ملائیت بھی فنا ہوجاے گی۔ جب ملک ہی نہ ہوگا تو ملائیت اپنی موت آپ مرجاے گی۔ ملائیت کی جگہ مسلح جتھے لے لیں گے۔” عوام کو ڈرایا جارہا کہ،، ان مسلح جتھوں کا نشانہ ہمارے وہ پڑھے لکھے لوگ ہونگے جو آج ان مسلح تنظیموں اور جتھوں کے خلاف خاموش ہیں۔ بلکہ اسلامی بننے کے فیشن میں ان کو سپورٹ بھی کرتے ہیں،، لیکن اصل بات جو اس میں پوشیدہ ہے وہ یہ کہ پاکستان کو اس کی بنیاد سے ہٹا دیا جائے، اس ملک کی بنیاد اسلام ہے، ریاست جب تک اس جانب پیش قدمی نہیں کرے گی، اس وقت تک یہی ہوتا رہے گا، اور کوئی بھی جماعت یا لیڈر مسلمانوں کے ان جذبات سے ضرور کھیلے گا، ریاست نے خود اس ملک میں انتہاء پسندی کے بیج بوئے ہیں، آج جن سے وہ پیچھا چھڑانے کے درپے ہیں، انھیں کھاد پانی مٹی اور گملے ریاستی اداروں نے فراہم کیے ہیں۔ آج ریاست ہر طرح کی انتہا پسند تنظیموں کی پشت پناہی سے کنارہ کش ہوجائے ۔ یہ سب اپنی موت آپ مر جائیں گے۔ سیاست میں ہر طرح کی پولٹیکل انجینئرنگ سے باز آجائیں، سیاست دانوں کو پارلیمانی نظام میں بر ا بھلا کرنے دیں، عوام ان سے خود نمٹ لیں گے۔ اپنے پسند کے لیڈر اور پارٹی لانے کے ان تجربات کو اب ختم کردیں، معیشت، تعلیم اور صحت کو بنیاد بنا کر ملک کی ترقی کے لیے کام کریں۔ تو سب کچھ ٹھیک ہوجائے گا۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20