افسانہ لکھنا، بندھے ٹکے راستوں پر چلنا نہیں ہے — محمد حمید شاہد سے چالیس سوال

0

محمد حمید شاہد سے گلزار جاوید, مدیر “چہار سو” کے چالیس سوال

۱۔ پتہ پتہ بوٹا بوٹا حال تمہارا جانے ہے، جانے نہ جانے قاری نہ جانے باغ تو سارا جانے ہے؟

آپ نے میر صاحب کی غزل کے جس شعر سے سوال اخذ کیا ہے اسی غزل کا ایک اور شعر یاد آگیا ہے۔ اجازت ہو تو میں بھی سنادوں:کیا کیا فتنے سر پر اس کے لاتا ہے معشوق اپناجس بے دل بے تاب و تواں کو عشق کا مارا جانے ہےتو یوں ہے پیارے گلزار جاوید! کہ ہم تو عشق کے مارے ہوئے ہیں۔ ادب اور وہ بھی بہ طور خاص فکشن میرے لیے محض مشغلہ نہیں رہا عشق ہے۔ زندگی کرنے کا اسلوب ہے اور اتنا ہی اہم ہے جتنا کہ سانس لینا؛ کہہ لیجئے زندگی اور موت کا مسئلہ ہو کر میرے وجود سے چمٹ گیا ہے یہ۔ جی‘ میرے وجود سے۔ ہاں اُس وجود سے جو ہے بھی اور نہیں بھی۔ میں کیا اور میرا وجود کیا۔ اقبال نے کہا تھا: ’’مری نگاہ میں ثابت نہیں وجود ترا‘‘۔ اب رہااس قاری کا معاملہ جو اس ناچیز کو نہیں جانتا تو میں ایسے قاری کے لیے اپنا جی کیوں ہلکان کروں جو ادب کے باغ میں نہیں آنے والا۔ وہ اس باغ میںآئے گا۔ پتے پتے اور بوٹے بوٹے سے مکالمہ کرنے کو کار زیاں نہیں سمجھے گا تو میری توجہ بھی پالے گا اور مجھے بھی جان لے گا۔ مجھے وہی قاری عزیز ہے جو باغِ ادب میں آتا اور یہاں آکر اپنے مشام ِجاں کو معطر کرتا ہے۔ میں قاری اور تخلیق کار کے درمیان مغائرت کا حامی نہیں ہوں۔ یہ بھی مانتا ہوں کہ ادب محض الیٹ کلاس کا مسئلہ نہیں ہے تاہم میرے لیے لکھنا محض مقبول عام تحریروں کا انبار لگا لینا بھی نہیں ہے۔ مقبول عام تحریروں کی تھوک کے حساب سے پیدائش کا عمل میلان کنڈیرا کے نزدیک ادبی متن کی تخلیق نہیں ہوتا ’’گرافومینیا‘‘ ہوتاہے۔ گرافومینیا کے ’’متاثرین‘‘ میرا مسئلہ نہیں ہیں کہ ادب کا قاری باذوق ہوتا ہے۔ یہ باذوق قاری میرے لیے بہت محترم ہے۔ خدا کا شکر کہ اس سے میرا مکالمہ قائم ہوجاتا ہے۔ اس قاری نے مجھے محبت دِی ہے۔ بہت توجہ دی ہے اس نے مجھے۔ اور اس کے لیے میں اس قاری کا احسان مند ہوں اور رہوں گا۔

۲۔ بچپن کے انمول خزانے سے چنیدہ موتی آپ کی شخصیت کے نقوش کو واضح کرنے میں معاون و مددگار ہو سکتے ہیں؟

میرے بچپن میں وہ سب ہما ہمی ہے جو ایک متوسط طبقے کے بھرے پرے گھر میں ہو سکتی تھی۔ پاکستان کے پس ماندہ ضلع اٹک جسے ایک زمانے تک کیمبل پور کہا جاتا رہا، کی سب سے بڑی تحصیل پنڈی گھیب تھی، اسی تحصیل کی بعد میں دوبنیں پنڈی گھیب اور جنڈ۔ ابھی یہ تحصیل تقسیم نہیں ہوئی تھی کہ میں پنڈی گھیب کے محلہ ملکاں میں پیدا ہوا۔ میرا بچپن بھی وہیں گزرا۔ اس شہر سے چند کلو میٹر کی دوری پر نالہ ـــــــ ’’سیل‘‘ کے کنارے ’’چکی‘‘ کے نام سے ایک چھوٹا سا گاؤں آباد ہے، جو میرا آبائی گاؤں ہے۔ قیام پاکستان کے زمانے میں میرے داداحافظ غلام نبی نے بھی اپنی بیوی اور تین بیٹوں کے ساتھ ایک چھوٹی سی ہجرت کی اور چکی سے اٹھ کر پنڈی گھیب میں بس گئے۔ ان تین بیٹوں میں سب سے بڑے غلام محمد تھے، میرے والد محترم۔ ان خانوادے کی ہجرت کو ہجرت نہ کہیں نقل مکانی کہہ لیں کہ پنڈی گھیب قدرے بڑا قصبہ تھا اور اس میں آبسنے کے پیچھے بچوں کے لیے بہتر تعلیمی مواقع فراہم کرنے کی خواہش کا رفرما تھی۔ ابا نے اپنی جوانی کے زمانے میں فوج کی ملازمت بھی کی تھی۔ امی جان بتاتی ہیں کہ ابا نے ۱۹۵۱ء میں فوج کی ملازمت چھوڑ دی اور تین سال تک تھٹی سیدو شاہ کے ایک سکول میں مدرس کے فرائض انجام دیے۔ یہ گائوں چکی سے بارہ کلو میٹر دور میرا شریف پر نالہ سیل کے کنارے واقع ہے۔ بعد میں ابا جان نے ذاتی کاروبار کیا اور تا دم ٍ آخر کارو بار سے ہی وابستہ رہے۔ ۱۹۸۳ء میں ان کا انتقال ہو ا۔ ہم سات بھائی تھے اور میری دو بہنیں جن میں سے ایک بھائی اور ایک بہن اب اس دنیا میں نہیں ہیں۔ یہ سب کچھ ویسا ہی ہے جیسا دیہات کے ایک عام گھرانے میں ہو سکتا ہے۔ زندگی کے ہنگاموں سے بھرا ہوا گھر۔ تو اسی گھر میں، میں ۲۳ مارچ ۱۹۵۷ء کو پیدا ہوا۔ میں بھی اور میرے سب بہن بھائی بھی، حتی کہ میرے چچائوں کے ہاں اولادیں بھی اس حویلی میں ہوئیں، جو دادا نے چکی سے آکر پنڈی گھیب میں خریدی تھی اور اب جب کہ ایک بھائی کے سوا سب ادھر ادھر بکھر گئے ہیں یہ حویلی تین ٹکڑوں میں بٹ کر ہمارے خاندان کے پاس ہی ہے۔ ہاں تو میں کہہ رہا تھا کہ ہم چکی سے یہاں منتقل ہوئے تھے اور یہاں یہ بتاتا چلوں کہ میرے دادا جان، اباجان اور چچائوں کا قلبی تعلق مرتے دم تک چکی سے رہا۔ اور یہ تعلق ابھی تک امی جان کے وسیلے سے ہماری اولادوں میں بھی منتقل ہو گیا ہے۔ اگرچہ میں پنڈی گھیب میں پیدا ہوا، وہیں پلا بڑھا مگر اپنے آبائی گائوں چکی سے میری وابستگی بہت گہری رہی۔ ہم وہاں وقفے وقفے سے جا پاتے تھے مگر مجھے یوں لگتا وہ گائوں جو میرے ابا جی اور امی جی وہاں سے رخصت ہوتے ہوئے اپنے اندر بسا لائے تھے، اسے میرے اندر بھی بسا لیا تھا۔ جب تک ابا زندہ رہے گھر کا ماحول بھی گائوں جیسا رہا، حویلی میں ایک طرف کھلی جگہ پر بھینسوں کے باندھنے کی جگہ بنا لی گئی تھی۔ اب کئی کئی بھنسیں گھر میں ہوں تو انہیں سبز چارہ بھی چاہیے ہوگا۔ چارہ آتا تھا اور اسے کترنے کے لیے وہاں مشین لگا لی گئی، کھرلیاں کنہالیاں غرض شہر کی حویلی ایک عرصہ تک گائوں کا ڈیرہ بنا رہا۔ ابھی پو نہ پھٹی ہوتی کہ بھینسوں کو دوہا جاتا، انہیں پانی پلایا جاتا، انہیں نہلایا جاتا، گتاوا بنایا جاتا، بس جانیے گائوں والے سارے شوق یہاں پورے ہو رہے تھے۔ لسی بلونے کا منظر مجھے سب سے اچھا لگتا، جب چھاچھ اچھل اچھل کر چاٹی کے کناروں سے لپکتی تو میں اپنا بٹھل لے کر پہنچ جاتا کہ مکھن اتارنے سے پہلے مجھے اسے پینا اچھا لگتا تھا۔ گھر کے صحن میں بہت پرانی دھریک تھی اس کے ساتھ پینگ بندھی رہتی، میں نے اس پر بہن اور اس کی سہیلیوں کو جھولا جھولتے دیکھا اور خود بھی جھولا۔ پھر یوں تھا کہ ابا جی سیاسی سماجی کارکن تھے، گائوں سے لوگ آتے رہتے، ایک دو نہیں گروہ کے گروہ، کسی کو تحصیل کے دفتر میں کام ہوتا تو کسی کا تھانے میں، کوئی مریض لے ہسپتال آیا ہوتا تو کسی کو پٹواری سے ملنا ہوتا، کوئی سودا سلف لینے آتا تو کسی کو کورٹ کچہری کا پھیرا لگانا ہوتا۔ ابا جی ہر دم ان کے ساتھ چلنے اور ان کی مدد کرنے پر آمادہ رہتے۔ ان کے چھوٹے چھوٹے کام ہوتے، گائوں والوں کو شہری دفتروں، بنک اور ڈاکخانے میں جاتے ہوئے اور دفتری بابوئوں سے بات کرتے ہوئے جھجھک سی ہوتی، یہ جھجھک ابا نے ان کے ساتھ جا جاکر دور کر دی تھی، مگر وہ پھر بھی اباجی کا ساتھ چاہتے تھے اور ابا ساتھ دیتے رہے، آخری سانس تک ساتھ دیتے رہے۔ ہم گائوں جاتے تو قطعا اجنبیت نہ ہوتی۔ کسی کے ہاں شادی ہوتی، کوئی فوت ہوتا، کسی کاعزیز باہر جاتا یا حج عمرہ کرکے لوٹتا، عرس میلہ ہوتا یا فصل کی کٹائی گہائی ہم ابا کے ساتھ گائوں میں ہوتے۔ یہی سبب ہے کہ گائوں میرے اندر بھی بسا ہوا ہے۔ میرے افسانوں کے بہت سارے دیہی کردار یہی میرے اپنے لوگ ہیں۔ چاہے وہ ’’پارو‘‘ افسانے کے کردار ہوں یا ’’جیت، مگر کس کی‘‘، ’’بند آنکھوں سے پرے‘‘، ’’اللہ خیر کرے‘‘، ’’وراثت میں ملنے والی ناکردہ نیکی‘‘، ’’سجدہ سہو‘‘، ’’معزول نسل‘‘، ’’جنریشن گیپ‘‘، ’’ہارجیت‘‘، اور ’’تکلے کا گھائو‘‘ سے لے کر ’’سورگ میں سور‘‘ تک کے کردار، سب میں ایک جھلک میرے گائوں کے اپنے لوگوں کی ہے۔ آپ انہیں پڑھتے ہوئے محسوس کر سکتے ہیں کہ دیہات کا یہ منظر نامہ اردو افسانے کا پہلے سے حصہ بننے والے دیہات اور دیہی زندگی سے قدرے مختلف ہے، اٹک کایہ دور افتادہ گائوں میرے افسانوں کو بھی مختلف کرتا گیا ہے۔ ہاں یہ الگ بات کہ تخلیقی عمل کے دوران، جو کردار میں نے لکھے وہ محض تجربے میں آنے والے کرداروں تک محدود نہیں رہتے، بہ قول احمد ندیم قاسمی ان افسانوں میں پہنچ کر ایک ایک کردار، ایک ایک لاکھ کرداروں کی نمائندگی کا فریضہ سر انجام دینے لگتا ہے۔

۳۔ تعلیمی ایّام، ادارے، اساتذہ اور ہم جماعت کو شامل گفتگو کر کے بلیک اینڈ وائٹ دور کو رنگین کیا جا سکتا ہے؟

