فیمنزم کا جنسی انقلاب : بچائو کی تدابیر ‘شائستگی اور پاکیزگی’ —- وحید مراد

0

جنسی انقلاب (Sex Revolution):

جنسی انقلاب سے مراد جنسی آزادی کی وہ تحریک ہے جس نے 1960 سے 1980 کے دوران امریکہ میں فیمنزم کے زیر سایہ روایتی جنسی تعلقات کے اصولوں، رویوں، اخلاقی ضابطوں اور قوانین کو چیلنج کیا۔ اس سے قبل امریکی معاشرے میں شادی اور نکاح کے علاوہ قانونی اور اخلاقی طور پر قابل قبول جنسی تعلقات کا کوئی اور طریقہ موجود نہیں تھا۔ جنسی انقلاب کے ذریعے یہ تعلقات تمام حدود سے باہر نکل گئے۔ جنسی انقلاب نے غیر روایتی جنسی تعلقات کو قانونی شکل دینے کی وکالت کرتے ہوئے مانع حمل ادویات، اسقاط حمل، عوامی عریانی (Public nudity)، فحش نگاری (Pornography)، ہم جنس پرستی، شادی سے قبل جنسی تعلق، خودلذتی، مشت زنی، جنسی آلات کا استعمال، جنسی نوعیت کے کھیل (BDSM) اور دیگر متبادل شکلوں کو بھی فروغ دیا۔ نسائی تحریک اور اسکی آئیڈیالوجی کے علاوہ جنسی انقلاب کے محرکات میں ادبیات، فحش لٹریچر، پلے بوائز طرز کے میگزینز، پورنوگرافی، تھیٹر، فلموں، میڈیا اور ماہرین نفسیات و سماجیات نے بھی اہم کردار ادا کیا۔

وہ فیمنسٹ اسکالر جو جنسی انقلاب کے بعد رواج پانے والی پورنوگرافی کی حمایت کرتے ہوئے اسے وومن ایمپاورمنٹ کیلئے استعمال کرنے کی وکالت کرتے ہیں ان میں وینڈی میکلوری (Wendy McElroy)، ایلن ولیز (Ellen Willis)، سوزی برائٹ (Susie Bright)، رونلڈ ڈوورکن (Ronald Dworkin) سوزن برائونملر (Brownmiller)، جینیٹ گورنک (Janet Gornick) اور دیگر شامل ہیں۔ مردوں کی طرح عورتوں کا الگ قسم کی پورنوگرافی سے لطف اندو ز ہونے کا خیال سب سے پہلے سوزی برائیٹ نے 1980 میں پیش کیا اور پھر کئی اسکالر نے اسے آگے بڑھایا۔ فیمنسٹ ماہر بیٹی ڈوڈسن (Betty Dodson) نےجنسی آلات اور ٹوائیز کے ذریعے خود لذتی اور جنسی آسودگی کی تکنیکس متعارف کروائیں۔ اس نے ان تکنیکس پر خود عمل کیا اور ہزاروں خواتین کو انکے استعمال کی تعلیم و تربیت بھی دی۔ وہ اس عمل میں استعمال ہونے والے وائبریٹرز اور دیگر آلات مہیا کرتی رہی اور یہ تکنیکس بٹی ڈوڈسن کے نام سے ہی مشہور ہیں۔

نسائی تحریک نےیہ جنسی انقلاب اس لئے برپا کیا کہ انسانی جسم، دماغ، وجود اور جنسی جذبا ت کو اخلاقی و قانونی حدود و قیود سے آزاد کرایا جائے۔ یہ جنسی انقلاب اس یقین کے ساتھ آگے بڑھا کہ زندگی کی دیگر تعشیات کی طرح شہوت انگیزی (erotic) سے بھی معمول کی طرح لطف اندوز ہوا جائے اور اس عمل میں خاندان، روایات، اخلاقیات، قوائد و ضوابط، مذہب اور ریاست کی کوئی مداخلت نہیں ہونی چاہیے۔ چنانچہ غیر شادی شدہ بالغ افراد کے جنسی تعلق (sexual encounter) میں اضافہ ہوا، طلاق کی شرح حیرت انگیز حد تک بڑھی اور شادی و خاندان کے ادارے کی جگہ آزاد جنسی تعلقات (Open relations)، جنسی سودے بازی (mate swapping)، جنسی تبادلہ (Swinging) اور کمیونل سیکس (communal sex) کو فروغ دیا گیا۔

پچھلے کچھ عشروں سے امریکہ میں شادی سے پہلے جنسی تعلقات کو وسیع پیمانے پر قبول کیا جاچکا ہے۔ مانع حمل اور اسقاط حمل کے ذرائع کی عام دستیابی سے اب اس خوف کے امکانات بہت کم ہوگئے ہیں کہ شادی سے پہلے جنسی تعلقات غیر مطلوبہ بچوں کا باعث بنتے ہیں۔ 1970 کی دہائی کے وسط تک امریکہ کے شادی شدہ جوڑوں کی اکثریت شادی سے پہلے ہی جنسی تجربات کر چکی تھی اور 75 فیصد لوگوں کا خیال تھا کہ شادی سے پہلے جنسی تعلقات قابل قبول ہیں۔ پرسکون جنسی تعلقات کی ترقی اور جنسی طور پر منتقل ہونے والی بیماریوں کے آسان علاج نے امریکہ میں شادی کے خیال کو فرسودہ بنادیا۔ سونگر کلبز (Swingers Clubs) نے ہر جگہ ایسے غیر رسمی گھر بنا دئے جہاں متعدد شراکت داروں کے ساتھ ہر طرح کے جنسی امکانات سے مستفید ہونے کے مواقع فراہم کئے جاتے ہیں۔

