مڈل کلاس طبقہ تذبذب کے دو راہے پر۔۔۔۔ وقاص احمد

0

مڈل کلاس کے فرد کی ساری زندگی کی تگ و دو اپنے موجودہ طبقاتی مقام سے اگلے مرحلے پہ موجود طبقہ تک رسائی کے حصول پہ مرکوز رہتی ہے۔ زندگی کی قیمتی ساعتیں ایک پائیدان پہ اچھلتے رہتے اور بالا پائیدان کو سر کرنے کی محنتوں میں گزر جاتی ہے۔ لوئر مڈل کلاس سے مڈل کلاس، مڈل کلاس سے اپر مڈل کلاس اور اپر مڈل کلاس سے نو دولتیوں کا ٹھپا لگوانے کا شوق حاصل زندگی ٹھہرتا ہے۔

ایک بزرگوار سے پہلی ملاقات میں جب ان کے علاقے کے محل وقوع کی تعریف کی تو انہوں نے فورا اپنے مکان کی قیمت کا فسانہ سنانا شروع کر دیا۔ اندازہ ہوا کہ بزرگوار اپنی شخصیت کی قدر کا پیمانہ مکان کی قیمت کے بل پر کروانا چاہ رہے ہیں۔ افسوس، ہمارے ہاں انسان کی قیمت کا اندازہ اس کے ارد گرد موجود بے جان اشیا کی منڈی سے لگایا جانے لگا ہے۔ جو جتنا ڈھیر اکھٹا کر لے، اتنا با وقار ہے۔

غریب بیچارے کے لئے تو ہر انسانی جذبہ کسی نہ کسی مادی قدر سے مشروط ہے۔ رشتے، رجحانات، برتاؤ اور تعلقات لین دین کے کاروباری معاہدے بن چکے ہیں۔ غریب کے لئے یہ ماحول اگر مجبوری ہے تو مڈل کلاس کے لئے مرعوبیت کا منطقی نتیجہ۔

فیس بک پہ موجود مڈل کلاس کے نمائندوں کی تحریر و ابلاغ، میلانات اور دلچسپیوں پہ نظر دوڑائیں، سارا زور بے تکی خود نمائی اور لغویات پہ ہے۔ مذہب کی تنقید یا تکذیب بھی اپنی خود ساختہ انفرادیت کی تسکین کا ذریعہ ہے۔ ان موضوعات کی اتنی شہرت کا سبب کیا ہے؟ حقیقی انسانی قدر سے محرومی۔ جس کو انسان کبھی سرمایہ سے پورا کرنے کی کوشش کرتا ہے اور کبھی تحریر کے بل پہ نفسیاتی برتری کا اظہار چاہتا ہے۔ کبھی تصویر، گھر یا گاڑی کی نمائش سے نرگسیت کو آسودہ کرتا ہے۔


یہ طبقہ اپنے طبقے کےمعاشرتی، معاشی اور سماجی مسائل کو پورے پاکستان کے مسائل سمجھ بیٹھا ہے۔ اپنے ذہنی خلفشار، سیاسی ربط اور سمجھ کو پوری سوسائٹی پہ محمول کرتا ہے۔ اسی لئے پردے کا حکم اور اس کی جزیات، الحاد کا فتنہ، ٹرانس جینڈر کا قضیہ، قومی اور لسانی شناخت کا بھوت، لبرل اور اسلامسٹ کی اصطلاحات کا فروغ اور باہمی رسہ کشی وہ ترجیحی معاشرتی مسائل ٹھہرتے ہیں جن پر ملک پاکستان کے مستقبل کا دارومدار ہے۔


فیس بکی مڈل کلاس دنیا چند مستثنیات کے ساتھ عمومی کھوکھلے پن کا شکار ہے۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ سطحی دائروں سے باہر نہ نکلنے پہ مصر یہ اجتماعی دانش سماجی منظرنامے پہ کسی خوش کن تبدیلی کی نوید بن سکتی ہے؟ کیا یہ لکھاریوں کے بڑے بڑے سیمینار، میل ملاپ ذاتی اغراض سے بالا کسی نتیجہ خیز معاشرتی تحریک کے قالب میں ڈھل سکتے ہیں؟ کیا وجہ ہے کہ ادریس آزاد جیسے حقیقی تعلیمی ذہن کی دیوار سے بانٹا گیا علم اتنا اہم نہیں جتنے اہم ایاز نظامی کے فساد زدہ افکار ہیں۔ مذہب کی تعبیرات میں انفرادیت کے شوق میں عالم دین معاشرے کے حقیقی مسائل کو پس پشت ڈال کر صحابہ کی زندگی سے لونڈی غلاموں کو ڈھونڈ لاتا ہے مگر یہ نہیں سوچتا کہ آج کے دور میں عمر کی زندگی سے قوم کو لونڈی کو برتنے کے طریقے نہیں بلکہ معاشی انصاف کے درس کی ضرورت ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ پاکستان کی مڈل کلاس ملک کے صرف دس فیصد حصّہ پہ مشتمل ہے۔ بدقسمتی سے یہی طبقہ فیس بک پہ زیادہ متحرک ہے۔ یہ طبقہ اپنے طبقے کےمعاشرتی، معاشی اور سماجی مسائل کو پورے پاکستان کے مسائل سمجھ بیٹھا ہے۔ اپنے ذہنی خلفشار، سیاسی ربط اور سمجھ کو پوری سوسائٹی پہ محمول کرتا ہے۔ اسی لئے پردے کا حکم اور اس کی جزیات، الحاد کا فتنہ، ٹرانس جینڈر کا قضیہ، قومی اور لسانی شناخت کا بھوت، لبرل اور اسلامسٹ کی اصطلاحات کا فروغ اور باہمی رسہ کشی وہ ترجیحی معاشرتی مسائل ٹھہرتے ہیں جن پر ملک پاکستان کے مستقبل کا دارومدار ہے۔ پھر ایک زمین دوز معاشرے میں انسانیت سوز واقعات کا جو تسلسل قائم ہو جاتا ہے۔ مڈل کلاس اس پہ نوحہ خانی کے عمل میں بھی ماہر ہوتی ہے۔ ٹسوے بہانے میں اپنا حصّہ ڈال کر خود کو بری الزمہ سمجھ لینے والی مخلوق سے کسی عملی سوچ یا اقدام کی توقع باندھنا عبث ہے۔ اس سوز ولحن کے مظاہرے مڈل کلاس فیس بکی دانش کا حاصل ہیں اور لائکس اور کمنٹس کی نہ ختم ہونے والی بھوک کا درماں بھی۔

خدا کرے کہ جو کچھ نظر آرہا ہے، سب ویسا نہ ہو اور تھوڑی سی روشنی کسی کونے سے ابھرتی ہمیں تلاش کر لے۔

About Author

Daanish webdesk.

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: