فیمنزم اور لکھاری کی ترجیح : مقامی مسائل یا تنقید مغرب؟ —- وحید مراد

0

یہ مضمون ایک اہم سوال کا جواب ہے جو اکثر پڑھے لکھے لوگوں کے ذہن میں اٹھتا ہے۔ اس سے ملتے جلتے کئی سوالات موصول ہوئے جن میں سے ایک نمائندہ سوال منتخب کیا گیا جو اس سلسلے کے تمام اشکالات کا احاطہ کرتا ہے۔

سوال : ہم پاکستانیوں کیلئے انتہائی ضروری ہے کہ ‘ظلم’ کے اس مفہوم کو سمجھیں جو جدید مغرب میں بیان کیا جاتا ہے اور اسے اپنے ہاں ہونے والے ظلم کا ہم معنی سمجھ کر اسی مکالمے کا آغاز کریں جو مغرب میں چل رہا ہے۔ ہمارا اپنا ‘ظلم’ تو ابھی تک ہمارے کسی ‘مکالمے’ کا موضوع نہیں بنا۔ مغرب میں چلنے والی فیمینسٹ تحریک جس ظلم پر مکالمہ کر رہی ہے اسکو تو ہم کبھی پہنچ ہی نہیں سکتے۔ ہمیں علم ہونا چاہییے کی کمیونسٹ تحریک کے زوال کے بعد مغرب کا کپیٹلزم انسانی فلاحی پروگرامز کو ریاستی پیمانے پر اب مزید جاری رکھنے کے غیر ضروری تکلف کی ضرورت محسوس نہیں کرتا اس لئے وہاں اس بات کو بھی ظلم تصور کیا جاتا ہے۔ مغرب میں ٹیکس میں اضافہ، ویلفئیر پروگرامز میں کٹوتی، اولڈ ہائوسز میں اسٹاف کی طرف سے توجہ میں کوتاہی، سکولوں یا گھروں میں بچوں پر تشدد، جانوروں کے ساتھ غیر انسانی سلوک، بنیادی تعلیم یا علاج سے محرومی، صنفی تعصب اور اسی طرح کے درجنوں مسائل ہیں جن کو فلاحی نظام کی خلاف ورزی کے طور پر ظلم گردانا جاتا ہے۔

درحقیقت مغرب میں یہ ظلم صرف اس حد تک ہے کہ قانون کی کسی ایک شق پر زیادہ زور دینے کی وجہ سےدیگر شقوں پر عمل درآمد میں کمی واقع ہو جاتی ہے مثلاً فیمینزم پر زیادہ توجہ دینے سے ویلفئیر کے پہلووں پر توجہ قدرے کم ہوگئی۔ لیکن ہمارے ہاں تو طرفہ تماشا یہ ہے کہ انسانی حقوق کے ڈیکلریشن کو آئین میں شامل کئے جانے کے باجود اس میں کسی شق پر بھی حکومتیں، بیوروکریسی، وڈیرے، جاگیردار، سرمایہ دار، لیڈرز، چوہدریز اور دیگر عمل نہیں کررہے۔ ہمارے ہاں انسانی حقوق کی اس کھلی خلاف ورزی کو ظلم سمجھا ہی نہیں جاتا۔ مغرب کا فلاحی نظام تو ہمارے کلچر سے کوسوں دور ہے۔ آپ ماشااللہ اس ایک موضوع پر بہت دلجمعی کے ساتھ محب وطن نقطہ نظر سے مسلسل لکھ رہے ہیں لیکن آپ یقیناً یہ سب محض سامراج کے ایجنٹوں کو ذہنی تکلیف پہچانے کیلئے تو نہیں لکھ رہے؟ وہ کیا فوری بھلائی ہے جو اس سے زیادہ اہم ہے جو آپ اپنے ملک کے جینوئن مسائل پر لکھ کے پہنچا سکتے ہیں؟ اس لئیے سوچا کہ آپ کا دھیان اہم بات کی جانب مبذول کرایا جائے کہ اپنے ملک کے جینوئن مسائل پر لکھئے۔


اس سوال کا پہلا حصہ ‘ظلم’ کے تصور سے متعلق ہے جو ہر نظریہ حیات میں قدرے مختلف ہوتا ہے۔ سوشلسٹ نظریات کے حامی ظلم کو ‘طبقاتی تقسیم’ میں تلاش کرتے ہیں۔ صنفی مساوات کے حامی ظلم کا منبع پدرسری نظام معاشرت(Patriarchy)، مردانہ بالادستی ا ور جنسی تعصب (Sexism) کو قرار دیتے ہیں جبکہ روایتی و مذہبی تہذیبیں ظلم کی تلاش انسانی نفس میں کرتی ہیں۔

سوشلسٹ تصور ظلم :

