جئے جئے۔۔۔ ہائے ہائے: بھٹو کی یاد میں

0

عجیب رشتہ رہا کچھ اس شخص سے
نہ نفرت کی وجہ ملی، نہ محبت کا صلہ

کسی کو چاہنے یا نفرت کرنے کا معاملہ کچھ عجیب سا ہے۔ ہم جس سے محبت کرتے ہیں اسے دل میں بسا لیتے ہیں، اور جس سے نفرت کرتے ہیں وہ ہمارے دماغ سے نہیں جاتا۔ یعنی آپ اسے چھوڑنا چاہتے ہیں لیکن وہ آپ کو نہیں چھوڑتا۔ اور کچھ یوں بھی ہے کہ محبت میں تو ہم گونگے بنے رہتے ہی۔ لیکن نفرت کا اظہار باآواز بلند کرتے ہیں۔ لیکن سب سے بڑی ٹھوکر یہ کھاتے ہیں کہ ممدوح کو فرشتہ اور مخالف کو شیطان جانتے ہیں۔ یہ بھول جاتے ہیں کہ انسان صرف انسان ہوتا ہے، جو کبھی مسجود ملائک تھا اور پھر راندہ درگاہ بھی ہوا
اس کا سارا شرف صرف انسان ہونے ہی میں ہے۔

بزم انجم میں قبا خاک کی پہنی میں نے
اور میری ساری فضیلت اسی پوشاک سے ہے

بھٹو، جس کا نام ہے، اس کے ساتھ بھی کچھ یوں ہی معاملہ ہے۔ اس کے چاہنے والوں کے دلوں سے وہ نہیں جاتا لیکن اس سے نفرت کرنے والے بھی اسے اپنے دماغ سے نہیں نکال پاتے۔
ہماری قوم بھی یہ فیصلہ نہیں کرسکی کہ اس سے محبت کرے یا نفرت۔ ایک عالم اس کا دیوانہ ہے۔ اس کی ہر ہر ادا پہ مر مٹنے والا تو دوسری طرف بہت سے ایسے ہیں جن کے دلوں میں کانٹے کی طرح کھٹکتا رہتا ہے۔

ایک بھٹو وہ ہے جس نے صدیوں سے غلام اس خطے کے بے زبان عوام کو زبان دی۔ ان کو اپنی عزت نفس کا احساس دلایا۔ اسی نے تیسری دنیا کے عوام کو اپنی طاقت کا احساس دلایا۔ وہ جس کے سر پر مملکت خدادا کو متفقہ آئین عطا کرنے کی کلغی سجی ہے۔ اور وہ جس نے گھاس کھا کر بھی ایٹم بم بنانے کا اعلان کیا، آج ہماری جان کے درپے دشمن کی راہ کی سب سے بڑی رکاوٹ یہی ایٹم بم ہے۔ وہ جس نے شاہ فیصل کے ساتھ مل کر اسلامی ملکوں کو اتحاد کی راہ دکھائی تھی، وہ جس نے خلیجی ممالک سے دوستیاں کیں، پاسپورٹ کا حصول آسان بنایا اور مجھ جیسے بے روزگاروں کے لئے روزگار کے نئے دروازے کھول دئے۔ آج اس ملک کی معیشت کی شہ رگ وہی بیرون ملک پاکستانی ہیں جو مشرق وسطی اور خلیجی ممالک سے اس ملک کی لاغر معیشت کو تازہ خون فراہم کرتے ہیں۔


وہ جو اپنی بادہ نوشی کا اقرار پاک بازوں کے اس ملک کے لاکھوں کے مجمع میں کیا کرتا تھا۔ وہ جو گرمئی گفتار میں دشنام روا رکھتا تھا لیکن اپنی غلطی بھی مان لیتا تھا۔


یا پھر وہ بھٹو ہے جو ایک جاگیردار خاندان کا چشم وچراغ تھا۔ جس کی آمرانہ طبیعت اسے تختہ دار تک لے گئی۔ ایک منتقم مزاج شخص، جس کے نزدیک مخالف کا صرف ایک علاج تھا، “Fix him”. جسے بہترین لوگ ملے لیکن موقع پرست اور خوشامدیوں نے اسے ان مخلص کارکنوں سے دور کردیا۔ وہ جس نے تیزی سے ترقی کرتے بنک اور دیگر ادارے قومی ملکیت میں لے کر معیشت کا گلا گھونٹ دیا۔ وہ جس نے مخالفین کو تمسخر آمیز طور پر مخاطب کرنے کی بنا رکھی۔ جس نے متحدہ پاکستان کے آخری دنوں میں اس ملک کو قائم رکھنے کی آخری کوششیں کرنے والوں کی ٹانگیں توڑنے کی دھمکی دی اور بہت سوں کے نزدیک اس کا سب سے ناقابل معافی جرم، یعنی “ادھر ہم ادھر تم” ۔
وہ جو اپنی بادہ نوشی کا اقرار پاک بازوں کے اس ملک کے لاکھوں کے مجمع میں کیا کرتا تھا۔ وہ جو گرمئی گفتار میں دشنام روا رکھتا تھا لیکن اپنی غلطی بھی مان لیتا تھا۔

