سوکن ——- مریم عرفان کا افسانہ

0

مختلف راہداریوں سے گزر کر اس کا کمرہ آتا تھا جہاں ایک لوہے کی پیٹی، ان پر اوپر نیچے رکھے دو صندوق اور اس کی چارپائی بچھی رہتی تھی۔ اسے پلنگ پر سونے کی عادت نہیں تھی اور نہ ہی وہ کبھی ایسے کسی تکلف میں پڑی۔ میں نے کمرے کا دروازہ کھولا اور گھپ اندھیرے میں بلب روشن کیا تو پیلی روشنی میں خالی کمرہ مزید اداس محسوس ہوا۔ اب وہاں کوئی پیٹی، صندوق اور چارپائی نہیں تھی۔ مدت پہلے میں نے اس کمرے میں اپنی ماں کو بند کیا تھا۔

وہ ایک حسین عورت تھی، دبلی پتلی لمبی، مخروطی انگلیوں لیکن ٹیڑھے میڑھے ناخنوں کی مالک۔ ماں کی جوانی میری نظروں میں پھر گئی، اس کا نسوانی حسن اور پاٹ دار آواز مجھے کمرے کے کونوں سے سنائی دینے لگی۔ مجھے لگا جیسے وہ چارپائی کے درمیان میں بیٹھی ٹانگیں نیچے لٹکائے قینچی سے اپنے ناخن کاٹ رہی ہو۔ وہ بڑی سنجیدہ مزاج عورت تھی، جسے لطیفہ سناؤ تو وہ ٹکر ٹکر منہ دیکھتی جیسے پوچھتی ہو ہنسنا کب ہے۔ اس نے کبھی مجھ سے یہ پوچھا ہی نہیں تھا کہ سکول میں سارا دن کیا کیا۔ وہ کبھی دوست بنی ہی نہیں وہ صرف ماں تھی، احساس کرنے والی، ضرورتیں پوری کرنے والی۔ وہ میری برتن دھونے والی آٹو میٹک مشین جیسی تھی جس میں چمچ، کانٹے، پلیٹیں، گلاس اور دیگچے رکھ کر سوئچ آن کر دو۔ مشین گھرررر گھرررر کی آواز نکالتی جائے گی اور برتن دھل کر فارغ۔ مشین اور برتن دونوں پانی اور جھاگ کا کھیل کھیل کر خشک ہو جاتے تھے۔ میرا باپ ایسا نہیں تھا وہ بوڑھے برگد جیسا رہا جس کی لمبی لمبی چھالیں آسمان کی طرف جھولا جھلاتی ہیں۔ ابا مصور تھے، وہ بیڈن روڈ کے باہر فٹ پاتھ کے پاس کرسی سجائے اپنے شاہکار کینوس پر چھاپتے رہتے۔ ان کے اکثر و بیشتر شاگرد صبح کے وقت ان سے فری کلاسز لیتے۔ ان کے اندر کا آرٹسٹ بڑا توانا تھا وہ پیسے کے پجاری نہیں تھے۔ اسی لیے انھوں نے سادہ سی زندگی گزاری اور میری ماں انھیں ایک کلاش آدمی کہتی رہی۔

’’تمہارے ان رنگوں اور تصویروں سے ہمارا کچھ بننے سے تو رہا۔‘‘
’’نیک بخت ! تمہیں کس چیز کی کمی ہے، اچھا کھاتی ہو، پہنتی ہو، اور کیا چاہیے۔‘‘
’’یہ تمہارے باپ دادا کا گھر، ٹوٹی چھتیں، اکھڑے فرش۔ یہ ہے زندگی۔ تمہاری کمائی سے تو اب تک میں نے جی بھر کر روٹی بھی نہیں کھائی۔‘‘

ابا کا ہاتھ کینوس پر چلتے چلتے رک جاتا اور وہ گہرا سا نس لے کر اپنے باریک ہونٹوں پر مسکراہٹ سجا تے ہوئے کہتے: ’’جھلی۔‘‘

وقت گزرتا رہا اور ابا نے اپنا سٹوڈیو بنا لیا، میں اکثر ان کے ساتھ وہاںجاتی تو ان کا چھوٹا تاریک کمرہ بڑے بلبوں سے جگمگا جاتا۔ ابا کے کیمرے کی کھٹاک کی آواز مجھے بھلی لگتی تھی۔ ان کا ملازم کیمرے سے تصویریں بناتا اور وہ دکان سے باہر اپنی روایتی کرسی ڈالے کینوس پر لکیریں کھینچتے رہتے۔ میری ماں کو ایک آرٹسٹ کے برش اور رنگوں سے کوئی سروکار نہیں تھا، ابا جب بھی ان کا پورٹریٹ بنانے کی ضد کرتے وہ جلی کٹی سنا کر اپنی چارپائی پہ پڑ جاتیں۔

