عالمی نثری ادب، اشعر نجمی کے اثبات کا ایک اور شاہکار— نعیم الرحمٰن

0

اشعر نجمی کی دنیائے ادب میں کارکردگی پرستاروں کو ششدر کر دیتی ہے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اشعر نجمی کے ہاتھ کوئی جن لگ گیا ہے۔ ورنہ مسلسل ایسے کارنامے عام انسان کے بس کے تو نہیں ہیں۔ انہوں نے سہ ماہی ’’اثبات‘‘ کا اجراء کیا اور اس کے بے مثال نمبر شائع کرکے دھوم مچائی۔ ’’اثبات‘‘ کے یکے بعد دیگرے تین غیرمعمولی نمبر شائع ہی نہیں کیے۔ انہیں بھارت کے ساتھ پاکستان سے بھی شائع کروایا۔ ’’سرقہ نمبر‘‘، ’’عریاں اور فحش نگاری نمبر‘‘ اور دو جلدوں پر مبنی ’’احیائے مذاہب نمبر‘‘ پاکستان میں عکس پبلشرز نے شائع کیے۔ ان نمبروں نے پاکستا ن میں بھی بے حد پذیرائی حاصل کی اور اشعر نجمی کی یہاں بھی پہچان بن گئی۔ اردو کے معروف ادیب، شاعر، نقاد شمس الرحمٰن فاروقی کے انتقال پر اشعر نجمی نے صرف ڈیڑھ ماہ میں ’’وہ جو چاند تھا سرآسماں، بیادِ شمس الرحمٰن فاروقی‘‘ مرتب کرکے بھارت اور پاکستان دونوں ممالک میں شائع کروادی۔ کسی مداح نے شاید اپنے ممدوح کو کبھی اس سے بہتر خراجِ تحسین نہ پیش کیا ہوگا۔ ’’وہ جو چاند تھا سر آسماں‘‘ کو پاکستان میں سٹی بک پوائنٹ نے بہت خوبصورتی سے چھاپا ہے اور اس کتاب نے مقبولیت کے نئے ریکارڈ قائم کیے۔ حال ہی میں اشعر نجمی کا پہلا ناول ’’اس نے کہا تھا‘‘ بھارت سے شائع ہوا ہے۔ بولڈ موضوع اور اندازِبیان کے باوجود پاکستان سے بھی اس کی اشاعت کی کوشش کررہے ہیں۔ یقینا اشعر نجمی کا یہ ناول بھی پاکستانی قارئین کے لیے ایک اچھا تحفہ ثابت ہوگا۔

پاکستان کے بہترین پبلشر بک کارنر سے ’’اثبات‘‘ کا ’’عالمی نثری ادب نمبر‘‘ تین جلدوں میں اشاعت پذیرہواہے۔ ہر جلد سات سو چار صفحات پرمشتمل ہے اور اس کی قیمت بارہ سو روپے فی جلد عمدہ طباعت و کتابت کی مجلد کتاب کے لیے انتہائی مناسب ہے۔ ’’اثبات‘‘ کے ’’عالمی نثری ادب‘‘ کی تین جلدوں میں اشعر نجمی نے دنیا کے بہترین ادب کو یکجا کردیا ہے۔ اس خصوصی شمارے میں نوے ممالک کی سو سے زیادہ زبانوں کی ایک سو چوراسی منتخب تحریریں شامل ہیں۔ جو بے شک دنیا کا بہترین ادب نہ ہو، لیکن یہ سات براعظموں کے نوے ممالک کانمائندہ ادب ضرور ہے اور اس کے ذریعے پہلی مرتبہ اردو قارئین کو دنیاکے اتنے ممالک کی مختلف زبانوں کی منتخب تخلیقات ایک جگہ پڑھنے کا موقع میسر آیا ہے۔ جس میں کئی نوبل انعام یافتگان ادیبوں کی تحریریں شامل ہیں۔ عالمی تراجم، نوبل انعام یافتہ تراجم کے کئی مجموعے شائع ہوئے ہیں۔ لیکن اشعر نجمی نے جس طرح اردو قاری کو ’’عالمی نثری ادب‘‘ ایک ساتھ پڑھنے کا موقع دیاہے۔ وہ اس سے قبل کبھی نہیں ہوسکا۔

اشعر نجمی نے اس خصوصی شمارے کے بارے میں لکھاہے۔

’’زیر نظر انتخاب کو ایک ذاتی انتخاب سمجھا جانا چاہیے۔ بیشتر تراجم مطبوعہ ہیں لیکن ان میں سے کچھ غیرمطبوعہ بھی ہیں۔ دوسری زبانوں سے اردو میں ترجمہ ہونے والے نثرپاروں کی فہرست کافی طویل ہے جس کی ببلو گرافی توبنائی جاسکتی ہے لیکن انھیں ایک جگہ اکٹھا کرنا ایک مشکل کام ہے۔ لہٰذا، ہم زیرنظر انتخاب کو ترتیب دیتے ہوئے اس کی لگام اپنی گرفت میں رکھنے پر مجبور تھے۔ ہمیں یہ دعویٰ ہرگز نہیں ہے کہ بہترین عالمی نثری ادب اس انتخاب کاحصہ ہے۔ بلاشبہ بہت سے نام چھوٹ گئے اور بہت سے نثرپارے تنگی صفحات کی نذر ہوگئے۔ بہرحال ہم نے اس انتخاب کوترتیب دیتے ہوئے ناموں کے بجائے مختلف لسانی خطوں کو ترجیح دی اور کوشش کی ہے کہ زیادہ سے زیادہ علاقوں، زبانوں اور ان سے وابستہ ثقافتوں کی نمائندگی ممکن ہوسکے۔ اس لحاظ سے اس انتخاب کا جواز فنی سطح پر بھی ہے اور سماجی و ثقافتی سطح پربھی ہے۔ یوں تو ان ممالک کی صنعتی ترقی اور ان کے معاشرتی رحجانات پر عمرانیات اور دیگرعلوم کے ماہرین کے تجزیے اپنی جگہ اہم ہیں لیکن ناول اور افسانے کے اندرونی احساسات اور مختلف تناظرمیں انسانی ردعمل کی جو صورتیں دکھائی جاتی ہیں، وہ تجریدی اصطلاحات کے مقابلے میں زندگی کی تپش کازیادہ احساس دلاتی ہیں۔ لہٰذا اس انتخاب میں ہماری کوشش یہ رہی کہ فکشن کے حوالے سے ان ممالک کی معاشرتی زندگی، ان میں انسانی تعلقات کی نوعیت اور قدیم و جدیدکے تصادم و اقدارکی ٹوٹ پھوٹ کی جامع تصویر بھی قارئین کو دکھائی جائے۔ ہم اپنے مقصد میں کہاں تک کامیاب ہوئے ہیں، اس کا فیصلہ تو باذوق قارئین ہی کر پائیں گے۔‘‘