طبقاتی تقسیم کے مفروضے کے تحت تصور ظلم یہ ہے کہ ذرائع پیداوار پر کنٹرول رکھنے والے طبقات ہمیشہ سرمائے کی بڑھوتری کی لالچ میں جسمانی اور ذہنی محنت کرنے والے طبقے کا استحصال کرتے ہیں۔ ذرائع پیداوار کی غیر منصفانہ تقسیم کے نتیجے میں ہونے والے ظلم کی حقیقت سے انکار نہیں کیا جا سکتا لیکن طبقاتی تقسیم کا یہ مفروضہ ظلم کو کلیت میں دیکھنے سے قاصر ہے۔ ذرائع پیداوار پر ملکیت نہ رکھنے والے اورصرف جسمانی و ذہنی محنت کا تبادلہ کرنے والے طبقات پیداواری عمل کے دوران مالکان پر تو ظلم نہیں کر سکتے لیکن اپنے ہم پیشہ اور ماتحت افرد پر اس سے کہیں زیادہ ظلم کرنے کے امکانات رکھتے ہیں جو آجر، اجیر پر کرتا ہے۔ اس ظلم کامشاہدہ کسی بھی فیکٹری، کارخانے یا کام کی جگہ پر مزدوروں کے انچارج، منشی، کلرک، پیٹی کنٹریکٹر وغیرہ کے رویہ سےکیا جا سکتا ہے۔ یہ بات بھی کسی سے پوشیدہ نہیں کہ پھیری والا، ٹھیلے والا، ترکھان، لوہار، میسن، مکینک اور دیگر پیشوں سے وابستہ لوگ بھی اپنے جونئیرز یا گاہکوں سے ظالمانہ سلوک کرتے ہیں۔

پیداواری عمل سے باہر گھر، گلی، محلے، بازار اور دیگر جگہوں پر بھی نچلے طبقات سے تعلق رکھنے والے بے شمار لوگ ایسے نظر آتے ہیں جو باپ، ماں، بھائی، بہن، رشتہ دار، مرد، عورت، شوہر، بیوی، پڑوسی، مالک مکان، کرایہ دار یا کسی اور شکل میں ظلم کرتے ہیں یا اسکا شکار ہوتے ہیں۔ بچوں اور عورتوں کے بارے میں بھی یہ دعویٰ نہیں کیا جاسکتا کہ ان میں ظلم کرنے کے امکانات نہیں پائے جاتے۔ بہت سے بچے اپنی بہن، بھائیوں، ہم جماعتوں، ساتھ کھیلنے والوں یا راہ چلتے اکیلے بچوں پر ظلم کرتے ہیں اور یہی چیز عورتوں کے بارے میں بھی صادق آتی ہے۔ اس حوالے سے زیادہ سے زیادہ یہ کہا جاسکتا ہے کہ عورتوں اور بچوں میں جارحیت کے امکانات نسبتاً کم پائے جاتے ہیں لیکن اس بات سے انکار ممکن نہیں کہ ان سے یہ جرم کبھی سرزد نہیں ہوتا۔

طبقاتی تقسیم کے مفروضے کےتحت جاگیرادارنہ نظام میں زمینوں کا مالک مزارعین پر ظلم کرتا تھا پھرذرائع پیداوار میں تبدیلی سے جاگیر دار نے سرمایہ دار کی شکل اختیار کر لی اور ظلم کا نظام فیکٹری مالک اور مزدور کی شکل میں بدل گیا۔ اس مفروضے کے مطابق طبقاتی جدوجہد ایک ایسے مثالی معاشرے کا قیام عمل میں لاتی ہے جو ہر قسم کےظلم سے پاک ہوتا ہے لیکن اب تک کی کوئی بھی طبقاتی جدوجہد اس مثالی معاشرے کا قیام عمل میں لانے سے قاصر رہی۔ انقلاب روس کے بعد قائم ہونے والے پرولتاری معاشرہ میں جاگیرداروں اور سرمایہ داروں کے بجائے سیاسی اشرافیہ، سول و ملٹری بیوروکریسی اور خفیہ ایجنسیوں نے غالب طبقات کی شکل اختیار کرتے ہوئے اس سےکہیں زیادہ ظلم کئے جو پچھلے نظاموں میں ہوتے رہے چنانچہ حد سے بڑھتا ہوا ظلم خود اس نظام کی تباہی کا سبب بنا۔

سرمایہ دارانہ نظام جب ابتدائی شکل میں تھا تو کارخانہ دار، بنیے اورسود خور صرف مزدوروں، ورکروں اورمقروضوں پر ظلم کرتے تھے لیکن جب اس نے کارپوریشنز اور گلوبل سرمایہ داریت کی شکل اختیار کی تو پوری دنیا کو اپنے آہنی شکنجے میں جکڑ لیا۔ ماڈرن ازم اور لبرل ازم نے اپنے ابتدائی ادوار میں فلاحی ریاست کا خواب دکھایا اوراداروں کا ایک ایسا مجموعہ تشکیل دیا جس نے مردوزن کو گھروں سے نکال کر ورک فورس میں شامل کیا اور بظاہر لوگ اس قابل ہوئے کہ ضروریات زندگی وافر مقدار میں کما کر معیار زندگی ایک حد تک بلند کر سکیں۔ لیکن جیسے جیسے روایتی ڈھانچے کمزور ہوئے جدیدیت نے تہذیب، اقدار، روایات ہر چیز کو اپنی گرفت میں لے لیا۔ جب پوری دنیا کنزیومر سوسائٹی میں تبدیل ہوگئی تو فلاحی ریاست کی بات پس پشت ڈال دی گئی۔ اب لوگ زندہ رہنے کیلئے رات دن کام کرتے ہیں اور ان پر بھاری ٹیکس عائد کرکے جو پیسہ وصول ہوتا ہے اسے بیکار قسم کی مہمات میں جھونک دیا جاتا ہے۔