پنڈی گھیب کے محلہ مولا میں ایک سرکاری سکول تھا، اس میں پانچویں تک پڑھا۔ سلیٹ، قاعدہ، تختی، سکول کی پیتل کی گھنٹی، چھٹی کے وقت زور دے دے کر پہاڑے یاد کرنا، اونچے شملے والے ہیڈ ماسٹر صاحب اور بہت کچھ ایسا ہے کہ اس سکول کانام آتے ہی یاد آتا چلا جاتا ہے۔ میں ان یادوں سے ہمیشہ توانائی کشید کرتا رہا ہوں۔ مڈل سکول ذرا فاصلے پر تھا۔ سکول جاتے ہوئے اور واپسی پر شہر بھر کی گلیوں کا گشت بھی میرے معمولات کا حصہ تھا۔ نصاب کی کتابوں کی طرف امتحان کے قریب آ نے پر ہی راغب ہوپاتا۔ زمانہ طالب علمی میں کبڈی، ہاکی، فٹ بال اور والی بال کھیلتا رہا لیکن مستقلاً کسی بھی کھیل کو نہ اپنایا۔ ۱۹۷۲ء میں آٹھویں جماعت کا امتحان پاس کیا، گورنمنٹ ہائی سکول میں نویں جماعت میں داخلہ لیا اور سائنس کے مضامین کا چنائو کیا اور ۱۹۷۴ میں میٹرک بھی ہو گیا۔

میرے لیے تو بچپن اپنی تمامتر تفصیلات کے ساتھ ایک حسین واقعہ ہے؛ رنگوں سے، خوش بوئوں سے اور خوشیوں سے میرے وجود کو بھگو دینے والا۔ مگر یہ واقعہ اس خواب کا سا ہے جو اچانک ٹوٹ جاتا ہے۔ بات اگرچہ پرانی نہیں، مگر جس طرح زمانے نے پلٹا کھایا ہے لگتا ہے بہت پرانی ہو گئی ہے۔ یوں کہیے یہ تب کی بات ہے جب ایک بے گناہ قتل ہوتا تو چاروں کھونٹ میں سنسنی سرایت کر جاتی تھی۔ اُفق سرخ ہو جاتا اور لوگ سہم کر استغفار کرنے لگتے کہ تب ایک بے گناہ کا قتل، انسانیت کا قتل ہوتا تھا اور لوگوں کو یقین ہوتا کہ یہ قبیح عمل قرب قیامت کی نشانیوں میں سے ایک ہے۔ میں نے اس زمانے کو اپنے افسانوں میں لکھا ہے اور آج کو بھی کہ اب تو پے در پے قیامتیں کچھ اس طرح ٹوٹی ہیں کہ بچوں کو بھی باہر نکلتے دیکھتے ہیں تو دل کانپتا ہے۔ میں نے کہیں لکھا تھا کہ پنڈی گھیب میں محلہ ملکاں والا اپنا گھر خوشیوں سے لبالب بھر جایا کرتا تھا؛ یوں، جیسے آپ پیالے میں نور جیسا اجلا دودھ انڈیلتے جائیں اور وہ کناروں تک بھر کر چھلکنے لگے۔ ہمارا گھر جامع مسجد شیعیان سے جڑا ہوا تھا، جتنا مسجد کا صحن چلتا وہاں تک ہمارے گھر کی دیوار چلتی، مگر تب شیعہ سنی کے درمیان اس طرح کا بیر نہ تھا۔ شروع شروع میںجب اس مسجد میں مجالس ہوتیں تو شہر بھر کی بیبیاں ہمارے گھر کی چھت پر مسجد کے صحن کی سمت والے جنگلے سے لگ کر بیٹھ جاتی تھیں۔ ہم نے ان کے مجلس سننے کا اہتمام پہلے سے کر رکھا ہوتا تھا۔ گھر کی ساری کھاٹیں اوپر چھت پر چڑھا دیتے، کم پڑتیں کو محلے بھر سے مانگ لایاکرتے۔ مجھے یاد ہے کھاٹیں ہم الٹی بچھایا کرتے تھے، یعنی پائے اوپر کو۔ پھر جب مجلس شروع ہو جاتی اور کر بلا والوں کے ذکر پر الٹی پڑی کھاٹوں میں دھنسی ہوئی عورتوں کی سسکیاں سنائی دینے لگتیں تو شربت کی بھری بالٹیاں لے کر بھاگتے ہوئے سیڑھیاں چڑھتے۔ یہ شربت اماں نے کھانڈ گھول کر پہلے سے تیار رکھا ہوتاوہ اسے کربلا کے پیاسوں کے نام معنون کرتیں۔ ہم یہ شربت ان بیبیوں کوکمہاروں کی آویوں میں پکے ہوئے پیالوں، کہ جنھیں ہم ٹاسیں کہتے تھے، میں بھر بھر کر پیش کرتے تھے۔ تب دُکھ سانجھے ہوتے تھے۔ اچھا اب میں اس واقعے کی طرف آنا چاہتا ہوں، جس نے میرا بچپن مجھ سے چھین لیا، کہیے وہ بچپن جسے میں خواب کہتا تھا وہ ٹوٹ گیا اور یہ تب کا واقعہ ہے جب میں محض چودہ برس کا تھا۔ وہ رات جب ہم نے پاکستان ٹوٹنے کی خبر سنی تھی اور رات بھر ابا کو یوں تڑپتے دیکھا تھا جیسے جیسے کسی ذبیحہ کی گردن آدھی کاٹ کر اسے تڑپنے کے لیے پھینک دیا گیا ہو۔ میں یقین سے کہہ سکتا ہوں وہ رات تھی جب میں اندر کی تاہنگ پر کچھ لکھنے کی طرف راغب ہوا تھا۔ اکہتر کی جنگ میں شکست کی خبر، پاکستان ٹوٹنے کی خبر، مشرقی پاکستان کے بنگلہ دیش بننے کی خبر ایسی تھی کہ ابا بھی ہوش کھو بیٹھے تھے۔ شاید یہی روز تھا کہ ابا کے دماغ کی کوئی رگ رسنے لگی تھی، بعد کے برسوں میں ان پر فالج کا حملہ ہوا، ۱۹۸۳ کو جب میں یونیورسٹی سے فارغ ہو کر آیا تو وہ بول بھی نہ سکتے تھے، پہلو بدلنے کے لیے بھی ہمارے سہارے کے محتاج تھے۔ مجھے یاد ہے میری پہلی کتاب ’’پیکر جمیل‘‘ آئی میں بے دھیانی میں خوشی خوشی ابا کے پاس لے گیا اور کھول کر ان کے سامنے کر دی، وہ مسلسل کتاب پر نظریں جمائے رہے، ان کے ہونٹ پھڑپھڑائے مگر ایک لفظ بھی ادا نہ کر سکے، پتہ نہیں وہ کیا کہنا چاہتے تھے، ان کی آنکھیں آنسوئوں سے بھر گئیں۔ میں نے اپنا سر ان کی چھاتی پر رکھ دیا اور جی بھر کر رویا تھا۔

ہاں میں اپنے اسکول کی بابت بتا رہا تھا۔ جس سال میٹرک کا امتحان دیااس سال طلبہ کی ملک گیر تحریک شروع ہو گئی تھی جس کا اثر عوام تک بھی پہنچا۔ اسی تحریک کی وجہ سے زرعی یونیورسٹی فیصل آباد کے کچھ طالبِ علم رہنما پنڈی گھیب آئے اور ایک جلسے سے خطاب کیا۔ اسی جلسے میں، میں نے بھی ایک زوردار تقریر کر ڈالی۔ اس ہنر میں، میں تاک تھا۔ طالب علم رہنما ابا جان سے ملے اور مجھے زرعی یونیورسٹی فیصل آباد میں بھیجنے کا مشورہ دیا۔ تو یوں میں میٹرک کے بعد فیصل آباد پہنچ گیا اور جاتے ہی لیڈر بن گیا۔

۴۔ نوعمر، نوخیز طالب علم کی جیل یاترا کا قصہ، قصۂ حاتم طائی سے کم دلچسپ نہ ہونا چاہیے؟

جن دنوں پنڈی گھیب میں لگ بھگ ہر روز جلوس نکل رہے تھے ان دنوں کی بات ہے۔ جلوس بازار میں تھا۔ اور وہیں میں تقریر کرکے اترا تو جھگڑا شروع ہو گیا۔ کسی نے مجھ پر مکوں کی بارش برسا دِی تھی۔ بازار کے اس حصے میںہمارے ایک ہمسائے چچا فتح محمد کا ہوٹل تھا۔ ان کا بیٹا میرا ہم جماعت تھا اور دوست تھااور وہ خود ابا جی کے بہت دوست تھے۔ انہوںنے مجھے پٹتے دیکھا تو اپنے ہوٹل سے چھلانگ مار کر اترے۔ ہاتھ میں لوہے کا چمٹا یاچمچہ تھا کھینچ کر مجھے پیٹنے والے کے سر پردے مار ا۔ اس کا سر پھاڑگیا تھا اور خون فوارے کی طرح پھوٹ نکلا تھا۔ مجھے یہ سب دیکھ کر بہت خوف آیا۔ خیر اس ہنگامے کا نتیجہ یہ نکلا کہ میں اور میرا ہمسایہ جیل پہنچ گئے۔ یہ میری پہلی جیل یاترا تھی۔

یونیورسٹی پہنچا تو وہ زمانہ بھی ہنگاموں سے بھرپوررہا۔ میں نے اسٹوڈنٹس یونین کا الیکش بھی لڑا، جنرل سیکرٹری کے لیے، مگر ہار گیا۔ یہی وہ زمانہ تھا کہ مجھے دوسری بار جیل جانا پڑا۔ حکومتی پالیسیوں کے خلاف یونیورسٹی میں مظاہرے ہورہے تھے، جس کے نتیجے میں مجھ سمیت کچھ طالبِ علموں کوگرفتار کر کے جڑانوالہ جیل بھیج دیا گیا۔ اس میں بہت ساری بیرکیں تھیں۔ دھوپ شدید پڑتی تھی۔ جیل نئی نئی بنی تھی اور کہیں کوئی پودا یا درخت نظر نہیں آتا تھا اس لیے دھوپ کی شدت اور زیادہ محسوس ہوتی۔ ہم اس میں تین دن تک قید رہے۔ جیل سے پہلے ہمیں جس تھانے میں رکھا گیا تھا وہاں آٹھ مربع فٹ کے ایک کمرے میں دس گیارہ لڑکوں کو دھکیل دیا گیا۔ کمرے کے ایک کونے میں ریت ڈال کر اور پٹ سن کی بوری کا پردہ لٹکاکر بہ قول پولیس والوں کے ’’موتری‘‘ بنا لیا گیا۔ اس پردے کے پیچھے ہم موت سکتے تھے قضائے حاجت نہ کر سکتے تھے ایسا ہی پولیس والے نے کہا تھا۔ ہم نے وہاں موت نہ کرنے کا اجتماعی فیصلہ کیا اور احتجاج شروع کر دیا۔ خوب شور مچایاگیا۔ پولیس والا آیا ڈنڈا لوہے کی سلاخوں پر ایک طرف رکھا اور آخری سلاخ تک بجاتا چلا گیا جیسے وائلن بجا رہا ہو۔ کہنے لگا یہ آپ لوگوں کی یونیورسٹی یا ابا کا گھر نہیں ہے، حوالات ہے حوالات اس شور شرابے کا کوئی نتیجہ نہیں نکلے گا۔ وہ رات ہم میں ساتھیوں نے ایک دوسرے کے پیٹ کو سرہانے بنا کر لیٹتے ہوئے گزاری۔ ہم پردے کے پیچھے والی سہولت استعمال نہ کرنے کا فیصلہ کر چکے تھے مگر صبح تک سب کے مثانے پھٹنے والے ہو چکے تھے۔ فیصلہ ہوا کوئی لطیفہ نہیں سنائے گا کہ لطیفہ سنانے پر ہنسی نکلتی تھی اور ہنسی کے ساتھ پیشاب بھی نکل جاتا تھا۔

۵۔ حمید شاہد نام کی ٹھوس ادبی عمارت کا سنگِ بنیاد کب، کس طور رکھا گیا اور اس کی تعمیر میں ذاتی ارادوں اور مرادوں کے ساتھ کون لوگ مددگار رہے؟

کچھ ہی عرصہ کے بعد میں میرا طلبہ سیاست سے جی اوب گیا۔ میں پڑھنے کی طرف راغب ہوا تو ادب سے رشتہ گہرا ہوتا چلا گیا۔ اس زمانے میں فیصل آباد کا محفل ہوٹل اور گھنٹہ گھر چوک ادبی مباحثوں کا مرکز تھا۔ وہیں ریاض مجید، انور محمود خالدسے لے کر انجم سلیمی، کاشف نعمانی، مقصود وفا اور اشفاق کاشف تک، سب احباب کے ساتھ پہروں بیٹھنے اور ادبی مباحث میں شریک ہونے کا موقع ملا تو ادبی ذوق کو جلا ملی۔ مجھے یونیورسٹی کے ادبی مجلہ ’’کشتِ نو‘‘ کے ۱۹۸۰ء سے ۱۹۸۱ء تک مدیر ہونے کا موقع بھی ملا۔ یہ سب کچھ ایسا تھا کہ ادب ہی میرا اوڑھنا بچھونا بنتا چلا گیا۔ یونیورسٹی کے زمانے میں میری پہلی کتاب آئی، انشائیے اور نثمیں لکھیں، یہی وہ زمانہ تھا جب میں افسانے کی طرف متوجہ ہوا۔ میں نے لاہور جاکر وہاں کے حلقے کے کچھ جلسوں میں شرکت کی۔ احمد ندیم قاسمی اور انتظار حسین سے ملا، سرگودھا گیا اور وزیر آغا سے ملاقات کی۔

۶۔ نئے لکھنے والوں کو سینئر اہلِ قلم اور مدیرانِ جرائد سے اکثر شکایت رہا کرتی ہے۔ آپ کے ہاں معاملہ کس نوعیت کا رہا؟

درست کہ نئے لکھنے والوں کو سینئر لکھنے والوں سے اور مدیران جرائد سے ہمیشہ شکایات رہی ہیں۔ دراصل نوجوانی کا زمانہ ایسا ہوتا ہے کہ ہماری امیدیں حد درجہ بڑھی ہوئی ہوتی ہیں۔ بہت کچھ اور فوری حاصل کرلینے کی چاہ ہوتی ہے۔ جب کہ اپنی تخلیقات کے حوالے سے توجہ پانے کا عمل سست رو ہوتا ہے۔ ہم سے پہلے جو لکھنے والے تھے انہیں بھی عین مین ایسی ہی شکایت رہی ہوں گی۔ ہم نے جب لکھنا آغاز کیا تو ہم بھی شکایتوں کے ڈھیر لگاتے رہے اب نئے لوگوں کو بھی ایسی ہی شکایتیں ہے۔ ایسی شکایتیں اگر درست ہیں بھی تو ایک تخلیق کار کی حیثیت سے ہم لکھنے والوں کی توجہ مسلسل اپنے تخلیقی کام کی طرف رہنی چاہیے۔ اور میں نے اپنے تئیں کوشش کی کہ ادھر ادھر نہ بھٹکوں اپنا قبلہ درست رکھوں۔ اس کا نتیجہ میرے حق میں خوب رہا۔ میں گنے چنے پرچوں میں چھپتا رہا ہوں اور بالعموم ایسے پرچوں میں جن کے مدیر مجھے چھاپنے کی خواہش ظاہر کرتے رہے ہیں۔ میرا ایمان ہے کہ اگر تخلیق میں دم ہوگا تو خود بخود توجہ حاصل کر لے گی۔ ہمیشہ سے ایسا ہی ہوتا آیا ہے اور ادبی میدان میں وقار سے آگے بڑھنے کا یہی قرینہ ہے۔ پھر یہ بھی تو دیکھیے کہ میرے والدین ادیب نہ تھے کہ مجھے اپنی ادبی زندگی کے آغاز میں ان کی مدد حاصل ہو جاتی۔ میں کسی کالج یا یونیورسٹی میں پڑھاتا نہیں تھا کہ اس ماحول کی مدد سے آگے بڑھتا۔ طالب علمی کے دور کے بعد نے بنک کی ملازمت سے عملی زندگی کا آغاز کیا اور اگر مجھ میں لکھنے پڑھنے کا جنون نہ ہوتا تو بنک کی بے پناہ مصروفیات نے مجھے نگل لینا تھا۔ ایسے میں اگر مجھے ادبی پرچوں کے مدیر محبت سے چھاپتے رہے اور سینئر لکھنے والے میری تحریروں کو لائق توجہ گردانتے رہے تو اس پر مجھے خدا کا شکر ادا کرنا چاہیے اور میں شکر ادا کرتا ہوں کہ میرے محترم انتظار حسین نے مجھے نئے افسانے کی ابرو کہہ کر میرا حوصلہ بڑھایا تھا۔ ممتاز مفتی کو میری سچائیوں میں رنگ رس اور خلوص ایک ساتھ نظر آیا تھا۔ احمد ندیم قاسمی نے میرے افسانوں کو لمحہ رواں کی معاشرتی، ثقافتی اور تہذیبی زندگی کی تاریخ کا درجہ دیا اور میری تنقید نگاری کی تعریف کی۔ ڈاکٹر اسلم فرخی میرے افسانوں کی بابت لکھا کہ یہ خوب صورت ہمہ جہتی انداز اور فکر کا آئینہ دارہیں۔ پروفیسر فتح محمد ملک نے یہ کہہ کر حوصلہ بڑھایا کہ میں نے عصری زندگی کے مصائب پر یوں قلم اٹھایا ہے کہ عصریت اور ابدیت میں ماں بیٹی کا رشتہ قائم ہوگیا ہے۔ اچھا دلچسپ بات یہ ہے کہ مجھے ایسی آرا نے حوصلہ دیا ہے کہ میں آگے بڑھوں اور نت نئے تجربے کرتا جائوں۔ ہمارے سب سے محترم اور فعال نقاد اور فکشن نگار شمس الرحمن فاروقی اسے میری بہت بڑی کامیابی کہہ کر حوصلہ بڑھایا کہ میں اپنے فکشن کے بیانیے میں ایسے موضوع کو بھی بے تکلف لے آتا ہوں جس کے بارے میں زیادہ تر افسانہ نگار گو مگو میں مبتلا ہوں گے کہ فکشن کی سطح پر اس سے کیا معاملہ کیا جائے۔ سید محمد اشرف کو میرے افسانوں کا مجموعہ ملا تو انہوں نے ایک دلچسپ خط لکھ تھا:’’ ان کہانیوں کو پڑھ کر آدمی پریشان ہو سکتا ہے۔ ۔ ۔ ہوا۔ لفظ سنوارنے والے کو داد دے سکتا ہے۔ ۔ ۔ دی۔ مسلسل نئے پن۔ ۔ ۔ تکرارکی حد تک نئے پن کو محسوس کرکے دنگ ہو سکتا ہے۔ ۔ ۔ وہ بھی ہوا ‘‘سارا خط مزے کا ہے۔ میرے کام کوڈاکٹر توصیف تبسم، محمد منشایاد، محمد عمر میمن، جلیل عالی، محسن احسان سے لے کر آصف فرخی، مبین مرزا، ضیاالحسن، امجدطفیل، ناصر عباس نیئر، علی محمد فرشی، نجیبہ عارف اور عرفان جاوید تک سب نے لائق توجہ جانا اور میری حوصلہ افزائی کی۔ یہ کم اہم بات نہیں ہے۔ ایسے میں میری ہر سانس اپنے سینئرز، اپنے ہم عمر ہم عصروں کے علاوہ، جونیئرز کی توجہ کی بھی شکر گزار ہے۔

۷۔ کہانی کہنے یا لکھنے کے لیے کس طرح کے لوازمات، وقت، موسم اور ماحول کا اہتمام لازم ہے؟

افسانہ لکھنا یا ادب سے وابستہ رہنا تفریح یا مشغلہ نہیں ہے۔ میری نظر میں ادبی اصناف میں لکھنا خالصتاً تہذیبی اور تخلیقی سرگرمی ہے۔ بہ طور خاص افسانہ ہو یا ناول یہ صرف ان قلم کاروں پر مہربان رہتی ہیں جو لکھنے کو مشقت نہ سمجھتے ہوں اور جن کے دل اس صنف کی محبت کے فیضان سے سرشار ہوں۔ یہی بے لوث اور بے ریا محبت‘ افسانہ لکھنے والوں کا مزاج بناتی ہے‘ اور رفتہ رفتہ اس صنف کے غیرمعمولی بھید بھنوروں کو کھول دیا کرتی ہے۔ اگر کسی کے اندر اسے لکھنے اور اس کے ذریعے زندگی کی تفہیم کی لگن نہیں ہے تو ممکن ہے کہ وہ اپنے ریاض کے ذریعے کرافٹ پر قدرت پالے اوریک سطحی کہانیوں کا ڈھیر لگا لے‘ ادبی فن پارے تخلیق کرنا اس کے لیے ناممکن نہیں تو بہت مشکل ضرور ہو جاتا ہے۔ تخلیقی سرگرمی کے یہ معنیٰ نہیں ہیں کہ ہم اس صنف کے بنیادی تقاضوں سے غافل رہیں۔ ہمیں پہلے اس کے کرافٹ کو سمجھنا ہوگا۔ کرافٹ کا تعلق دستی مہارت اور تدبیر سے ہوتا ہے۔ یہ مہارت حاصل ہو جائے توتخلیق‘ تجربے ‘ مشاہدے‘احساس اور لاشعور سے ایک ساتھ معاملہ کرتی ہے۔ تخلیقی عمل اور کرافٹنگ کے درمیان بعض اوقات تفریق مشکل ہوجاتی ہے تاہم ایک لکھنے والے کو یہ جاننا ہوتا ہے کہ دونوں کا اثر افسانہ کے مواد‘زبان اور کہانی کے مزاج میں بہت گہرائی تک سرایت کر جاتا ہے۔ اچھا یوں بھی ہے کہ لکھنے والے کا تخیل جتنا ہرا بھرا ہوگا، اتنا ہی وہ اِنسانی نفسیات کے قریب ترین صورت حال کو گرفت میں لے لینے پر قادر ہو گااور پڑھنے والا بہ قول غالب یہ محسوس کرے گا’’میں نے یہ جانا کہ گویا یہ بھی میرے دل میں ہے‘‘۔ متخیلہ کے عقب میں رہ کر ہی مطالعہ اور مشاہدہ کام کر رہا ہوتاہے۔ افسانہ لکھتے ہوئے یہ ضروری نہیں ہوتا کہ جو آپ لکھ رہے ہوں، ویسا ہی عین مین آپ کے مشاہدے میں آیا ہو، بلکہ یہ ضروری ہوتا ہے کہ ایسا ہونا ممکن ہے۔ جب میں یہ کہتا ہوں کہ ایسا ہونا ممکن ہونا چاہیے تو اس کا یہ مطلب قطعاً نہیں ہے کہ ایسا طبعی صورت میں ہوتا نظر آئے یا آ سکتا ہو بلکہ اس کا مطلب ہے کہ احساس اور خیال کی سطح پر اسے ہوتا دیکھ رہے ہوں۔ ان باتوں کو سمجھنے والا جب کسی مہربان لمحے میں کاغذ قلم تھامتا ہے تو کہانی اس پر مہربان ہو جاتی ہے۔ ایسے میں چاہے جیسا موسم ہو، کیسا ہی وقت ہو اور جیسا بھی ماحول ہو، جس طرح بہتا پانی اپنا راستہ تلاش کر لیتا ہے، جب آپ فکشن کی فضا میں رہتے ہیں تو کہانی بھی افسانے میں ڈھلنے کو راستہ بنا لیتی ہے۔ یہاں پہنچ کر میں ایک بار پھر آپ کے سوال پر غور کرتا ہوں تو ’’لوازمات، وقت، موسم اور ماحول کا اہتمام‘‘ جیسے الفاظ مجھے منٹو صاحب کے ایک تقریر نما مضمون کی طرف لے جاتے ہیں۔ منٹو کے سامنے ایک بار یہ سوال رکھا گیاتھا کہ بتائیے ’’آپ کیوں کر لکھتے ہیں؟‘‘ تومنٹو نے پہلے تو کہا کہ ’’یہ ’کیونکر‘ میری سمجھ میں نہیں آیا۔ ‘‘ پھر خود ہی اس سے مراد ’’کیسے اور کس طرح‘‘ لے کراپنے لکھنے کے عمل کی بابت کہا تھا کہ یہ بڑی الجھن کی بات ہے، اگر میں ’کس طرح‘ کو پیش نظر رکھوں۔ تو یہ جواب دے سکتا ہوں کہ اپنے کمرے میں صوفے پر بیٹھ جاتا ہوں کاغذ قلم پکڑتا ہوں اور بسم اللہ کر کے افسانہ لکھنا شروع کر دیتا ہوں۔ میری تین بچیاں شور مچا رہی ہوتی ہیں۔ میں ان سے باتیں بھی کرتا ہوں، ان کی باہم لڑائیوں کا فیصلہ بھی کرتا ہوں، اپنے لیے ’سلاد‘ بھی تیار کرتا ہوں، کوئی ملنے والا آ جائے تو اس کی خاطر داری بھی کرتا ہوں، مگر افسانے لکھے جاتا ہوں۔ جس سہولت سے منٹو نے افسانہ لکھ لینے کا بتایا ہے میں اس سہولت سے نہیں لکھ پاتا۔ میں کیسے لکھتا ہوں، اس کی بابت میں نے اپنے افسانے، ’’ وبا، بارش اور بندش‘‘ میں بتا رکھاہے۔ یہی کہ میری یہ عادت پختہ ہو چکی ہے کہ میں رات پڑھتے پڑھتے جلد سو جاتا ہوں اور تڑکے تڑکے اُٹھ کھڑا ہوتاہوں۔ جی، جب گھر کے سارے جی گہری نیند میں ہوتے ہیں، تب۔ بستر چھوڑتے ہوئے مجھے بہت احتیاط برتنا ہوتی ہے کہ بیگم کی سانسوں سے فضا میں ایک خاص آہنگ سا بن جاتا ہے۔ اٹھتے ہی نہ جانے کیوں مجھے اس کے ٹوٹنے کا اندیشہ لگا رہتا ہے لہٰذا چپکے سے بستر سے اترتا ہوں۔ پنجوں کے بل چلتے ہوئے خواب گاہ سے نکلتا ہوں اور دھیرے سے دوازہ بند کردیتا ہوں۔ کتاب گاہ میں اترتے ہوئے سیڑھیوں والا قمقمہ بھی روشن نہیں کرتا۔ اس احتیاط کی عطا ہے کہ جب میں اپنے لکھنے کی میز پر بیٹھتا ہوں تو سانسوں کا یہ آہنگ میرے ساتھ ہوتا ہے جس میں بچوں کے سانس لینے کا آہنگ بھی شامل ہوجاتا ہے کچھ اس تناسب سے کہ مجھے لگتا ہے جیسے پورا گھر سانس لے رہا ہے۔ یہی وہ زندہ تخلیقی ماحول رہا ہے جس میں کاغذ قلم اٹھاتا رہا ہوں تو تخلیق کے لطیف لمحے مجھ پر مہربان ہوتے رہے ہیں۔ منٹو کی جس تحریر کا میں نے ذکر کیا اس میں آگے چل کر انہوں نے یہ بھی بتا رکھا ہے کہ’’ افسانہ میرے دماغ میں نہیں، جیب میں ہوتا ہے، جس کی مجھے کوئی خبر نہیں ہوتی۔ میں اپنے دماغ پر زور دیتا ہوں کہ کوئی افسانہ نکل آئے، افسانہ نگار بننے کی بھی بہت کوشش کرتا ہوں۔ سگریٹ پہ سگریٹ پھونکتا ہوں مگر افسانہ دماغ سے باہر نہیں نکلتا۔ آخر تھک ہار کر بانجھ عورت کی طرح لیٹ جاتا ہوں۔ ان لکھے افسانے کے دام پیشگی وصول کر چکا ہوتا ہوں۔ اس لیے بڑی کوفت ہوتی ہے۔ کروٹیں بدلتا ہوں۔ اٹھ کر اپنی چڑیوں کو دانے ڈالتا ہوں۔ بچیوں کو جھولا جھلاتا ہوں۔ گھر کا کوڑا کرکٹ صاف کرتا ہوں۔ جوننھے منے جوتے گھر میں جابجا بکھرے ہوتے ہیں اٹھا کر ایک جگہ رکھتا ہوں۔ ۔ ۔ مگر کمبخت افسانہ جو میری جیب میں پڑا ہوتا ہے، میرے ذہن میں نہیں اترتا۔ ۔ ۔ اور میں تلملاتا رہتا ہوں۔ ‘‘ تو گویا جب آپ پر تخلیق مہربان ہوتی ہے تو ماحول، وقت، موسم سب آپ کے معاون ہو جاتے ہیں اور جب آپ ذہنی دبائو میں ہوتے ہیں، کسی اور کے مطالبے پر زور زبردستی کرتے ہیں تو اسی طرح تلملاتے رہ جاتے ہیں جیسے منٹو نے بتایا کہ وہ تلملاتے رہ جاتے تھے۔

یہ بھی پڑھیں: نوجوانوں سے کچھ فکر انگیز باتیں --------- احمد جاوید

۸۔ ہر تخلیق کا ر پر کبھی نہ کبھی موسمِ خزاں کا گزر ضرور ہوا کرتا ہے، باوجود کوشش اور خواہش کے نئے موضوع اور خیال دسترس میں نہیں آتے۔ آپ کے ہاں ایسی صورت حال کب کب ظاہر ہوتی ہے اور اُس سے نجات پانے کے لیے کیا طریقے آزمائے جاتے ہیں؟

جی آپ نے درست کہا کہ ہر تخلیق کار پر موسم خزاں کا گزر ہوتا ہے۔ کہنے والوں نے اسے ’’رائیٹرز بلاک‘‘ کہہ کر شناخت کیا ہے۔ میرا ذاتی تجربہ ہے کہ جب آپ تخلیقی سطح پر بہت متحرک ہوتے ہیں اوراوپر تلے ایسے فن پارے تخلیق کرنے کے تجربے سے گزر چکے ہوتے ہیں جو حد درجہ آپ کو مطمئن کرنے والے ہوں تو اچانک احساس ہوتا ہے جیسے آگے راستہ بند ہے۔ تاہم جونہی رائٹرز بلاک ٹوٹتا ہے آپ پر اچانک ایک نیا راستہ منکشف ہو جاتا ہے۔ ہر تخلیق کار اس جمود کو توڑنے کا حیلہ اپنے مزاج کے مطابق کرتا ہے۔ تخلیقی عمل کبھی تو آپ کے اندر ایک قوت بن کر ظہور کرتا ہے اور کبھی اڑیل گھوڑے کی طرح ہو جاتا ہے لاکھ چابک مارو آگے نہیں چلتا۔ زیادہ زور زبردستی کرو تو اُلار ہو جائے گا اور سوار منہ کے بل گرے گا۔ ایسے میں بے روح تحریریں لکھنے سے بہتر یہ ہوتا ہے کہ پڑھنے کا عمل جاری رکھا جائے، ہو سکے تو اس کو لکھنے والا وقت بھی دے دیا جائے۔ صوفیا نے ایمان کے گھٹنے بڑھنے کو سمندر کی لہروں سے تشبیہہ دے رکھی ہے جو چودھویں کی رات کو ساحل پر چھل مارتی ہیں اور اماوس کی رات یوں بے سدھ ہو جاتی ہیں جیسے کوئی مردہ ہوتا ہے۔ تو یوں ہے صاحب! کہ یہ تخلیقی عمل عین مین ایمان کی طرح ہوتا ہے۔ کچھ لکھنے والے ایسے خشک دنوں میں کہیں سیر کو یا لمبی ڈارئیو پر نکل جاتے ہیں۔ کچھ کسی ہوٹل میں دوستوں کے ساتھ جا بیٹھتے ہیں۔ کچھ عزیزوں اور اپنے پیاروں سے میل ملاقات کو بہانہ کرتے ہیں تاہم ان میں سے کوئی بھی پڑھنا ترک نہیں کرتا۔ میں جب کہانی نہیں لکھ رہا ہوتا تو شاعری اور فکشن پڑھنے کی مقدار بڑھالیتا ہوں اور قلم رواں رکھنے کے لیے تنقید کی طرف نکل جاتا ہوں۔ اور پھر جوں ہی کہانی کے قدموں کی چاپ سنائی دیتی ہے میں پورے وجود کی یکسوئی سے اس کی جانب متوجہ ہو جاتا ہوں۔

۹۔ آپ کے شعور کی آنکھ جب کھُلی اُس وقت روایتی اور علامتی اسلوب پہلو بہ پہلو چل رہے تھے آپ نے بھی ہر دو جانب استفادہ کے لیے ہاتھ بڑھائے ہوں گے۔ وقت گزرنے اور مزاج سنورنے کے بعد آپ کے ہاں شعری اظہار نظر آنے لگا۔ قاری آج کی صورت حال جاننے کا خواہش مند ہے؟

آپ نے درست فرمایا میں جب فکشن کی طرف متوجہ ہوا تو یہ وہی زمانہ بنتا ہے جب علامت اور تجرید کی بنیاد پر افسانہ لکھنے کا رواج تھا۔ ان کے درمیان وہ افسانہ نگار بھی موجود تھے جنہوں نے کہانی کا دامن نہیں جھٹکا تھا مگر جتنا شور شرابہ علامت والوں کا تھا یہ بے چارے لگتا تھادم سادھے بیٹھے تھے۔ اس زمانے کے جرائد اٹھا کر دیکھ لیں علامت نگار علامت نگاروں کی توصیف میں زمین آسمان ایک کر رہے تھے۔ ہمارے دیکھتے ہی دیکھتے علامت نگاروں کا یہ گروہ تھک ہار کر بیٹھ گیا۔ انہیں احساس ہو گیا تھا کہ افسانے سے کہانی کی بے دخلی گھاٹے کا سودا تھا۔ جو وہ لکھ رہے تھے اس کا قاری کوئی نہ تھا۔ خیر اس زمانے میں مجھے کئی علامتی افسانے بہت اچھے لگے تھے۔ ان میں اسلوب اور معنیاتی سطح پر ایسی تہہ داری موجود تھی جو توجہ کھینچتی تھی اورعلامتیں‘ ٹکڑوں میں ہی سہی ‘اپنا ایک نظام وضع کرتی تھیں۔ مجھے اعتراف ہے کہ میں کہانی کو باطنی سطح پر برتنے کی طرف راغب اسی عہد کے تخلیقی تجربے کے وسیلے سے ہواتھاتاہم مجھے جلد اندازہ ہوگیا کہ علامت کو ٹکڑوں میں نہیں لکھنا، پوری کہانی کو علامت بنانا ہے اور اس کے لیے مجھے کسی کی تقلید میں نہیں چلنا تھا، اپنا راستہ خود بنانا تھا۔ تب تک میں تخلیقی عمل کے لیے بھیڑ چال اور تحریکوں کے نام پر ادبی جتھے بنا کر چلنے کو نادرست سمجھنے لگا تھا۔ میرے سامنے دومثالیں تھیں۔ ترقی پسندوں کی اور ان کے رد عمل میں خارج سے مکمل طور پر کٹ کر باطن گزین ہونے والے علامتیوں کی۔ دونوں اپنے تخلیقی عمل سے کہیں زیادہ کچھ مطالبوں پر کان دھرتے تھے جس سے ایک اجتماعی رجحان تو بنتا تھا مگر تخلیق کار کی انفرادیت کوتلف ہو جاتی تھی۔ مجھے اپنے تخلیقی عمل سے وفادار رہنا تھا، اور اسی نے مجھے راستہ سجھایا۔ آج کی صورت حال یہ ہے کہ کسی رجحان کا پابند ہو کر لکھنے کا زمانہ لد گیا ہے۔ جس طرح سیاسی کارکن نعرے مارتے مارتے، ایک روز اپنی امیدیں ٹوٹنے پر تھک ہار کر بیٹھ جاتے ہیں ایسا ہی ان رجحان بنانے والوں کے ساتھ ہوا ہے۔ آج کا لکھنے والا جان گیا ہے کہ تخلیقی تجربہ کسی تخلیقی کار کے اِنفرادی روّیے اور کارکردگی سے ہی معتبر ہوتا ہے۔ ایک بھیڑ یا جماعت سیاسی اور سماجی سطح پرکوئی تبدیلی تو لا سکتی ہے مگر اَدبی ہیئتوں‘ اسالیب اور روایتوں کو مستقل طور پرتبدیل نہیں کر سکتی۔ کہانی کی معنویت ‘کرداروں کی تشکیل کے لیے مطلوب لسانی آہنگ اور اس کے داخلی بھید بھنور، عصری حسیت کے وسیلے سے ہر تخلیق کار کے ہاں الگ طرح سے ظہور کرتی ہے۔ اس طرز احساس نے آج کے افسانے میں کہانی کو محترم جان کر متن کو مربوط کیا ہے اوراس متن کے اندر ایک معنیاتی ڈھانچہ بھی تعمیر کرنے کا ہنرسکھا دیا ہے۔

۱۰۔ خود شعوریت کے کون سے وصف کو کام میں لا کر آپ نے اپنے افسانوں کو متن در متن یعنی Frame Narrative کی نئی قسم کی حقیقت نگاری کا پر تو بنایا اور اس عمل کو کس نظر سے دیکھا گیا؟

آپ کا سوال دلچسپ ہے اور ممکن ہے اوپر کسی اور سوال کی ذیل میں ضمنی طور پر اس کا جواب بھی عرض کر آیا ہوں گا مگر یہاں کچھ کہنے سے اس لیے قاصر ہوں کہ یہ تنقیدی تجزیہ میرا نہیں ناصر عباس نیر کا ہے اور وہی اس پر مزید بات کرنے کے مجاز ہیں۔ یہ بات انہوں نے پہلی بار میرے افسانوں کے مجموعے’’مرگ زار ‘‘ پر لکھی تھی۔ بعد ازاں جب ڈاکٹر توصیف تبسم نے میرے پچاس افسانوں کا انتخاب کیا تو انہوں نے اپنے دیباچے میں لگ بھگ یہی بات دہرائی تھی۔ خیر ایک بات تو طے ہیں کہ میں اور میرے ہم عصر فکشن لکھنے والے روایتی حقیقت نگاری کے پیٹرن کوتوڑکر آگے بڑھے ہیں۔

۱۱۔ آپ کی کہانیوں میں زبان و بیان کے تجربات کن وجوہات کی بنا پر کیے گئے اور اس کو روبہ عمل لانے کے لیے آپ کو کیا پاپڑ بیلنے پڑے؟

جو کام مجھے سب سے مشکل لگتا ہے وہ اپنے افسانوں کی بابت کچھ کہنا ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ تنقیدی فیصلوں کے لیے جو مناسب فاصلہ درکار ہوتا ہے وہ لکھنے والے کو اپنی تخلیق کے باب میں میسر نہیں ہوتا۔ میرے ہاں زبان و بیان کے جو تجربات ہوئے ان پر بہت لکھا جاچکا ہے۔ یونیورسٹی کی سطح پر جو کام ہوا وہ الگ ہے۔ رہ گئی ’’پاپڑ بیلنے‘‘ کی بات تو یوں ہے کہ میں فکشن کی فضا میں سانس لیتا آیا ہوں، ایسے میں اس فضا سے سانس کشید کرنے میں مجھے وہی سہولت رہی جو ایک زندہ آدمی کو سانس لینے میں میسر رہتی ہے۔ افسانہ کے کردار، ماحول، اور وہ احساس جو کہانی کو تحریک دینے کا سبب ہوا افسانے کے مزاج کو متعین کرتے ہیں اور اس کے بیانیے کو بھی، یوں ہر افسانہ زبان اور بیان کا تجربہ خود سجھا دیتا ہے اس کے لیے الگ سے پاپڑ نہیں بیلنے پڑتے۔

۱۲۔ یہ فلسفہ لذیذیت کیا ہوتا ہے قاری کو جس کی سیر آپ نے جنم جنم میں کرائی ہیں؟

یہ فلسفہ لذتیت والی بات پروفیسر فتح محمد ملک نے میرے تین افسانوں پر مشتمل سلسلے’’ جنم جہنم‘‘ کے باب میں کہی تھی۔ میرا اس پر کامنٹ کرنا مناسب نہ ہوگا۔ خیر، سارتر کی طرف دھیان جاتا ہے۔ وہ اپنے آپ کو تخیلاتی بچہ کہتے تھے۔ جی، تخیلاتی بچہ جس کو اس کا تخیل ہی محافظت فراہم کرتا تھا۔ مجھے لگتا ہے کہ میں بھی ایک تخیلاتی حصار میں رہتا ہوں اور یہی مجھے بچا سکتا ہے اورتخلیقی سطح پر زندہ بھی رکھے ہوئے ہے۔ اس زندہ وجود کے اندر جہاں عزو شرف کی منزلوں کو جا لینے کی تاہنگ ہے وہیں لذت کا شیرہ بھی بھرا ہوا ہے۔ افتخار عارف کی ایک نظم ’’یا سریع الرضا اغفر لمن لا یملک الالدعا‘‘یاد آتی ہے جو کچھ یوں آغاز پاتی ہے ’’یہ دُنیا اک سور کے گوشت کی ہڈی کی صورت/کوڑھیوں کے ہاتھ میں ہے/اور میں نان و نمک کی جستجو میں دربدر قریہ بہ قریہ مارا مارا پھر رہا ہوں/ذرا سی دیر کی جھوٹی فضیلت کے لیے/ٹھوکر پہ ٹھوکر کھا رہا ہوں ہر قدم پر منزل عز و شرف سے گر رہا ہوں۔ ‘‘ تو یوں ہے کہ ٹھوکر انسان کا مقدر ہے کہیںپیٹ کی بھوک مٹانے کو نان و نمک کے حصول کی جدوجہد میں اور کہیں اس لذت کے شیرے کے چھلکنے کے سبب جو ایک اور طرح کی بھوک ہے۔ سو اس بھوکے آدمی کے سامنے دنیا ایک فاحشہ عورت کے سوا اور کچھ نہیں۔ دیکھا جائے تو جہنم کچھ اور نہیں بھوک کی ان دو صورتوں سے پچھڑنے اور اس بھوک کو مٹانے کی اشتہاکا نام ہے۔

۱۳۔ وہ کون سے تماشے خیر و شر ہیں جن کی رفت و گزشت کو جاننے کے لیے دور دراز زمینوں میں ہوس کی ماری ہیرؤنوں کو جانچنا، پرکھنا ضروری ٹھہرا؟

آپ کا یہ سوال بھی پروفیسر فتح محمد ملک کے اس تنقیدی فیصلے کی جانب متوجہ کر رہا ہے جو انہوں نے میرے ایک افسانے کے باب میں دیا تھا۔ میرے سامنے پھر وہی مشکل ہے۔ اپنے افسانے کی تعبیر میرا منصب نہیں ہے۔ افسانے کی تعبیر کے باب میں تو مجھے کچھ نہیں کہنا بس اس سیاسی سماجی صورت حال کو نشان زد کرنا چاہتا ہوں جو اس کرّے پر ہر کہیں ایک جیسی ہے اور ہر زمانے میں ایک جیسی رہی ہے۔ ان سب مقامات پر کہیں عورت کا وجود ایکسپلایٹ ہوا ہے اور کہیں اس نے اپنی صنف اور اپنے جسم کو ایکسپلائٹ کیا ہے کچھ یوں کہ انسانی تہذیب اپنا وقار کھو کر محض خیرو شر کا تماشا ہو کر رہ گئی ہے۔

۱۴۔ کوئی بھی ذہنی، جسمانی بیماری یا نقص انسان کے بس میں نہیں ہوتا۔ آپ نے افسانہ ’’پارو‘‘ کے دونوں مرکزی کردار تخلیق کیے ہیں یا مشاہدے کو کام میں لا کر تانا بانا بُنا ہے۔ پوچھنے والی بات یہ بھی ہے کہ اس کہانی کے لیے خطۂ پوٹھوہار کا انتخاب ہی کیوں؟

گلزار جاوید صاحب آپ نے درست فرمایا کہ کوئی بھی ذہنی، جسمانی بیماری یا نقص انسان کے بس میں نہیں ہوتا تاہم کیا یہ بھی انسان کے بس میں نہیں ہوتا کہ وہ اس نقص پر کوئی دبیز پردہ ڈال کر کسی اور کو دھوکے میں رکھے اور اس کی زندگی تباہ کر دے۔ ’’پارو‘‘ افسانے میں مرد کی نامردمی کو نشانہ نہیں بنایا گیا اس روّیے کو نشان زد کیا گیا ہے جس نے پارو جیسے معصوم کردار کی زندگی عذاب بنا دی تھی۔ یہ اور اس طرح کی کہانیاں ہمارے آس پاس بکھری ہوئی ہیں۔ میں نے ایسے افسانے اپنے علاقائی پس منظر سے اٹھائے ہیں۔ آپ کے’’کیوں‘‘ کا جواب یہی ہے کہ میں بچپن سے ایسے واقعات کا اپنے سماج میں مشاہدہ کرتا آیا ہوں۔

۱۵۔ آپ کی کہانی ’’مرگ زار‘‘ جہاد اور شہادت جیسے نازک موضوع کا احاطہ کرتی ہے مگر نائن الیون کے بعد کی صورت حال ہر دو تصورات کے حامل افراد کو خاصی دشواری کا سامنا کرنا پڑا۔ اس حوالے سے آپ کی کوئی ادبی کاوش ہماری نظر سے نہیں گزری؟

افسانہ’’مرگ زار‘‘ میرے افسانوں کے مجموعے’’مرگ زار‘‘ہی کا حصہ ہے جس کے بیشتر افسانے نائن الیون کے بعد کی صورت حال ہی پر لکھے گئے ہیں۔ ’’ گانٹھ‘‘، ’’سورگ میں سور‘‘، ’’لوتھ‘‘ اور دوسرے۔ اسی طرح میرے تازہ ترین مجموعے ’’سانس لینے میں درد ہوتا ہے‘‘ کی سب سے طویل تخلیق’’ جنگ میں محبت کی تصویر نہیں بنتی‘‘ بھی نائن الیون کے بعد کی صورت حال سے کشید ہوئی ہے۔ نہیں معلوم آپ کی نظر اس طرف کیوں نہیں گئی۔ بھارت کے نوجوان ناقد محمد غالب نشتر نے تو میرے ایسے سب افسانوں کا ایک انتخاب ’’دہشت میں محبت‘‘ کے نام سے مرتب بھی کیا تھا جن کے پس منظر میں نائن الیون اور اس کے بعد کی صورت حال مسئلہ ہوئی ہے۔

۱۶۔ آپ کے ہاں مسلمان بمقابلہ طالبان کی تعبیر جس انداز میں کی گئی ہے اُس سے اتفاق یا اختلاف سہل اور مشکل پسند دونوں کو دشواری میں ڈال رہا ہے؟

مسلمانوں کو پہلے مجاہد اور پھر طالبان اور دہشت گرد بناکر جس طرح تہذیبی تصادم کی راہ ہموار کی گئی ہے کیا اسے سہولت سے سمجھا جاسکتا ہے؟ میں نے اس سارے مکروہ دھندے کو افسانے کے متن کے اندر رہ کر سمجھنے کی کوشش کی ہے۔ کچھ ایسی باتیں ہوتی ہیں جنہیں کسی اور طرح سے نہیں بیان کیا جاسکتا، انہیں فکشن کا بیانیہ ہی سہار سکتاہے۔ تو یوں ہے کہ میرے پاس بھی کچھ ایسی باتیں تھیں جو ’’دہشت میں محبت‘‘ میں جمع ہونے والے افسانوں کا متن ہوگئی ہیں اور انہیں ان افسانوں کے اندر رہ کر ہی سمجھا جاسکتا ہے۔

۱۷۔ کہانی ’’ناہنجار‘‘ کو دوبار لکھنے کی نوبت کیوں آن پڑی اور کون سا ورژن قاری نے زیادہ پسند کیا؟

افسانہ’’ناہنجار‘‘ میں نے پہلے پنجابی میں لکھا تھا؛ پنجابی نہیں بلکہ گھیبی میں۔ اس لہجے میں بہت کم لکھا گیا ہے۔ میں نے بھی اس میں دوتین افسانے ہی لکھے تھے۔ اس خیال سے کہ میں اسے کسی کتاب کا حصہ نہ بنا سکوں گا کہ گھیبی میں لکھی ہوئی چند تخلیقات سے تو کتاب نہیں بنتی تھی اور اندیشہ ہوا کہ یہ تحریریںگم ہو جائیں گی۔ اس خیال کا آنا تھا کہ میں نے انہیں اردو میں منتقل کرکے کتاب کا حصہ بناڈالا۔ دونوں کے اپنے اپنے پڑھنے والے ہیں تاہم کتاب کا حصہ ہونے کے سبب اردو ورژن پر زیادہ بات ہوئی۔

۱۸۔ دفتری کہانی کا اختصاص بھی آپ کے نام کیا جاتا ہے مگر ’’ادارہ اور آدمی‘‘ میں آپ نے عالمی معاشیات کے ساتھ گنتر گراس کے بیان کو بنیاد بنا کر کہانی میں وزن ڈالنے کی غیر ضروری کوشش کو ضروری کیوں جانا؟