بھٹو کیا تھا اور کیا نہیں تھا۔ وہ اچھا تھا یا برا۔ یہ فیصلہ تاریخ کرے گی یا اہل سیاست۔ مجھے اس سے غرض نہیں۔

ان کا جو کام وہ اہل سیاست جانیں۔

میں تو آج اس کی بات کر رہا ہوں جس سے میں کبھی محبت اور کبھی نفرت کرتا رہا۔ میں صرف اپنے اس رشتے کی بات کر رہا ہوں جو میرے جیسے عام سے، سیاسی گتھیوں سے نابلد، بہت سے دوسرے پاکستانیوں کا بھٹو کے ساتھ ہے۔ آج میں بھٹو سے اپنے اس رشتے کی بات کرنا چاہتا ہوں جو اسے اخباروں میں پڑھ کر، اس کی تصویریں دیکھ کر، مجمع عام میں اس کی تقریر سن کر، ریڈیو اور ٹی وی پر اس کے خطاب سن کر، قائم ہوا۔

اور میرے دوسرے تمام قصوں کی طرح یہ داستان بھی اس وقت کی نہیں ہے جب آتش جوان تھا ۔بلکہ اس سے بہت پہلے کی ہے یعنی جب اسیر پنجہ عہدِ شباب کرکے، میرا بچپن مجھے برباد کر کے کہیں نہیں گیا تھا اور ابھی میں بچہ ہی تھا اور تیسری جماعت میں پڑھتا تھا۔

تاریخ تو یاد نہیں یہ گرمیوں کے دن تھے۔ اپوا بوائز پرائمری اینڈ سیکنڈری اسکول کورنگی، میرے گھر یعنی کورنگی ایف ایریا سے خاصا دور تھا۔ یا شاید اس لئے دور لگتا تھا کہ بیچ میں کورنگی کی مین روڈ پڑتی تھی اور میری ماں اپنے کلیجے کے ٹکڑے کو دوسرے بچوں کے ساتھ روانہ کرتی تھی تاکہ سب مل جل کر وہ خوفناک سڑک پار کرسکیں جس پر چنگھاڑتی بسیں اور ٹرک کئی لوگوں کی جان لے چکے تھے۔ خیر یہ دوسرا قصہ ہے۔
تو یہ گرمیوں کے دن تھے۔ میں تیسری جماعت میں پڑھتا تھا اور ہمیں سارے مضمون یعنی اردو، دینیات، تاریخ جغرافیہ اور حساب وغیرہ ایک ہی استاد پڑھاتا تھا۔ یہ استاد دوسرے مضامین پڑھاتے ہوئے تو بریشم کی طرح نرم ہوتا تھا لیکن حساب پڑھاتے ہوئے فولاد بلکہ جلاد بن جاتا تھا۔ اور دوسری طرف میں حساب میں بالکل کورا تھا، جو کہ آج بھی ہوں۔ ابا گھر سے صبح نکلتے تو شام ڈھلے تھکے ماندے گھر آتے۔ ماں بے چاری چار جماعت پڑھی ہوئی اور اس غریب کو اپنے پانچ بچوں سے ہی کہاں فرصت تھی۔ بڑی بہن جو چوتھی جماعت میں تھی وہ بھی حساب میں بخشی ہوئی تھی اور مجھ سے زیادہ گئی گذری تھی۔ چناں چہ روز حساب کے پیریڈ میں یا تو مرغا بنا ہوتا یا گھر کا کام نہ کرنے پر اپنی نازک ہتھیلیوں پر بید کھاتا تھا۔

