عورت اور ہمارا سماج: کچھ اہم سوالات —- یاسمین حمید

1

عورت اور سماج کے تعلق سے میں دو تین بنیادی نوعیت کی باتیں کروں گی مگر پہلے کچھ سوالات:

پہلا سوال یہ ہے کہ: کیا یہ ممکن ہے کہ عورت اور مرد الگ الگ جزیروں میں رہ کر نسلِ اِنسانی کو ارتقاء دے سکیں؟

دو: اگر نہیں، تو کیا یہ ممکن ہے کہ ایک معاشرہ تو قائم ہو مگر عورت اور مرد کے درمیان کوئی سماجی تعلق قائم نہ ہو؟

تین: اگر تعلق قائم ہونا لازم ہے، تو کیا یہ مناسب ہوگا کہ اس تعلق کی کوئی قانونی یا اخلاقی حدیں نہ ہوں؟

چار: اگر آپ یہ کہیں کہ قانونی اور اخلاقی حدود سے ہی معاشرہ ہموار اور پرامن رہے گا۔ تو میرا سوال یہ ہے کہ کیا سب معاشرے ایک جیسے ہوتے ہیں؟

پانچ: اگر ایک جیسے نہیں ہوتے اور ہر معاشرے کی اپنی روایات اور اقدر ہوتی ہیں۔ جنہیں عالمی قوانین میں بھی تسلیم کیا گیا ہے تو کیا ان مقامی روایات اور قومی اقدار کو نظر انداز کرکے شخصی آزادی کی کسی تحریک کو صحیح معنوں میں کامیابی سے ہمکنار کیا جاسکتا ہے؟

چھ: کیا عورت یا مرد کی شخصی آزادی بے مہار ہوتی ہے۔ کیا اس کا تعین ’حقوق اور فرائض‘ کے تعین کے بغیر ممکن ہے؟

سات: بدلتے ہوئے وقت کے ساتھ جب عورت ان معاشی علاقوں میں بھی پہنچ گئی ہے جہاں صرف مرد تھا تو کیا حقوق اور فرائض کا تصور وہی رہے گا جس میں مرد کماتا اور عورت چاردیواری میں رہتی تھی؟

آٹھ : کچھ کام ہیں جو محض مرد انجام دے سکتا ہے اور کچھ کام ہیں جو عورت ہی سر انجام دے سکتی ہے ایسے میں کامل برابری کا مطالبہ درست ہوگا یا فطری ضرورت کو سامنے رکھتے ہوئے شراکت کی آزادی کا مطالبہ۔

میں نے ان سوالات پر سوچا اور اس نتیجے پر پہنچی کہ ان بنیادی نوعیت کے سوالات کے مقابل ہوئے بغیر ہم عام طور پر ایسے نعرے لگا بیٹھتی ہیں جو ہمارے نہیں ہوتے، بس ان کا فیشن ہوتا ہے۔ اور آپ جانتے ہی ہیں کہ فیشن ہمیشہ آسودہ طبقے کا مشغلہ ہوتا ہے۔ ہمارے سماج میں عورت کے مسائل، فیشن یا مشغلہ نہیں ہیں۔ یہ زندگی اور موت جتنے اہم ہیں۔ ہمارا سماج ایک جیسا اور ہموار نہیں ہے۔ اس لیے عورت کے مسائل اور مشکلات بھی ایک جیسی نہیں ہیں۔ لیکن عام طور پر دیکھا گیا ہے کہ:

۱۔ کہنے کو یہ مسلمانوں کی اکثریت پر مشتمل معاشرہ ہے مگر باپ اور بھائی بیٹوں اور بہنوں کو وراثت سے محروم کر دیتے ہیں۔ اگرچہ وراثت کا قانون موجود ہے مگر عورت کو محبت کا ایسا جھانسہ دے کر ایثار پر مجبور کیا جاتا ہے یا مکر اور دھمکیوں سے۔

