میرے پیارے اللہ —— مجیب الحق حقی

0

آئیں کچھ نیا کریں!
اپنے رب کو کسی اور رنگ میں دیکھیں۔
آئیں جنّت و دوزخ بھول کر صرف اور صرف اپنے خالق سے پیار کریں،
آئیں اور اپنے رب سے لاڈ کریں!
اُس خالق کی طرف توجّہ کریں۔ ۔ ۔ ۔ جو بس اس انتظار میں رہتا ہے کہ،
میں نے جسے بہترین حالت میں پیدا کیا اشرف المخلوق کا رتبہ دیکر اپنا نائب بنایا، وہ بھلا مجھے کتنا یاد کرتا ہے، مجھ سے کتنا پیار کرتا ہے!
آئیں اور اللہ کا محبوب بننے کی کوئی کوشش کریں!
آئیں اوراللہ سے پیار کا رشتہ جوڑنے کا کوئی آسان طریقہ تلاش کریں۔

جس ہستی نے زندگی اور اس کے لوازمات دیئے اس کا حق ہے کہ اسے تسلیم کیا جائے اسی لئے اللہ بھی زیادہ مطالبہ نہیں کرتا بس یہ چاہتا ہے کہ اس کا بندہ حالت ِتسلیم میں رہے یعنی اس کا شعور چوکنّا رہے کہ میں آزاد نہیں بلکہ کسی کا طابع ہوں بالکل ویسے ہی جیسے ہر ملازم نوکری پراپنے مالک سے ہر دم ایک احساس محکومیت میں منسلک ہوتا ہے۔ بندگی کی معراج یہ ہے کہ انسان کارخ اپنے خالق کی طرف ایسے ہی ہوجائے جیسے مقناطیس کا قطب کی طرف۔ قطب نما کا رخ ہم پھیرتے بھی ہیں تو لمحہ بھر میں مقناطیس اپنا رخ درست کر لیتا ہے۔ اسی طرح شکر اور استغفار اُس قطب نما کا محور ہیں جو بدلتے ڈولتے حالات میں کسی انسان کے اللہ سے تعلّق کو نہ صرف قائم بلکہ مستحکم کرتے رہتے ہیں۔ مقناطیس جب کسی محور پر قائم ہوتا ہے تب ہی قطب نما بنتا ہے اسی طرح بندگی کا مقناطیس جب شکر اور استغفارکے محور پر ایستادہ ہوجاتا ہے تو پھر وہ اپنے خالق سے تعلّق کا قطب نما بن جاتا ہے۔ عموماً انسان کی مرضی کے موافق معاملات چلتے ہیں یا پھر اس کے برعکس۔ اب حالت ِ تسلیم یہی ہے کہ ہر خوشی اور سکون و عافیت پر شکر کے الفاظ اور اس کے برعکس پریشانی کی صورت پر معافی، اللہ کی پناہ یا توبہ۔۔۔۔
اللہ کی طرف رجوع کا اور قرب ِ الٰہی کے حصول کا یہی آسان نسخہ ہے۔

یاد رکھیں کہ گناہ کرنے سے یا سرزد ہوجانے سے اللہ کا کوئی نقصان نہیں کیونکہ اس کا ارشاد کچھ ایسا ہے کہ تمام انسان شیطان کی طرح نافرمان ہوجائیں تو بھی اس کی شان میں ذرّہ برابر بھی کمی نہیں آئے گی، اسی لئے ہمارا خالق کہتاہے کہ مجھے تسلیم کرو اورمجھ سے غافل نہ ہو پھر گناہ ہوجائے تو معافی مانگ کر اس تسلیم کی تجدید کرو،۔۔۔ اور پھر گناہ کر بیٹھوتو پھر مجھ سے استدعا کرو میں معاف کرونگا بلکہ کرتا ہی رہونگا، اسی طرح میرا شکر ادا کرتے رہو تو میں اور عطا کرتا رہونگا۔