’’اثبات‘‘ کے اس یادگارخصوصی شمارے میںدنیاکے چھ براعظموں کوسترہ مختلف خطوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ ہرخطے کے آغاز میں اس خطے اور اس کے ممالک کامختصرتعارف کرایا گیاہے، جس سے قاری کو ان ممالک، ان کی رہن سہن کا علم ہوتا ہے۔ بیشتر مصنفین اورمترجمین کے مختصرتعارف بھی دیے گئے ہیں۔ سوائے ان چندکے جن کے تعارف یا تو مل نہ سکے یاان کی ایک سے زیادہ کاوشیں شامل ہیں۔ توتعارف دوہرایا نہیں گیا۔ اس طرح پڑھنے والے کو مختلف زبانوں اور ممالک کے ڈیڑھ سو سے زائدمنصفین اورسوکے لگ بھگ مترجمین کے بارے میں مختصرمعلومات بھی مل جاتی ہیں۔

پہلی جلد کا اداریہ اشعرنجمی نے ’’ترجمے کی شرحیات‘‘ کے عنوان سے لکھاہے۔ ’’کل تک ترجمے کا تصور صرف لسانی دائرے تک محدود تھا، یعنی کسی ادب پارے کی ایک زبان، ذریعہ سے دوسری زبان، ہدف تک منتقل کرنے کاعمل ہی اس فن کی معراج سمجھا جاتاتھالیکن جب علم و تحقیق نے کچھ اورمنزلیں سرکیں توکئی سربستہ رازمنکشف ہوئے مثلاً یہ پتہ چلا کہ معنی صرف زبان اورمتن تک مربوط نہیں ہوتابلکہ اس میں مصنف اورقاری کابھی اشتراک شامل ہوتاہے۔ اس طرح کسی متن کی موزوں تعبیروتشریخ کے لیے اس ’تثلیث‘ کواہم قراردیاگیا۔ لہٰذا، یہاں یہ دیکھنادلچسپ ہوگاکہ ادبی ترجمے اور شرحیات کے درمیان رشتہ کیاہے۔ اوراس کی مدد سے فن ترجمہ نگاری کاایساکون سا واضح تصور سامنے آتا ہے جو مذکورہ تینوں فریقین سے وابستہ بھی ہو۔ مصنف، مترجم اور متن کی اہمیت کوبھی بخوبی واضح کیاگیاہے۔‘‘

تراجم کے علاوہ تینوں جلدوں میں ترجمے کے حوالے سے ایک ایک صفحہ کے مختصر اورجامع تحریریں بھی دی گئی ہیں۔ پہلی جلدکی ابتدامیںاسد الدین کی تحریر’’ترجمے کی تاریخ خطرناک بھی رہی ہے‘‘ کاترجمہ سہیل احمدفاروقی نے کیاہے۔ ’’ترجمے کی تاریخ انسانی تہذیب کی تاریخ بھی ہے اوراس کی فہم اور نافہمی کی تاریخ بھی۔ کسی قوم کی تاریخ اور تہذیب نمایاں تبدیلیوں کے وقفے سے ترجمے کے میدان میں قابل ذکرسرگرمی سے عبارت رہی ہے۔ یورپی نشاۃ ثانیہ یونانی روایت سے ہم آہنگ تحریروں کے تراجم کے ذریعے ہی ممکن ہوئی جوعرب مسلمانوں نے کیے تھے۔ ادب کاابتدائی دور ترجمہ کا ہی قرارپاتاہے۔ مثلاً میزوادب کی صورت حال یہ ہے کہ میزوزبان میں مسیحی ادب کے ترجمے کے لیے عیسا ئی مشنریوں کے وضع کردہ رسم خط سے پہلے اس کے کسی رسم خط کاوجود نہیں تھا۔ ایک طرف سعدی، رومی، عمرخیام وغیرہ کے فارسی متون اور دوسری جانب ہندوستان کے ویدک اور سنسکرت متون کے تراجم نے مغرب میں مشرق سے متعلق بیداری اورتجسس کومہمیزکیا۔ ترجمہ حددرجہ انسانیت آموز سرگرمی رہی اوراسی بنا پرخطرناک بھی۔ ولیم تنڈیل کو یونانی سے ’عہدنامہ عتیق‘ کے بعض حصوں کاترجمہ کرنے کی پاداش میں کھمبے سے باندھ کر زندہ جلادیا گیا تھا۔ کہاجاتا ہے کہ نیورمبرگ مقدمے میں، جس میں ہولوکاسٹ میں ملوث ہونے کیلیے ہٹلرکے مشیروں اوردیگرافسران پر مقدمہ چلایا گیا تھا، کئی لوگوں کی زندگی جرمن زبان کے ایک فقرے کے درست ترجمہ پرمنحصرتھی۔ اس فقرے کاترجمہ ’مسئلے کامطلوب حل‘، ’ مسئلے کا ضروری حل‘ اور ’مسئلے کاحتمی حل‘ میں سے کچھ بھی ہوسکتا تھا۔ ‘‘