۲۔ کہنے کو ہم تسلیم کرتے ہیں کہ لڑکی کو بھی اپنی زندگی کا ساتھی چننے کا اتنا ہی حق ہے جتنا کسی لڑکے کو۔ جس مذہب کے ہم پیروکار ہیں، جانتے ہیں کہ اس نے بھی لڑکی کو یہ حق دیا ہوا ہے مگر ہم اپنی بیٹی یا بہن کو یہ حق دینے کے لیے تیار نہیں۔

۳۔ یہ جانتے ہوئے بھی کہ لڑکی یا لڑکا پیدا کرنے کے معاملے عورت اور مرد ایک جیسے بے بس ہیں مگر ہم عورت کو قصور وار ٹھہراتے ہیں۔ بیٹے اور بیٹی میں تفریق کرتے ہیں۔ بیٹے کو اپنا جانشین اور بیٹی کو ذمہ داری کے کھاتے میں رکھتے ہیں اور یوں اپنی اولاد میں فریق پیدا کرتے ہیں۔

۔  ہم اپنی ماں، بہن اور بیٹی کے لیے تو چاہتے ہیں کہ سب نظریں نیچی رکھیں۔ اس کے لیے مذہبی حوالے دیتے ہیں مگر دوسروں کی بہن بیٹی کو گھور نے میں کوئی عار محسوس نہیں کرتے۔ عورت کا سڑک پر چلنا تک محال کر دیتے ہیں۔

۔  عورت کے سب رشتے ہمارے لیے مقدس ہیں مگر جب کسی کو گالی دینی ہوتی ہے تو منہ بھر کر ماں بہن کی گالی دیتے ہیں۔۔ ہم چاہتے ہیں کہ عورت بھی مرد کا معاشی دوڑ میں ہاتھ بٹائے کہ اب زندگی کی ضرورتیں بڑھ گئی ہیں مگر دفتروں اور کام کرنے والی جگہوں پر ہم انہیں حراساں کرنے سے بھی باز نہیں آتے۔

اور آخر میں یہ کہ ہمارے سماج میں عورت سے وابستہ مسائل تین نوعیت کے ہیں:
انفرادی۔۔۔ سماجی یا معاشرتی۔۔۔ معاشی

۱۔ انفرادی رویوں میں منافقت کا رویہ زیادہ اور سفاک ہوگیا ہے۔ ہم کہنے کو خدا کو مانتے ہیں اور خدا کی ایک نہیں مانتے۔ رشتوں میں بندھی عورت کا استحصال کرتے ہیں۔ ہر شخص اپنے اپنے گھر اور گھر سے باہر کی عورت سے اپنے رویے کی بابت سوچ کر خود اس منافقت کا اندازہ لگا سکتا ہے۔

۲۔ سماج اور ریاست ان قوانین پر عمل درآمد میں ناکام ہے جن میں عورت کے حقوق متعین ہیں۔ طلاق اور خلع کے مقدمات ہوں، یا علیحدگی کی صورت میں بچوں کے حقوق کے، وراثت کے مقدمات ہوں یا کام والی جگہوں پر جنسی حراسانی کے، ہر صورت میں عورت کا انصاف حاصل کرنا مشکل بنادیا گیا ہے۔

۳۔ معاشی سطح پر عورت کو انسان نہیں، بکنے والی شئے سمجھ لیا گیا ہے۔ یہ اشتہارات میں استعمال ہوتی ہے تو چیزیں بکتی ہیں۔ یہ مرد کو لبھائے اس لیے فیشن کی انڈسٹری قائم ہوتی ہے اور خوب منافع کماتی ہے۔ زیادہ منافع کمانے کے لیے تو کہیں کہیں عورت اور جنس کو لذید شئے بنا کر پیش کیا جاتا ہے۔ یہ پہلو بھی عورت کی تذلیل کا ہے۔

میں سمجھتی ہوں جب تک ہم ان تین نقاط پر کوئی عملی اقدامات نہیں اٹھائیں گے، بہ حیثیت انسان، عورت کے وقار کو بحال کرنا ممکن نہیں ہوگا۔ اور عورت کے حقوق کا نعرہ بھی صرف نعرہ ہی رہے گا۔

یہ بھی پڑھیں: پاپولر فیمنزم اور اشتہاری صنعت کا گٹھ جوڑ ------- وحید مراد
(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

1 تبصرہ

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20