ابا کو سینما، تھیٹر اور ہوٹلنگ پسند تھی اور ماں کو کالی پتیلی میں مرغی بھون کر کھانے کا شوق تھا۔ دونوں جب بھی سینما دیکھنے جاتے تو ایک ہی گھنٹے میں واپسی ہو جاتی۔ ماں کا پھولا ہوا منہ اور ابا کی دبی دبی ہنسی دیکھ کر اندازہ ہو جاتا کہ آج پھر فلم انٹرول تک ہی دیکھی گئی ہے۔ وہ ہر ہفتے ماں کے لیے گجرے لاتے جو صبح سنگھار میز پر بے جان پڑے میرے منتظر ہوتے۔ میں بڑے چاؤ سے انھیں اپنی پتلی پتلی کلائیوں میں پہن کر کہنیوں تک اٹکائے رہتی۔ پھر پہلی بار میں نے اپنی ماں کو کمرے میں بند کر کے کنڈی لگا دی۔ میں چاہتی تھی وہ بھی میری سہیلیوں کی ماؤں کی طرح مجھ سے باتیں کرے۔ ’’ماں! یہ جب میں آنکھیں بند کرتی ہوں تو ایک دم بہت سارے لوگ کہاں سے سامنے آ جاتے ہیں۔ بازار اور گلیاں بھی ہوتی ہیں۔ مرد اور عورتیں بھی باتیں کرتے ہیں۔ کیا تمہاری آنکھیں بند کرنے پر بھی آتے ہیں۔‘‘ میں سوال داغتی۔ ’’پتہ نہیں۔‘‘ بس یہ دو روکھے پھیکے سے لفظ میری طرف پھینک دئیے جاتے۔ اس دن میں نے اپنے آرٹسٹ باپ کے سامنے ماں سے بس اتنا ہی کہا تھا کہ کیوں بھئی ! میں کیوں قمیض کے نیچے شمیض پہنوں۔ خود تو پہنتی نہیں۔ پتہ نہیں ماں کے اندر اتنی بہت ساری طاقت کہاں سے بھر گئی کہ اس نے مجھے خوب مارا۔ ’’میری سوکن بننا ای۔‘‘ یہ چار لفظ میری گردن پر چھری بن کر چلے اور میں نے ماں کو کمرے میں ہمیشہ کے لیے بند کر دیا۔

وہ ایک مہینہ مجھ سے ناراض رہی، کھانا بنتا میں چنگیر میں روٹی لے کر بیٹھ جاتی وہ زہر آلود نظروں سے مجھے دیکھتے ہوئے بڑبڑاتی رہتی۔ میں جی ہی جی میں ہنستی کہ جو مرضی کہہ لو میں نے تو تمہیں کمرے میں بند کر رکھا ہے جب دل چاہے گا دروازہ کھولوں گی۔ میری ماں کی طبیعت میں بے چینی بہت تھی، اضطراب، جلد بازی اور پھر اسی حالت میں برے فیصلے کرنے کی تیزی، ہم سب مل کر بھی ختم نہ کر سکے۔ وہ بہت جلدی چیزوں اور لوگوں سے اکتا جاتی تھی، گھر کا سامان بھی کچھ سال بعد بکتا اور پھر نیا آجاتا۔ ماں کو پرانی چیزوں اور باتوں سے جلد ہی نفرت ہونے لگتی تھی وہ زیادہ دیر اپنی توجہ کسی بھی چیز کی جانب کر ہی نہیں سکتی تھی۔ وہ دن بھر ہانپتی کانپتی گھر کے کام سنوارتی بس خود سے باتیں کرنے کی عادی ہو چکی تھی۔ اسے اپنے ارد گرد بہت سارا گند ڈال کر صفائی کرنے کا شوق سا پڑگیا تھا۔ پھر وہ تھک کر اپنی چارپائی پہ ڈھے جاتی اور میں دبے پاؤں ابا کے کینوس پر رنگوں سے لکیریں کھینچنے لگ جاتی۔ اسی دوران اس کے تینوں بیٹے باہر چلے گئے، راہداریوں والا گھر کہیں بہت پیچھے رہ گیا تھا۔ اس میں ابا نے اپنے ہاتھ سے بنی تمام تصویریں سجا کر اسے سٹوڈیو بنا دیا۔ اس کی چابی مجھے وراثت میں ملی اور میں نے ماں کو اس کی کوٹھی سے نکال کر سزا کے طور پہ پرانے گھر کے کمرے میں ڈال دیا۔ وہ مجھے اپنے جیسا بنانا چاہتی تھی لیکن میرے کروموسومز تو ابا پر چلے گئے۔ وہ کینوس پر لکیریں کھینچتے اور میں ہاتھ میں کلر پیلٹ لیے ان سے باتیں کرتی رہتی۔ وہ اوٹ سے مجھے دیکھ کر دانت پیستی تو میرے دل کو سکون ملتا۔ اکثر اکیلے میں وہ مجھے کہتی: ’’سوکنے‘‘۔ مجھے خود پر فخر ہونے لگتا تھا۔