جب منشایاد صاحب نے اپنے ایک مضمون میں اس جانب اشارہ کیا تھا کہ میرے ہاں دفتری ماحول پر افسانے لکھنے کارجحان ہے، تب مجھے لگا کہ شاید کچھ غیر معمولی بات ہو گئی تھی۔ یہ درست ہے کہ اس ماحول پر کم کم لکھا گیا اور شاید دفتری ماحول پر لکھنا قدرے مشکل بھی ہے۔ کاروباری یا دفتری ماحول کے بیانیے کی جمالیات بس لکھتے چلے جانے سے مرتب نہیں ہوپاتی۔ اس میں کچھ اور قرینے بروئے کار لانا ہوتے ہیں۔ جہاں تک ’’ادارہ اور آدمی‘‘ کا تعلق ہے تو یوں ہے کہ اس کا خیال مجھے گنترگراس کے اس بیان سے ہی سوجھا تھا جو میں نے واوین میں افسانے کے آغاز میں یو ں درج کر دیاہے جیسے یہ اس افسانے کا انتساب ہو۔ میں سمجھتا ہوں کہ اس اکتساب کا اعتراف نہ کرنا بددیانتی کے مترادف ہوتا۔ اب رہی بات ’’ضروری‘‘، ’’ غیر ضروری‘‘ اور ’’وزن ڈالنے ‘‘ کی۔ تو بھائی یہ آپ نے کیسے سوچ لیا۔ کئی ناقدین نے اس پر بات کی ہے اور کسی نے ایسا نہیں کہا۔ صرف نجیبہ عارف کی بات کی طرف توجہ چاہوں گا۔ وہ فرماتی ہیں کہ ‘‘افسانہ ’’ادارہ اور آدمی‘‘ ایک مرتے ہوئے ادارے، اور کچلی ہوئی کمزور قوموں کی آخری رسومات کی تقریب کا قصہ ہے۔ اقتصادیات کے جال میں پھڑکتے ہوئے ناصبور کبوتروں کی کہانی۔ پتلیوں کی مانند کہیں اور سے ہلائی جانے والی ڈوروں میں بندھے انسانوں کے رقصِ غلامی کی ایک جھلک۔ وہ دن گئے جب غاصب لاو لشکر لے کر، تیر وتفنگ سے لیس ہو کر، کمزور ملکوں اور قوموں پر چڑھائی کرتے تھے۔ اب تو وہ عالمی تجارتی کمپنیوں اور آزاد تجارت کے ہتھیار لے کر ایکسپرٹ اور کنسلٹنٹ بن کر آتے ہیں اور اداروں کو اندر سے کھا جاتے ہیں۔ قومیں اپنے قدموں پر کھڑی کھڑی، دیمک زدہ عصا کی طرح اچانک زمیں بوس ہو جاتی ہیں۔ وسائل اور اختیارات تک سود میں ادا کرنے پڑ تے ہیں۔ جیسے کوئی گھنا پیڑ گرتا ہے تو کتنی ہی چیونٹیاں، گلہریاں اور چڑیاں بے گھر ہوجاتی ہیں، اسی طرح ایک ادارے کی تباہی سے کتنے گھروں میں بھوک اور مایوسی کا غلبہ ہو جاتا ہے۔ کتنے آدمیوں کی زندگیاں رہن رکھی جاتی ہیں۔ ان باتوں کا حساب رکھنے کی کس کو فرصت ہے۔ حمید شاہد نے اس کام کو فرض کفایہ سمجھ کر ادا کیا ہے۔ ‘‘ خیر آپ کو اختیار ہے کہ آپ اس بیان سے آنکھیں بند کرکے گزر جائیں اور اگر کہانی کے اندرغیرضروری وزن ڈالا گیا ہے تو اسے بھی رد کر دیں۔

یہ بھی پڑھیں: افتخار عارف سے سماجی اور ادبی موضوعات پر----دانش کا ایک مکالمہ

۱۹۔ کوئٹہ اور بلوچستان کی نسبت آپ کے تجربات و مشاہدات اکثر کہانیوں کی شکل میں نظر سے گزرے ہیں مگر خوف کا ہڈیوں میں اُترنا کسی بھی محب وطن پاکستانی کو دہلانے کے لیے کافی ہے؟

آپ کا شکریہ کہ آپ نے میرے اُن افسانوں کو وقت نکال کر پڑھا جو بلوچستان کے لوگوں کی زندگیوں سے جڑے ہوئے ہیں۔ مجھے موقع ملتا رہا ہے کہ میں اس صوبے کے اندرون جاکر لوگوں سے ملوںاور دیکھوں کہ وہ اپنی اپنی زندگیوں کو کیسے بھوگ رہے ہیں، ان کے خیالات جان سکوں اور ان کے اندر اٹھتے اس ابال کو آنک سکوں جوعام پاکستانی کی نظروں سے اوجھل رہتا ہے۔ محض ہڈیوں کے گودے میں خوف کا اترنا میرا مسئلہ نہیں ہے، انسانیت کے رشتے کو بھی تلاش کرکے بچانا ہے۔ ایک ’محب وطن پاکستانی ‘ کیاپہلے انسان نہیں ہوتا؟ ہوتا ہے ناں!۔ انسان ہوئے بغیر ہم پاکستانی کیسے ہو سکتے ہیں؟ مگر لگتا ہے انسانیت ہمارے ہاں سے رخصت ہو رہی ہے۔

۲۰۔ ایک الزام آپ کے سر میلوڈرامے کے ہیجان انگیزی کا کوئی اور نہیں عزیزی عرفان جاوید تھوپ رہے ہیں جس کے باعث کردار نگاری ثانوی ہو کر رہ جاتی ہے؟

کسی صاحب نظرکے تنقیدی فیصلے کو آپ’ الزام ‘کیسے کہہ سکتے ہیں؟ میں ناقد کی آزادی کا قائل ہوں اور ان ساری آرا کا احترام کرتا ہوں جو ناقدین کی طرف سے آتی رہی ہیں، چاہے وہ مجھے پسند ہوں، نہ ہوں۔ اب رہی بات کسی افسانے میں کردارنگاری کے ثانوی ہونے کی، توصاحب کیا سب افسانوں میں کردار نگاری پر ہی سارا زور صرف کر دینا چاہیے، چاہے کسی افسانے میںکردار کو حاشیے پر رکھنا ہو، تب بھی؟ افسانہ محض کردار نگاری نہیں ہے صاحب۔ اس کے ایک سے زیادہ لکھنے کے ڈھنگ ہیں۔ بلکہ جتنے لکھنے والے ہیں اتنے ہی افسانہ لکھنے کے طریقے ہیں۔ تاہم کردار کی شباہت قائم کرنا، اسے اپنے قدموں پر ایستادہ کر دینا اور پوری قامت کے ساتھ کہانی میں رواں کر لینا اپنی جگہ کم اہم نہیں ہے۔ یہی اہم کام وہاں عیب ہو جائے گا جہاں افسانے کی فضا ایسی ہو کہ کردار ہی ساری کہانی کو نہ لے کر چل رہے ہوں۔ عرفان جاوید کے جس مضمون کا آپ نے حوالہ دیا وہ کئی حوالوں سے مجھے پسند ہے۔ عرفان بہت عمدہ لکھنے والے ہیں اور جو لکھتے ہیں خوب محنت سے اور پرکھ پرچول کے بعد لکھتے ہیں۔ ایسے افراد کی قدر کی جانی چاہیے۔

۲۱۔ اردو ادب میں بلند قامت یا بلند آہنگ اہل قلم اکثر اپنے چھوٹوں کے ذریعے بڑے لوگوں کے ساتھ خود کو نتھی کر ا کے قد اونچا کرنے کی کوشش کیا کرتے ہیں۔ آپ کے باب میں بھی انہیں عرفان جاوید صاحب نے شیکسپیئر، سگمنڈ فرائڈ، گربیئل گارشیا مارکیز، جیفرے آرچر، نکو لائی گوگول اور اوحان پامک جیسے نامور ادیبوں کا ذکر غیر ضروری طور پر کر کے آپ کا قد بلند کرنے کی اپنی سی کوشش ضرور کی ہے؟

کسی کی قامت کبھی کسی اور کے کندھوں پر بیٹھ کر بلند نہیں ہوتی۔ آپ خودکسی کے کندھے پر چڑھ کر بیٹھ جائیں یا کوئی آپ کو اٹھا کر کسی کے کندھے پر بٹھائے آخرکار آپ کے اپنے قدم ہی کام آتے ہیں۔ اب رہی یہ بات کہ کسی نے مجھ پر کلام کرتے ہوئے گوگول یا مارکیز اور پامک کا نام کیوں لیا، تو میرا سوال ہے کہ کوئی اپنے مطالعے سے کسی نتیجے پر پہنچنا چاہے تو اس میں قباحت ہی کیا ہے۔ آپ کسی ناقد پر کیوں قدغن لگانا چاہتے ہیں کہ وہ ان اصولوں پر چلے جو آپ کو بھاتے ہیں۔ ہاں، اگر آپ اس نتیجے سے متفق نہیں ہیں جو اُس ناقد نے اخذ کیا تو اختلاف کا آپ کو حق ہے آپ اپنے طریقے سے نوٹ لکھ دیجئے۔

۲۲۔ (Pastiche)فنِ لطیفہ کی لذیذ تکنیک کے گرد سرمئی کہانی بننے کا کلیہ استعمال کرنا خوش آئند ہے مگر سوال یہ ہے کہ کس واقعے یا تجربے نے آپ کو یہ منفرد کام کرنے پر آمادہ کیا؟

افسانہ لکھنا بندھے ٹکے راستوں پر چلنا نہیں ہے۔ کہانی پر اب وہ سارے دریچے کھل گئے ہیں جو ہماری زندگیوں کو متاثر کرتے ہیں۔ ایک بار پھر آپ نے عرفان جاوید کے مضمون کا حوالہ دیاآپ نے، مگر آپ اس مقام سے کنی کاٹ کر گزر گئے جہاں اسی مضمون میں آپ کے سوال کا جواب موجود تھا۔ جی، وہیں جہاں انہوں نے ادبی اصطلاح Pastiche برتی ہے، دیکھ لیجئے وہ اس باب میں کس سلیقے سے اپنی بات کہہ رہے ہیں۔

۲۳۔ ہندوستان کے اہل قلم بالخصوص غیر مسلم کو اکثر پاکستانی اہل قلم سے ہندو متھالوجی کے ساتھ کھلواڑ کرنے کا گلہ ہوتا ہے۔ یعنی کچی پکی، آدھی ادھوری معلومات کے بَل پر علمیت کا رعب بگھارنے کے لیے اس طرح کی کہانیاں گھڑ لیتے ہیں۔ آپ کو ’’نرمل نیر‘‘ لکھنے کا خیال کیونکر آیا۔ کہانی کے پلاٹ، مواد اور تکنیک کا مآخذ کیا رہا؟

گویا آپ کو ’’نرمل نیر‘‘ پسند نہ آئی۔ یہ اپنے اپنے ذوق کا معاملہ ہے۔ ایک تحریر کسی کے ذوق پر گراں گزر سکتی ہے اور کوئی اسے پسند کر سکتا ہے۔ اچھا، میں یہ تو مان سکتا ہوں کہ میری معلومات کامل نہیں ہو سکتیں۔ میں نے جو کچھ حاصل کیا مطالعے سے حاصل کیا ایک زمانے میں ہندی سیکھنے کا شوق ہوا تو اس باب میں ہاتھ پائوں مارے تھے۔ میری دسترس میں جو آیا پڑھا اور جب زندگی کو سمجھنے کا ایک ایسا سوال سامنے آیا جسے ایک متھ بنا کر سمجھا جاسکتا تھا تو میرے شوق اور میرے مطالعے نے میرے تخئیل کو مہمیز دی اور قلم چل پڑا۔ مجھے یاد آتا ہے کہ قمرجمیل نے آصف فرخی کی کتاب’’آتش فشاں پر کھلے گلاب‘‘ پر لکھتے ہوئے آصف فرخی کی کہی ہوئی ایک بات مقتبس کی تھی، یہی کہ ’’واٹر کلر یا بچہ کر سکتا ہے یا جینئس‘‘ تو صاحب میں جینئس نہیں مجھے اس باب میں بچہ تو سمجھ ہی سکتے ہیں۔ میں نے ناسمجھی میں زندگی کو جتنا اور جس طرح سمجھا اس طرح سے برش چلا کر ایک تصویر بنادی۔ یاد رکھیے کہ زندگی کے بارے میں دانشورانہ فیصلے بھی کہیں نہ کہیں بچگانہ لگنے لگتے ہیں اور بچے یوں لگتا ہے جیسے دانا ہو گئے ہیں۔ جی چاہتا ہے کہ اس افسانے کے بارے میں ڈاکٹر ستیہ پال آنند نے جو لکھا وہ عین مین نقل کردوں۔ یقیناً اُن کے علم کے بارے آپ وہ الفاظ استعمال نہ کرنا چاہیں گے جو سوال بنانے سے پہلے اپنی رائے کو تیکھا کرنے کو درج کر آئے ہیں۔ ستیہ پال آنند نے جنم جہنم پر اپنے اس مضمون میں لکھا تھا: ’’نرمل نیر‘‘کی نائیکہ اپسرا ہے یا جل پری ہے یا کوئی اور ہی مخلوق ہے لیکن وہ لوک قصص کی پریوں سے مختلف نہیں ہے۔ دھرتی میں اترنے کے بعد من کی راہ سے قطرہ قطرہ آنکھوں میں اترنا اور دامن بھگونا ہی اس کا مقدر ہے۔‘‘