فیمنسٹ نظریہ سازوں نے جنسیت (Sexuality)کی نئی تعریف پیش کی جس کے مطابق مردوں کی جنسی خواہش کی تسکین کے متوازی عورتوں کی تسکین کو بھی نظریاتی طور پر قبول کرنے پر زور دیا گیا۔ 1970 میں فیمنسٹ اسکالر اینی کوڈٹ (Anne Koedit) کی کتاب ‘The Myth of the Vaginal Orgasm’ شائع ہوئی جس میں فرائیڈ کی تھیوری کو مسترد کرتے ہوئے دعویٰ کیا گیاکہ مرد کی طرح عورت کو بھی انزال (Clitoral Orgasm) ہوتا ہے۔ لہذا مرد کی طرح اسے نسوانی جنسی لذت و تسکین کا الگ فعال ذریعہ بھی سمجھا جانا چاہیے۔ فرائیڈ کا استدلال تھا کہ اس معاملے میں عورت کا الگ فعال کردار نہیں ہوتا بلکہ مرد کے ساتھ ایک ذیلی، ضمنی اور انحصار کرنے والا رول ہوتا ہے۔ چنانچہ ان خیالات کی بنیاد پر فیمنسٹ نظریہ سازوں نے ہم جنس پرستی کا فیمنزم، مردوں پر انحصارنہ کرنے کا فیمنزم اور تولید و تناسل سے آزادی کا فیمنزم تخلیق کیا اور ان تمام معاشرتی اور اخلاقی حدود کو توڑ دیا جن کی وجہ سے ان موضوعات پر بات چیت کرنے کو بے حیائی اور بے شرمی خیال کیا جاتا تھا۔

فیمنسٹ ماہرین ایک طرف مرووں پر الزام عائد کرتے ہیں کہ وہ عورت کو صرف جنس کی نظر سے دیکھتے ہیں اور یہ عمل خلاف انسانیت ہے۔ دوسری طرف بہت سے فیمنسٹ ماہرین اس بات کے حامی ہیں کہ عورت خودمختاری اور ایمپاورمنٹ کے حصول کی خاطر اپنے آپ کوجنسی معروض (Sexual Objectification) کے طورپر پیش کرسکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بہت سے فیمنسٹ ماہرین عورتوں کو آرٹ، میڈیا، اشتہاری صنعت، پورنوگرافی اور جسم فروشی کے پیشوں میں شریک ہونے کی ترغیب دیتے ہیں۔ یہ بات صرف یہیں تک محدود نہیں بلکہ اب عورتوں کو اس بات بھی ترغیب دی جاتی ہے کہ وہ مردوں کو جنسی معروض کے طورپر دیکھیں۔ اب اشتہارات، میوزک ویڈیوز، فلم، ٹی وی، میگزینز، اسٹرپ شوز، نیوڈ ایونٹس اور پورنوگرافی میں عورتوں کی طرف سے مردوں کو جنسی معروض کے طورپر دیکھتے ہوئے لطف اندوز ہوا جاتا ہے۔

صنفی تحریک کے ایجنڈے کا توڑ:

صنفی تحریک نے جس ایجنڈے پر عمل کرتے ہوئے امریکہ اور یورپ میں جنسی انقلاب برپا کیا اسی ایجنڈے کو وہ پوری دنیا پر مسلط کرنا چاہتی ہے۔ اس مشن کو آگے بڑھانے کیلئے وہ نہ صرف ہر سال عورت مارچ اور اس طرح کی کئی تقاریب دنیا بھر کے ممالک میں منعقد کرواتی ہے بلکہ وقتاََ فوقتاََ مختلف قسم کے احتجاجات، ریلیوں اور جلسے جلوس کیلئے ہر طرح کی امداد بھی فراہم کرتی ہے۔ امریکی جنسی انقلاب کے بعد پورنو گرافی، فری لو (Free Love)، ہم جنس پرستی، لزبئین ازم، پاپولر کلچر، پیئر کلچر (Peer Culture), ہک اپ کلچر (Hookup Culture)، شہوانی کلچر (Ranch Culture) مقبول ہوئے اور پھر یورپ، ایشیاء اور افریقہ کے کئی ممالک میں صنفی تحریک و حقوق نسواں کی چھتری کے نیچے فروغ پائے۔ جہاں جہاں یہ کلچر پہنچے وہاں کے مذاہب، تہذیبی روایات اور اخلاقی اصول تباہ و برباد ہو گئے۔

اب اس صنفی تحریک کی سرتوڑ کوشش ہے کہ اسلامی تہذیب و اخلاق کو برباد کرنے کیلئے مسلم دنیا میں نقب زنی اور دراندازی کی جائے۔ مسلم دنیا میں پائے جانے والے کئی جدیدیت پسند اسکالر، لبرل و سیکولر حلقے، بدعنوان سیاسی اشرافیہ و بیوروکریسی، مغرب سے مرعوب نوجوان اذہان اور خواجہ سرائوں کا روپ دھارنے والے ماڈرن افراد اس صنفی تحریک کیلئے سفارت کاری اورسہولت کاری کے فرائض سرانجا م دے رہے ہیں۔ اسکول، کالج و یونیورسٹی کے نصاب اور ماحول میں ایسے عناصر شامل کئے جا چکے ہیں جو نوجوان طالب علموں کو جنسی انقلاب کا راستہ دکھا رہے ہیں۔ روایتی تہذیبی و مذہبی اداروں مثلاً مسجد، مدرسہ، خانقاہ، خاندان اور گھرکی طرف سے بھی نوجوان نسل کی اخلاقی تربیت کرنے میں غفلت برتی جا رہی ہے اور اسکے نتیجے میں صنفی تحریک کے جنسی انقلاب کا ایجنڈا تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے۔ اسکا راستہ روکنے کیلئے اسکے علاوہ کوئی چارہ کار نہیں کہ ہم اپنے اخلاق درست کرنے کے ساتھ ساتھ بچوں کی اخلاقی تربیت کریں۔

مغربی ممالک جہاں کی اکثریتی آبادی جنسی اخلاقیات، قواعد و ضوابط اورحدود و قیود کو ترک کر چکی ہےوہاں جو لوگ اس اخلاق باختگی کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے وہ اپنی قوم کو صنفی تحریک کے عزائم اورانکی ایماء پر ہونے والی قانون سازی کے منفی نتائج سے آگاہ کررہے ہیں۔ وہ خود پاکدامنی اور شائستگی کو اپنا کر نوجوان نسل کی تعلیم و تربیت اسی انداز سے کرنےکیلئے کوشاں ہیں۔ ایسے دردمند دل رکھنے والے لوگوں میں پاکیزہ کردار اورشائستہ سوچ رکھنے والی نوجوان خاتون اسکالر وینڈی شالٹ (Wendy Shalit) بھی شامل ہے۔ وینڈی شالٹ صنفی تحریک کے جنسی ایجنڈے کو صرف بے نقاب ہی نہیں کرتی بلکہ اسکا ایک متبادل حل بھی پیش کرتی ہے۔ یہ حل روایتی اخلاقی اصولوں کی طرف لوٹنے کا نام ہے۔ مشرقی تہذیبوں میں ان روایتی اصول پر عمل درآمد کا سلسلہ نہ کبھی رکا اور نہ تعطل کا شکار ہوا لیکن کچھ عرصے سے  یہ  ضعف کا شکار ضرور ہورہا ہے۔ تھوڑی سی توجہ دے کر ان اصولوں پر عمل درآمد کو پہلے کی طرح مضبوط بنایا جا سکتا ہے۔

وینڈی شالٹ: جنسی آلودگی کے سامنے مضبوط دیوار:

1999 میں وینڈی شالٹ کی کتاب ‘A Return to Modesty: Discovering the Lost Virtue’ جب پہلی بار شائع ہوئی تو امریکہ کے بے شمار لوگوں نے اسے خطوط لکھ کر اپنی حمایت کا یقین دلایا۔ بہت سی خواتین نے اس بات پر زور دیا کہ وہ فیمنزم کے جنسی ایجنڈے کے خلاف تحریک چلائے۔ وینڈی شالٹ نے شروع میں ایک آن لائن فورم کا آغاز کیا جس پر اسکے موقف کے حامی رابطہ کرتے تھے۔ اب وینڈی شالٹ اور اسکے حامی بلاگرز مختلف فورمز پر مقالات، مضامین اور بلاگز وغیرہ لکھ کر نوجوان نسل کی تعلیم و تربیت کرتے ہیں۔

وینڈی شالٹ اپنی کتاب کا تعارف کراتے ہوئے لکھتی ہیں کہ پچھلی دو دہائیوں سے پرنٹ، الیکٹرانک اور سوشل میڈیا پر فحاشی کا سیلاب امڈ آیا ہے۔ میری یہ کتاب ایک طرح سے اس بے رحم سیلاب کی تباہ کاریوں سے غافل لوگوں کو آگاہ کرنے کیلئے ایک زور دار چیخ اور شور مچانے کی آواز ہے۔ اس بپھرے ہوئے عفریت کے سامنے بند باندھنے کا اسکے علاوہ کوئی طریقہ نہیں کہ ہم خودپاکیزگی، پاکدامنی اور شائستگی کو اپنائیں اور اپنے اردگرد کے لوگوں کو اسکی تعلیم و تربیت دیں۔ اس عمل کو وہ پاکیزگی کی طرف مراجعت (return to modesty) کے سفر سے تعبیر کرتی ہے۔

اس کے خیال میں جنسی آلودگی کے جس ماحول میں ہم زندہ ہیں اس میں شائستگی اور پاکدامنی کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے۔ والدین کی اکثریت یہ نہیں چاہتی کہ ان کی نوعمر بیٹیوں کے اردگرد ہر وقت برہنہ تصاویر اور ویڈیوز پھیلی رہیں اور وہ ان سے متاثر ہو کر جنسی بے راہ روی کا شکار ہوں۔ لیکن دوسری طرف وہ انکی پرائیویٹ لائف اور جنسیت میں مداخلت بھی نہیں کرنا چاہتے اس لئے اکثر اوقات ان لڑکیوں کو مناسب رہنمائی نہیں ملتی۔ اگر سب لوگ ان مسائل کے حل کیلئے پاکدامنی کی طرف مراجعت کا سوچیں تو نوجوان نسل کو بہت مدد مل سکتی ہے۔ جب تک ہمارے ذہن میں پاکدامنی کا متبادل نظریہ نہیں ہوگا میڈیا کی پھیلائی ہوئی جنسیت کا مقابلہ نہیں کیا جا سکتا۔ آج کے دور میں کوئی شخص بھی پارسا کہلوانا نہیں چاہتا اس لئے لوگوں کو پہلے اس بات کا قائل کرنا پڑتا ہے کہ وہ شائستگی کو اپنائیں۔ یہ پہلا مرحلہ طے ہونے کے بعد پاکیزگی اور پاکدامنی کے دوسرے مرحلے کا سفر آسان ہوجاتا ہے۔ ایک بار آپ غلاظت سے ترک تعلق کا اعلان کرتے ہوئے مصمم ارادے کے ساتھ شائستگی کا بنیادی اصول اپنا لیں تو اگلی منازل طے کرنے میں دیر نہیں لگتی۔ جنسی انقلاب کو رد کرنے کا اسکے علاوہ کوئی طریقہ نہیں کہ ہم روایتی اخلاقیات کے معیارات کی طرف واپس لوٹیں۔

شالٹ کے خیال میں جب سے جنسی آزادی عام ہوئی ہے مغربی دنیا میں نہ صرف شائستگی کا وجودختم ہوگیا بلکہ اسکا احساس تک باقی نہیں بچا۔ ہر وہ چیز جو عورت کو یہ سکھاتی ہے کہ آپ جو چاہیں کر گزریں ‘نو بگ ڈیل!’ وہ دراصل اسکی نسوانیت اور شائستگی پر حملہ آور ہے۔ ایک وقت تھا کہ امریکہ اعلیٰ ازدواجی اخلاقی خوبیوں کا حامل معاشرہ تھا لیکن آج وہی امریکہ ایسی جگہ ہے جہاں جنسی شائستگی کو اعصابی بیماری، نفسیاتی عارضہ، کینہ پروری، بدنما معاشرتی داغ، غیر صحت مندانہ جنون میں مبتلا بیمار ذہنیت کا حامل فرد سمجھا جاتا ہے۔ پاکدامن کنواری لڑکیوں کو طعنہ دیا جاتا ہے کہ تمہیں اس شرافت کے ساتھ کونسا مرد قبول کرے گا؟

مردوں کو سکھایا جاتا ہے کہ وہ ہر خاتون کو بغیر معاوضے کے جسم فروشی کرنے والی آوارہ عورت سمجھیں۔ آج کے اسکول و کالج کے کلاس روم نوجوان لڑکوں اور لڑکیوں کو یہ تربیت دیتے ہیں کہ وہ اپنی ہر جنسی سرگرمی کے بارے میں کھل کر اظہار کریں اور اپنے ہر پرائیویٹ معاملے کو پبلک کریں۔ جب نوعمر خواتین کو یہ ترغیب دی جائے گی کہ وہ جنسی معاملات میں لاپرواہی کا مظاہرہ کریں تو انکا اخلاقی حفاظتی حصار کمزور سے کمزور تر ہوتا چلا جائے گا۔ لڑکیاں جب لڑکوں کی ہر غیر معقول خواہش کے جواب میں مصنوعی حسن سلوک کا مظاہرہ کرتے ہوئے خوش کرتی ہیں تو یہ شائستگی کی قیمت پر ہونے والی پہلی سودے بازی ہوتی ہے۔