اور اس دن بھی حساب کا کام نہیں کیا تھا اور گھر سے اسکول جاتے ہوئے یہی فکر تھی کہ آج ہاتھ پر بید پڑیں گے یا مرغا بننا پڑے گا۔ ابھی ہم آدھے رستے میں تھے کے اسکول کی جانب سے کچھ لڑکے واپس آتے دکھائی دئے۔ پتہ چلا کہ وزیر خارجہ مرگیا ہے اور آج چھٹی ہے۔
میرے لئے تو یہ ایک بڑی خوشخبری تھی۔ بید کی مار اور مرغا بننے کی فکر بھول بھال اس خبر کی تصدیق کے لئے دوڑے دوڑے اسکول پہنچے۔ جالی دار دروازے والے نوٹس بورڈ پر چھٹی کے نوٹس کے ساتھ ہی جنگ اخبار کا پہلا صفحہ بھی چسپاں تھا جس میں سیاہ حاشیہ میں خبر تھی۔ ” وزیر خارجہ محمد علی بو گرہ انتقال کر گئے۔” ہمیں نہیں پتہ کہ یہ کون تھے، نہ یہ علم تھا کہ وزیر خارجہ کیا ہوتا ہے۔ ہمارے لئے بس اتنا کافی تھا کہ آج چھٹی ہے۔
اس خبر کے نیچے ایک خوبصورت اور خوش لباس شخص کی تصویر تھی اور ساتھ خبر تھی کہ ” ذوالفقارعلی بھٹو، وزیر خارجہ مقرر کردئے گئے۔”
چونکہ نئے وزیر خارجہ کی تصویر ایک “خوشخبری” سے منسلک تھی، اس لئے ہمیں یہ وجیہہ، وزیر خارجہ بہت بھائے۔

اور یہیں سے اس رومانس کا آغاز ہوا جو کبھی محبت اور کبھی نفرت کا روپ دھار لیتا۔ جو آج بھی اسی طرح جاری ہے۔ کھٹا، میٹھا، کبھی تلخ کبھی شیریں اور کبھی نمکین۔
کورنگی میں جہاں ہم نے گھر لیا تھا وہاں اکثریت مزدور طبقے کی تھی۔ نوجوان تو صبح سویرے روزگار کی تلاش میں نکل جاتے، بوڑھے گھروں کے باہر بیٹھے گپ شپ کر رہے ہوتے اور حقہ پی رہے ہوتے۔ اور جب جاڑا آیا اور بوڑھے گلی کے نکڑ پر دھوپ تاپنے کے لئے اپنی چوپال جماتے اور کہیں سے ایک اخبار مانگ لاتے اور آتے جاتے بچوں کو پکڑ کر اخبار پڑھواتے۔ یہاں اپنی تعریف نہیں، استادوں کی قابلیت کا ذکر مقصود ہے کہ میں پکی پہلی جماعت سے اردو اخبار پڑھ لیتا تھا، گو کہ سمجھتا کچھ نہیں تھا۔ اور آج بھی بہت سی خبریں نہیں سمجھ پاتا ہوں۔
تو ان جاڑے والے دنوں میں ان دھوپ تاپنے بزرگوں نے ایک دن مجھے پکڑ کر بٹھا لیا کہ خبریں پڑھ کر سناؤ۔ اس میں ایک خبر بھارتی وزیر خارجہ سردار سورن سنگھ اور ہمارے وزیر خارجہ ذوالفقار علی بھٹو کی ملاقات کی تھی۔ پگڑپوش سردار جی کے مقابلے میں بھٹو کوئی فلمی ہیرو لگتے تھے۔ یہیں سے دماغ میں یہ بات بھی بیٹھ گئی کہ ہمارے لیڈر ہندوستانیوں سے زیادہ خوبصورت اور وجیہہ ہیں کہ ان دنوں نہرو اور سورن سنگھ کے مقابلے میں ایوب خان نواب کالا باغ اور بھٹو کی خوش پوشاک تصویریں نظر آتیں۔