نیو لبرل ازم کا سیاسی منصوبہ ڈی ریگولیشن اور نجکاری کو فروغ دیتا ہے اور پبلک سیکٹر وفلاحی ریاست کو سکیڑتے ہوئے ہیومن کیپٹل تصورات کے ذریعے خود انحصاری، انفرادیت، انتخاب، آزادی کو فروغ دینےکی وکالت کرتا ہے۔ اس تصور کے تحت خواتین کو بھی یہ سکھایا جاتا ہے کہ معاشی طورپر مردوں پر انحصار کرنا قابل نفرت بات ہے۔ بائیں بازو کے سوشل ڈیموکریٹس بھی اب مزاحمت سے باز آگئے اور یہ تصورات انکے ہاں بھی شرف قبولیت پاگئے۔ خواتین کے معاشرتی حقوق کی تحریک بھی اب عملی طورپر ختم ہو چکی اور اس نے پاپولر کلچر کی شکل اختیار کر لی۔ پاپولر کلچر لامحدود امکانات اور آزادی کا ایک خوبصورت سراب اور وہم فراہم کرتا ہے لیکن درحقیقت یہ خواتین پر عائد پرانی پابندیوں کو نئی پابندیوں سے بدل کر انہیں پہلے سے زیادہ محکوم بناتا ہے۔ نوجوان خواتین گلیمر سے اس حد تک مرعوب ہیں کہ وہ پاپولر کلچر سے مرتب ہونے والے ثرات کو سمجھنے سے قاصر ہیں اور اپنے گرداسکے کسے جانے والے شکنجے کے احساس سے عاری ہیں(تفصیلات ‘پاپولر فیمنزم : فیشن و سیکس انڈسٹری کا آلہ کار‘ میں ملاحظہ فرمائیں)۔

فیمنسٹ تصور ظلم :

ظلم کی تلاش کا صنفی مفروضہ متعصبانہ، غیر علمی، غیر سائنسی ہے اور یہ بھی ظلم کو کلیت میں دیکھنے سے قاصر ہے۔ صنفی چشمہ لگانے والوں کو ظلم کا ہر مظہر پدسری نظام، مردانہ بالادستی اور سیکسزم میں ہی نظر آتا ہے لیکن حقیقت اسکے برعکس ہے۔ نچلے طبقات کے مرد اونچے طبقے کی عورتوں کو نظر اٹھا کر دیکھ بھی نہیں سکتے۔ بےشمار گھرانوں میں خانگی امور کا مکمل کنٹرول خواتین کے ہاتھ میں ہوتا ہے، مرد جو کما کر لاتے ہیں خواتین کے ہاتھ پر رکھ دیتے ہیں اور پھر جیب خرچ بھی مانگ کر لیتے ہیں۔ اسی طرح مراعات یافتہ طبقے کی خواتین اپنے نوکروں اور نوکرانیوں پر اس سے کہیں زیادہ ظلم کرتی ہیں جو ایک مرد مالک اپنے ماتحتوں پر کرتا ہے۔ ( تفصیلات ‘پدرسری نظام: فیمنزم کا فرضی دشمن‘ میں درج ہیں)۔

صنفی امتیاز ختم کرنے کی تحریک کا آغاز حقوق نسواں سے ہوا، ابتدائی طورپر اسکی توجہ عورتوں کی فلاح و بہبود، تعلیم و تربیت اور زچہ و بچہ پر مرکو ز رہی۔ پھر اس نے سیاسی تحریک کی شکل اختیار کرتے ہوئے خواتین کے حق رائے دہی پر زوردیا لیکن بیسویں صدی کے وسط میں یہ سارا عمل عورت کی خودمختاری اور انفرادی شناخت کی شکل اختیار کر گیا۔ 1960 کے عشرے میں حقوق کی تحریک جنسی آزادی کی تحریک میں بدل گئی اور روایتی جنسی تعلقات کے اصولوں، رویوں، اخلاقی ضابطوں اور قوانین کو چیلنج کیا گیا۔ اس دور کو جنسی انقلاب کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ جنسی انقلاب نے غیر روایتی جنسی تعلقات کو قانونی شکل دینے کی وکالت کرتے ہوئے مانع حمل ادویات، اسقاط حمل، عوامی عریانی (Public nudity)، فحش نگاری (Pornography)، ہم جنس پرستی، شادی سے قبل جنسی تعلق، خودلذتی، مشت زنی، جنسی آلات کا استعمال، جنسی نوعیت کے کھیل (BDSM) اوردیگر متبادل شکلوں کو فروغ دیا۔

اس انقلاب کا مقصد یہ تھا کہ انسانی جسم، دماغ، وجود اور جنسی جذبا ت کو اخلاقی و قانونی حدود و قیود سے آزاد کرایا جائے اور دیگر تعیشات کی طرح شہوت انگیزی(erotic) سے بھی معمول کی طرح لطف اندوز ہوا جائے۔ اس عمل میں خاندان، روایات، اخلاقیات، قوائد و ضوابط، مذہب اور ریاست کی مداخلت کی مخالفت کی گئی۔ چنانچہ غیر شادی شدہ بالغ افراد کے جنسی تعلق (sexual encounter) میں اضافہ ہوا، طلاق کی شرح حیرت انگیز حد تک بڑھی اور شادی وخاندان کے ادارے کی جگہ آزاد جنسی تعلقات(Open relations)، جنسی سودے بازی (mate swapping)، جنسی تبادلہ (Swinging) اور کمیونل سیکس (communal sex) کو فروغ دیا گیا۔