معصوم اذہان کو جنسی آلودگی سے کیسے بچایا جائے؟

شارلٹ اس کتاب میں اپنے ذاتی تجربات بیان کرتے ہوئے بتاتی ہے کہ جنسی بے راہ روی کے خلاف اسکی جدوجہد اس وقت شروع ہوئی جب وہ چوتھی جماعت میں پڑھتی تھی اور اس نے اپنے آپ کو اسکول میں دی جانے والی سیکس ایجوکیش سے الگ کر لیا تھا۔ لائبریری کے اندر جب سیکس پر مبنی اسباق چل رہے ہوتے، وہ کسی بہانے سے باہر چلی جاتی اور پھر سبق ختم ہونے تک لائبری کے باہر بیٹھ کرانتظار کرتی۔ اس نے اپنی ماں کو ایک اسکول ٹیچر کے بارے میں پہلی شکایت اس وقت کی جب وہ پانچویں جماعت کی طالب علم تھی۔ یہ شکایت اس ٹیچر کے خلاف تھی جس نے کلاس کے اندر ایک ڈبہ کھول کر تمام طالب علموں کو کنڈوم پر لیکچر دیا اور پھر آفر کی تھی کہ جو چاہے اس میں سے اپنے استعمال کیلئے کچھ پیسز لے لے۔ اس سسٹم سے اسکی نفرت اس وقت بڑھی جب ہائی اسکول کے ایک مباحثےکے دوران ایک کونسلر نے اس سے فحش باتیں کرتے ہوئے اسکے بال کھینچے تھے۔ بعد ازاں اس نفرت میں شدت اس وقت آئی جب اسکی کالج کی سہیلیاں اسے طعنے دیتیں کہ وہ اپنے جسم اور اعضاء کی غیر ضروری حفاظت کیلئے کیوں پریشان ہے؟ اسکی کلاس کے لڑکے اس پر جملے کستے کہ اگر تمہاری ایسی ہی پاکیزگی والی حرکتیں جاری رہیں تو کالج ‘ہینگ اپ’ میں کس کے ساتھ سوئوں گی؟ کون پاگل لڑکا ہوگا جو تمہیں اپنے ساتھ سلانے کو تیار ہوگا؟

شالٹ اللہ کا شکر ادا کرتے ہوئے کہتی ہے کہ اس نے اسکول، کالج اوریونیورسٹی لائف کے دوران لڑکوں اور لڑکیوں کے طعنے تو سنے لیکن ہمیشہ اپنی عصمت، عفت اور عزت بچا کر رکھی اوریہی وہ عمل ہے جس نے اس میں مزید شائستگی اور خوداعتمادی کو تقویت بخشی۔ پھر وہ خود ہی سوال اٹھاتی ہے کہ آج کے دور میں امریکہ میں ایسی کتنی لڑکیاں ہیں جو اس طرح اپنی عزت کی حفاظت کرتی ہونگی؟ اسکے جواب میں وہ کہتی ہے کہ اب جو نسل جوان ہو رہی ہے یہ اپنے ساتھیوں کے طعنوں سے خوفزدہ ہے، اپنے آپ سے ناخوش ہے، یہ سب جنس سے مغلوب نوجوان لڑکے اور لڑکیاں ہیں، یہ ایک منٹ میں جنسی آفر کے سامنے ڈھیر ہوجاتے ہیں۔ لڑکیاں بھی مردوں کی طرح جنس کی رسیا ہیں اور جنسی جارحیت کا مظاہرہ کرتی ہیں اور سونے پر سہاگہ یہ کہ نسائی تحریک اس عمل کی ترغیب دیتے ہوئے اسے وومن ایمپاورمنٹ کا نام دیتی ہے۔

وہ اپنی سہیلیوں کا ذکر کرتے ہوئے بتاتی ہے کہ وہ جب بھی اس سے ملتی ہیں ملاقات کے نصف اول میں یہ گفتگو فرماتی ہیں کہ ہر روز وہ کن نئے لڑکوں کے ساتھ سوتی ہیں اور نصف آخر میں یہ بتاتی ہیں کہ ان میں سے کون لڑکا دل میں زیادہ کھبنےوالا اور دل چرانے والا (heartbroken) ہے۔ وہ کہتی ہے کہ ان کی باتیں سن کر مجھے حیرت ہوتی ہے کہ انکی زندگی میں ‘آوارگی’ کے علاوہ کسی چیز کی کوئی اہمیت نہیں۔

شالٹ جس چیز پر سب سے زیادہ تنقید کرتی ہے وہ صنفی تحریک کا ثقافتی، نظریاتی اور فلسفیانہ تال میل ہے جو نوعمر خواتین کو یہ باور کراتا ہے کہ انہیں صرف خواہش، رضامندی، انتخاب اوراختیار کے تحفظ کی ضرورت ہے۔ بے ضابطہ جنسی سرگرمیوں کے نتیجے میں پیدا ہونے والے جذباتی، نفسیاتی، روحانی اور جسمانی بحران پر توجہ دینے کی ضرورت نہیں یہ وہ عارضی اور معمولی زخم ہیں جو وقت کے ساتھ ساتھ خود ہی مندمل ہو جاتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ آج کی خواتین کو جنسی مساوات کے حصول میں خوفناک نفسیاتی قیمت ادا کرنا پڑی۔ وہ انوریکسیا (anorexia)، بلیمیا (blemia)، وبائی امراض اور خودکشی کا شکار ہو رہی ہیں۔ اسی طرح انکے حوالے سے جنسی ہراسمنٹ، ڈیٹ ریپ (date rape) اور اسٹاکنگ (stalking) میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔ گلیمر، کاسموپولیٹن اور خواتین کے دیگر میگزین ان تفصیلات سےبھرے پڑے ہیں۔ آخر لاکھوں خواتین انٹی ڈیپریشن دوائیں اور الکحل کا استعمال کیوں کرتی ہیں؟ ظاہر ہے اسکا ایک ہی مقصد ہے کہ مردوں کو ساتھ سلانے پر آمادہ کس طرح کیا جائے۔

نوعمر خواتین کی تکالیف کا ذمہ دار کون ہے؟

شالٹ کہتی ہیں کہ آج کے دور میں جو لڑکیاں دکھی ہیں۔ ۔ ۔ یا تواپنے ہاتھوں سے انہوں نے یہ دکھ مول لئے ہیں یا پھر نسائی تحریک اور فیمنسٹ ماہرین و لیڈران اسکے ذمہ دار ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ رومانس اور جنس کے حوالے سے فیمنسٹ ماہرین کی پھیلائی ہوئی گمراہیوں نے نوعمر خواتین کی ٹرین کو غلط پٹٹری پر ڈل دیا۔ اس راستے پر چلنے والی لڑکیاں اس لئے تباہ و برباد نہیں ہو رہیں کہ انہیں پیٹ بھر کر کھانا میسر نہیں بلکہ اس خوفناک تباہی کی وجوہات میں ضرورت سے زیادہ کھانا، شراب نوشی، اپنے جسم کو مسخ کرنا، ہر لاابالی، رذیل اور کمینےپر دل پھینکنے کیلئے ہمہ وقت تیار رہنا، تمام صلاحیتوں کو رومانس پر لگا دینا اور خاندان، گھربسانے اور بچوں کی ضرورت سے انکار کرنا شامل ہے۔ یہ خواتین جب اس بوسیدہ نظام کے ساتھ نہیں چل سکتیں تو ڈیپریش کی ادویات پر انحصار کرنے لگتی ہیں یا بحثیت عورت، عورت ذات سے ہی متفر ہو جاتی ہیں۔

بدقسمت نسائی پسندوں نے مردوزن پرغیر فطری مساوات مسلط کرکے انکی شناخت مسخ کر دی۔ عورتوں کی نسوانیت تباہ کرکے انہیں مرد بنانے کی کوشش کی اور مردوں پر زور دیاگیا کہ وہ مردانگی ختم کرکے فیمنائزڈ مرد بنیں۔ پہلے اس نظریے کی ترویج کی گئی کہ عورت بھی مرد کی طرح جنس کی رسیا ہوتی ہے اور پھر کہاگیا کہ جب تک وہ مرد کی طرح آگے بڑھ کر جنسی جارحیت کا مظاہرہ نہیں کرے گی خودمختار نہیں ہو سکتی۔ اس عمل نے عورت سے حیاء، پاکدامنی اور نسوانیت چھین لی۔ عورت کی غیر شائستگی نے اسکی نزاکت کو ایکسپوز کر دیا اور نتیجتاً وہ ایک کمزور صنف بن کر سامنے آئی۔ اس صورتحال میں عورتیں وکٹم اور مرد شکاری بن گئے لیکن عورت کو اس دلدل میں دھکیلنے والے خود نسائی ماہرین ہیں۔ انکے درمیان ہونے والی ‘سیکس وارز’ اسکا واضح ثبوت ہیں۔ اب اس غیر فطری تحریک کے خلاف ردعمل شروع ہو چکا۔ لیکن ہمارا مقصد عورت کو غلامی کی زنجیریں پہنا کر اسکے حقوق چھیننا نہیں بلکہ اسکی فطری نسوانیت کو تحفظ دینا ہے۔ شالٹ اپنی کتاب کو رد انقلاب کا بنیادی لائحہ عمل قرار دیتے ہوئے تمام عورتوں کو اس پر عمل کرنے کی تلقین کرتی ہے۔

شائستگی اورپاکیزگی کا آئیڈیل:

شالٹ کےخیال میں شائستگی کا پہلا اصول یہ ہے کہ جنسیت کو بالکل پرائیویٹ اور رازداری کی چیز سمجھا جائے۔ جنسی اعمال اور سرگرمیوں کو پبلک کے سامنا برتنا اور اظہار کرنا انسانیت کے خلاف ہے۔ جنسیت، خارش کی طرح نہیں ہونی چاہیے کہ جہاں محسوس ہوئی کھجا کر تشفی حاصل کر لی۔ صحت مند جنس کا تقاضا ہے کہ آپ دوسرے فریق سے باضابطہ، اخلاقی معیار اور قانون قاعدے کے تحت، دیرپا اور نجی و ذاتی تعلقات قائم کریں اور شائستگی سے آگے بڑھیں۔ شائستگی کوئی ایسی چیز نہیں جسے دکھاوے کے طورپر استعمال کیا جائے۔ یہ اپنی شخصیت کے بارے میں اندر سے پیدا ہونے والا ایک گہرا احساس ہے۔

اس کے نزدیک شائستگی اور پاکدامنی(Modesty) ایسی صفت اور قدر ہے جو خواتین کے وجود میں فطری طورپر پائی جاتی ہے۔ فیمنسٹ تحریک نے پوری کوشش کی کہ اسے ہمیشہ کے لئے دفن کردے لیکن ابھی تک وہ اسکا وجود مٹا نہیں سکی۔ یہ ایک ایسی فطری رہنمائی ہے جس کے تحت لڑکیاں بلوغت میں قدم رکھتے ہی شرم وحیاء کا پیکر نظر آتی ہیں اور مخالف صنف سے اپنے حسن و جمال کی تعریف سننا پسند نہیں کرتیں۔ یہ صفات تو فطرت نےلڑکیوں کے اندر ودیعت کی ہیں لیکن ان کی شخصیت سے انہیں کھرچ کر الگ کرنے کے لئے بڑوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ وہ بڑے جو اپنی اخلاقیات کو پہلے سے ہی سیکس، فیشن اور دیگر گھٹیاذرائع سے ضائع کر چکے ہوتے ہیں وہ یہی ہتھکنڈے استعمال کرکے بچیوں کو بھی اس سے محروم کردیتے ہیں۔

