جنسی جرائم، لبرل ازم اور عمران خان کا بیان —– احمد الیاس

1

لبرل ازم انسانی فطرت سے متعلق جس بنیادی دعوے پر کھڑی ہے وہ یہ ہے کہ انسان پیدائشی اور جبلی طور پر اچھا ہے، اس میں جو شر پیدا ہوتا ہے وہ ماحول کے جبر کی وجہ سے پیدا ہوتا ہے۔ اگر جبر ختم کردیا جائے اور انسان کو آزادی دے دی جائے تو شر کم ہوتا چلا جائے گا اور انسان کی فطری نیکی غالب آتی چلی جائے گی۔

لبرل ازم اپنے بنیادی فلسفے کے مطابق جنسی جرائم کے حوالے سے بھی اس نکتہ نظر کی ترویج کرتا آرہا کہ جنسی آزادی ہی جنسی جرائم کا سدباب کرے گی کیونکہ ماحول سے ملنے والے جنسی ضابطوں کا جبر ہی انسان کو جنسی جرائم کی طرف مائل کرتا ہے۔ اگر یہ جبر نہیں ہوگا تو یہ جرائم بھی نہیں ہوں گے۔

مغرب اور مغرب سے متاثر ہوکر مشرق کے کئی ممالک (مثلاً بھارت) نے یہ اصول لاگو کیا اور مکمل جنسی آزادی فراہم کی۔ انیسویں صدی مغرب میں جنسی ضابطوں اور پابندیوں کی آخری صدی تھی۔ وکٹورین عہد کے خاتمے کے ساتھ ہی مغرب پوری طرح جنسی آزادی کی ڈگر پر چل نکلا۔ دو عظیم جنگوں میں صنفی کرداروں میں تبدیلی، ان جنگوں کے بعد فیمینزم کی دوسری اور تیسری لہر، ساٹھ کی دہائی کے آخر کی ثقافتی و سماجی تحریکوں اور افزائش نسل روکنے کی گولی اور دیگر طریقوں، اسقاطِ حمل اور ہم جنس پرستی کو قانونی حیثئیت ملنے اور پورنو گرافی کے صنعت بننے جیسے عوامل کی بدولت جنسی کنٹرول کا مکمل خاتمہ ہوگیا۔

اس تجربے کو اب ساٹھ سے ایک سو بیس سال ہونے کو آئے ہیں۔ بیسویں صدی کی ابتداء میں ہی مغرب نے جنسی ضابطوں کو ذہنی طور پر ترک کرنا شروع کردیا تھا۔ کم از کم ساٹھ کی دہائی کے اختتتام اور ستر کی دہائی کے آغاز سے مغرب میں عملاً مکمل جنسی آزادی میسر ہے۔ برطانیہ ہم جنس پرستی کو قانونی شکل ملنا، امریکہ میں ابارشن سے متعلق سپریم کورٹ کا فیصلہ، بچے کی تخلیق روکنے والی گولی کا مارکیٹ میں آنا، فیمینزم میں جنسی آزادی کا نعرہ شامل ہونا، پورنوگرافی کا انڈسٹری بننا، قدامت پسندی کے خلاف “نوجوانوں کی ترقی پسند تحریکیں“۔۔۔ یہ سب ساٹھ اور ستر کی دہائی میں ہوا۔

گویا لبرل ازم کا جنسی جرائم کے حوالے سے دعویٰ ساٹھ سال سے تجربے میں ہے۔ لیکن اس تجربے کے جو نتائج وہاں سامنے آئے ہیں، ان سے اس دعوے کی تصدیق نہیں بلکہ تردید ہوئی ہے۔ مغرب اور مغرب سے متاثر ہوکر اس کا یہ ماڈل اپنانے والے ممالک میں گزشتہ چھ سے بارہ دہائیوں میں جنسی جرائم کم ہونے کی بجائے بہت زیادہ بڑھے ہیں۔