اب صنفی تحریک اس بات پر زور دیتی ہے کہ عورت خودمختاری اور ایمپاورمنٹ کے حصول کی خاطر اپنے آپ کوجنسی معروض (Sexual Objectification) کے طور پر پیش کرے۔ یہی وجہ ہے کہ بہت سے فیمنسٹ ماہرین عورتوں کو پورنو گرافی، فری لو (Free Love)، ہم جنس پرستی، لزبئین ازم، پاپولر کلچر، پیئر کلچر (Peer Culture), ہک اپ کلچر (Hookup Culture)، شہوانی کلچر (Ranch Culture) اور جسم فروشی میں شریک ہونے کی ترغیب دیتے ہیں۔ وہ تحریک جو عورت کی فلاح و بہبود، ظلم سے نجات دلانے اور حقوق حاصل کرنے کی غرض سے شروع ہوئی تھی آج اسی تحریک نے عورت کو ایمپاورمنٹ کے نام پر جنسی غلام اور آلہ کار بناتے ہوئے شرف انسانیت سے بھی نیچے گرا دیا۔ (تفصیلات ‘لپ اسٹک فیمنزم: نسوانی بالادستی کا خواب‘ میں دیکھئے)۔

روایتی و مذہبی تصور ظلم :

دینی اور تہذیبی روایت میں ظلم کو ایک خاص نفسی کیفیت میں دیکھا جاتا ہے جسے ‘نفس امارہ’ یا ‘شقی القلب’ ہونا بھی کہتےہیں۔ یہ کیفیت عموماً دولت، جسمانی طاقت، حکمرانی، افسری، تونگری کے زعم میں پیدا ہوتی ہے اوراس کا مظاہرہ اس وقت ہوتا ہے جب نسبتاً کمزور لوگوں کی طرف سے مزاحمت کا خدشہ ہو۔ لیکن یہ کیفیت صرف طاقتور لوگوں سے مخصوص نہیں، مختلف مواقع پرغریب، ماتحت اور کمزور لوگ بھی اسکا شکار ہو کر طاقتور لوگوں پر جارحیت کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ ایسے بے شمار واقعات ہر کسی کے مشاہدے میں آتے ہیں جن میں کوئی ماتحت، نوکر، گارڈ، فوجی جوان یا پولیس اہلکار اپنے کسی آقا، مالک، افسر یابااثر شخص کو غصے میں آکر قتل کر دیتا ہے، اسکی عزت پر حملہ آور ہوتا ہے یااسے یرغمال بنا کر لوٹ لیتا ہے۔ کچھ لوگ کسی خاص مزاج، نظریے، عقیدے، تصور اور خیال کی وجہ سے بھی اس کیفیت میں مبتلا ہوتے ہیں لیکن ضروری نہیں وہ ہر وقت اسکا شکار رہیں۔ یہ کیفیت ہر کسی پر طاری ہوسکتی ہے اور اسکے لئے عمر، جنس، صنف، پیشہ، امارت، غربت، چھوٹے اور بڑے کی کوئی قید نہیں۔ اس طرح ظلم کو کلیت میں دیکھنا ممکن ہے کیونکہ کوئی سا ظلم بھی اس تفہیم سے باہر نہیں رہتا۔

جب ہر قسم کے ظلم کو انسانی کی نفسی کیفیت میں دیکھا جائے تواسکا تدارک بھی نفسیاتی اور روحانی طریقہ سے کیا جاتا ہے۔ ایسے شخص کو اگر دین کی صحیح تعلیمات سے روشناس کرا دیا جائے اوریہ عقیدہ مضبوط بنا دیا جائے کہ انسان خودمکتفی اور قائم بالذات وجود نہیں بلکہ اس کائنات کے مالک اور خالق کا محتاج ہے۔ اسےایک دن اللہ کے سامنے حاضر ہونا ہے جہاں ہر عمل کا محاسبہ ہوگا تو ایسا شخص اپنے تکبر، غرور اور نخوت پر بہت حد تک قابو پاتے ہوئے ظالمانہ اقدامات سے باز رہ سکتا ہے۔ جب کوئی شخص نفس امارہ کی کیفیت سے نکل کر نفس لوامہ کی کیفیت میں آتا ہے تو ظلم کرنے سے پہلے توقف کرتا، سوچتا ہے اور خداکا خوف اسے ظلم کی انتہاء پر جانے سے روکتا ہے۔ غصے کو پی جانا، کمزوروں سے درگزر کرنا، معاف کردینا وغیرہ جیسے نیک اعمال جب عبادت کی طرح اپنالئے جاتے ہیں تو انکے مثبت اثرات ضرور مرتب ہوتے ہیں۔ یہ عمل کوئی آسان کام نہیں، معاشرے کا ہر فرد اپنے آپ کو مستقل طورپر دعوت و تبلیغ اور روحانی اقداار کے فروغ کیلئے وقف کرتا ہے تو نئی نسلیں تربیت پا کراعمال صالح سرانجام دینے کے قابل ہوتی ہیں۔

ظلم کے خاتمے کی تدابیر:

روایتی مذہبی تہذیب کے تصورات مقدس مذہبی متون اور مسلمات دین سے اخذ ہوتے ہیں جو اپنی بنیاد میں غیر متبدل لیکن تفصیلات میں ارتقاء پذیر ہوتے ہیں۔ جدید تہذیب کی سوشل تھیوریز آئے روز تبدیل ہوتی رہتی ہیں۔ آج اگر پدرسری (patriarchy) کا مفروضہ ظلم کو صنفی تعصب و مردانہ تسلط میں تلاش کرتا ہے تو کل ہمہ سری (kyriarchy) کی تھیوری اسے مسترد کرتے ہوئے ظلم کو نسلیت، قومیت، لسانیت اور دیگر شناختوں میں تلاش کرنا شروع کر دیتی ہے۔ ایک دور میں جو چیز ‘الحق’ ہوتی ہے دوسرے دور میں وہ ‘ظلم’ کہلاتی ہے۔ کئی عشروں سے بلوغت کی عمر اٹھارہ سال تھی اور کم عمری کی شادی ظلم تصور ہوتے ہوئے غیر قانونی تھی لیکن اب یہ عمر پندرہ سال کر دی گئی اورہر قسم کے جنسی تعلقات کو اسی طرح کا حق قرار دے دیا گیا جس طرح بڑی عمر کے افراد میں پہلے سے رائج ہے۔ ہر دور میں ظلم کے تصورات اوراسے ختم کرنے کی تدابیر اور طریقے بدلتے رہتے ہیں۔ ان تدابیر میں ریاستی طاقت کے بے دریغ استعمال، ظلم کو ختم کرنے کے ظالمانہ طریقوں یا قانون سازی اور اسکے جبری نفاذکے علاوہ کوئی طریقہ کار موجود نہیں۔

پچھلے ایک سوسال میں ظلم ختم کرنے کے نام پر جتنے لوگوں کو موت کے گھاٹ اتارا گیا اتنے قتل انسانیت کی دس ہزر سالہ تاریخ میں نہیں ہوئے۔ عوام کے اجسام پر قوانین کو جبراً مسلط کرنے کا سلسلہ رومن ایپمائر کے زمانے سے جاری ہے۔ قانون کے جبری نفاذ کی دو ہزار سالہ تاریخ نے مغربی اقوام کو اطاعت کاایسا خوگر بنا دیا کہ اب ان میں ریاستی اداروں کے جبر کے سامنے کسی قسم کی مخالفت اور بغاوت کی جرات ہی باقی نہیں بچی۔ انسانوں سے جذبہ حریت چھین کر انہیں مصنوعی قواعد و ضوابط کا ایسا مطیع بنا دیا گیا ہے کہ ‘امر بالمعروف’ اور ‘نہی عن المنکر’ تو بہت دور کی بات ہے ریاست نے والدین سے اپنے بچوں کی تربیت کے حوالے سے ڈانٹ ڈپٹ اور روک ٹوک کا اختیار تک چھین لیا۔ آزادی اظہار، انتخاب اوراختلاف صرف اس حد تک برداشت کیا جاتا ہے جہاں تک جدید ریاست و قوانین، لبرل وسیکولر اقدار اجازت دیتے ہیں اور الگ اقدار کے حامل افراد کو شہریت سے محروم کر دیا جاتا ہے۔

اسکے مقابلے میں روایتی مذہبی معاشروں میں اصل قانون صرف قانون الہی ہوتا ہے، ریاستی قوانین وقتی انسانی تدبیریں ہیں۔ ریاستی اداروں سے قانون کے نفاذ میں مدد لی جاتی ہے لیکن اس سے قبل دعوت و تبلیغ کے ذریعے عوام کو ذہنی، نفسیاتی اور قلبی طورپر تیار کیا جاتا ہے۔ جب لوگ کسی چیز پر ایمان لاتے ہوئے اسے اپنے عقیدے کا حصہ بنا لیتے ہیں تو ریاستی جبر کے ذریعے قانون نافذ کرنے کی ضرورت نہیں رہتی۔ لوگ مذہبی قوانین کو اللہ کی خوشنودی حاصل کرنے اور عبادت کا ذریعہ سمجھ کر عمل پیرا ہوتے ہیں۔ روایتی مذہبی ریاستوں میں قانون کی تخلیق مقننہ نہیں کرتی بلکہ تہذیب کے بنیادی مسلمات، تصورات اور اصولوں پر یقین رکھنے والے علماء اور عوام ملکر قانون کی تفصیلات طے کرتے ہیں۔ پوری اسلامی فقہ اسی انداز سے تخلیق ہوئی۔ اس میں حکومتی اداروں کا کردار سہولت کاری سے زیادہ نہیں۔ تمام نامور فقہاء کرام نے اپنے وقت کے حکمرانوں کو حکومتی مشینری کے ذریعے فقہ کے نفاذ سے منع کیا اورسلاطین کے اصرار کے سامنے مزاحمت کرنے پر انہیں جیلوں کی صعوبتیں سہنا پڑیں۔ انکے سامنے یہی مقصد تھا کہ اسلامی قانون لوگوں کے دلوں کو تسخیر کرتا ہے اسے اگر حکومتی مشینری کے ذریعے نافذ کیا جائے تو اس سے صرف جسم تسخیر ہوتے ہیں، نفس اورقلب ویسا ہی باغی رہتا ہے۔

حقوق اور مسائل :

