بزرگ ——— مجیب الحق حقّی

0

ایک راہ نوردِ ذات سے حیران کُن ملاقات
یہ چند سال پہلے کی ایک ملاقات کی سچّی کہانی ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

پینٹ شرٹ پہنے اور ہاتھ میں اسمارٹ فون لیے وہ ایک اسمارٹ جوان تھا جو کسی سلسلے میں ملنے آیا تھا۔ کسی بات پر اس کے خیالات دیکھتے ہوئے میں نے اپنی کتاب بطور تحفہ پیش کی۔
اس نے ٹائٹل کو بغور دیکھا۔۔ “ڈیوائن وسپرز”۔۔ وہ بڑبڑایا۔
اور کچھ صفحات پلٹے۔۔۔۔ لمحے بھر کے لیئے کسی سوچ میں غرق ہوا۔۔
اسکی آنکھیں بند پھر نیم وا ہوئیں۔
پھر میری آنکھوں میں دیکھتے ہوئے بولا، بزرگ, عالم چار ہوتے ہیں!
میں ٹھٹکا۔۔۔۔ آواز آئی۔۔۔ عالَم ناسوت، عالمِ ملکوت، عالمِ جبروت اور عالم لاہوت !
اسکی آواز میںعجب ارتعاش تھا۔۔۔۔
اس نے میری طرف دیکھا اور سوال کیا، کیا آپ کو نہیں معلوم؟
میں سٹپٹایا اور کہا کہ ہاں سنا تو ہے، چار عالم کا تذکرہ کیا تو جاتا ہے لیکن کبھی اسپر غور نہیں کیا۔
اس نے کہا، یہی عالمین ہیں، لاہوت میں ذاتِ باری تعالیٰ ہے۔۔۔
اور ہر عالَم کے دو رخ ہیں۔۔۔۔۔ ایک عیاں اور دوسرا پنہاں۔۔۔
ناسوت ایک دائرہ ہے جس میں ہم ہیں۔۔ اسکے باہر ملکوت۔۔۔
اس سے باہر جبروت اور اس کے چاروں طرف لاہوت۔۔۔۔
میں اُس سے اِس گفتگو کی توقع نہیں کر رہا تھا، حیران ہوکرمیں نے پوچھا، بھائی آپ کون؟
کہا، ذات کا شعور۔۔۔ میرے اندر علوم ہیں جو بتا نہیں سکتا!
میں جُز بز ہوا۔۔۔۔ کہ یکِ بعد دیگرے سرد لہریں کانوں سے ٹکرائیں۔۔
عالمین سے پہلے کچھ نہیں تھا،،
سوائے ذات لا محدود کے،، ہاں مگر
نہ رحمٰن تھا۔۔۔۔ نہ رحیم۔۔۔ نہ جبّار تھا۔۔۔۔ نہ قہّار،
نہ عزیز تھا۔۔۔۔۔ نہ مجید۔۔۔ نہ رقیب تھا۔۔۔۔ نہ مجیب،
نہ مصوّر تھا۔۔۔۔ نہ رزّاق۔۔۔۔۔۔ نہ غفور تھا۔۔۔۔۔ نہ قہّار”
وہ رک نہیں رہا تھا۔
میں مبہوت اسے تکے جارہا تھا کہ وہ ایک دھماکہ تھا جو کان سے ٹکراکر مجھے لرزا گیا۔۔۔
“جب معبود بھی نہیں تھا۔۔۔۔ جب اللہ بھی نہیں تھا۔۔۔۔۔۔۔”
میرے جسم میں ٹھنڈی لہر دوڑ گئی۔ یا اللہ یہ کیا ہذیان کہہ رہا ہے، کیا یہ مجنون ہوگیا ہے؟
میری روح میں جیسے سرسراہٹ ہوئی، میں گھبراگیا۔۔۔۔۔ میں ڈر گیا۔۔۔
یا اللہ! یہ کیا کہا اس نے۔۔۔ میں سہم گیا۔۔۔۔ میں نے اسکو غور سے دیکھا۔۔۔
اسکی آنکھوں میں اعتماد کی چنگاریاں تھیں۔
میں سوچ میں ہی تھا کہ اس نے یہ کیوں کہا کہ اس نے میری آنکھوں میں جھانکتے پھر کہا، بزرگ، جب معبود بھی نہیں تھا!
نہیں یہ مجنوں تو نہیں لگتا، میں اس کی نگاہوں کے اعتماد کو تولتا دل میں گویا ہوا،
وہ میری آنکھو ں میں جھانک رہا تھا، میری آنکھوں میں پیوست ہو رہا تھا۔۔۔۔
اس نے پوچھا ـــ، کیا کبھی آپ نے ایسا سوچا ؟
میں نے نفی میں سر ہلایا تو کہا، “ذرا سوچیں! کہ معبود کہاں تھا؟”
میں اسے دیکھتا رہا۔۔۔ مگر سوچتا رہا۔۔۔ یہ کیا کہا،
میں سوچتا رہا۔۔۔ سوچتا رہا۔۔۔ سوچتا رہا کہ۔ اللہ کہاں تھا؟ اللہ کیوں نہیں تھا!
اچانک میرے اندر ایک خیال کوندا۔۔۔۔۔ اوہ،
وہ صفات کے تذکرہ تھے، ذات کے نہیں۔۔۔۔۔
اوہ۔۔۔۔ ہاں، واقعی۔۔۔ ہاں جب تو معبود نہیں تھا۔۔۔۔
واقعی اس وقت ایسا ہی تھا۔۔۔
میں مسکرایا۔۔۔ وہ بھی مسکرا دیا۔۔۔۔ وہ سمجھا گیا۔۔۔۔ میں سمجھ گیا۔۔