وہ مائیں جنہیں اس بات کا اندازہ نہیں ہوتا کہ وہ اپنی ناقابل تردید نسوانیت کی حفاظت کیسے کریں وہ اپنی بیٹیوں کی صلاحیت کو بھی ضائع کر دیتی ہیں۔ عورت کی شائستگی اور پاکدامنی کو تباہ کرنا ایک قابل نفرت پروجیکٹ ہے۔ جب نسوانی نزاکت (vulnerability) سے انکار کرتے ہوئے اسے اسٹرپنگ (جنسی تفریحات) کا راستہ دکھا کر ایمپاور کرنے کی کوشش کی جاتی ہے تو اسکا لازمی نتیجہ ‘مساجنی’ کی شکل میں نمودار ہوتا ہے۔ کسی بچی کیلئے اصل خطرہ یا نقصان یہ نہیں ہوتا کہ پانچ سال کی عمر میں اسکے کسی رشتہ دارنے اسے گود میں کیوں اٹھایا یاشفقت کا ہاتھ اسکے جسم پر کیوں پھیرا بلکہ اصل خطرہ اور نقصان وہ ہوتا ہے جو اس لڑکی کو اپنی نسوانی شناخت کا تحفظ نہ کرنے سے پہنچتا ہے۔ یہ نقصان اس لڑکی کو اس وقت پہنچتا ہے جب وہ اپنے آپ کو ‘ہاٹ گرلHot Girl’ بننے کی دوڑ میں شامل کرتی ہے۔

شائستگی اور پاکدامنی عورت کی حفاظت عصمت کے سب سے بڑے ہتھیار ہیں۔ جب کسی معاشرے میں ان فطری خصوصیات کے ذریعے عورت کا وقار اور حرمت بحال ہو جاتی ہے تو اسے مصنوعی طریقوں سے ایمپاور کرنے کی ضرورت باقی نہیں رہتی۔ شائستگی اور پاکدامنی عورتوں کی وہ فطرت ہے جس کے تحت وہ اپنے جنسی جذبات کا اظہار کھل کرنہیں کرتیں۔ یہی طریقہ کار ہے جس سے وہ مردوں کو حیوانی اوربے شرمی پر مبنی ارادوں کی تکمیل سے روکتی ہیں اور انہیں اس بات پر مجبور کرتی ہیں کہ وہ سپردگی کے حصول سے قبل اپنے آپ کو شائستہ اور قابل قبول بنائیں۔ ایک پاکدامن اور شائستہ عورت اس طرح زندگی بسر کرتی ہےکہ اسکی نسوانیت نشوونما پا کر اعلیٰ و ارفع، برتری و فوقیت اور ماورائی صفات (transcendent) کی حامل ہوجاتی ہے اور اسکے نتیجے میں مردانہ کردار میں بھی مثبت تبدیلیاں رونما ہوتی ہیں۔ مرد بھی شائستگی کا جواب شائستگی اور نرمی سے دیتے ہوئے جینٹل مین بننے پر مجبور ہو جاتے ہیں اور عزت سے پیش آتے ہیں۔ وہ عورتوں کے جسم وجان کی حفاظت کے ساتھ ساتھ انکی عفت و عصمت کے بھی محافظ بن جاتے ہیں۔

عیاش مردوں کو راہ راست پر لانے کا طریقہ:

شالٹ مزید بتاتی ہے کہ شائستگی اور پاکدامنی میں اس سے کہیں زیادہ جنسی جاذبیت اور کشش ہوتی ہے جو اوباشی، اخلاق باختگی، آوارگی اور عیاشی میں پائی جاتی ہے۔ سنجیدہ مردوں کیلئے برہنگی کے مقابلے میں مکمل لباس میں ملبوس خواتین کی زیادہ قدر اور اہمیت ہوتی ہے۔ ساحل سمندر پر مونگ پھلیوں کی طرح پڑی ہوئی خوفناک قسم کے سومنگ سوٹ میں ملبوس برہنہ لاشوں، ہر ایک کا منافقانہ مسکراہٹ کے ساتھ استقبال کرنے والے چہروں، حقیقی و سچے جذبات سے عاری دل اوربے لگام خواہشات والے اذہان کی مالک عورتوں پر ایک سرسری نظر ڈالنے سے زیادہ کوئی اہمیت نہیں دیتا۔