بہت سے پڑھے لکھے لوگ اس مغالطے کا شکار ہیں کہ ہمارے ہاں تمام مقامی سماجی، معاشرتی، معاشی اور سیاسی مسائل ہمارے اپنے پیدا کردہ ہیں۔ ان مسائل کے اضافے میں مغرب کا کوئی عمل دخل نہیں اس لئے ہمیں مغرب پر تنقید کرنے کے بجائے اپنے مسائل کے حل کیلئے آواز بلند کرنی چاہیے۔ حقیقیت یہ ہے کہ جدید ریاست ہر شعبہ زندگی کو کنٹرول کرتی ہے یا کم از کم اس میں ہر ممکن حد تک مداخلت ضرور کرتی ہے۔ آج کے دور کے تمام مسائل ریاست کے سیاسی، معاشی اور قانونی نظام کے ساتھ منسلک ہیں، کوئی مسئلہ جداگانہ وجود نہیں رکھتا۔ جس طرح ریاست اور اسکے سارے نظام ہمیں برطانوی سامراج سے ورثے میں ملے اسی طرح ان سے جڑے ہوئے مسائل بھی اسی کا تحفہ ہیں۔ وقت کے ساتھ ساتھ ان سامراجی طاقتوں نے ہمارے مسائل میں کمی کے بجائے اضافہ ہی کیا۔ پچھلے تہتر سالوں سے عالمی طاقتوں اورانکی پروردہ اشرافیہ نے یہاں حقیقی عوامی نمائندوں کو منتخب ہونے کا کبھی موقع فراہم نہیں کیا کہ یہ مسائل حل ہوتے یا ان میں کمی لائی جاتی۔ آج بھی ہماری حکومتیں، بیوروکریسی، جاگیر دار، سرمایہ دار اور اشرافیہ مغرب کی کاسہ لیسی میں مصروف ہیں اس لئے مقامی مسائل کا حل انکی اولیں ترجیحات میں شامل نہیں۔

مغربی سامراج نے توسیع پسندانہ عزائم کی تکمیل کے وقت صرف علاقے فتح کرکے یہاں کے کروڑوں لوگوں کو موت کے گھاٹ نہیں اتارا بلکہ ہماری تہذیب، تمدن، تاریخ، مذہب اور اقدار کو بھی مسخ کرنے کی بھرپور کوشش کی۔ مغربی سامراج نے اپنی مشکلات کی وجہ سے بوریا بستر لپیٹتے ہوئےبظاہر ہمیں سیاسی آزادی دی تھی لیکن اپنی مداخلت کبھی ختم نہیں کی۔ آج بھی ہماری داخلہ و خارجہ پالیسی، معاشی پالیسی، عسکری و دفاعی نظام، سیاسی و سماجی نظام، قانون و عدالتی نظام، ثقافت و معاشرت سب بیرونی عوامل اور عالمی اداروں کے اثرات سے محفوظ نہیں۔ مغربی طاقتیں ہمیشہ اپنے معاشی و اسٹریٹیجک مفادات کیلئے پاکستان جیسے ریاستوں اور حکومتوں کو ڈکٹیٹ کرتے اور انکی خودمختاری و سلامتی کے امور پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ بھارت کے ذریعے ہمارے اوپر کئی جنگیں مسلط کروائی گئیں اور ملک کو دولخت کیا گیا۔ اسکندر مرزا، ایوب خان، ذوالفقار علی بھٹو، ضیاء الحق، بینظیر، نواز شریف، پرویز مشرف اور آصف زرداری کے ادوار میں بیرونی طاقتوں نے سیاسی اشرافیہ اور سول و ملٹری بیوروکریسی کے ذریعے جمہوریت اور آمریت کا کھیل کھیلتے ہوئے ہمارے داخلی اور خارجی معاملات میں مداخلت جاری رکھی۔

روس کے خلاف جنگ اور اسکے بعد وار آن ٹیرر میں ہمارے ملک کو فرقہ واریت اور دہشت گردی کا گڑھ بنایا گیا جس میں لاکھوں معصوم جانیں ضائع ہوئیں اور ابھی تک دہشت گردی کے خطرات ہمارے سروں پر منڈلا رہے ہیں۔ مقامی ایجنٹوں کے ذریعے ملکی معیشت کو تباہ کروایا گیا، مالی امداد کے نام پر ہمیں مغربی طرز جمہوریت، پارلیمانی نظام اور مختلف آئیڈیالوجیز کو عقیدے کی طرح پوجنے پر مجبور کیا گیا۔ ملک کوسیاسی، معاشی اورسماجی مسائل کی دلدل میں دکھیلا گیا اور FATF اور کئی دوسرے ہتھکنڈوں کے ذریعے ہمیں آج بھی بلیک میل کیا جاتاہے۔ بے شمار امور میں ایسی قانون سازی کروائی گئی جسکا ہماری تہذیب و ثقافت سے کوئی تعلق نہیں۔ سزائے موت پر عمل درآمد رکوایا گیا اور ایسے معاملات میں کھلی چھوٹ دی گئی جن سے توہین رسالت کے واقعات میں اضافہ ہو۔

ہمارے ہاں میڈیا کو مدرپدر آزادی دلائی گئی تا کہ ڈراموں، فلموں اور اشتہارات کے ذریعے فحاشی اور بے حیائی کو فروغ دیا جاسکے۔ انسانی حقوق، حقوق نسواں، اقلیتوں کے حقوق اور مذہبی آزادی کے نام پر نصاب تعلیم کو تبدیل کیا گیا۔ سیکولر، لبرل اور فیمنسٹ ماہرین کے ذریعے نصاب تعلیم میں سے اسلامی تاریخ، تہذیب اور ثقافت کو خارج کرکے نوجوان نسل کو مغربی تہذیب و اقدارکی تقلید پر لگا دیا گیا۔ سوشل ویلفئیر، صنفی مساوات، عورت مارچ اورخواجہ سرائوں کے حقوق کے نام پرغیر ملکی امداد پر چلنے والی تنظیموں کا جال بچھایا گیا اور ان کے ذریعے صنفی نظریات کی تبلیغ اورایل جی بی ٹی ایجنڈا کی پروموشن جاری ہے۔ ایسی صورتحال میں یہ کہنا کہ ہمیں مغرب پر تنقید کے بجائے صرف مقامی مسائل پر توجہ دینی چاہیے ایسے ہی ہوگا جیسے شتر مرغ بیرونی خطرے کے وقت اپنا سرمٹی میں چھپا لیتا ہے۔