ان مختصرتحریروں کے ذریعے ترجمے کے بہت سے مسائل اورمعلومات کوعمدگی سے بیان کیاگیاہے۔ پہلی جلد میں اصغر عباس کی ’’سرسید کی سائنٹفک سوسائٹی کے تراجم‘‘وسعت اللہ خان کا’’مترجم علم کاپٹواری ہوتاہے‘‘، عبدالحق کا ’’قرآن کے تراجم‘‘، جمیل جالبی کا ’’ترجمے کے مسائل‘‘، اجمل کمال کا ’’مترجم کی ترجیحات اورشخصیت کاعمل دخل‘‘، خادم علی ہاشمی کا ’’اردو میں سائنسی تراجم‘‘ اور تھیوڈورساوری کے’’آزاد اورلفظی ترجمہ‘‘ کاترجمہ آصفہ جمیل نے کیا ہے۔

’’اثبات عالمی نثری ادب‘‘ کے لیے دنیاکے چھ براعظموں کو مختلف خطوں میں تقسیم کیاگیا ہے۔ پہلی جلدمیں مشرقی ایشیا، جنوبی ایشیااورمغربی ایشیاکی منتخب تحریریں شامل ہیں۔ مشرقی ایشیا کا تعارف اشعرنجمی نے ان الفاظ میں کرایا ہے۔ ’’مشرقی ایشیایامشرق بعید جغرافیائی وثقافتی لحاظ سے ایشیا کا ایک ذیلی خطہ ہے۔ جوایک کروڑ بیس لاکھ مربع کلومیٹر پر پھیلاہواہے۔ یعنی یہ براعظم کے کل رقبے کااٹھائیس فیصد ہے اور براعظم یورپ سے پندرہ فیصدبڑاہے۔ یہاں کی آبادی ڈیڑھ ارب ہے جوایشیاکی کل آبادی کاچالیس فیصد اور دنیا کی آبادی کاچوتھائی بنتاہے۔ یہ دنیاکے گنجان آبادترین علاقوں میں سے ایک ہے۔ یہاں 1130افرادفی مربع کلومیٹر آبادی ہے جودنیاکے اوسط سے تین گنا زیادہ ہے۔ اس خطے میں چینی ثقافت کی گہری چھاپ ہے۔ جن میں کلاسیکی چینی زبان کے اثرات، کنفیوشش ازم، نیو کنفیوشش ازم، بدھ ازم اور تاؤازم شامل ہیں۔ مشرقی ایشیاایک جدید اصطلاح ہے جو روایتی نام مشرق بعیدکی متبادل ہے۔ اس خطے سے چین، جاپان، کوریا اور منگولیا کے مصنفین کی تخلیقات کو شامل کیاگیاہے۔ جس میں چین کے لہسوں کی کہانی ’’کہانی پاگل کی ڈائری‘‘ کاترجمہ ظ انصاری اورمؤیان کی ’’سانڈ‘‘ کا نجم الدین احمد نے کیاہے۔ جاپان کے لیوسی شن’کے سائنس فکشن ’دائرہ ‘‘کازوواؤشی کے ’’جنگ کے بعد‘‘ اور ریونسو کی اکوتاگاواکے’’بانسوںکاجھنڈ‘‘ کے تراجم عابدسیال، مبشراحمد میر اور عاصم بخشی نے کیے ہیں۔ کورین ادیب وان سوہ پارک کی تخلیق ’’ڈوبتے سورج کی تصویر‘‘ کے مترجم مسعود اشعر اور منگولیا کے سنگین اردین کی’’ نغمہء شانز‘‘کاسہراب اسلم نے کیاہے۔

جنوبی ایشیاکے تعارف میں بتایاگیاہے کہ جنوبی ایشیا براعظم ایشیاکے جنوبی علاقوں کو کہاجاتاہے جو برصغیرہندوپاک اور ان سے ملحقہ علاقوں پرمشتمل ہے۔ یہ علاقہ مغربی ایشیا، وسط ایشیا، مشرقی ایشیااورجنوب مشرقی ایشیاکے درمیان واقع ہے۔ چونکہ جنوبی ایشیا ہمیشہ بیرونی حملہ آوروں کی زد میں رہاہے، اس لیے یہاں کی ثقافت بھی مختلف قوموں کے ملاپ سے بنی ہے۔ تاہم اکثریت ہندومت اوراسلام پرایمان رکھتی ہے، اس لیے جنوبی ایشیائی ثقافت پردونوں مذاہب کی گہری چھاپ ہے۔ یورپی نوآبادیاتی دورمیں یہ خطہ برطانیہ کے قبضے میں آگیا جبکہ چند چھوٹے علاقوں پرپرتگال، ہالینڈ اور فرانس کاقبضہ بھی رہا۔ جنوبی ایشیا جہاں کئی متضاد ثقافتوں اورتہذیبوں کاگہوارہ ہے وہیں جغرافیائی طور پر بھی گوناگوں خصوصیات کی حامل سرزمین ہے۔ شمال میں بلند ترین چوٹیوں سے جنوب میں عظیم میدانوں، غیرآباد صحراؤں اور منطقہ حارہ کے گھنے جنگلات اورناریل کے درختوں سے سجے ساحلوں تک ہرعلاقہ اس سرزمین کی رنگارنگی میں اضافہ کرتاہے۔ جغرافیائی و سیاسی طورپربنگلہ دیش، بھارت، بھوٹان، پاکستان، سری لنکا، اور نیپال کو جنوبی ایشیا کا حصہ تسلیم کیا جاتا ہے۔ جو آپس میں علاقائی تعاون کی ایک تنظیم ’سارک‘ سے بندھے ہیں۔ حال ہی میں افغانستان کو بی اس تنظیم کارکن بنایا گیا ہے۔

جنوبی ایشیاکے ممالک سے ہندی، انگریزی، مراٹھی، تمل، گجراتی، کنٹر، بنگالی، پنجابی، کشمیری، تلیگو، سرائیکی، ہندکو، اڑیہ، کوکنی، منی پوری، راجھستانی، بوڈو، ڈوگری، میتھلی، سندھی، آسامی، پشتو، بلوچی زبان کی تخلیقات شامل ہیں۔ ہندی ادیبوں امرت لال ناگر ’’یہ کوٹھے والیاں‘‘ دیوندرستیارتھی ’’قبروں کے بیچوں بیچ‘‘ کرشناسوبتی ’’سکہ بدل گیا‘‘ نرمل ورما ’’سوکھا ‘‘ یش پال ’’مہاگیانی‘‘اُدین باجپئی ’’سوانگ ‘‘ مُردلا گرگ ’’ہری ہندی‘‘کے تراجم عبدالمغنی، عبدالسمیع، گل جبین اختر، حیدرجعفری سید، ارتکاز افضل، خالدجاوید اورتوصیف بریلوی نے کیے ہیں۔ ہربنس مکھیاکے ہندی مضمون ’’عہدوسطیٰ‘‘ کا ترجمہ محمدعاطف، جواہرلال نہرواورابوالکلا م آزادکے انگریزی مضامین ’’زبان کا مسئلہ ‘‘ اور ’’منقسم ہندوستان‘‘ کے تراجم معروف شاعروادیب شمیم حنفی کے زورقلم کا نتیجہ ہیں۔ بنگلہ مصنفہ مہاشویتادیوی کی کہانی ’’انا‘‘ کا ترجمہ الطاف فاطمہ نے کیاہے۔ جی اے کلکرنی کی کہانی’’قاصد‘‘پدومائی پتن ’’ایک بڑا قبرستان‘‘ پی پدم راجو’’ کشتی کے مسافر‘‘ کے ایپا پانیکر ’’نواسباق‘‘ جینت کائیکینی ’’دگڑوپرب کا اشوومیدھ‘‘ ایلامہتا’’ دھواں‘‘ اجیت کور ’’ایک اور فالتو عورت‘‘ امین کامل ’’مرغ بازی‘‘ سروجنی ساہو ’’ریپ‘‘ ہیم آچاریہ ’’سمتی‘‘ وائی ابومچا ’’پانی‘‘ وجے دان دیتھا ’’آدم خور‘‘ نیل کماربرہم ’’پابوسی‘‘ ویدراہی’’ایک تھا مصور‘‘ سریندر جھا سمن ’’وارث‘‘ ہریش واسوانی ’’گھنٹی‘‘ اپورباسرما ’’اندھیرے میں باتیں‘‘ امر جلیل ’’عاشق اور شہید‘‘ نورالبشرنوید ’’حرامی‘‘ غنی پرواز ’’جنگل کا قانون‘‘ فرخندہ لودھی ’’من میں چھید‘‘ انور علی ’’گڑ کی بھیلی‘‘ حبیب موہانہ ’’ربڑ کے پتلے‘‘ خالدسہیل ملک ’’آنگن‘‘ شیراز طاہر ’’کتے‘‘ کاملہ شمسی کے انگریزی ناول کاحصہ ’’گھر کی آگ‘‘ پھنندرارتنابجر چاریہ ’’عورتیں‘‘ سلینہ حسین ’’جزیرہ‘‘ راجہ پروکٹور ’’خداکی مرضی‘‘ اور زرین انزور ’’چیخ‘‘ اس حصے کے لیے منتخب ہوئی ہیں۔ جن کے تراجم سلام بن رزاق، ذکیہ مشہدی، سہیل احمد فاروقی، اسلم مرزا، ارجمندآرا، عامرصدیقی، اشعرنجمی، یونس اگاسکر، بیگ احساس، مجیدمضمر، شائستہ فاخری، محمد اسد الدین، جینت پرمار، انورسجاد، شاہد حنائی، محمد ارشدسلیم، حمل غنی، سلیم شہزاد، اسحاق وردگ، شیراز طاہر، محمد حمید شاہد، خالدہ حسین اور طاہر آفریدی نے کیے ہیں۔

’’عالمی نثری ادب‘‘جلد اول کا آخری حصہ جنوب مشرقی ایشیا یاشرق الہندبراعظم ایشیاکے خطے کااحاطہ کرتاہے۔ جوان ممالک پرمشتمل ہے جو جغرافیائی طور پرچین کے جنوب، بھارت کے مشرق اورآسٹریلیاکے شمال میں واقع ہیں۔ یہ علاقہ مختلف پرتوں کے درمیان ہے اس لیے زلزلے اورآتش فشاں پھٹنے کے واقعات یہاں رونما ہوتے ہیں۔ جنوب مشرقی ایشیا دراصل دوجغرافیائی خطوں پر مشتمل ہے جن میں براعظم ایشیا پر واقع علاقہ اور مشرق اورجنوب مشرق کی جانب جزائر اور مجمع جزائرشامل ہیں۔ براعظم ایشیا کا حصہ کمبوڈیا، لاؤس، میانمار، تھای لینڈ اور ویت نام پرمشتمل ہے۔ دوسراعلاقہ برونائی، مشرقی تیمور، انڈونیشیا، ملائیشیا، فلپائن اورسنگاپور پر مشتمل ہے۔ اس حصے میں سنگاپور، انڈو نیشیا، فلپائن، تائیوان، برما، ملیشیا، ویتنام اورتھائی لینڈ کی آٹھ کہانیوں کے تراجم شامل ہیں۔ جن میں تین کاترجمہ مصطفی نذیر احمد، ایک کا نسیم شاہد اورچارکااردوکے معروف ناول، افسانہ اور سفرنامہ نگار مستنصرحسین تارڑنے کیاہے۔ اس طرح قارئین کو تارڑصاحب کے تراجم پڑھنے کاموقع بھی ملتا ہے۔