اگلے ایک ڈیڑھ سال تو یوں ہی گذرے ہمیں بھی بھٹو سے کوئی خاص دلچسپی نہیں تھی کہ ان دنوں خبروں میں زیادہ تر ایوب خان اور نواب کالا باغ ہی نظر آتے تھے۔ پھر سن پینسٹھ کی جنگ شروع ہوگئی۔ فوجی جوان تو ہمارے دلوں کی دھڑکن تو تھے ہی، ہمارے تین اور ہیرو تھے، ایوب آخاں، بھٹو اور نیوز ریڈر شکیل احمد۔ مجھے یاد نہیں بھٹو کا اس جنگ میں کیا کردار تھا، ہاں شاید ان دنوں اقوام متحدہ میں کچھ ایسا بیان دیا تھا کہ ہم ہزار سال تک بھی لڑ سکتے ہیں، وغیرہ وغیرہ۔
پھر ایک دن سنا کہ جنگ بندی ہوگئی ہے اور ایوب خان اور شاستری کے درمیان تاشقند میں مذاکرات ہو رہے ہیں۔ پھر نہ جانے کیا کچھ ہوا، کچھ دن تو یوں ہی خاموشی سے گذرے، پھر بھٹو صاحب کے بیانات سامنے آئے اور وہ ایوب حکومت سے الگ ہوگئے۔ انہوں نے بتایا کہ تاشقند میں کوئی خفیہ معاہدہ ہوا تھا۔ وہ کیا تھا، اس کے بارے میں ایک مدت تک چرچا رہا، بھٹو صاحب اور تاشقند ایوب خان کے لئے مسئلہ بنتے رہے۔ یہ اور بات ہے کہ مجھ بے عقل کو آج تک پتہ نہیں چلا کہ تاشقند میں ہوا کیا تھا؟

اور یہ شاید سن اڑسٹھ یا انہتر کی بات ہے۔ ایوب خان صاحب کا عشرہ ترقی کا چرچا تھا۔ کراچی میں جہاں اب ایکسپو سنٹر ہے وہاں ایک نمائش ” ڈیکا راما” کے نام سے لگی تھی جس میں ایوب کے عشرہ ترقی کے مظاہر کی نمائش کی جاتی تھی۔ لیکن یہ بڑی پھیکی سی نمائش تھی۔ انہی دنوں میں طلبہ میں کچھ بے چینی تھی۔ معراج محمد خان، علی مختار رضوی، سعید حسن، مسرور احسن اور فتحیاب علی خان ان کے سر خیل تھے۔ مجھے نہیں یاد کہ مسئلہ کیا تھا۔ ہاں اتنا یاد ہے کہ چینی کی قیمت بڑھ جانے پر عوام میں اضطراب تھا۔ عوام کی بے چینی، طلبہ کی طاقت، تاشقند کا راز، ان سب نے مل کر ایک نئے بھٹو کو جنم دیا۔ اب یہ بھٹو آمریت کی مخالفت کا استعارہ بن چکا تھا۔ وہ بھٹو جو کچھ دن پہلے ترقی پسند عناصر کو اپنے ساتھ ملا کر پاکستان پیپلز پارٹی کی بنیاد رکھ چکا تھا۔ پاکستان کے عوام جنھوں نے اب تک مسلم لیگ، ریپبلکن پارٹی جیسی جماعتیں دیکھیں تھیں جن پر جاگیرداروں کا قبضہ تھا، ان کے لئے پیپلز پارٹی ایک نئی صبح، ایک نئی امید کی کرن اور تازہ ہوا کا ایک جھونکا تھی اور بھٹو عوام کے دلوں کی دھڑکن۔
ایوب خان کے خلاف تحریک زور پکڑتی گئی۔ بھٹو کے ساتھ ایر مارشل اصغر خان اور جسٹس ایس ایم مرشد کے نام سنائی دینے لگے۔ ایوب کے راج سنگھاسن کے پائے ڈولنے لگے اور آخر ایک دن ایوب نے راج پاٹ اپنے پیٹی بھائی یحی خان کے حوالے کیا اور اپنے گاؤں ریحانہ کی راہ لی۔