ایسے جرائم کی شرح وہاں ان ممالک سے کہیں زیادہ ہے جہاں یہ آزادیاں دستیاب نہیں۔ بہت سے لوگوں کا کہنا ہے کہ مغرب میں یہ مقدمات رپورٹ زیادہ ہوتے ہیں جبکہ جنسی کنٹرول والے معاشروں میں رپورٹ نہیں ہوتے۔ یہ محض ایک مفروضہ ہے۔ مغرب میں اس حوالے سے ہونے والی تمام سٹڈیز سے بھی یہ بات واضح ہے کہ وہاں بھی اکثر ایسے جرائم رپورٹ نہیں ہوتے۔ مشرق ہو یا مغرب، پولیس سٹیشنز اور عدالتوں میں خجل ہونا، اعصاب شکن قانونی جنگ لڑنا اور انصاف کے لیے انتظار کرنا ہر انسان کے بس کا روگ نہیں ہوتا۔ اور بالفرض مان بھی لیا جائے کہ روایتی معاشروں میں رپورٹ نہ ہونے والے کیسز کی شرح جنسی آزادی والے معاشروں (جن میں بھارت جیسے کمزور نظام انصاف کے ملک بھی شامل ہیں) میں رپورٹ نہ ہونے والے کیسز سے بہت زیادہ ہے، تو بھی اعداد و شمار کے مطابق مغرب اور مغربی ماڈل پر چلنے والے معاشروں (مثلاً بھارت) کے رپورٹڈ کیس ہی اتنے زیادہ ہیں کہ اپنے آپ میں لبرل ازم کے اس حوالے سے دعوے کی تردید بہرحال ہوجاتی ہے۔

خود ہمارے معاشرے میں ایسے جرائم کے بڑھنے کی رفتار اور جدید مغربی سماجی اثرات مرتب ہونے کی رفتار میں تناسب صاف نظر آتا ہے۔ ایسا نہیں ہے کہ پہلے یہ جرائم نہیں ہوتے تھے، بے شک مرد کے اندر کا درندہ ہمیشہ سے موجود ہے اور گزشتہ زمانوں میں ان واقعات کے رپورٹ ہونے کی شرح بھی آج کی نسبت کم تھی۔ لیکن اس کے باوجود ہر کوئی یہ بات محسوس کرسکتا ہے کہ جیسا جنسی وحشی پن گذشتہ کچھ دہائیوں میں دیکھنے میں آیا ہے (وہ دہائیاں جن میں ہمارے ہاں بھی جنسی آزادی نسبتاً بڑھی ہے، کم نہیں ہوئی)، ویسا پہلے کبھی نہیں تھا۔

زیادہ دور نہ جائیں، اسّی اور نوے کی دہائی تک ریپ یا بچوں کے ساتھ زیادتی کی خبر کبھی کبھار ہی آتی تھی۔ اور یہ صرف رپورنٹنگ کا معاملہ نہ تھا۔ واقعتاً بھی یہ جرائم کہیں کم تھے۔ بھی یہ یہی وجہ تھی کہ خواتین بازاروں میں اور بچے گلی محلے میں ایسی اعتماد اور آزادی کے ساتھ گھومتے پھرتے، کھاتے پیتے، کھیلتے نظر آتے تھے۔ اب اس آزادی اور اعتماد کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا۔

پھر گذشتہ بیس سال میں ایسے کیا امتیازی عوامل ہیں جن کے سبب یہ جنسی وحشی پن اچانک کھڑا ہوگیا۔ انٹرنیٹ پورنوگرافی کی عام دستیابی، غیر ملکی فلموں/ ڈراموں/ میوزک ویڈیوز کے گھر گھر پہنچنے، خود ہمارے تھیٹر میں مجرا کلچر آنے اور مشرف کی “روشن خیالی” کے علاوہ گزشتہ بیس سال میں کوئی ایسی چیز نظر نہیں آتی جو اس جنسی پاگل کی وضاحت کرسکے۔

