کیف و سرور کا مظہر: کرم علی کیفی — یاسر رضا آصف

0

کچھ لوگ آپ پر پہلی ملاقات میں نہیں کُھلتے اور نہ ہی آپ پوری طرح ان کی شخصیت سے واقف ہو پاتے ہیں۔ ایسے لوگ عطر کی بند شیشی کی طرح ہوتے ہیں جس کا کارک مضبوطی سے جڑا ہوتا ہے جو گزرتے وقت کے ساتھ دھیرے دھیرے سرکتا ہے اور پھر پوری فضا کو معطر کر دیتا ہے۔ کرم علی کیفی فریدی بھی کچھ ایسی ہی شخصیت کے مالک تھے۔ مجھے ان کے نام کے ساتھ “تھا” لکھنا بالکل بھی اچھا نہیں لگ رہا۔ لگتا ہے جیسے وہ اب بھی ہم میں موجود ہیں۔ جس صبح انھوں نے اپنی جان، جان آفرین کے سپرد کی اس رات بارہ بجے تک راشد انصر اور میں اُن کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے اورآئندہ ہونے والے نعتیہ مشاعرے پر گفتگو کر رہے تھے۔ اُن کی مسکراہٹ اور تسلی بھرا لہجہ بھلائے نہیں بھولتا۔ انھیں ایک نعتیہ محفل میں شرکت کرنا تھی سو انھوں نے اجازت طلب کی اور موٹر سائیکل پر بیٹھ کر چلے گئے۔ ان کا آخری فقرہ اب تک میرے کانوں میں گونج رہا ہے کہ یاسر بھائی فکر نہ کیا کریں، اس مرتبہ بھی بہت عمدہ پروگرام ہو گا۔ کل ڈاکٹر اظہر صاحب کے ہاں ملتے ہیں۔ وہ پھر ملے بھی تو ایک چارپائی پر لیٹے ہوئے ملے۔ وہ گئے اور ایسے گئے کہ پھر کبھی لوٹ کر نہ آئے۔

اب میں پلٹ کر دیکھتا ہوں تو بہت سی یادیں ہیں۔ بہت سی باتیں ہیں۔ جو آپس میں رنگین ریشمی دھاگوں کی طرح الجھی ہوئی ہیں۔ مجھے بات کا سرا نہیں مل رہا اور میں تذبذب کے عالم میں بیٹھا سوچ رہا ہوں کہ بات کہاں سے شروع کروں۔ مجھے اپنی طالب علمی کا زمانہ یاد آتا ہے۔ جب میری خواہش تھی کہ ہر اس محفل میں جایا جائے جہاں شعر و سخن کی بات ہو۔ مجھے ایک دوست کے توسط سے علم ہوا کہ نگینہ چوک کے قریب ایک چوبارے پر شعری محفل ہو گی۔ سو میں پہنچ گیا۔