ماں نے اسی جلاپے کی آگ میں مجھے بہت پیسے والے آدمی سے بیاہ کر گھر سے چلتا کیا۔ یہ بہترین انتقام تھا جو اس نے مجھ سے لیا۔ مال دار پیسے والا کنجوس بیوپاری جب رات کو میرے پہلو میں لیٹا لمبے لمبے خراٹے لیتا تو لگتا ماں خوش ہو رہی ہو۔ مجھے کینوس، برش اور رنگ بھول گئے، ارشد بھی میری ماں جیسا تھا۔ اس نے بھی کبھی مجھے سننے کی کوشش نہیں کی۔ اسے بھی چیخنے چلانے کی عادت تھی، جب میں اس کے پاس ہوتی تو لگتا ماں کی طبیعت اس سے بہتر ہے۔ مجھے ماں پر بے اختیار پیار آتا اور جب میں اس کی زبان کے نشتروں کے سامنے کھڑی ہوتی تو لگتا ارشد کی طبیعت اس سے اچھی ہے۔ دونوں میری ہتھیلی پر بچھو بنے بیٹھے رہے۔ ماں کو تو میں نے چوم کر اپنی زبان پر رکھا جبکہ ارشد میرے تالو پر چڑھا رہا وہ گلا پھاڑ کر چیختا اور میں گونگی بن کر اسے گھورے چلی جاتی۔ مجھے تو یہ خواہش ہی رہی کہ وہ میرے لیے گجرے لائے، اپنے ہاتھوں سے پہنائے لیکن اس کی جگہ سونے کے دو موٹے کڑے میری کلائیاں چھیلتے رہتے جو میری ماں نے جاتے سمے اپنی کلائیوں سے اتار کر مجھے پہنائے تھے۔ گویا وہ دور رہ کر بھی میرے ساتھ تھی، میرے گلے میں پڑی رسی سے لٹکتی اس کے کمرے کی چابی ان کڑوں سے باتیں کرتی تھی۔
ماں کے پاس جوانی میں دولت نہیں تھی، میرے پاس تھی لیکن خرخشے نہیں تھے۔ ماں جوں جوں اپنے بڑھاپے کی جانب بڑھتی رہی اس کی زبان اتنی ہی سخت اور مضبوط ہو گئی تھی۔ کبھی تو لگتا تھا کہ میں اس کی موٹی سی زبان کو رسی بنا کر جھول رہی ہوں۔ مجھے جہاں پکی جگہ ملتی چھلانگ مار کر اتر جاتی۔ ایسا بھی نہیں تھا کہ وہ میرے باپ سے ہر وقت لڑتی جھگڑتی رہی ہو بس بوڑھاپے کی سیڑھی پر قدم رکھتے ہی وہ بچی بن گئی تھی۔ سال بھر میںوہ ایک بڑا یدھ لڑ لیتی تھی اور پھر اپنی فتح کا جشن بھی مناتی۔ میں ایک مرتبہ پھر سے اسے یہ کہہ کر چھیڑ دیا کہ قسمت والی بیویوں کو میرے باپ جیسا شوہر ملتا ہے۔ اس سال وہ یدھ مجھ سے لڑا گیا اور میں اس کی خاموش نظروں کے سامنے بھی ’’سوکن‘‘ کا لفظ سنتی رہی۔