اس حوالے سے جنسی تعلیم کا نظریہ بھی پیش کیا جاتا ہے کہ جنسی تعلیم دینے سے جنسی جرائم کم یا ختم ہوجائیں گے، جیسے جرائم کرنے والوں کو پتہ ہی نہ ہو کہ وہ جرم کررہے ہیں۔ یا ہمیں صدیوں سے تعلیم نہ دی جارہی ہو کہ ہمیں جھوٹ نہیں بولنا چاہیے یا گالی نہیں دینی چاہیے یا انسان نے ماحولیاتی خطرات سے متعلق اعلی درجے کے علم اور تحقیق کی روشنی میں ماحولیاتی تباہی روکنے کے لیے ضروری اقدامات کرلیے ہوں۔

حاصل کلام یہ کہ عملی تجربے کے میدان میں آکر یہ دعوی بری طرح طرح پٹ گیا ہے کہ جنسی ضابطے ختم کردینے سے جنسی جرائم ختم ہوجائیں گے۔

اسلام کے مطابق بھی ہر بچہ فطرتِ اسلام پر پیدا ہوتا ہے یعنی انسان بنیادی طور پر نیک ہی ہوتا ہے۔ اس لحاظ سے اسلام اور لبرل فکر بنیادی بات پر متفق ہیں۔ لیکن لبرل ازم کی اس بات سے آگے بڑھ کر اسلام یہ بات بھی تسلیم کرتا ہے کہ ماحول کے جبر کے علاقہ نفس اور شیطانی وسوسوں کی صورت شر کے دیگر عامل بھی کارفرما ہوتے ہیں اور انسان کی فطری نیکی پر غالب آنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ان ہی عوامل کی وجہ سے تو ماحول میں جبر بھی پیدا ہوا ورنہ اگر انسان نیک ہی ہوتا تو ماحول میں جبر ہی کیسے پیدا ہوتا۔

اسلام نے جنسی جرائم کا جو حل دینے کی کوشش کی ہے، وہ مسیحیت، ہندو مذہب اور بدھ مت وغیرہ کی نسبت قدرے لبرل ہے لیکن جدید لبرل ازم کے مقابلے میں بہت معتدل ہے۔

مسیحیت، ہندو مذہب، جین مذہب بدھ مذہب میں خواہشات (بشمول جنسی خواہش) کو عمومی طور پر منفی نظر سے دیکھا جاتا رہا ہے۔ ان کی اجازت بھی انہیں ضروری برائیاں سمجھ کر دی گئی۔ یہی وجہ ہے کہ ان مذاہب کے کئی فرقوں کی مذہبی شخصیات (پادری، سادھو، بھکشو وغیرہ) شادی نہیں کرتے، عورت کے لیے طلاق کو بہت بڑا taboo سمجھا جاتا رہا ہے اور مرد کے تعدد ازدواج کی روایت بھی نہیں رہی۔ قرون وسطیٰ میں یورپی معاشرہ اور ہندوستانی معاشرہ مسلم معاشرے پر جنسی و خاندانی معاملات سے متعلق قدرے کھلے ڈُلے رویے کے حوالے سے تنقید کرتا اور اسلام کو شہوانی دین بتاتا تھا (اب تک اس الزام کی بازگشت سننے کو ملتی ہے)۔

ایک شے کو دیر تک دبا کر رکھا جائے اور چھوڑ دیا جائے تو وہ اچھل کر اس مقام سے بہت دور جا گرتی ہے جہاں اسے دبا کر رکھا گیا ہوتا ہے۔ جدید دور آیا اور ان بند معاشروں میں آزادی کی ہوا چلی تو انہیں دوسری انتہاء پر اڑا کر لے گئی۔ جدید مغرب کا جنسی معاملات پر رویہ اسی دوسری انتہاء کا مظہر ہے۔

اسلام نے مسیحیت یا ہندوستانی ادیان کی طرح دنیوی خواہشات (بشمول جنسی خواہش) کو کبھی اپنے آپ میں برا نہیں سمجھا۔ ہاں مگر ان خواہشات کے انسان پر قابو پالینے کو غلط قرار دیا ہے۔ اسلام چاہتا ہے کہ انسان ان سب خواہشات کی سواری ضرور کرے، مگر یہ خواہشات اس پر سوار نہ ہوجائیں۔