گناہ ہوجائے تو اللہ سے خوف نہ کھائیں بلکہ جیسے غلطی کرکے ماں سے معافی مانگی جاتی ہے ویسے ہی شرمساری کا اظہار کریں کیونکہ اللہ تو معاف کرتا ہے اور معافی کو پسند کرتا ہے۔ اللہ کو کیا پڑی ہے کہ مخلوق کو سزا دے اور کیوں دے؟ ہاں مگر انسان بھی تو اپنے ملازم اور محکوم سے اطاعت مانگتا ہے۔ انسان خود بھی تو اپنے ملازم کی حکم عدولی برداشت نہیں کرتا اور اپنے محکوم سے عزّت کروانا چاہتا ہے۔

True Love, Love for Allah | islam786pakistanبس یہی ہے فلسفۂ تخلیق ِانساں کہ رب کو مانو اور یاد رکھو۔ یعنی ہم سب رب کے قطب نما بن کر اس کی طرف رخ کرلیں اور بس!
مگر کس طرح؟
اللہ نے اپنی طرف آنے کا راستہ بہت ہی آسان رکھا ہے،
اللہ کو راضی کرنے کا شارٹ کٹ شکر اور معافی ہیں۔
یعنی رب کو منائے رکھنا ہے نعمتوں کا شکر کرکے اور غلطیوں اور گناہوں پر توبہ اور نادم ہوکر۔
جو نماز نہیں پڑھ پاتا اور دوسری عبادتیں نہیں کرپاتا وہ اوّل اوّل شکر اور معافی کو زادِ راہ بنالے۔ آج کی دنیا کے جھمیلوں میں جو انسان اللہ کو اتنا ہی یاد رکھ لے، اتنا ہی تعلّق بنالے تو بس وہ ایسی راہ پر قدم زن ہوگیا جس کا اختتام اللہ کی دوستی اور قربت پر ہے۔

بھول جائیں کہ جنّت اور جہنّم بھی کوئی جگہیں ہیں بس اُس ذات کی آغوش میں پناہ لے لیں جو سراپا محبت ہے، رحمٰن ہے رحیم ہے۔ اللہ سے پیار کریں جیسے ماں سے کرتے ہیں، اُس سے ایسے ہی باتیں کریں جیسی ماں سے کرتے ہیں،
پھر ستّر مائوں سے زیادہ پیار کرنے والے کا جواب بھی دیکھیں جو قلب پر سکون کی ایسی چادر تان دیتا ہے کہ انسان راضی برضا ہوکر اللہ کا دوست بن جاتا ہے۔ بس شکر اور ندامت کی ذرا سی کوشش۔
یہی “کوشش” رب کی طرف بڑھنا ہے، یہی رب کی طرف قدم اُٹھانا ہے، یہی رب کی سمت چلنا ہے،،
یاد رکھیں کہ ایسی کاوش کے بعد ہی اللہ اپنی طرف پیش قدمی کرنے والے کی طرف دوڑ کر جاتا ہے۔
اللہ کا اٹل فرمان ہے کہ میرا سلوک بندے کے ساتھ اس کے گمان کے مطابق ہے،
تو یہ گمان پختہ کرتے رہیں کہ اللہ مجھ سے پیار کرتا ہے اورمیں اللہ سے پیار کرتا ہوں کیونکہ وہ میرا مالک ہے میرا پالن ہار ہے۔ وہ ماں سے بڑھ کر خطا معاف کرتا ہے اور ماں سے بڑھ کرمحبّت کرتاہے۔
کہہ دیں کہ اے رب مجھے نہ جنّت سے پیار نہ جہنّم سے نفرت یہ بھی تیری مخلوق میں بھی تیری مخلوق مجھے تو بس تیرا پیار تیری رضا چاہیے۔
بس تو مجھ سے راضی ہو جا پھر چاہے جہاں ڈال دے!
تو دوستو! لپٹ پڑو ماں سے زیادہ محبت کرنے والے رحمن کے دامن سے!اور التجا کرو۔ ۔ ۔
یا حی ّ ُ یا قیّوم ُ برحمتکَ استغیث ُ
اورلاڈ کرو، گنگنائو، کسی بھی لے پر کسی بھی ترنّم میں:
میرے پیارے اللہ، پیارے اللہ، پیارے اللہ

میرے پیارے پیارے پیارے پیارے
پیارے اللہ
پھر انتظار کرو کہ کب روح۔ ۔ ۔ کسی اچھوتی ترنّم کی سرسراہٹ سے وجد آفرین ہوجائے،
مسلمان کی منزل ہے،
یہی کنکشن!

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20