کون تھا اس لامکاں میں۔۔۔۔ وہاں تو ایک لا محدود ذات تھی،
العلیم تھا۔۔۔
قادرِ مطلق تھا،۔۔۔۔۔
حئی اور قیّوم تھا،۔۔۔۔
لیکن،،،،
معبود نہیں تھا۔۔۔ کیونکہ کوئی عابد نہیں تھا۔۔۔
رازق نہیں تھا۔۔۔۔ کیونکہ کوئی رزق کا طلبگار نہیں تھا۔۔۔۔۔
اِلہٰ نہیں تھا۔۔۔۔ کیونکہ کوئی بندہ نہیں تھا،
میں سوچ میں گم ہوگیا،۔۔۔۔۔
میری سوچ کی پرواز ازل تک جاپہنچی اور۔۔۔
اور اس بھی قبل کے اندھیروں میں ڈوبنے لگی کہ۔۔۔۔ وہاں کیا ہوا ہوگا ؟
انسان کا ایک ننّھا ذہن بھلا کیا جان سکے،،،
لیکن میںان دیکھی تصویر میں رنگ بھرنے لگا،،،،
ہاں ہاں یہی ہوسکتا ہے اور ہم یہی جان سکتے ہیں۔
العلیم نے قلم تخلیق کیا، کائنات کا پروگرام قلم سے لکھوایا تو ایک مصوّر ہوا،
پھر کُن کہا تو پروگرام چل پڑا،
جب اس ذاتِ علیم و قادر نے تخلیق کی توہ خالق بنا۔۔۔۔
پھرتخلیق ہوتی رہی، ہوتی رہی،
عالمینِ جبروت۔۔۔ مَلَکوت۔۔۔ اور ناسوت بنے،
پردے اُٹھتے گئے۔۔۔ اس ذات کی صفات آشکارہ ہوتی رہیں۔۔۔۔
مخلوق کو عبادت کا شعور دیا تو معبود بنا، مسجود بنا، حاکم اور مالک بنا۔
رزق دیا تو۔۔۔۔ رازق بنا۔۔۔۔۔
مخلوق نے دعا اور التجاکی تو مجیب بنا، غفّار و ستّار بنا،
رحمن۔۔ رحیم۔۔ اور کریم ہوا،
وہ تنہا معبود تھا، مگر جب مخلوق نے۔۔۔ بہت سے خدابنائے۔۔
تووہ یکتا اورخاص معبود یعنی اللہ ہوا۔۔۔۔ اور اللہ ہی کہلایا۔
ہاں تب وہی ذات ِلامحدود،۔۔۔ اللہ جلّ جلالہُ کہلائی،۔۔۔
سبحان اللہ وبحمدہٖ سبحان اللہ ِ العظیم۔۔۔۔
۔۔

اسی وقت کسی فون پر میسج کی صدا آئی، میرے خیالات کا دھارا ٹوٹا،، میں چونکا،
اس نے اپنے اسمارٹ فون پر پیغام پڑھا، چائے کی پیالی سے لمبا گھونٹ لیا،
اُٹھا۔۔۔۔
اور کہا۔۔۔۔ ـ بزرگ اب اجازت دیں۔۔۔۔
میں نے کہا میرے بزرگ تو تم ہوئے۔
وہ مسکرایا اور چلا گیا لیکن مجھے حیران کرگیا اور اک نکتہ سمجھا گیا،
میں سوچتا ہی رہا کہ یہ اجنبی حقیقت میں کون تھا ؟
کوئی مجذوب یا ذات کا مسافر؟
یا ذات کے شعور کی گتھیاں سلجھاتا کوئی مفکّر؟
واللہ اعلم

یہ بھی پڑھیں:  دانش کیلئے احمد جاوید صاحب کے مشورے: اک جہان معنی
(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20