یہی وجہ ہے کہ ایک طرف تو ہر خاص و عام کو ازدواج کی نہ صرف اجازت بلکہ ترغیب دی گئی، یہاں تک کہ تعددِ ازدواج کی بھی اجازت دی گئی، نیز طلاق اور خلع کے معاملے میں دیگر مذہب کی نسبت کہیں زیادہ لبرل اور ریلیکس رویہ اپنایا گیا اور ان سے کوئی taboo یا stigma نہیں جوڑا گیا۔

دوسری طرف ازدواج سے باہر جنسی تعلقات سے بھی روکا گیا اور پردے کا نظام متعارف کروایا گیا۔

وزیراعظم کے اس حوالے سے حالیہ بیان پر وہ لبرلز بھی تنقید کررہے ہیں جنہیں پردے کا مطلب بھی معلوم نہیں اور جو یہ سمجھتے ہیں کہ پردہ صرف عورت کرتی ہے۔

پردے کا حکم قرآن مجید میں جہاں پردے کا حکم دیا گیا ہے وہاں پہلے مرد کو پردے (نظریں جھکانے) کا حکم دیا گیا ہے اور پھر عورت کو پردے (جسم چھپانے) کا کہا گیا ہے۔

اس حوالے سے جوابی دلیل یہ پیش کی جاتی ہے کہ باپردہ عورتیں بھی ہراساں ہوتی ہیں، لڑکوں کا بھی ریپ ہوتا ہے، جانوروں کے ساتھ بھی جنسی زیادتی ہوتی ہے، وغیرہ وغیرہ۔ تو پردہ جنسی جرائم کا حل کیسے ہوسکتا ہے؟

یہ اسی طرح کی جاہلانہ بات ہے کہ ماسک پہننے اور احتیاط کرنے والے لوگوں کو بھی کورونا وائرس کا مرض لاحق ہورہا ہے تو احتیاط کرنے کی کیا ضرورت۔ جب کوئی بھی وائرس معاشرے میں پھیل جائے تو ہر کسی کو متاثر کرتا ہے، احتیاط کرنے والوں کو بھی اور بہ کرنے والوں کو بھی۔ وائرس سے نجات معاشرے اجتماعی کوشش سے ہی پاتے ہیں۔

وہ شہوت جو نظروں کے راستے دن رات درجنوں فرسٹریشنز کے شکار لاکھوں ذہنوں اور دلوں میں بھری جارہی ہے، اس نے کہیں تو نکلنا ہوتا ہے۔ جس وحشی کا جہاں بس چلتا ہے، جس کو جہاں محفوظ لگتا ہے، وہ یہ وحشی پن نکالتا۔ کوئی عورت پر، کوئی بچے پر اور کوئی انڈس ڈولفن پر۔ لیکن وحشیانہ شہوت کا یہ وائرس آنکھوں سے ہی جسم میں داخل ہوتا ہے۔ اسی لیے آنکھوں کو پردے کی ٹو فیکٹر پروٹیکشن مہیا کی گئی ہے کہ اوّل تو وحشی بنانے والی شئے دیکھو مت اور اگر کوئی دیکھنا چاہے بھی تو اسے دکھاؤ مت۔

یہاں خود لبرل ازم کا یہ دعویٰ بھی یاد کرنے کی ضرورت ہے کہ انسان بنیادی اور فطری طور پر بُرا نہیں۔ خارجی عوامل ہی اسے برا بناتے ہیں۔ یہ دعویٰ اپنی جگہہ بڑی حد تک ٹھیک ہے۔ لیکن اس کا جو حل پیش مکمل بے لگامی کی صورت پیش کیا گیا ہے، وہ تباہی کا فارمولا ہے۔ خارجی عوامل سے مرتب ہونے والے برے اثرات سے بچنے کا طریقہ بے لگام ہوجانا نہیں بلکہ انفرادی و اجتماعی سطح پر توازن اور سیلف کنٹرول کی ترویج ہی ہے۔ اور یہی اسلام کا میتھڈ ہے۔

یہ بھی پڑھیں: فیمنزم کا جنسی انقلاب : بچائو کی تدابیر ; شائستگی اور پاکیزگی 
(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

1 تبصرہ

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20