’’عالمی نثری ادب‘‘ کی جلددوم مغربی ایشیا، وسط ایشیا، مشرقی یورپ، مغربی یورپ اورشمالی یورپ کے پانچ خطوں پر مشتمل ہے۔ اداریہ میںاشعرنجمی ’’ترجمے کی ریل گاڑی اورنوبل ٹرمینس‘‘ کے عنوان سے اہم سوال اٹھایاہے۔

’’بی بی سی کی ایک رپورٹ کے مطابق پوری دنیامیں اردوسو ملین لوگوں کی زبان ہے۔ سوال اٹھتاہے کہ آخرکیا وجہ ہے کہ اب تک اردو کو نوبل انعام برائے ادب موصول نہیں ہوا؟ اس استفسارپرعالمی سازش وغیرہ کو کوسنے کی بجائے اس مسئلے کی بنیاد تک پہنچنے کی کوشش کریں تووجہ معلوم ہوجاتی ہے۔ اول یہ کہ اردوزبان جاننے والوں کا رشتہ نسبتاً مذہبی لٹریچر سے زیادہ ہے، ادب کوثانوی درجہ حاصل ہے اورجہاں تک دوسرے علوم کاتعلق ہے وہ حاشیے پرہیں۔ اگرچہ دوسری زبانوں میں بھی ادب مسندخلافت پرجلوہ افروزنہیں ہے، مثلاً آٹھ سوزبانوں والے ہندوستان کے کھاتے میںادب کا نوبل انعام صرف ایک ہے، جب کہ یہاں صرف ہندی بولنے والوں کی تعدادپچپن کروڑسے زیادہ ہے، اس کے علاوہ ہندوستان کی دس بڑی زبانوں میں سب سے نیچے پائیدان پراڑیہ ہے جسے تین کروڑسے زیادہ لوگ بولتے ہیں۔ اس اعتبارسے تخلیق ادب کے لیے ہندوستان کی زمین دوسرے ملکو ںکے مقابلے میں زیادہ زرخیرہے۔ آخر کیا وجہ ہے کہ تمام ہندوستانی زبانوں کو ملا کر اس کے حصے میں صڑف ایک نوبل انعام درج ہے؟ کیا کہانیاں کم پڑگئیں کیاادب کی تخلیق کم ہورہی ہے؟ واقعہ اس کے برخلاف ہے، کم از کم ہم اردو والوں کو تو اس کا الزام نہیں دیاجاسکتا۔ شعری مجموعوں، افسانوں کے مجموعوں اور تنقیدی کتابوں کے روز ہم ڈھیر لگاتے ہیں، تو پھر وجہ کیاہے؟ وجہ ایک ہی ہے اور وہ ہے’’ترجمے سے مجرمانہ حدتک لاتعلقی۔‘‘ ہم اپنے عشرت کدے میں خود ہی تماشہ ہیں اورخود ہی تماش بین۔ ہم نے اپنی تخلیقات کو ایک چھوٹے سے حلقے تک محدود کردیاہے، کیاہم نے اس کی خوشبوسے دنیاکومتعارف کرانے کی کوشش کی؟ دنیا چھوڑیے، کیاہم نے اپنے ملک کے ایک کونے سے دوسرے کونے تک بھی اسے پہنچانے کی کوشش کی؟ آمنہ مفتی کی رائے سے اتفاق کیے بغیر نہیں رہا جاتا کہ اردوکا مزاج مجلسی ہے۔ اس زبان کے قاری سے زیادہ سامع ہیں، نثرسے زیادہ یہ غزل کی زبان ہے اورغزل مشاعرہ مانگتی ہے، نوبل انعام نہیں۔ مشاعرے کاشاعرفوری توجہ چاہتاہے لیکن یہاں تو نوبل انعام کے لیے پوری زندگی گھسنی پڑتی ہے، پھر بھی لاحاصل کہ دودن آرزومیں کٹ گئے اوردو دن انتظار میں گزرجاتے ہیں۔‘‘

مغربی ایشیا، ایشیاکے مغرب والے علاقے کوکہاجاتاہے۔ اس کارقبہ تقریباً تریسٹھ لاکھ کلومیٹراورآبادی بتیس کروڑ کے قریب ہے۔ اس خطے میں آرمینیا، آذربائیجان، بحرین، قبرص، جارجیا، ایران، عراق، اسرائیل، اردو، کویت، لبنان، عمان، فلسطین، قطر، سعودی عرب، شام، ترکی، متحدہ عرب امارات، اوریمن کے ممالک شامل ہیں۔ یہاں عربی، آرامی، آرمینائی، آذر بائیجانی، جارجیائی، یونانی، عبرانی، کردش، فارسی اور ترکی زبانیں بولی جاتی ہیں۔ خطے کاایک مضمون اور ناول کاٹکڑا اور بیس کہانیاں شامل کی گئی ہیں۔ ایران کے غلام حسین ساعدی، جلال آل احمد، جمال میرصادقی، صادق ہدایت، لبنان کے خلیل جبران اورامین مالوف، ترکی کے ناظم حکمت، اعوزاتائے، اورحان پامک، سعودی عرب کے عبداللہ قازی، علوی طہٰ العبانی، شام کے زکریاتامر، جارجیاکے اوٹیاآؤسیلیانی، کویت کی فاطمہ یوسف العلی، ابوظہبی کی مریم الساعدی، یمن کی نجودعلی، اسرائیل کے ابراہام کوشوا، اکرم ھنیہ، فلسطین کے زیاد خداش اورعراق کے ابوعثمان الجاحظ اورحسن بلاسم کی تخلیقات کوجگہ دی گئی ہے۔ جن کے تراجم نیرمسعود، قمرغفار، محمدعمرمیمن، مسعود اخترشیخ، اجمل کمال، عبداللہ جان عزیز، زینت حسام، ارجمندآرا اور دیگر نے کئے ہیں۔