ہسپتال روڈ کو جانے والی سڑک کی نکڑ والی دکان کے اوپر شعری نشست کا اہتمام تھا۔ زینہ خاصہ تنگ تھا مگر کمرہ کافی حد تک کشادہ تھا یا شاید کھڑکیوں کے کھلنے کی بدولت کشادہ لگ رہا تھا۔ بورے والا سے محترم کاشف سجاد اور محترم اقبال سجن تشریف لائے ہوئے تھے۔ دیوار کے پیچھے آرٹسٹ مجنوں کے ہاتھ کا لکھا بینر آویزاں تھا۔ ایک بھرے بھرائے چہرے والا شخص، جس کا چہرہ دلآویز مسکان سے سجا ہوا تھا اور آنکھوں میں تیرتی ہوئی چمک دار نمی تھی۔ سر پر سندھی ٹوپی تھی جو بلاشبہ ان پر جچ رہی تھی۔ سفید شلوار قمیض پر ہلکے کرمزی رنگ کی واسکٹ پہنے ہوئے تھا۔ ہاتھ میں یاقوت سے مزین چاندی کی انگوٹھی تھی اور کلائی پر کیسئو کی ڈیجیٹل گھڑی تھی۔ وہ اس سج دھج کی بدولت سب سے الگ تھلگ دکھائی دے رہا تھا۔ وہ کرم علی کیفی فریدی صاحب تھے۔ انھوں نے لہک لہک کر اور دل آویز مسکان کے ساتھ کلام پڑھا اور خوب پڑھا۔ انھیں گفتگو کا سلیقہ تو تھا ہی، اس کے ساتھ کلام پیش کرنے کا ہنر بھی بخوبی جانتے تھے۔ کیفی صاحب کو ایک شعر پر وہ داد و تحسین ملی کہ واہ واہ کمرے کی کھڑکیوں سے باہر جھانکنے لگی۔ محترم کاشف سجاد نے وہ شعر چار سے پانچ مرتبہ ان سے فرمائش کر کے سنا اور ماتھا چوم کر انھیں داد دی۔ یہ میری کرم علی کیفی فریدی سے پہلی ملاقات تھی۔

دو ہزار بارہ میں ادب قبیلہ کی بنیاد پڑی تو کرم علی کیفی سے گاہے گاہے ملاقات ہونے لگی۔ ان کا انداز ہمیشہ مشفقانہ اور رویہ دوستانہ ہوتا تھا۔ بات سے بات نکالنے کا سلیقہ خوب جانتے تھے۔ اس لیے ان کی موجودگی میں کبھی بوریت کا احساس نہیں ہوا۔ مشاعرے میں جب بھی ان سے ملاقات ہوئی حال احوال پوچھتے، تعریفی الفاظ ادا کرتے اور ہمیشہ حوصلہ افزائی کرتے۔ میں نے “پگ پنجابی دی” کی تقریبِ رونمائی میں “کیفی جی دا شعری پراگا” کے عنوان سے مضمون پیش کیا تو نہ صرف انھوں نے اسے پسند کیا بلکہ اپنی مضامین پر مشتمل کتاب کا حصہ بھی بنایا۔ یہ حوصلہ افزائی اور تعلق داری کا سلسلہ یونہی چلتا رہا۔ وہ اپنی شاعری اور گفتگو سے سحر طاری کر دیتے۔ ان کی شاعری آسان الفاظ اور مترنم بحور پر مشتمل ہوتی۔ سادہ انداز میں گہری بات کہنے کے لیے خاص ہنر چاہئیے اور یہ ہنر کیفی صاحب کے پاس موجود تھا۔

ادب قبیلہ کا الیکشن ہوا اور وہ صدر منتخب ہوئے۔ مجھے انھوں نے جنرل سیکرٹری کے لیے منتخب کیا۔ میں نے انھیں صاف کہہ دیا کہ کیفی صاحب مجھ سے یہ نہیں ہو پائے گا۔ اس ذمہ داری کو نبھانے کے لیے وقت دینا پڑتا ہے اور میں شاید اتنا وقت نہ نکال پاؤں۔ ہم ڈاکٹر اظہر کمال کے کلینک میں بیٹھے تھے اور انھوں نے بلا جھجھک کہا کہ میں دیکھ رہا ہوں۔ آپ آسانی سے یہ سب کر لو گے۔ جہاں مشکل پیش آئے آپ مجھ سے پوچھ لینا اور میں مسلسل ان سے پوچھتا بھی رہا۔ انھوں نے کبھی صدر والا رعب اور دبدبہ نہیں دکھایا بلکہ بڑے بھائیوں والا شفقت آمیز رویہ ہی اپنایا۔ ان چار ماہ میں مجھے انھیں قریب سے جاننے کا موقع ملا۔

کرم علی کیفی فریدی انکسار سے بھرپور آدمی تھا جس کو سبھی احباب کو ایک جگہ دیکھ کر خوشی ہوتی تھی۔ وہ اکثر یہ بات کہتے تھے کہ خیال رکھنا، کسی کی دل آزاری نہ ہو، کوئی دوست ناراض نہ ہو جائے۔ ان چار مہینوں میں دو مرتبہ میں ناراض ہوا اور انھوں نے دونوں مرتبہ ہی مجھے فون کر کے بلا لیا۔ ایسے اچھے طریقے سے ملے کہ میری ناراضی دھری کی دھری رہ گئی۔ اگر کسی بات پر گرما گرمی ہوئی بھی تو اگلے روز وہ ہنستے مسکراتے ہوئے ملے۔ وہ بڑی سے بڑی بات کو درگزر کرنے کا ہنر بھی جانتے تھے۔ وہ ادب قبیلے کا ایسا دھاگا تھے جس میں سبھی موتی پروئے جاتے ہیں۔

میں نے ان سے معاشرتی حوالے سے بہت کچھ سیکھا۔ ادب قبیلہ کے لیے ان کی کاوشیں ڈھکی چھپی نہیں ہیں۔ چھت کی مرمت سے لے کر فلیکس کے لگوانے تک وہ موجود رہے۔ پچھلے چار ماہ میں چھ یا سات پروگرام ہوئے جن میں چار بڑے مشاعرے شامل تھے۔ سبھی کامیاب بھی ہوئے اور یہ سب ان کی ذاتی توجہ اور دلچسپی کے باعث ہوا۔ کاش میں یہ ساری باتیں ان کے روبرو کر سکتا۔ اب وہ وقت آ گیا ہے کہ ہمیں جیتے جی انسان کی حیثیت اور اس کے فن کے اعتراف میں تقاریب کا اہتمام کرنا ہو گا۔ گو کہ ہم نے کرم علی کیفی صاحب کو بہت عزت دی۔ انھیں ادب قبیلہ کا صدر چنا۔ پھر بھی اگر مقامی زندہ ادیبوں کے اعزاز میں سال میں تین سے چار پروگرام رکھ لیے جائیں تو کوئی مذائقہ نہیں۔ مجھے لگتا ہے میں جذبات کی رو میں بہنے لگا ہوں۔

مجھے کیوں ایسا لگتا ہے کہ ابھی فون آئے گا اور کیفی صاحب ملاقات کا کہیں گے۔ مجھے کیوں یقین نہیں آ رہا کہ وہ اس دنیا میں نہیں رہے۔ ڈاکٹر اظہر صاحب کی کال آئی کہ چئیرمین محترم شریف ساجد کے حکم کے مطابق جمعہ کے روز تعزیتی اجلاس ہو گا۔ میں نے کال کے اختتام پر فوراً کیفی صاحب کو کال ملا دی تا کہ پروگرام کو ترتیب دینے کے لیے مشورہ کر لوں۔ پھر ایک دم سے مجھے یاد آیا کہ یہ تو انھیں کا تعزیتی اجلاس ہے۔ بعد میں سوچ میں پڑ گیا، پھر مجھےسمجھ آئی کہ وہ کتنے اہم تھے۔ اور اب بھی میرا دل یہ ماننے کو تیار نہیں کہ وہ نہیں رہے۔ مجھے لگتا ہے وہ ہنستے مسکراتے اپنی موٹر سائیکل پر مجھے راستے میں مل جائیں گے اور کہیں گے کہ یاسر بھائی آپ بھی کمال کرتے ہیں۔ رمضان کا بابرکت مہینہ ہے اور نعتیہ مشاعرہ ابھی تک نہیں ہوا۔ چوں کہ ساری عمر انھوں نے زیادہ تر نعت ہی کہی، اگر یوں کہا جائے تو درست ہو گا کہ انھوں نے خود کو نعت کے لیے وقف کیے رکھا۔ میرا خیال ہے کہ اگر نعتیہ مشاعرہ رکھ لیا جائے تو ہو سکتا ہے وہ آ بھی جائیں۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20