کیا میڈیا کوریج سے مسائل حل ہوتے ہیں؟

میڈیا سے متاثر لوگ سمجھتے ہیں کہ آج کے دور میں میڈیا بہت بڑی طاقت ہے اور یہ ہمیشہ عوام کے مسائل حل کرنے میں ساتھ دیتا ہے۔ میڈیا میں جو مسائل اہمیت اختیار کر جائیں وہ فوراً حل ہوجاتے ہیں اس لئے ہر لکھاری کو بھی مقامی مسائل پر زور دینا چاہیے۔ حقیقت یہ ہے کہ میڈیا کو بیچنے کیلئے ہر روز نئی سنسنی خیز خبر درکار ہوتی ہے اس لئے نت نئے مسائل کی خبریں تلاش کی جاتی ہیں۔ میڈیا کو مسائل کے حل سے کوئی دلچسپی نہیں، مسئلے کے حل سے کوئی خبر تخلیق نہیں ہوتی مسئلے کی دریافت سےخبر بنتی ہے۔ میڈیا پچھے بیس سال سے جن مسائل کا انبار لگا رہا ہے ان میں کونسا مسئلہ حل ہوا؟ کیا میڈیا کے شور مچانے سے بجلی، پانی، گیس، پٹرول، آٹا، چینی، دال، سبزی اور صفائی ستھرائی کے مسائل حل ہوگئے یا بنیادی ضروریات کی ہر طرف فراوانی ہوگئی؟

مقامی، نجی اورپرائیویٹ مسائل، میڈیا پر اچھالنے سے حل نہیں ہوتے بلکہ مزید پیچیدگیاں پیدا ہوتی ہیں۔ میڈیا، سرمایہ دارانہ نظام کا نمائندہ ہے اور اسی کے فریم ورک میں میں کام کرتے ہوئے سیکولر، لبرل اور فیمنسٹ اقدار کو فروغ دیتا ہے۔ میڈیا کو اس بات سے کوئی غرض نہیں ہوتی کہ اس کے کسی عمل سے دینی روایات، تہذیب و اقدار کو کیا نقصان پہنچے گا۔ روایتی اور مذہبی تہذیب میں شرم، حیا اور تقدس کی اہمیت ہوتی ہے لیکن میڈیا ہر مسئلے کو اچھالتا ہے خواہ اس سے یہ اقدار پامال ہی کیوں نہ ہوتی ہوں۔ میڈیا جب شرم و حیاء کا لحاظ رکھے بغیر لوگوں کی نجی باتیں تشت ازبام کرتا ہے تو مسائل کے حل کے بجائے لوگوں کے اضطراب اور بے چینی میں مزید اضافہ ہوتا ہے۔

انسان اس کرہ ارض پر ہزاروں سال سے تہذیبی زندگی گزار رہا ہے۔ ہر زمانے کی تہذیب کو مسائل کا سامنا رہا اور وہ ان سےنبٹتی رہی۔ مسائل کی نوعیت میں تو تھوڑا بہت فرق ہو سکتا ہے لیکن انسان کے بنیادی مسائل ازل سے وہی ہیں۔ ہرشخص کو اپنے انفرادی مسائل کے حل کیلئے خود محنت اور مشقت کرنا ہوتی ہے۔ اگر اسکی محنت اور وسائل سے مسائل حل نہ ہو رہے ہوں تو وہ اپنے مسائل پر آواز اٹھاتا ہے، مسئلے کی سنگینی بیان کرتا ہے، اپنے قریبی لوگوں کو مدد کیلئے پکارتا ہے۔ انسانی تہذیبوں نے خاندان، قبیلہ، تھانہ، کورٹ، کچہری اورریاست جیسے اداروں کی تشکیل اسی لئے کی کہ اجتماعی سماجی مسائل منظم طریقے سے حل ہوں۔ اگر ان اداروں میں کوئی خرابی پیدا ہوجائے یا وہ اپنا کردار صحیح طریقے سے ادا نہ کر رہے ہوں توان کے خلاف منظم آواز اٹھانی چاہیے۔ انکی درستی کیلئے عوام کو اجتماعی طورپرعملی اقدامات اٹھانے چاہیے لیکن صرف میڈیا پر مسائل کا رونا رونے سے یہ حل نہیں ہوتے۔ مسائل حل کرنے کا یہ کوئی معقول طریقہ نہیں کہ ایک فرد یا کچھ افراد کو ہم مسائل زدہ قرار دیں جبکہ وہ اطمینان کی زندگی گزار رہے ہوں۔ ان میں پیار محبت کا رشتہ قائم ہو لیکن ہم ایک فرقی کو دوسرے کا ‘ وکٹم’ کہیں، وہ ازدواجی حقوق ادا کر رہے ہوں اور ہم اسے ‘میریٹل ریپ’ کا نام دیں، وہ کسی گھریلو مسئلے پر بحث مباحثہ کریں اور ہم اسے ‘ڈومیسٹک وائلنس’ قرار دیں۔

جو لوگ یہ تجویزکرتے ہیں کہ مغرب کے خلاف تنقید کرنے کے بجائے مقامی مسائل پر لکھا جاناچاہیے انہیں اس بات پر کوئی اعتراض نہیں کہ ملک بھر میں موجود سو سے زائد ٹی وی چینلز پر فحاشی اور عریانی پھیلانے والے ڈرامے، فلمیں اور اشتہارات کیوں دکھائے جاتے ہیں؟ سینکڑوں اخبارات اور میگزینز میں فحش قصے کہانیاں اور ناچ گانے والوں کی عریاں تصاویر کے ساتھ اسٹوریاں کیوں شائع ہوتی ہیں؟ انہیں اس پر کوئی شکایت نہیں کہ فیس بک پر ہر روز لاکھوں، کروڑوں بے مقصد پوسٹیں کیوں ہوتی ہیں اور لوگ سارا دن جگتیں، لطیفے، پیروڈیز اور مضحکہ خیز باتیں کرکے اپنا قیمتی وقت ضائع کیوں کرتے ہیں؟ انہوں نے آج تک اس ملک کے کہانی و افسانہ نویسوں، ناول نگاروں، شاعروں، فنکاروں، گلوکاروں کو مشورہ نہیں دیا کہ فضول کاموں میں اپنا وقت برباد کرنے کےبجائے مقامی مسائل پر لکھیں اور بات کریں۔

انہوں نے اپنے آپ سے بھی آج تک کبھی یہ سوال نہیں کیا کہ وہ اپنے فارغ اوقات کو صرف اور صرف اس مقصد کیلئے استعمال کیوں نہیں کرتے؟ انہیں اس بات پر بھی کوئی اعتراض نہیں کہ ہمارے اکثر تعلیم یافتہ لوگ مغرب سے آنے والی ہر چیز کو بلا سوچے سمجھے، تنقید، محاکمہ اور محاسبہ کئے بغیر چوم کر گلے کیوں لگاتے ہیں؟ انہیں ہمارے ملک کے ان سیاسی، سماجی، تعلیمی اور حکومتی ماہرین سے بھی کوئی شکایت نہیں جو مغرب کی متروک ٹیکنالوجیز اور تھیوریز کو سوسال بعد مہنگے داموں خرید کر اپنی قوم کیلئے عذاب کھڑا کرتے ہیں؟ لیکن اعتراض صرف اس بات پر ہے کہ مغرب کی ان آئیڈیالوجیز کے خلاف کیوں لکھا جاتا ہے جنہیں خود مغرب کے نقاد اپنی قوم کیلئے عذاب تصور کرتے ہیں اور ہمارے ہاں کے دیسی ماہرین انہیں ترقی اور نجات کا ذریعہ قرار دیتے ہیں۔ اعتراض ہے تو صرف اس بات پر کہ مغرب پر تنقید کیوں کی جاتی ہے۔

حرف آخر :

ہمارے ملک کے اندر کم مسائل ایسے ہیں جو ہماری قوم کے اپنے پیدا کردہ ہیں ا ور زیادہ مسائل وہ ہیں جو ہم پر سامراج اور انکے مقامی گماشتوں کی طرف سے لادے گئے۔ لیکن اسکا یہ مطلب نہیں کہ ہم ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے رہیں اور انکے حل کیلئے نہ کچھ سوچیں نہ عمل کریں۔ جو دردمند دل رکھنے والے لو گ مقامی مسائل کے حل کیلئے سنجیدہ کوششیں کر رہے ہیں ہم انکے ساتھ کھڑے ہیں، انہیں حمایت کا یقین دلاتے ہیں اور ہمیں ان سے کوئی اختلاف نہیں۔ اس ملک و قوم کی بقا، تحفظ اورترقی کے سلسلے میں ہماری چومکھی لڑائی ہے اورہمیں ہر جہت میں کام کرنے کی ضرورت ہے۔ ہر کام اپنی جگہ اہمیت کا حامل ہے اور ہر شخص کو اپنی دلچسپی اور صلاحیت کے مطابق ملک و قوم کی خدمت کیلئے کوشاں رہنا چاہیے۔ ایک استاد کا بنیادی کام تعلیم و تربیت ہوتا ہے روڈوں کی صفائی کرنا نہیں اسی طرح ایک ڈاکٹر کا کام امراض کی تشخیص اور علاج کرنا ہوتا ہے عمارتوں کی تعمیر نہیں الغرض ہر شعبے کے افراد اگر اپنا کام ذمہ داری سے انجام دیں تو بہت سے مقامی مسائل حل ہو سکتے ہیں۔ کچھ ایسے لوگ بھی درکار ہوتے ہیں جو قوم کو بیرونی یلغار اور خطرات سے آگاہ کریں۔ انکے کام کو اس وجہ سے غیر اہم قرار نہیں دیا جاسکتا کہ انکی سعی مقامی اور داخلی مسائل کے حل میں معاون نہیں ہوتی۔ ہمیں قومی یکجہتی کو فروغ دیتے ہوئے ایک ایسی ہمہ جہت کاوش کرنے کی ضرورت ہے جس میں بیرونی خطرات و نظریات کا توڑ ہو اور داخلی سطح پر بھی معاملات درست انداز سے انجام دیے جا سکیں۔ ہرشعبہ اپنی جگہ اہم اور مفید ہے، کوئی کسی کا نعم البدل نہیں۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

About Author

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20