وسط ایشیابراعظم ایشیاکاایک وسیع علاقہ ہے جس کی سرحدیں کسی سمندرسے نہیں لگتیں۔ وسط ایشیاکی تین تعریفیں کی گئی ہیں۔ پہلی سوویت روس نے تشکیل دی دیگرعام اورجدیدتعریف اوراقوام متحدہ کے ادارے یونیسکوکی تعریف ہے۔ روسی تعریف کے مطابق اس خطے میں ازبکستان، ترکمانستان، تاجکستان، کرغیزستان شامل ہیں۔ اقوام متحدہ نے منگولیا، مغربی چین بشمول تبت، جنوب مشرقی ایران، افغانستان، مغربی پاکستان، وسط مشرق روس، شمالی پاکستان اوربھارتی پنجاب بھی شامل ہے۔ یہ علاقہ تاریخ عالم میں اہم حیثیت رکھتاہے۔ اس خطے سے چنگیز اعتماتوف، الیاگودے توف، رشیدعلیوف اورعبداللہ کاخرکی کہانیوں کاترجمہ محموداحمدقاضی، نجم الدین احمد اور ستار طاہر نے کیاہے۔

دریائے ڈینیوب اوربحیرہ اسودکے شمال میں پھیلاہواعلاقہ مشرقی یورپ کہلاتا ہے، جس کا بیشتر علاقہ میدانی ہے۔ بیلارس، مالڈووا، رومانیہ، بالٹک ریاستیں اوریورپی روس کواس کاحصہ سمجھاجاتاہے۔ تاریخ کاخطرناک نیوکلیائی حادثہ شمالی یوکرین کے چرنوبل پلانٹ میں پیش آیااس خطے کی چودہ کہانیاں، ایک انٹرویو اور ایک مضمون ’’عالمی نثری ادب‘‘ میں شامل ہیں۔ جن میں عظیم انتون چیخوف، فیودردوستوئفسکی، میکسم گورکی، لیوٹالسٹائی، ایوان بونن، میخائل شولو خوف، ولادیمیر نیبوکوف، آندرے گروشنکو، سویتلاناالیگزائی وچ، کلمان مگزاتھ، میلان کنڈیرا، ولادیمیر سلاوریموں، اولگا تکارچک، ہیرٹاملر، مائیخلو اسٹارسکی اورایملن اسٹانیف کی تصانیف جن کے تراجم سعادت حسن منٹو، صابرہ زیدی، محمد حسن رابع، ارشدچہال، قیصر نذیر خاور، ستارطاہر، نجم الدین احمد، اعجازاحمدفاروقی، محمدعمرمیمن، خاقان ساجد، صہبا جمال شاذلی اورشیخ نوید نے کیے ہیں۔ اس انتخاب کاحصہ ہیں۔

مغربی یورپ ان تمام ممالک پرمشتمل ہے جویورپ کے مغربی حصے میں واقع ہیں۔ رومی موجودہ یورپ پرچھاگئے لیکن مغربی خطوں کی زبان لاطینی جبکہ مشرقی خطے یونانی بولتے تھے۔ یہ زبان وثقافت کافرق دونوں خطوںمیں پہلا امتیاز ثابت ہوا۔ مغربی یورپ سے فرانس، جرمنی، آسٹریا اورہالینڈکاایک ڈرامہ اورآٹھ کہانیاں منتخب ہوئی ہیں۔ جن میں موپساں، یوژین آئنسکو، ایملی زولا، ژاں پال سارتر، ہائنرخ بوئل، فرانزکافکا، ہانینزمولراورجیف گیترائٹرس جیسے عالمی شہرت یافتہ ادیبوں کے تراجم سردارحسین، مسیح الزماں، شاہداحمددہلوی، تصدیق سہاروی، مقبول ملک، منیرالدین احمدد، ثمینہ اور ستار طاہر نے کیے ہیں۔

براعظم یورپ کے شمالی علاقہ جات شمالی یورپ کہلاتے ہیں۔ جس میں برطانیہ، سویڈن، ناروے، ڈنمارک، فن لینڈ، آئرلینڈ، استونیا، لیتھو وینیاشامل ہیں۔ خطے کے چودہ ادیبوں سمرسٹ مام، جارج آرویل، ڈی ایچ لارنس، گراہم گرین، ورجینیا وولف، برنارڈین اوارستو، ڈیوڈ ایتن برو، آسکروائلڈ، جیمس جوائس، مارتی لارنی، ولیم ہنسن، نٹ ہمسن، سلیمہ لاغرلوف اورکرسٹمان گومونڈسن کی تخلیقات ’’عالمی نثری ادب‘‘ جلددوم میں شامل ہیں۔ جن کے تراجم سلیم الدین، سید سعیدنقوی، ستارطاہر، انورسدید، محمدعاطف، سیدکاشف رضا، عظیم احمد، انورعنایت اللہ، نصرملک، خاقان ساجد اور ہما نصر کے زورِقلم کانتیجہ ہیں۔ اس جلد میں امیرعارفی کا ’’دارالترجمہ عثمانیہ‘‘ سیدضمیرحسن کا ’’دہلی ورنیکلر ٹرانسلیشن سوسائٹی‘‘ اور ’’کئی زبانوں میں ترجمہ کرنے والافیس ماسک‘‘ ایک صفحہ کے مضامین شامل ہیں۔