اب واقعات بڑی تیزی سے بدلتے رہے۔ مشرقی پاکستان میں اگرتلہ سازش کیس کے غلغلے میں عوامی لیگ اور شیخ مجیب الرحمان کی دھوم شروع ہوگئی۔ یہاں یحی خان نے الیکشن کا اعلان کردیا۔
میں کالج میں داخل ہو کا تھا۔ بھٹو نے ” اسلام ہمارا دین، جمہوریت ہماری سیاست اور سوشلزم ہماری معیشت “کا نعرہ لگایا جو کہ بڑا دلفریب لگا، گو کہ مجھے پوری طرح خبر نہیں تھی کہ سوشلزم کے معنی کیا ہوتے ہیں۔ میرے ایک دوست جو پیپلز پارٹی کے ایک اہم رکن کے ہاں کام کرتے تھے اور پارٹی کے بڑے حامی تھے، ایک دن محلے کی لائبریری جہاں پارٹی کا دفتر قائم ہوا تھا، وہاں مجھ سے پارٹی کی ممبرشپ کے فارم پر دستخط کروائے۔ اس کے دوچار آنے بھی انہوں نے ہی دئے۔ مجھے خوشی تھی کہ اب میں بڑا ہوگیا ہوں اور ایک سیاسی جماعت کا رکن ہوں۔
کالج میں داخلہ لیا اور ساتھ ہی اسلامی جمیعت طلبہ کے کارکن جنھوں نے داخلے میں میری مدد کی تھی مجھے اپنے ساتھ جمیعت میں لے گئے۔ یہاں مجھے سوشلزم اور کمیونزم کے معنی سمجھائے گئے۔ ادھر گھر میں میرے ابا بھی جماعت اسلامی کے حامی تھے۔ گھر میں چٹان، ترجمان القرآن، زندگی، اردو ڈائجسٹ اور جسارت جیسے رسالے اور اخبار آتے تھے۔ دوستوں کے ساتھ لیل و نہار، مساوات وغیرہ پڑھتا۔ شام کو گلی کے نکڑ پر بنی چوپال میں دوستوں سے سیاسی بحثیں کیا کرتا۔
میں پڑھائی کے لئے اپنی دادی کے پاس سوسائٹی، عالمگیر روڈ پر رہتا تھا۔ وہاں کمال اظفر پیپلز پارٹی کی طرف سے قومی اسمبلی کے لئے امیدوار تھے، ان کے مقابلے میں جماعت اسلامی آزاد امیدوار مولانا ظفر احمد انصاری کی حمایت کررہی تھی۔ ہمارا گھرانہ مولانا انصاری کا حمایتی تھا لیکن میں سارا دن دوستوں کے ساتھ کمال اظفر کے الیکشن آفس میں بیٹھا رہتا جہاں ہر وقتی چائے سموسے اور بوتلیں چلتی رہتیں۔ جب کوئی بڑا لیڈر آتا تو ان کے لئے اور بڑی ‘ بوتلیں” آتیں۔
غرض میں عجب چوں چوں کا مربا بنا ہوا تھا۔ بھٹو صاحب کی خوش پوشاکی دل کو بھاتی۔ ان کی تقریر کا انداز دل کو چھوتا، لیکن دماغ ان کی باتوں کو رد کرتا۔ الیکشن کے دنوں میں، میں اپنے گھر کورنگی آگیا۔ پورے پاکستان میں کفرواسلام کا معرکہ چھڑا ہوا تھا۔ ہر ایک سمجھتا تھا کہ اصل مقابلہ جماعت اسلامی اور پیپلز پارٹی کے درمیان ہے۔ رات گئے تک آنے والے نتائج جماعت کی شکست کا اعلان تھے، البتہ کراچی میں جماعت کو تین نشستوں پر کامیابی ہوگئی تھی جس میں مولانا انصاری بھی شامل تھے۔ کمال اظفر کا مال ان کے کام نہیں آیا تھا۔