اصل طاقت اخلاقی قوائد و ضوابط میں ہے۔ جب اخلاقی زندگی میں ان کو اپنا لیا جاتا ہے تو غیر حقیقی، بدنام زمانہ، دلچسپ شہوانیت اور بے دریغ شہوت انگیزی ہوا میں تحلیل ہوجاتے ہیں۔ شائستگی اور پاکدامنی عورت کو پر امید اور حوصلہ مند بناتی ہےاور اسکی شخصیت کی تکمیل میں رہنمائی کرتی ہے۔ ایک مرد بھی اس سے یہی امید رکھتا ہے کہ وہ نیک سیرت ہو کیونکہ بدکاری نسوانی فطرت کی خلاف ورزی ہے۔ یہ منطق محض ذہن سازی کا کام نہیں کرتی بلکہ یہ عصمت کو باریکیوں، پیچیدگیوں اور تضادات سے اس طرح بچاتی ہے جس طرح ایک غلاف کتاب کی حفاظت کرتا ہے۔ شائستگی وہ قدر ہے جو عورت کا ہر صورتحال میں ہر قدم پر ساتھ دیتی ہے۔ یہ مرد وزن کے مابین اختلافات کو دانشمندی کے ساتھ حل کرتے ہوئے دونوں کی زندگی محفوظ بناتی ہے۔

شہوت پرست اور عیاش مردوں کا وجود، خوبصورت لڑکیوں کی ادائوں اورانکی پرمسرت مسکراہٹوں کی وجہ سے قائم ہے۔ اگر یہ خواتین ان مردوں کو شائسہ مرد بنانا چاہتیں تو ہر روز ان کا استقبال نئی چمک دمک کے ساتھ نہ کرتیں اور نہ انہیں ایک حد سے آگے بڑھنے کی اجازت دیتیں۔ اگر ہماری نانیوں اور دادیوں کی زندگی پر نظر ڈالیں تو پتہ چلے گا کہ انکے ہاں محبت سے مراد صرف شادی ہوتی تھی اور شادی سے مراد عمر بھر کیلئے ساتھ نبھانا ہوتا تھا۔ وہ جب ایک دوسرے سے شادی کیلئے رضامندی ظاہر کرتے تو زیادہ سے زیادہ دستانہ پہنے ہوئے ہاتھ پر اپنا ہاتھ پھیر کر اقرار کر لیتے۔ مرد ہمیشہ مرد ہوتے ہیں اور وہ زیادہ سے زیادہ پیش قدمی چاہتے ہیں لیکن یہ عورت کا کام ہے کہ انہیں آداب سکھائے۔ آج خواتین اگراپنی ازدواجی زندگی سے خوش رہنا چاہتی ہیں توشائستگی اور پاکدامنی اختیار کریں اورشادی کے علاوہ اپنے آپ کو کسی جنسی سرگرمی کیلئے پیش نہ کریں۔ یہ عمل بظاہرخود ساختہ جلاوطنی(Self-exile) یا رضاکارانہ نظر بندی (house arrest) کی طرح ہے لیکن یہ ایک ایسی انمول چیز ہے جسکی حفاظت ضابطہ اخلاق اختیار کئے بغیر نہیں ہو سکتی۔

نوعمرخواتین و حضرات کے ساتھ یکجہتی: ہم آپ کے دکھوں میں برابر کے شریک ہیں:

شالٹ اپنی کتاب کے آخر میں نوجوان نسل کے مسائل پر یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہتی ہے کہ ‘ مجھے معلوم ہے کہ نوعمر لڑکوں اورلڑکیوں کیلئے نوجوانی کے طوفان اور سونامی میں اٹھنے والی موجوں اور تلاطم کے سامنے ضابطہ اخلاقی کی دیواریں بنانا بہت مشکل ہوتا ہے۔ لیکن اگر کیرول گلیگن(Carol Gilligan)، میری پیفر (Mary Pipher)اور ولیم پولک (Willian Pollack) جیسے سنجیدہ ماہرین تعلیم و نفسیات یا تاریخ انسانی میں گزرنے والے دیگر اخلاقی و مذہبی رہنمائوں اورپیغمبران کرام ؑ کی تعلیمات کو سامنے رکھا جائے تو یہ بند باندھنے میں بہت مدد ملتی ہے۔

اللہ کا شکر ہے ہم اس دیوانی عمرکے خطرناک مراحل سے آگےنکل چکے لیکن ہم پیچھے بار بار مڑکر اس لئے دیکھتے ہیں کہ شاید ہم آج کے نوجوانوں کی کوئی مدد کرسکیں۔ موجودہ دور میں جنسی بے حیائی کو اتنا زیادہ تحفظ حاصل ہے کہ خواتین کے سامنے متبادل کا انتخاب اور چوائس بھی ختم کر دیا گیا۔ خواتین میں شائستگی و پاکدامنی کی قدر بحال کرنے کیلئے ایک انقلاب اور یکجہتی کی ضرورت ہے اورمعاشرے میں شریف آدمی کو واپس لانے کا یہی واحد راستہ ہے۔ اگر عورت اچھے مرد کی متلاشی ہے تو اسے پہلے خود اچھا بن کر دکھانا ہوگا۔ شائستگی اور پاکدامنی اس بات کا ثبوت ہے کہ اصل جاذبیت اور کشش اخلاقی اصولوں میں مضمر ہے۔ پاکدامنی اور شائستگی عورت کا بنیادی حق ہے‘۔ پاکدامنی اور شائستگی زندہ باد۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

About Author

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20