’’عالمی نثری ادب‘‘ کے تیسرے اورآخری جلدجنوبی یورپ، ریاست ہائے متحدہ امریکا، شمالی امریکا، جنوبی امریکا، مغربی افریقا، مشرقی افریقا، شمالی افریقا، جنوبی افریقا، وسطی افریقااورجہان دیگر نیوزی لینڈ اور آسٹریلیا پر مشتمل ہے۔ اس جلد کے مہمان اداریہ کے طورپرماریاٹائموز کے مضمون’’مابعدنوآبادیاتی تحریریں اورادبی ترجمہ‘‘ کا ترجمہ فرحت احساس نے کیا ہے۔ یہ بہت دلچسپ، معلوماتی اورفکرانگیزمضمون ہے۔ اس جلد میں مشہورتاریخ دان مبارک علی کایک صفحی مضمون ’’اردو تراجم‘‘ اور ’’نیر مسعود بنام شاہدحمید‘‘ ایک پراناخط، محمدعلم اللہ کا’’لسانی تساہل کی شکار اردو صحافت اور ترجمہ‘‘، ’’چالیس زبانوں میں فوری ترجمہ کرنے والا ہیڈفون‘‘ منور آکاش کا ’’ترجمے کی مشکلات اور ثقافت‘‘ لنڈا وانگ کا ’’امریکی ترجمہ شدہ ادب کے ذریعہ دنیاکو جانتے ہیں‘‘ اور وسیم احمد علیمی کا ’’کیا مشینی ترجمہ انسانی ترجمے کا متبادل ہوسکتا ہے‘‘

براعظم یورپ کاجنوبی خطہ جنوبی یورپ کہلاتاہے۔ اس کی کوئی واضح تعریف نہیں ہے، تاہم اسے اسپین، پرتگال، اٹلی اور یونان اس میںشمار ہوتے ہیں، فرانس کاجنوبی علاقہ اورترکی کاوہ تین فیصدعلاقہ جویورت میں شامل ہے، بھی جنوبی یورپ کاحصہ ہے۔ اقوام متحدہ کے مطابق اسپین، البا نیا، انڈورا، اٹلی، بلغاریہ بوسنیاوہرزیگووینا، جبرالٹر، سان مرینو، سربیا، سلووینیا، کروشیا، مالٹا، مقدونیہ، مونٹی نیگرو اوریونان اس میں شامل سمجھے جاتے ہیں۔

جنوبی یورپ کے بارہ مصنفین کی تخلیقات اس حصے میں جگہ بناسکی ہیں۔ جن میں یونان کے کونستنتائن کوافس، اٹلی کے لیوگی پیرااندیلو، البرٹو موراویہ، پریمولیوی، اٹالوکلوینو، کروشیاکے جوسپ نوواکووچ، پرتگال کے یولنڈاجرساؤ، البانیہ کے یلدرین بے، اسپین کے گریگوریولوپیز فو آنتے اورکیم مونزواستونیاکی یوری تولک اورسربیاکے سوتیوزازکورووچ کے تراجم محمد سلیم الرحمٰن، وجاہت مسعود، اعجازراہی، عاصم بخشی، ظفر سید، سیدکاشف رضا، نجم الدین احمد، اعجاز احمد فاروقی، زینت حسام، نصرملک اورخالدبن اسلام نے کیے ہیں۔

ریاست ہائے متحدہ کی ثقافت کی ابتداانگریزنوآبادکاروں سے ہوئی تھی۔ اس ثقافت نے بہت تیزی سے ارتقاکے مراحل طے کیے اوریورپی اورافریقی اورایشیائی نوآبادکاروں نے بھی اس پراپنے اثرات ڈالے۔ امریکی فنون لطیفہ نے یورپ سے بہت اثر لیا۔ مصوری، مجسمہ سازی اورادب کے لیے یورپ کی تقلیدکی گئی اوریورپ سے اس کی قبولیت کومعیاربنایاگیا۔ امریکی خانہ جنگی کے اختتام تک امریکی ادب کی تخلیق شروع ہوگئی تھی۔ مارک ٹوئن، ایمائلی ڈکسن اوروالٹ وہٹمین نے سب کچھ امریکی اندازمیں پیش کرناشروع کیا۔ اس خطے دس کہانیاں اور ایک مضمون شامل ہے۔ جن میں ارنسٹ ہیمنگوے، اوہنری، ایڈگرایلن پو، شارلٹ پرکنس گلمن، ایرک ونر، سلویاپلاتھ، ریمنڈکارور، ولیم ٹین، ڈینیئل ووڈریل، جواینااسکاٹ اورکیٹ شوپن کے تراجم مرزاحامدبیگ، ابن انشا، شہرزاد، بلقیس ظفیرالحسن، شرجیل احمدخان، صغیرملال، ظفرسید، محمد سلیم الرحمٰن، عاصم بخشی، نجم الدین احمد اوررومانیہ نور جیسے مستندمترجمین نے کیاہے۔

اگرچہ شمالی امریکا میں ریاست ہائے متحدہ امریکا کو بھی شامل کیاجاتاہے لیکن ’’عالمی نثری ادب‘‘ میں اسے علیحدہ باب بنایا گیا ہے اور اس میں شمالی امریکاکی کی کچھ اہم خوددمختار ریاستوں کو شامل کیاگیاہے۔ اس براعظم کے قدیم باشندوں کو ریڈانڈین کے نام سے پکاراجاتا ہے۔ جنہیں نوآبادکاروں نے قتل عام کے بعدتقریباً ختم کردیا گیا۔ اس خطے سے اوکتایوپاز، جو آن جوزآریولا، ایلس منرو، مارگریٹ ایٹ ووڈ، فاربرتوفیونتس، مائیخل آسٹریاس اورجوآن باش کی سات تحریروں میں سے پانچ کو محمود احمد قاضی، اور ایک ایک کو احمد فریاد، عبدالحسیب نے اردو کا جامع پہنایا۔