الیکشن کا ہنگامہ ختم ہوا۔ مشرقی پاکستان میں عوامی لیگ نے تقریباً ساری نشستیں جیت لی تھیں۔ مغربی پاکستان میں پنجاب اور سندھ میں پیپلز پارٹی کو اکثریت ملی تھی۔ لیکن اب بھٹو ہمارے لئے ولن بننا شروع ہوگیا تھا۔ اب نئی حکومت کی تشکیل اور عوامی لیگ کے چھ نکات کا شور اٹھا۔
اب جو کچھ ہوتا رہا اس پر تب سے اب تک ہزار ہا باتیں ہوچکی ہیں۔ قومی اسمبلی کا اجلاس، ڈھاکہ جانے والوں کی ٹانگیں توڑدوں گا، خدا کا شکر ہے پاکستان بچ گیا اور ” ادھر تم ادھر ہم” کی ساری کہانیاں دوستوں کو ازبر ہیں اور ہر ایک کی اہنی تفسیر ہے، فرق سے اس بات سے پڑتا ہے کہ آپ بھٹو کے چاہنے والے، جیالے ہیں یا اس سے نفرت کرنے والے۔
ان سب باتوں کا نتیجہ آخر کار ہماری قومی اور ملی تاریخ کے ایک المناک ترین باب کی صورت سامنے آیا۔ مملکت خدادا پاکستان اپنے قیام کے پچیسویں سال میں دولخت ہوچکی تھی۔ یہ کہانی کوئی اتنی خوشگوار نہیں اور نہ دہرانے کا قابل ہے کہ یہ داغ تو ہر پاکستانی کے سینے پر ہمیشہ ہمیشہ کے لئےثبت ہوچکا ہے۔
اب آگے چلتے ہیں۔ جنرل یحی نے اپنی ناؤونوش کا سامان اور اپنی سہیلیوں کو لیا اور جی ایچ کیو سے اپنے گھر چلا گیا ( جی ہاں، جس کے دور میں پاکستان دو ٹکڑے ہوا، اسے صرف اتنی تکلیف اٹھانی پڑی)۔ بھٹو صاحب نے قائم مقام صدر اور چیف مارشل لا ایڈمنسٹریٹر کا منصب سنبھال لیا اور بچی کھچی اینٹوں سے نئے پاکستان کی تعمیر شروع کی۔
بھٹو کے ساتھ سب رشتہ کچھ عجیب سا تھا اور ہم اس سے کچھ خفا خفا سے ہی تھے۔ میں اب بھی جمیعت میں شامل تھا۔ انہی دنوں بھٹو چین کے دورے سے واپس آئے اور کراچی میں ٹھہرے۔
کوئنز روڈ پر واقع ہمارے کالج کے باہر، پی آئ ڈی سی کی عمارت کا سامنے سے گذرنے والے رستے پر صبح سے پولیس کے جوان فاصلوں فاصلوں سے کھڑے تھے۔ پتہ چلا بھٹو صاحب یہاں سے گذر کر ڈاک یارڈ جانے والے ہیں۔ ہم بھی سڑک کنارے تماشائیوں میں کھڑے ہوگئے۔ جمیعت طلبہ کے اکابرین نے کچھ نعرے بتائے کہ بھٹو کی آمد کے ساتھ ہی لگانے ہیں۔ مجھے یاد نہیں کیا نعرے تھے لیکن اتنا یاد ہے بھٹو کے خلاف تھے۔ اتنی دیر میں ہوٹر والی موٹر سائیکل کے پیچھے جھنڈہ لگی ہوئی سیاہ مرسیڈیز میں بھٹو صاحب نظر آئے۔ موڑ کی وجہ سے یہاں گاڑی کی رفتار سست تھی اور جمیعت والوں نے بڑی اسٹریٹجک پوزیشن کا انتخاب کیا تھا۔ پرچم والی گاڑی دیکھتے ہی عوام نے تالیاں بجانا شروع کی۔ جس میں میری تالی بھی شامل تھی۔ جیسے ہی کار میرے سامنے آئی اور اس میں نیم سیاہ شیشوں کے پیچھے سے بھٹو صاحب کی جھلک نظر آئی میرے حلق سے فلک شگاف نعرہ نکلا ” جئےےےےبھٹو” ۔ ۔۔۔۔۔۔ جمیعت کا ہمارے کالج کا ناظم میری شکل دیکھ رہا تھا۔