۲۴۔ کرشن چندر ’’کچرا بابا‘‘ سے غلام عباس ’’کن رس‘‘ سے حسِ سماعت متاثر کرتا ہے جبکہ محمد حمید شاہد اپنے قلم سے حس بصارت، حس شامہ اور حسِ سمعہ کو بیدار کر کے حسِ لطیف کے خوابیدہ اور غیر دریافت کردہ گوشوں تک بھی رسائی حاصل کر لیتے ہیں۔ فیصلہ آپ کیجیے کسے بہتر گردانا جا رہا ہے اور کیوں؟

آپ کی یہ گرفت مجھ پر نہیں میرے افسانوں پر مضمون لکھنے والے ناقد پر ہے۔ اس ’’کیوں ‘‘کا جواب تو آپ اُن ہی سے طلب فرمائیے۔ میں اپنے تئیں درست نادرست یہ سمجھتا ہوں کہ اصناف کا باہمی موازنہ ہو، جیسا کہ شمس الرحمن فاروقی صاحب نے افسانے اور شاعری کا کیا یا تخلیق کاروں کے اسلوب کا موازنہ، جس پر آپ گرفت کر رہے ہیں، ایسے موازنے پر ہمیشہ سوالیہ نشان لگایا جاتا رہا ہے۔ چاہے ممتاز شیریں نے ایسا موازنہ موپساں اور منٹو کے ساتھ کیا ہو یا چیخوف کے مقابل بیدی، حیات اللہ انصاری، غلام عباس اور عسکری کو کھڑا کرکے کیا ہو۔ میری طالب علمانہ رائے یہ ہے کہ تخلیق کار اگر اپنے فن سے مخلص ہے تو وہ دوسروں سے مختلف ہو جاتا ہے۔ لہٰذاہر تخلیق کار کو اس کے اپنے فن کے حوالے سے سمجھا جانا چاہیے۔ یہ میری ذاتی رائے ہے لیکن جب ہم تنقید کی آزادی کی بات کرتے ہیں تو اس اسلوب کی بھی گنجائش رہنی چاہیے جو آپ کو پسند نہیں ہے بشرطیکہ اس میں سے ایسے نتائج نکل رہے ہوں جو لائق توجہ ہو جاتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان میں تہذیبی کش مکش کے ستر سال --------- نجیبہ عارف

۲۵۔ محبت کے بغیر جنسی فعل کو حیوانی جذبہ گرداننے والے مذہبی، اخلاقی اور قانوی اقدار کا ذکر دانستہ کرنا بھول گئے یامقصود میرا جسم میری مرضی کا پرچار ہے؟

میں آپ کے سوال کو سمجھ نہیں سکا۔ محبت سماجی، مذہبی اور قانونی اقدار سے کبھی بے دخل نہیں ہوئی۔ جہاں محبت نہیں ہوتی اور بے روح رشتوں سے الگ ہونا لازم ہوجاتا ہے، وہاں ہمارا مذہب ہو یا سماج ایسی گنجائشیں رکھتا ہے کہ ایسے رشتوں سے الگ ہوا جا سکے۔ مذہب نے آخر طلاق کا آپشن کیوں رکھا ہے؟ محبت اور سماجی اقدار ایک دوسرے کی حریف نہیں ہیں۔ ہاں، جہاں جہاں مذہب اور سماجی اقدار کے نام پر محبت کی بیخ کنی کی گئی ہے، وہاں وہاں ادب نے اسے ضرور نشان زد کیا ہے۔

۲۶۔ محبت اور جسمانی تعلق میں عمروں کا تفاوت آپ کے خیال میں کس طرح کا ہونا چاہیے نیز آپ نے اپنی کہانیوں میں اس اہم مسئلے کو کس طرح موضوع بحث بنایا ہے؟

انسانی تعلق چاہے فکری ہو زوجین والاجتنا ہموار اور برابری کی سطح کا ہوگا اتنا ہی پائیدار ہوگا۔ غالباً اس سوال میں آپ نے میرے افسانے ’’تھوتھن بھنورا‘‘ کی جانب اشارہ کیا ہے۔ میں نے اس افسانے کا نام پہلے پہل ’’بڑی عمر کا مرد‘‘ رکھا تھا پھر بدل لیا۔ میں نے اپنے افسانے میں کوئی اصول مرتب نہیں کیا کرداروں کو اس مخصوص صورت حال کے حوالے کرکے ان کا ردعمل آنکا ہے۔ میں نے ایسے میاں بیوی دیکھ رکھے ہیں جن میں عمروں کا بہت تفاوت تھا مگر وہ خوش نظر آتے تھے۔ خوش نظر آنا، اپنی زندگی سے مطمئن ہونا اور اس سے پوراپورا لطف اندوز ہونا ہر جوڑے کے ہاں مختلف ہو سکتا ہے۔ ہم فکشن کے ذریعے ایک خاص صورت حال میں کرداروں کو رکھ کر انسانی سائیکی کو سمجھنے کے جتن کرتے ہیں۔ جب صورت حال بدل جائے گی تو ظاہر ہے ہم اس نتیجے پر نہیں پہنچیں گے جس پر پہلے پہنچے تھے۔

۲۷۔ مشرقی پاکستان کے حوالے سے آپ کے ناول ’’مٹی آدم کھاتی ہے‘‘ کی کردار نگاری کو احباب نے بہت سراہا ہے، ہمیں جستجو اُن تجربات و مشاہدات کی نسبت سے ہے جن کو استعمال میں لا کر آپ نے مذکورہ کردار تخلیق کیے؟

پاکستان ٹوٹنے کا واقعہ میری اپنی زندگی پر بہت گہرے اثرات مرتب کر گیا تھا۔ میں اس وقت چھوٹا تھا مگر جس طرح اس واقعے کوہمارے گھر میں لیا گیا وہ میں زندگی بھر بھلا نہ پائوں گا۔ بعد میں جب میں یونیورسٹی کا طالب علم تھا تو بنگلہ دیش سے ہجرت کرکے پاکستان آنے والے بہت سے افراد سے ملنے کے مواقع ملے۔ ملک سے باہر گیا تو وہاں بھی ایساا فراد سے ملا جن کا تعلق پاکستان کے اس حصے سے تھا جو کٹ کر الگ ملک بنگلہ دیش بن گیا تھا۔ کئی سال اس کیفیت میں گزر گئے پھر جب ہمارے ہاں زلزلہ آیا تو مجھے لگا جیسے کہانی ملبے کے نیچے کہیں دب گئی تھی جسے میں نے وہاں سے نکالنا تھا اور میں خوش بخت ہوں کہ یہ کہانی اس قومی ملبے کے اندر سے میں نکالنے میں کامیاب ہو گیاتھا۔

۲۸۔ اسی ناول میں برتی گئی تکنیک، احساسات اور ثقافتی رچاؤ کے علاوہ ایک مدیر کے کومنٹس بھی لائق توجہ ہیں۔ اُن کی نسبت بھی آپ ہمارے قاری کو بہت کچھ نیا بتلا سکتے ہیں؟

اس باب میں بہت کچھ لکھا جاچکا ہے میں کیا اضافہ کر سکتا ہوں۔ میں اوپر بھی کہہ آیا ہوں کہ اپنی تخلیق کے بارے میں بات کرنا سب سے مشکل کام ہوتا ہے۔ بس اتنا کہنا ہے کہ کہانی ایسی تھی کہ اسے سیدھے خط پر چل کر نہیں لکھا جاسکتا تھا۔ مجھے خوشی ہے کہ تخلیقی عمل کے دوران جو قرینہ مجھے سوجھا وہ فکشن کے ناقدین کے ہاں بھی لائق توجہ ہوا۔

۲۹۔ سقوطِ پاکستان کا بیان اور برتاؤ آپ کے تجربات و احساسات کے ساتھ اُس سازش کی نقاب کشائی کا بھی متقاضی ہے اور سب سے اہم بات یہ کہ ابھی تک بنگلہ دیش میں پھنسے لاکھوں بہاریوں کی بابت عالمی طاقتوں کا ضمیر چین کی نیند کیوں سویا ہوا ہے؟

میں آپ سے متفق ہوں اورپاکستان ٹوٹنے سے جو انسانی المیہ پیدا ہوا اس پر آپ کی طرح کڑھتا ہوں۔ عملی قدم تو سیاست دانوں اور حکمرانوں کو اٹھانا ہے۔ ہم لکھنے والے اپنے تخلیقی عمل کے دوران اس بابت سوال اٹھا سکتے ہیں اپنی چیخیں اور کڑھنا متن میں گوندھ سکتے ہیں ایسا اگر نہیں ہوا تو ہم مجرم ہیں اور ہمارا قلم مجرم ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ ہم نے اپنا فرض نبھایا ہے۔ اب آپ بھی جانتے ہیں کہ جس طبقے نے فیصلے کرنے ہیں وہ ادب کہاں پڑھتا ہے۔ ادب پڑھتا ہوتا تو انسانی سطح پر سوچتا بھی ہوتا۔

۳۰۔ آپ کے فکشن کی تنقید کو ممتاز شیریں اور شمس الرحمن فاروقی سے بریکٹ کرنا بجائے خود سوالیہ نشان اٹھاتا ہے بلکہ آپ کو جداگانہ راستے کا موجد بتلا کر دانستہ یا نادانستہ طور پر اہم گردانا جا رہا ہے؟

صاحب ! ہر بار آپ ناقدین کا غصہ مجھ پر نکال رہے ہیں۔ میں نے کہا نا میں ادب کا طالب علم ہوں اوراس باب میں اپنے تجسس کے سبب آگے بڑھتا رہا ہوں۔ آپ بھی مجھے ایک طالب علم ہی سمجھیں اور غصہ تھوک دیں، دیکھیے اگالدان کہیں آس پاس ہی دھرا ہوگا۔

۳۱۔ بھارت کے نامور فکشن رائٹر مشرف عالم ذوقی آپ کو پاکستانی ادب کا ناقابلِ فراموش چہرہ ٹھہراتے ہوئے عالمی شہرت یافتہ ادیبہ انو دھتی رائے کے ہم پلہ گردانتے ہوئے آپ کی کہانی ’’سورگ میں سور‘‘ اور ’’مرگ زار‘‘ کا حوالہ پیش کرنا کیوں ضروری جانا؟

یہ تو آپ کو مشرف عالم ذوقی سے پوچھنا چاہیے۔ اگر آپ نے ’’سورگ میں سور‘‘ اور ’’مرگ زار‘‘ کو پڑھ رکھا ہے اور کسی مختلف نتیجے پر پہنچے ہیں تو مجھ پر کرم کیجئے اس نتیجے سے مجھے بھی آگاہ کیجئے۔ میں آپ کی رائے کو بھی محترم جانوں گا۔

۳۲۔ فاروقی صاحب آپ کو ذی ہوش افسانہ نگار بتلاتے ہوئے باختن(Bakhtin) کے قول’’ فکشن نگار سے بڑھ کر دنیا میں کوئی تنہا نہیں ہوتا‘‘ کا حوالہ کس پس منظر میں دے رہے ہیں۔ اگر مقصود آپ کی تنہائی کا پرچار ہے تو اُس کی تفصیل جاننا ضروری ہو جاتا ہے؟

’’تنہائی کا پرچار‘‘؟ پیارے گلزار جاوید، آپ سوال کرتے ہوئے اس میں تیکھا پن کیوں ڈال دیتے ہیں ؟ایک بات فاروقی صاحب نے کہی اور یقینا اس کا جواز بھی اُن کے پاس ہوگا مگر آپ کے تند سوال کی زد پر یہ خاکسار ہے۔ خیر میں تو اتنا سمجھتا ہوں کہ ہر تخلیق کار وجودی سطح پر تنہائی محسوس کرتا ہے۔ بھرے پرے گھر میں رہ کر بھی اسے تنہا ہونا پڑتا ہے۔ ایسی تنہائی اگر فاروقی صاحب نے میرے ہاں شناخت کی ہے تو یہ کوئی اچھنبے والی بات نہیں ہے۔ باختن نے فکشن نگار کی تنہائی کی جوبات کی ہے میں بہ طور فکشن نگار اسے بھوگتا آیا ہوں۔