جنوبی امریکاکوایک براعظم تسلیم کیاجاتاہے۔ اس میں کولمبیا، ارجنٹینا، چلی، پیرو، برازیل، یوراگوئے اورپیراگوئے شامل ہیں۔ اس خطے کے دانشورادیب پابلونروداکی یادیں، عظیم گبریل گارشیامارکیز، خورخے لوئیس بورخیس، سلوینا اوکیمپو، ماریوورگاس یوسا، اینی بل میکاڈو، ہور سیوکیورگا اورآگستوبوابستوس کی تحریروں کواردوکے قالب میں اجمل کمال، خان حسنین عاقب، انورزاہدی، نجم الدین احمد، صغیرملال، محمود احمدقاضی نے ڈھالاہے۔

مغربی افریقاکی تاریخ کوپانچ حصوں میں تقسیم کیاجاسکتاہے، پہلادورقبل ازتاریخ کادورہے۔ مسلمانوںکے دورعروج میں یہ علاقہ دنیاکے خوشحال علاقوں میں شمارہوا۔ اس کے بعد یورپی نوآبادیاتی دورکاآغازہوا۔ دوسری جنگ عظیم کے بعد مغربی افریقامیں قومیت کی تحریکیںجڑ پکڑ گئیں گھاناپہلاآزادملک بنا۔ نائیجیریا، سیرالیون، لائبیریا، آئیوری کوسٹ اہم ممالک ہیں مغربی افریقاکے چینواچیبے، بین اوکری اورابیو سے نکول جیسے عالمی شہرت یافتہ ادیبوںکی تراجم نجم الدین احمد، حمید رازی اورمرزاحامدبیگ نے کیے ہیں۔

مشرقی افریقاکے چندعلاقے اپنے جنگلی جانوروں کے باعث دنیابھرمیں مشہورہیں۔ مشرقی افریقا قدرتی حسن سے مالامال ہیدنیا میں میٹھے پانی کی دوسری بڑی جھیل وکٹوریہ اوردنیا کی دوسری گہری جھیل ٹانگانی کا دو بلند ترین پہاڑ کلی منجارو اورماؤنٹ کینیااس خطے میں واقع ہیں۔ ایم جی وسنجی، لیوس برنارڈوہونوانا، اسٹیوچی مومبواورگریس اوگاٹ کی تحریروں کے ترجمہ خورشید اقبال اور زاہد نوید نے کیا ہے۔

شمالی افریقابحیرہ روم اورصحرائے اعظم کے درمیان گھرا ہوا براعظم افریقاکاشمالی علاقہ قدیم ترین تاریخ کاحامل ہے۔ اس خطے سے البیئر کامیو، نجیب محفوظ، احسان عبدالقدوس، طیب صالح، طاہربن جلون، محمد برادا، عبدالرزاق گرناہ اورصادق النیہوم کی تحریروں کے ضمیراحمد صدیقی، محمود احمد قاضی، قمرعالم قاسمی، احمد صغیر صدیقی، نجم الدین احمد، عطا صدیقی، خورشیداقبال اورخان حسنین عاقب کے تراجم کو منتخب کیا گیا ہے۔

جنوبی افریقاکے ایمانوئل ڈونگالا اور میکس لوب کی کہانیوں کاترجمہ خورشید اقبال اور قیصرنذیرخاورنے کیے ہیں۔

’’عالمی نثری ادب‘‘جلدسوئم کاآخری باب جہانِ دیگرہے۔ جس میں نیوزی لینڈ اورآسٹریلیاکوشامل کیاگیاہے۔ نیوزی لینڈ کی کیتھرین مینسفیلڈ کی کہانی ’’گارڈن پارٹی‘‘ اور آسٹریلیا کی کیتھرین پریچرڈکی ’’سرمئی گھوڑا‘‘ دونوں کاترجمہ صہبا جمال شازلی نے کیاہے۔

اس طرح مجموعی طور پراشعرنجمی نے ’’اثبات‘‘ کے ’’عالمی نثری ادب‘‘ میں دنیاکے نوے ممالک کی تقریباً سوزبانوں کی ایک سو چوراسی منتخب تحریروں کوتین جلدوں میں پیش کیاہے۔ جوایک انفرادی انتخاب ہونے کے باوجود ان تمام ممالک اور زبانوں کا نمائندہ ادب ہے۔ ان تین جلدوں کی ترتیب اورپیش کش بذات خود کسی کارنامے سے کم نہیں اوراس کے ذریعے اشعر نجمی نے اردوکے دامن کومالامال کیاہے۔ جس میں دنیابھرکے نوبل انعام یافتگان سمیت بہترین ادیبوں کی تخلیقات کو شاہد احمد دہلوی، سعادت حسن منٹو، نیرمسعود، ابن انشا، انور عنایت اللہ، مرزا حامد بیگ، نجم الدین احمد، اجمل کمال، ظ انصاری، صدیق عالم، محمود احمدقاضی، زینت حسام، ارجمند آرا اور محمد عمر میمن جیسے بہترین مترجمین کا ایک جگہ پڑھنے کا موقع قارئین کوحاصل ہوا۔ اس شاندارنمبرکے مرتب اشعرنجمی اوراسے بہترین طباعت سے آراستہ کر نے پر بک کارنر جہلم داد کی حقدار ہے۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20