پھر بڑی سی کوٹھی ویرانہ بن گئی اور وہ اس میں بولائی بولائی پھرتی، ابا اس کے خوف سے اوپری منزل میں پناہ گزین ہو گئے تھے۔ دونوں ایک دوسرے کو دیکھنے کے روادار نہیں تھے، ابا کے ہاتھ کینوس پر چل چل کر کمزور پڑ چکے تھے وہ اکثر اپنے فن پاروں کو انگلیوں سے سہلاتے اور مجھ سے باتیں کرتے رہتے۔ نچلی منزل میں ماں کا شور بھرا ہوا تھا۔ میں ماں کو چھوڑنا نہیں چاہتی تھی اس لیے اس کی زبان کی خندق کے آگے لیٹنے چلی جاتی۔ اس نے مجھے کبھی گلے نہیں لگایا لیکن بیماری میں مجھے دیکھنے کے بہانے کوسنے سنانے آ جاتی۔ وہ میرے جسم پر اگنے والا پھوڑا بنی رہی جس میں سے اس کے خوف کی پیپ نکل چکی تھی اور میں اس کے ازلی غصے کو کھڑونچوں کی طرح کھودتی رہی۔ اس نے خود کو محدود کر لیا تھا، دوست احباب اور رشتے دار سب اسے چھوڑ گئے تھے۔ اسے ارشد بھی برا لگنے لگا تھا وہ اسے میرے سامنے بد دعائیں دیتی تو میں آمین کہہ کر اس کا غصہ کم کر دیتی۔ وہ ہانپتی کانپتی ٹھیک ہو جاتی اور واپسی پر میرے ہاتھ میں ارشد کے لیے خصوصی طور پر بنا ہوا گاجر کے حلوے کا ٹفن ہوتا۔ میری ماں کی جمالیات اس کے بیٹوں تک محدود تھی اس کی نظر میں مجھے گہن لگ چکا تھا۔ جب بھی کوئی قسمت کا مارا ماں کے سامنے میری تعریف میں کہتاکہ واہ ! ستارہ تو تم پہ گئی ہے۔ ماں کا غصے سے برا حال ہو جاتا، وہ فوراً اپنی مخروطی انگلیوں سے میرے ہاتھ ناپتے ہوئے کہتی: ’’چھوٹے چھوٹے ہتھاں تے گٹھے گٹھے پیراں والی۔‘‘
’’اونٹھاں وچوں پیڈھ (بھیڑ) پہچانن والے خوش کردے نے تینوں۔‘‘

مجھے ماں کے گورے گورے ہاتھوں پہ پیار آنے لگتا اور واقعی وہ صحیح کہتی تھی میرے ہاتھ پاؤں اور رنگ روپ اس پر تھا ہی نہیں۔ میں اکیلے مکان میں اس کے بالوں میں کنگھی پھیرنے جاتی تو وہ بڑے میکانکی انداز میں پراندہ میرے ہاتھ میں تھما دیتی۔ ’’مڈھ توں ہلکے ہتھ نال گُت کر، تے فیر کس کے پراندہ پا دے۔‘‘ اسے اتنی ہی تیزی پسند تھی، وہ گرم گرم چائے کی پیالی کو بھی ہونٹوں سے لگا لیتی تھی۔ میں نے جس دن اس کے پاؤں کی مالش کرنے کے لیے ان پر ہاتھ پھیرا تو اندازہ ہوا کہ شیشے جیسے پیر جھانوے کی طرح سخت اور کھردرے ہو چکے ہیں۔ پھٹی ہوئی ایڑھیاں میل سے چیکٹ تھیں، میں انھیں پیار سے سہلاتی رہی۔ اس نے پاؤں کھینچ کر مجھے خدمت کرنے سے روک دیا۔ یکدم اسے پتہ نہیں کیا ہو جاتا تھا کبھی وہ خدا سے گلے کرنے بیٹھ جاتی تو پھر فوراً مصلیٰ بچھا کر معافیاں مانگ کر اور خدا کو منا کر ہی اٹھتی۔ ابا سے اس کی نوک جھونک چلتی رہتی تھی لیکن ان کے اندر کا آرٹسٹ ہنس کر ٹال دیتا۔ وہ پھر زچ کرنے لگتی تو ابا گھر خالی کر دیتے۔ دونوں کے درمیان یہ کشیدگی ختم نہ ہو سکی، وہ ماں کو راضی کرتے کرتے تھک گئے تھے اور وہ ناراض سٹیچو کی طرح ان کے سامنے منہ پھلائے بیٹھی رہتی۔ سارا پورٹریٹ خراب ہو چکا تھا، اس آخری تصویر میں ماں کے ہاتھ کہیں تھے اور منہ کہیں۔ چہرے کی سختی، آنکھوں کی اینٹھن اور کمر پر ہاتھ رکھے ماں کی یہ تصویر آج بھی اس کمرے میں لگی ہے۔ ’’سوکنے‘‘۔ پیلی روشنی والے کمرے سے اک تیز آواز نے مجھے چونکا دیا اور میں نے جلدی سے دروازہ بند کر کے چٹخنی لگا دی۔ میں نے اس ویرانے میں اپنی ماں کو آج بھی بند کر رکھا ہے۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20