۳۳۔ ایک سانس میں فاروقی صاحب آپ کی صفت بیان کرتے ہوئے آپ کے ہاں موضوعات کے تنوع کی نشان دہی فرماتے ہیں اور دوسری سانس میں منشا یاد سے مشابہ بتلا کر اپنی بات کی اہمیت کم کرتے نظر آتے ہیں؟

مجھے فاروقی صاحب کی بات میں کوئی تضاد نظر نہیں آیا۔ پھر یوں ہے کہ کئی قضیے سب افسانہ نگاروں کے ہاں اٹھائے گئے ہوتے ہیں، یوں وہ ایک جیسے ہوئے مگر ہر ایک کا اسلوب اپنا اپناہوتا ہے، یوں وہ مختلف ہو گئے۔ میرے ہاں اگر موضوعات کا تنوع ہے تو یہ تنوع منشایاد کے ہاں بھی تو نہیں ہے ؟تو میں اپنے محترم دوست منشایاد کے مشابہ ہوا۔ باقی رہی بات میری اہمیت کم ہونے کی، تومیرے پیارے بھائی گلزار جاوید بے فکر رہیں میں قطار میں کھڑا ہوا آخری آدمی ہوں۔ میری اہمیت اور کیا کم ہوگی؟

۳۴۔ ڈاکٹر انوار احمد نے اپنی تصنیف ’’اردو افسانہ ایک صدی کا قصہ ‘‘ میں آپ کے اسلوب کی تعریف کرتے ہوئے آپ کو ’’سرئیلسٹک‘‘ انداز بیان کے ساتھ علامتی وتمثیلی اسلوب کا منفرد ادیب کس تعلق کی بنا پر ٹھہرایا ہے؟

’’کس تعلق کی بنا پر ٹھہرایا؟‘‘۔ ۔ ۔ میرے لیے ڈاکٹر انوار احمد بہت محترم ہیں مگر میں ان کا شاگرد رہا نہ اُن کے ساتھ ملازمت کا تعلق بنا۔ میںان کے وسیب کا رہنے والا بھی نہیں ہوں۔ اور دوستی کا معاملہ یہ ہے وہ اسلام آباد آتے ہیں تو سب کو ملتے ہیں مگر مجھے ان کے جانے پر خبر ملتی ہے کہ وہ آئے تھے اورجا چکے ہیں۔ اُن کا پرچہ’’ پیلھوں‘‘ بھی کبھی کبھار ملتا ہے اور اس میں شاید میں ایک بار چھپا ہوں گا تو یہ تعلق بھی یوں ہی سا نکلا۔ ایسے میں آپ یقین سے کہہ سکتے ہیں کہ انہوں نے جو کہا کسی اور تعلق کے سبب نہیں کہا، متن پڑھ کر آزادانہ تنقیدی فیصلہ دیاہے۔

۳۵۔ پروفیسر وارث علوی اور مرحوم ساجدرشید نے بھی اس کہانی کو بہت سراہا حتی کہ محترمہ یا سمین حمید نے ’’مرگ زار‘‘ کو انگریزی میں منتقل کیا۔ جاننا ہم یہ چاہتے ہیں کہ عالمی شہرت یافتہ سکالر ایکسل مونٹے کی نظر سے آپ کی یہ کہانی کیسے گزری اور انہوں نے اپنے تاثرات آپ تک کیسے پہنچائے؟

وارث علوی اور ساجد رشید نے ’’مرگ زار‘‘ کو ضرور سراہا مگر یاسمین حمید نے اس افسانے کا ترجمہ نہیں کیا تھا۔ اس افسانے کا کئی دوسرے افسانوں کی طرح انگریزی میں ضرور ترجمہ ہوا مگر یاسمین حمید نے۲۰۰۳ میں اکادمی ادبیات پاکستان کے انگریزی جریدے ’’ پاکستانی لٹریچر‘‘مطبوعہ ۲۰۰۳ء میں بہ طور ایڈیٹر جو ترجمہ چھاپا تھا، وہ میرے افسانے’’دکھ کیسے مرتا ہے ‘‘ کاتھا، شاید اس سے آپ کو غلط فہمی ہوئی۔ اور ہاںیہ ترجمہ بھی اُن کا اپنا نہ تھا انہوں نے یہ عطیہ شیرازی سے کروایا تھا۔ اب رہی ایکسل مونٹے کی بات، تو یوں ہے کہ میری ان سے ملاقات کئی سال پہلے گورنمنٹ کالج یونیورسٹی فیصل آباد میں منعقدہ ایک کانفرنس میں ہوئی تھی۔ پھر ہمارے درمیان ای میلز کا سلسلہ چل نکلا اور ہم اپنااپنا کام ایک دوسرے کو پڑھوانے لگے۔ ۲۰۱۶ میں ان کے انتقال تک ہم رابطے میں رہے۔ ایسی عمر نہ تھی کہ اتنی جلدی چلے جاتے ۱۹۶۲ میں پیدا ہوئے تھے۔ مجھ سے پانچ سال چھوٹے۔ مگر وہ جو کہتے ہیں کہ پیدا ہم ایک ترتیب سے ہوتے ہیں مگر مرنے کی کوئی ترتیب نہیں، سو وہ مر گئے۔ وہ جمعرات کا دن تھا، اگست کی سولہ جس روز میونخ میں ہمارا یہ دوست مرا تھا۔ ڈی ایچ لارنس، رابرٹ لوئس سٹیوسن اورچارلس ڈکنز کو جرمن میں ترجمہ کرنے والا ہمارا یہ دوست جب تک وہ زندہ رہا ہم ایک دوسرے سے اپنی تحریروں کے انگریزی تراجم شیئر کرتے رہتے تھے۔ کیا خوب آدمی تھے۔ ادب کے علاوہ تھیالوجی اور انڈیالوجی ان کی دلچسپی کے علاقے تھے۔ پاکستان اور بھارت کے کئی دورے کیے۔ ٹیگور، اقبال اور رومی کو بھی ترجمہ کیا تھا۔ ایک دلچسپ کھیل کی بابت بتاتا چلوں کہ جو ہم ای میل کے ذریعے کھیلا کرتے تھے۔ وہ اقبال کے خطبات سے تین چار سطریں منتخب کرتے انہیں اوپر نیچے درج کرتے، مگر یوں کہ کسی ایک لفظ کا نیچے والی سطر کے اس لفظ سے ایک معنیاتی رشتہ قائم ہوجاتا جو اوپر کی سطر والے لفظ کے عین نیچے ہوتا۔ ایسے الفاظ کو نمایاں کرنے کے لیے وہ ان الفاظ کو نمایاں کر دیتے تھے۔ مجھے بھی وہ ایسا کرنے کو کہتے مگر میں اس میں زیادہ کامیاب نہ رہتا تھا۔

۳۶۔ بدقسمتی سے وطن عزیز میں اعزاز اور انعام بڑے سیاسی دباؤ یا ففٹی، ففٹی کے فارمولے پر دیے جاتے ہیں۔ آپ جیسے مرنجا مرنج صاحب قلم کو ’’نشانِ امتیاز‘‘ کا سزا وار کیونکرٹھہرا یا گیا؟

آپ نے درست فرمایا۔ قومی سطح کا اعزازات ہیں یہ مگر انہیں بھی کئی غلط فیصلوں کے سبب مشکوک بنا لیا گیا ہے۔ اس کا ملنا اسی وقت باعث اعزاز ہو سکتا ہے جب کسی دبائو یا کوشش کی بجائے آپ کی ادبی خدمات کو تسلیم کرتے ہوئے ملے۔ جو لوگ اس کے لیے بھاگ دوڑ کرتے ہیں وہ اپنے آپ کو ندامت سے کیسے بچا پاتے ہوں گے۔ اچھا، ایک تصحیح فرمالیں۔ مجھے ’’نشان امتیاز‘‘ نہیں، ’’تمغہ امتیاز‘‘ ملا تھا۔

۳۷۔ اکادمی ادبیات کی مجلس مشاورت کا رُکن چیئرمین کی خوشنودی سے مشروط بتلایا جاتا ہے جس کے سبب ایک حلقہ مسلسل اکادمی کے طواف میں مصروف رہتا ہے۔ آپ کو کس قابلیت اور اختصاص کے باعث اس اعزاز کا حقدار ٹھہرا گیا۔ نیز یہ اعزازی عہدہ ہے یا مراعات یافتہ؟

اررررے بھائی گلزار جاوید! میں اکادمی ادبیات کے ادبی جریدے’’ادبیات‘‘ کی اشاعت کے لیے موصولہ تحریروں کے باب میں مشاورت دیتا ہوں۔ یہ کوئی عہدہ نہیںہے، موصولہ مواد کو پڑھنا اور رائے قائم کرنا اچھا خاصا مشقت والا کام ہے۔ اورہاں جب اکادمی ادبیات کی سربراہی کے لیے مجھے درخواست گزار بننے کا کہا جارہا تھا تب میں ایسا کرنے پر راضی نہ ہوا تھا تو اس لیے کہ میں ادیب تھا، ادیب ہوں اور ادیب ہی رہنا چاہتا ہوں۔ میں نے عہدوں کا مزہ چکھا ہوا ہے اور بہت عزت اور احترام سے ریٹائر ہوا ہوں اور اتنا مطمئن ہوں کہ اب کسی عہدے یا جاہ کی تمنا دل میں نہیں ہے۔ بتاتا چلوں کہ جس مشاورتی کمیٹی کا میں ایک رکن ہوں اس میں ڈاکٹر اقبال آفاقی اور ڈاکٹر وحید احمد جیسے جید لکھنے والے بھی شامل ہیں۔

۳۸۔ بھارتی حکومت نے تمام صوبوں کی اردو اکادمیز کو بجٹ کا نصف حصہ اہلِ قلم پر خرچ کرنے کا پابند بنا کر ادب اور ادیب کو عمدگی سے پھلنے پھولنے کا موقع فراہم کیا ہے۔ ہمارے ملک کے اہلِ قلم اس سہولت کے حقدار نہیں ٹھہرتے؟

ہمارے ہاں بہت کچھ ہونے والا ہے مگر کیسے ہو سکتا ہے؟ جب ہر حکومت کو لانے والا ایک طاقتور ادارہ ہے، وہی جو غضب میں آئے تو لائی ہوئی حکومت کو لے بھی جاتا ہے۔ ایسے میں بے چاری حکومتیں لاٹھی کو ٹیک ٹیک کر اپنا وقت ٹپاتی ہیں ان اداروں اور ادیبوں کے بارے میں سوچنا کہاں افورڈ کرپاتی ہیں۔

۳۹۔ پڑوسی ملک بھارت میں آپ کے ایک سے زائد افسانے شامل نصاب کیے گئے ہیں۔ افسانہ، مقام اور وقت کی نشان دہی سے قاری، ناقداور محقق کو سہولت مہیاہو جائے گی؟

میرا ایک ہی ا افسانہ’’ لوتھ‘‘ قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان، نئی دہلی سے ۲۰۱۵ میں شائع ہونے والی کتاب’’انتخاب نثر اردو‘‘ کا حصہ بنا تھا۔ یہ افسانہ اس کتاب کی سب سے آخری تحریر ہے۔ جس کے بعد ایک تعارفی نوٹ بھی شامل ہے۔

۴۰۔ ورلڈ آرڈر، نیو ورلڈ آرڈر، کرونا، پوسٹ کرونا ورلڈ کے غلغلے میں پرنٹ میڈیا کا کردار اور اردو زبان و ادب کا مستقبل کیا صورت اختیار کرتا نظر آ رہا ہے؟

یہ سوال تو کئی جہتیں رکھتا ہے۔ نیوورلڈ آرڈر ہم بھگت رہے ہیں۔ کرونا اب پوسٹ نہیں ہوا کہ نئی لہر آچکی ہے مگر جو کچھ ہمیں اس سے سیکھنا تھا نہیں سیکھ پائے ہیں اور شاید کچھ سیکھنے کا ارادہ بھی نہیں ہے۔ پرنٹ میڈیا سکڑ رہا ہے۔ الیکٹرانک میڈیا مارکیٹ نے گود لے لیا ہے اور اپنی آزادی رہن رکھ چکا ہے۔ ادب اور اردو زبان شاید اس قوم کی ترجیحات میں کہیں نہیں ہیں۔ لیجئے میں نے آپ کے چالیسویں سوال کا جواب دے دیے دیا۔ آپ نے پورے چالیس سوال کیے مگر جب سب جواب دے چکا تو لگا کہ تیکھے ترچھے سوالوں میں انٹرویو کا ’’چالیسواں‘‘ ہوگیا ہے اور وہ موضوع تو چھڑا ہی نہیں جس پر بات کرتے ہوئے مجھے لطف آتا۔ خیر، یار زندہ صحبت باقی۔ سلامت رہیں۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20