اب کچھ دنوں بعد پاکستان تھا اور بھٹو صاحب کی تقریریں تھیں، “بولو لڑوگے۔ مروگے خداکی قسم مروگے”… ہاں پیتا ہوں، جب کبھی تھک جاتا ہوں تو پیتا ہوں، کون مفت کی پیتا ہے” کاٹ دو کاٹ دو، جذباتی آدمی ہوں جذبے میں بولتا ہوں” ۔ بھٹو تقریر کرتا۔ کھلے بٹن والی آستینوں سے پسینہ پونچھتا اور ہم بھٹو کے دیوانے ہوتے چلے جاتے، ہم کراچی والے جو ہمیشہ سے کرتے کے ساتھ پاجامہ پہنتے چلے آرہے تھے اب بھٹو کی اتباع میں شلوار پہنے لگے۔ ایک دن ٹی وی پر بھٹو صاحب کو سیاہ شلوار قمیص میں دیکھ کر میرے چھوٹے چچا کے جی میں آئی کہ اس کپڑے کا شلوار قمیص سلوانا چاہئے۔ پتہ چلا وولن ملیشیا کا جو کپڑا بھٹو سائیں نے پہنا تھا وہ ستر روپے گز پے۔ میرے چچا ان دنوں روشن بھیم جی آوٹ فرم میں آرٹیکل شپ کرتے تھے، اور انہیں اتنے ہی پیسے ملتے تھے، ستر روپے، جب کہ شلوار قمیص شاید پانچ یا چھ گز میں بنتی ہے۔
بھٹو صاحب شملہ گئے، نوے ہزار جنگی قیدیوں کو واپس لے آئے، ہیرو بن گئے، اسلامی کانفرنس ہوئی، عالم اسلام میں پاکستان کا ڈنکا بجا، بھٹو صاحب اب عالم اسلام کے لیڈر بن گئے۔
لیکن یہ محبت نفرت کا کھیل بھی ساتھ ساتھ چلتا رہا۔ بنگلہ دیش تسلیم کرنے کا مرحلہ آیا۔ زخم خوردہ قوم کے لئے یہ ایک مشکل فیصلہ تھا۔ بھٹو صاحب کے لئے بڑا امتحان۔ اب یہاں بھٹو صاحب کی شخصیت کا ایک نیا روپ سامنے آنے لگا۔ مخدوم زادہ حسن محمود نے ان کی ذہانت کوevil genius سے تشبیہ دی اور کچھ یوں لگا کہ درست دی۔
طلباء جن کی قیادت پنجاب میں جاوید ہاشمی جیسے لوگ کر رہے تھے، بنگلہ دیش منظور کرنے کے خلاف تھے۔ کراچی میں طبا کی ایک پکنک پارٹی پر لڑکیوں سے بدتمیزی کرنے کا ڈرامہ رچا کر عوام النِاس کو طلباء سے بد ظن کرنے کی کوشش کی گئی۔ سائٹ اور کورنگی لانڈھی کے صنعتی علاقوں میں مزدوروں نے ہڑتال کر رکھی تھی اور کئی مزدور ان ھنگاموں میں جان سے ہاتھ دھو بیٹھے تھے۔ اس کا علاج یہ نکالا کہ منگھوپیر اور لانڈھی کے سنیماؤں میں رات گئے کھلے عام “ٹوٹے” دکھائے جاتے تاکہ مزدور آخری شو دیکھ کر دوسرے دن ہڑتال کے لئے تازہ دم نہ ہو سکیں۔ خیر یہ تو مقطع میں ایک سخن گسترانہ بات آگئی۔ اصل نفرت میں اضافہ جب ہوا جب سندھ اسمبلی نے سندھی کو صوبائی سرکاری زبان بنانے کا فیصلہ کیا، جنگ اخبار نے پورا پہلا صفحہ سیاہ حاشیہ میں رئیس امروہوی کے مصرع” اردو کا جنازہ ہے، ذرا دھوم سے نکلے” چھاپ کر گویا شہری سندھ میں آگ لگادی، کراچی والوں کے لئے اب بھٹو ایک ولن بن گئے تھے۔ جگہ جگہ صوبائی وزیراعلی ممتاز بھٹو کی قبریں بنی ہوئیں تھیں جو پیپلز پارٹی سے نفرت کا نشان تھیں۔ اب سندھ میں سندھی مہاجر دو قومیں بن گئیں تھیں۔ خیر لسانی ہنگامے جیسے تیسے تمام ہوئے۔ بھٹو صاحب نے عوام کی طرف سے دکھائے گئے جوتوں کا اپنے مخصوص انداز میں جواب بھی دے دیا۔
بھٹو صاحب کی طبیعت کا ایک اہم عنصر ان کی منتقم مزاجی بھی تھی۔ کراچی کے عوام کو بھٹو صاحب نے معاف نہیں کیا اور کوٹا سسٹم کا پیر تسمہ پا شہری سندھ کے عوام پر اس طرح سوار کیا کہ آج تک اردو بولنے والے اس سے نجات نہیں حاصل کرسکے۔ سرکاری ملازموں کے اشتہار میں واضح طور پر مطلوبہ ڈومیسائل کی تصریح کچھ یوں ہوتی تھی” excluding Karachi, Hyderabad and Sukker”
یہ ناچیز بھی اس ستم کا شکار ہوا اور روزگار کی تلاش میں اکیس سال کی عمر میں گھر بار ایسا چھوڑا کہ پھر گھر کا رستہ ہی بھول گیا۔ لیکن میں نے کبھی بھٹو صاحب سے اس وجہ سے نفرت یا محبت نہیں کی، مجھے ان باتوں کا دماغ ہی نہیں ہے۔
سن پچھتر کے آخر میں یہ خاکسار آب و دانہ کی تلاش میں بحرین آگیا۔ نیا ملک، نئی مصروفیات، اب پاکستان اور اس کی سیاست کی کچھ خبر نہیں تھی کہ سن ستتر کے انتخابات کا غلغلہ سنائی دیا۔ پھر نو ستاروں کا سنا، انتخابات اور انکے نتائج، نظام مصطفے تحریک اور آخر میں شامت اعمال ما، ضیاءالحق کی صورت میں پاکستان میں تشریف لے آئی۔ مجھے اب کوئی خاص دلچسپی نہیں تھی۔ پھر سننے میں آیا کہ بھٹو کو نواب محمد احمد خان کے قتل کے الزام میں گرفتار کرلیا گیا، پھر مقدمے کی کہانی چلتی رہی، اور آپ سب مجھ سے بہتر جانتے ہیں کہ کیا ہوا۔ لیکن میرے ساتھ کیا ہوا یہ آپ نہیں جانتے۔
میں اب سعودی عرب میں تھا۔ ہم پاکستانی دوست کسی ایک کمرے میں جمع ہوکر گھنٹوں سیاست پر بحث کرتے۔ اور ظاہر ہے کہ کچھ بھٹو کے حامی تھے اور کچھ مخالف، میرا پلڑا بھی بھٹو مخالف کیمپ کی جانب رہتا۔


۔۔۔میں نے دروازہ بند کیا اور بستر پر دراز ہوگیا۔ اخبار نکالا، بھٹو کی تصویر پر نظر پڑی، پھر نجانے کیا ہوا، آنکھوں سے آنسو کیوں بہہ نکلے؟ میں تو اسے پسند نہیں کرتا تھا۔


اور یہ اپریل ۱۹۷۹ کی ایک عجیب سی دوپہر تھی۔ میں اپنے فرائض منصبی کے تحت الخُبر آیا ہوا تھا۔ کچھ بنک میں کام تھا، اپنے کام سے فارغ ہوکر حسب عادت اخبار خریدنے گیا تو اخبار کی سرخی دیکھ کر سناٹے میں آگیا۔ آنکھوں کے سامنے اندھیرا سا چھانے لگا،۔ بڑی مشکل سے طبیعت قابو میں آئی اور بک سٹال سے باہر آگیا۔ الخُبر کے بازاروں میں آج عجیب سی ویرانی تھی۔ نجانے کیوں یوں لگ رہا تھا کہ کربلا کا دن بھی شاید ایسا ہی ہوگا۔ اپنے رہائشگاہ پر واپس آیا جہاں ہم سب اسٹاف کے لوگ رہتے تھے۔ لنچ کا وقت تھا لیکن آج کھانے کو جی نہیں کر رہا تھا۔ اپنے کمرے میں پہنچا تو تھوڑی ہی دیر میں میرا کمرہ، مصری، سوڈانی، سری لنکن اور ہندوستانی دوستوں سے بھر گیا۔ وہ سب میرے ساتھ تعزیت کرنے آئے تھے۔ بھٹو کو پھانسی ہوگئی تھی۔ وہ مجھ سے تعزیت کر نے آئے تھے۔ انہیں خبر نہیں تھی کہ میں جب ساتھیوں سے بحث کرتا تھا تو میرا جھکاؤ کس جانب ہوتا تھا۔ میں خاموش تھا، وہ بھی سب خاموش تھے۔ کچھ دیر بعد سب چلے گئے۔ میں کمرے میں اکیلا رہ گیا۔ میں نے دروازہ بند کیا اور بستر پر دراز ہوگیا۔ اخبار نکالا، بھٹو کی تصویر پر نظر پڑی، پھر نجانے کیا ہوا، آنکھوں سے آنسو پتہ نہیں کیوں بہہ نکلے۔ میں تو اسے پسند نہیں کرتا تھا۔

بھٹو اب نہیں ہے، میں اور آپ بھی نہیں رہیں گے۔ کوئی ہمیشہ زندہ نہیں رہے گا۔ دارا اسکندر نہیں رہے۔ بھٹو بھی ہمیشہ زندہ نہیں رہے گا۔ کل من علیہا فان۔ ویبقی وجہ ربک ذوالجلال وآلاکرام ۔۔ زمین پر سب فنا ہونے والے ہیں۔ صرف تیرے رب کی ذات جو جلال اور عزت والی ہے باقی رہنے والی ہے۔
اب ہم بھی بھٹو کو چھوڑ دیں۔ اس کا فیصلہ نہ میں کرسکتا ہوں نہ آپ کرسکتے ہیں۔ اور نہ ہی تاریخ کرسکتی ہے۔ فیصلہ صرف وہ ذات کرے گی جو جزا وسزا کے دن کی مالک ہے اور اس دن کرے گی جب سب اس کے دربار میں حاضر ہوں گئےاور وہی دن ہوگا ہار اور جیت کا۔

 

About Author

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: