معنئ واحد اور کثرتِ تعبیر: پس ساختیاتی تناظر —– عزیز ابن الحسن

0

علم یا متن بالطبع محتاجِ تعبیر ہوتا ہے۔ تعبیر چونکہ کسی نہ کسی سیاق اور تناظر میں ہوتی ہے لہذا یہ امکاناتِ کثرت سے کبھی خالی نہیں ہوتی۔ جتنے زیادہ سیاق ہوں گے اتنے ہی معنی ہوں گے۔ معنی کا تنوع تناظرات کے تنوع کے بغیر ممکن نہیں ہوتا۔ کثرتِ تناظر کا مطلب ہے کثرت معنی۔ معنی کی تحدید تناظرات کی تحدید کے بغیر ممکن نہیں۔

سیاق یا تناظر کی تعیین یا تحدید میں طاقت ایک اہم عامل ہوتی ہے۔ اس لیے معنی کی تعبیر میں طاقت کے کردار کو کبھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ طاقت تناظرات کی حد بندی کیا کرتی ہے ہے۔ یہی تحدید ‘معنی کی تحدید’ کے تصور کو جنم دیتی ہے۔

طاقت کی عام صورت تو سیاسی طاقت ہے جو حکمران کے پاس ہوتی ہے۔ مگر طاقت کی دیگر چھوٹی بڑی صورتوں کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ یہ ثقافت اور تہذیب کے قوت بھی ہو سکتی ہے سماجی اداروں کی قوت بھی ہو سکتی ہے (جسے گرامچی ہیجمنی کہتا ہے)۔ قوت جس درجے کی بھی ہو اسی تناسب سے اثر اندازی کی گنجائشیں رکھتی ہے۔

ہر زمانے کی مقتدرہ علم/ متن کی سب سے بڑی معبِر ہوتی ہے کیونکہ مقتدرہ کا اثر و نفوذ تناظر کا سرچشمہ ہوتا ہے۔ یہی سے متن کی تعیین اور تحدیدِ معنی کی راہیں ہموار ہونے لگتی ہیں جس سے بالآخر متن کے “معنئ واحد” کا تصور پیدا ہوتا ہے۔

جدید تھیوریز میں باہمی اختلافات خواہ کتنے بھی ہو مگر یہ سب کسی نہ کسی انداز میں معنئ واحد کے تصور پر ضرور ضرب لگاتی ہیں۔ ذہن نشین رہے کہ مابعد جدیدیت کا اصل سروکار ادبی یا مذہبی متون سے نہیں تھا بلکہ اس کا بنیادی ہدف اس سیاسی و ثقافتی “متن” کی رد تشکیل ہے جسے استشراقی اور استعماری طاقتوں نے صدیوں سے اپنے مفتوحہ ثقافتی “متون” کی ایک مخصوص صورتگری کرکے اسے اپنی نوآبادکاری کے علمی جواز میں صرف کئے رکھا تھا۔ اس “متن” کی نوتشکیل (representation) میں مفتوحہ ثقافتیں، ان کا علمی سرمایہ اور مقبوضہ علاقوں کے لوگ نسلاً “کمتر” اور نو آباد کار حاکم نسلی ثقافتی ذہنی اور علمی دائروں میں ان سے “برتر” ہیں و لہٰذا ان کے انسانی و زمینی وسائل پر قبضے کا فطری حق رکھتے تھے۔

رد استشراقی اور رد نوآبادیاتی مطالعات کا اہم ترین کارنامہ ایسے آلات و وسائلِ علم اور ان نظریات کی تشکیل ہے جس کے ذریعے ان علماء نے نوآبادیاتی ذہنیت اور ان کے “علمی فریب” کا پردہ چاک کرکے کم سے کم نظریاتی میدانوں میں اسے پسپائی اختیار کرنے یا نئی نظریہ علمی و فکری پناہ گاہیں تراشنے پر مجبور کردیا ہے۔ استشراقی علم اور استعماری طاقت کے گٹھ جوڑ نے مفتوحہ علاقوں اور اہل مشرق کے ثقافتی اور علمی “متون” (یعنی تحریری اور غیر تحریری تہذیبی سرمائے علمی اصطلاح میں کہیں تو فلالوجی) کی یہ جو “معنئ واحد” میں تعبیر کر رکھی تھی کہ مفتوح مشرق جوہری طور پر (essentially) پست، کمتر، گنوار، اور ہر مثبت صفت سے عاری ہے اور فاتح مغرب جوہری طور پر “افضل” ہے، رداستعماری مطالعات کے آلات و عدسوں نے دکھایا اور بتایا کہ مغرب کا تشکیل کردہ یہ “معنئ واحد” بالکل غلط ہے کیونکہ کہ علم اور طاقت کا پیدا کردہ وہ تناظر ہی درست نہیں جس سے مشرق کے “ثقافتی متن” کی یہ تعبیر نکلتی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ “متن” کے معنی طے شدہ نہیں ہوتے۔ یہ امکانات کا ایک خزانہ ہوتا ہے۔ آپ تناظر کو تشکیل دینے والے علم اور طاقت کے جال کے حلقے بدلتے ادھیڑتے جائیے نؤ بہ نؤ تعبیر کی راہیں کھلتی جائینگی۔ یہیں سے کثرت تعبیر اور معنئ کثیر کا وہ تصور پیدا ہوا جس میں “معنئ واحد” کا مطلب جبر ہے کیونکہ اسی کی آڑ میں استشراق اور استعمار نے پچھلی کئی صدیوں سے مفتوح اقوام کو پہلے سیاسی غلامی اور بعد میں بہت سی اقسام کے استبداد کا شکار بنا رکھا ہے۔

اس میں کوئی شک نہیں اس نئے رد تشکیلی طریقِ مطالعہ نے یورپ اور مغرب مرکز تعبیرِعلم اور نتیجتا ً کمزوروں قوموں پر ان کے حقِ حکمرانی کے تصور کو زبردست انداز میں چیلنج کیا اور کمزوروں اور بے آوازوں کو عزت نفس اور حقِ خود ارادیت کا احساس دیا ہے مگر سیاسی و ثقافتی اجتماعیت، انفرادی جوہر اور متنی تعبیر کے کچھ سنگین مسائل بھی پیدا کیے ہیں۔ اس مابعد جدید صورتحال نے اجتماعی و سیاسی سطح پر انارکی، انفرادی سطح پر نہلیت، متنی سطح پر کثرتِ تعبیر اور معنئ بے مہابا کا وہ انتشار پیدا کیا ہے کہ فرد، سماج، اقدار اور زندگی کی معنویت عدم تعین کے بے کنار سمندر میں ہچکولے کھا تی کشتی کی مثال بن گئ ہے۔

یہاں ہم صرف متنی کثرتِ تعبیر کے مسئلے پر کچھ عرض کریں گے۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ متن بالطبع تعبیر چاہتا ہے، یہ تعبیر تناظر کی محتاج ہوتی ہے اور تناظر کا تعین کسی حَکم یا اتھارٹی کے بغیر ممکن نہیں۔ مغربی نوآبادیات یا کسی بھی قسم کی ناجائز و نامنصفانہ حاکمیت کے پس منظر میں متن کی تشکیل کرنے والے تناظر، حکم یا مقتدرہ کی ‘رد تشکیل’ کی جانا اگر ضروری ہے، اور کوئی شک نہیں کہ بالکل ضروری ہے، تو اس کا سبب وہ نیت، ارادہ اور اغراض و مقاصد ہونے چاہییں جن کی بنا پر محکوموں کا ایک خاص امیج تخلیق کر کے ان کی زندگیوں زمینوں اور وسائل پر ظالمانہ تسلط قائم کیا جاتا ہے نہ کہ کسی بھی ہیئت اجتماعیہ کی اس بنیاد کو ہی غیر ضروری اور غیرمؤثر کر دیا جائے جس پر انسانی معاشرت اور ریاست قائم ہوتی ہے جو زندگی کی چکی کا مرکزی دُھرا ہے۔ جبکہ پس ساختیاتی آلات کا بیش از بیش ہدف زندگی، معاشرت اور ریاست کی یہی ‘مرکزیت’ ہوتی ہے جس سے ایک بڑے تناظر میں “کلمہ” یا logos کہا گیا ہے۔ دریدائی ردتشکیل میں ہر لفظ و بیان و کلام کے معنی کا آخری تعین کنندہ چونکہ یہی کلمہ اور اس کی اتھارٹی ہے لہذا متن کی معنی کو لا انتہا تک حالتِ التوا میں رکھے جانے کی شرط اول logos کا انکار ہے۔ جب لوگوس کوئی نہ ہوگا تو تناظر بھی متعین نہ ہوگا اور تناظر نہ ہوگا تو متن کے معنی بھی جبریت سے آزاد رہیں گے۔ “معنئ واحد” سے آزادی کی تفصیلات و جزئیات جتنی بھی پیچیدہ ہوں اور اسکا بیان جتنی بھی دلکش اور نو بنو اصطلاحات میں ہوتا ہو، لب لباب اس کا بس یہی ہے۔ اس کی زد میں کل زندگی، معنویت کا ہر شائبہ، اقدار کا کل نظام اور ہیئتِ اجتماعیہ کا ہر محور آتا ہے اور اپنے آخری تجزیے میں یہ انسانی جوہر اور فرد کی آزادی کا انکار ہے۔ اسی مفہوم میں مابعد جدید صورتحال کو اجتماعیت میں انارکی اور فردیت میں نہلیت (nihilism) اور متنیت میں کثرت تعبیر کا انتشار کہا جاتا ہے۔

پس نو آبادیاتی مطالعات کے اکثر آلات و اوزار اس دو دھاری تلوار کی طرح ہیں جو اس شے کو تو مجروح کرتی ہی ہے جس سے کاٹنا آپ کا منشا ہو مگر یہ اسے بھی نقصان پہنچائے بغیر نہیں رہتی جس کا مجروح اور مذبوح ہو جانا کل نظام حیات اور اقدار کے قتل کے مترادف ہے۔ پس ساختیات کے اکثر وکلاء جب یہ کہا کرتے ہیں کہ متنی تعبیر و تشریح کا یہ طریقہ کار صرف تخئیلی، تخلیقی، ادبی و فنی متون کی تحسین و تعیینِ قدر میں استعمال ہونے کے لئے ہے کیونکہ کثرتِ معنی ادبی متون کی خوبی اور قانونی متون کے لئے خامی ہوتی ہے اس لئے ہم قانونی و مذہبی متون اس کے اطلاق کے قائل نہیں ہیں تو وہ یا تو انتہائی سادگی سے کام لیتے ہیں یا اس طریقۂ کار کو دلکشں و فریب پردوں کی آڑ میں چھپاتے ہیں۔ ان سے اگر پوچھا جائے ہر قسم کی حکمیت اور اتھارٹی کے انکار کے اس دور میں اگر کوئی اس طریق مطالعہ کا اطلاق قانونی اور مذہبی متون پر کرے تو وہ کون سی عدالتِ مرافعہ ہے جس میں اس کے سدباب کے لیے استغاثہ پیش کیا جائے تو ان کے پاس اس کا کوئی جواب نہیں ہوتا۔

قانونی اور مذہبی متون کے مطالعے کے لیے ساختیاتی و پس ساختیاتی طریق کار اطلاق محض ایک مفروضہ نہیں ہے بلکہ اس کی عملی مثالیں موجود ہیں کہ لوگوں نے ویدوں گیتا بائبل اور قرآن کو بھی رد تشکیلی مطالعے کی سان پر چڑھایا اور اور کثرتِ تعبیر کے گل و گلزار کھلائے ہیں۔ ہو سکتا ہے کہ کسی اور مذہبی متن کو اس انداز کی تعبیر و تشریح سے کوئی نقصان نہ پہنچتا ہو مگر قرآن حکیم کا معاملہ بالکل جدا ہے۔ مسلمانوں کا تصور یہ ہے کہ قرآن کے صرف الفاظ ہی محفوظ نہیں بلکہ اس کے معنی بھی محفوظ ہیں۔ حفاظتِ لفظ و معنی یہ سلسلہ صرف اسی صورت میں مؤثر و معتبر قرار پا سکتا ہے جب نزول قرآن سے آج تک ہر زمانے میں ایک زندہ اور موجود نظامِ تواتر و تسلسل کی کارفرمائی کو مؤثر مانا جائے۔ یہی وہ شے ہے جسے اسلام کا تصورِ روایت کہا جاتا ہے۔ اسی روایت کے تحفظ کے لئے اسلام کی پیدا کردہ اس تہذیب کا زندہ فعال رہنا ضروری ہے جس نے ایک طرف تمدنی ضروریات کو پورا کرنے والے ماہرین علوم اور دستکار و ہنرمند پیدا کئے، نظمِ حکومت چلانے والے سلاطین کو جنم دیا اور دوسری طرف خالص مذہبی ادارے پیدا کیے جو اپنے مختلف علمی وسائل (حفاظ، علما، محدثین، فقہا، مفسرین،۔۔۔۔۔۔) کے ذریعے قرآن کے الفاظ کے ساتھ ساتھ اس کے معنی کی حفاظت کے بھی ضامن رہے ہیں۔ یہ تہذیب اور اس کے مختلف علمی وسائل مل کر وہ حکمیت یا اتھارٹی مہیا کرتے ہیں جو مختلف لوگوں کی متجددانہ کاوشوں کے باوجود قرآن کو کثرت تعبیر کا بازیچہ نہیں بننے دیتے۔

پس نو آبادیات اور مابعد جدیدہت میں چونکہ اتھارٹی کے اکثر تصورات اور صورتوں کو علی الاطلاع رد کئے جانے کی خو ایک ناگزیر ہتھیار کے طور پر موجود ہوتی ہے جس نے کہ اپنے مخصوص دائرے ( استشراقی علم اور استعماری طاقت کے گٹھ جوڑ سے پیدا ہونے والی خرابیوں کے استرداد) میں بہت قابلِ قدر کارنامے سرانجام دیکر کامیابیاں بھی حاصل کی ہیں اسلئے ایک ہمہ گیر قوت اور فاتح ہونے کی حیثیت سے اس میں اپنے مخصوص دائرہ کار سے باہر پاؤں پھیلانے کے خطرات بھی پوری شدت سے موجود ہیں۔ ہر آئڈیالوجی کی فطرت میں چونکہ توسیع پسند ہوتی ہے اس لیے پس نوآبادیات اور مابعد جدیدیت وغیرہ کی خدمات کو ان کی مخصوص دائرے میں کھلے دل سے تسلیم کرتے ہوئے ان کے توسیع پسندانہ عزائم سے ہر لحظہ چوکنا رہنے کی ضرورت ہے تاکہ جہاں اس کی خوئے تغلب اپنی حدود سے باہر قدم رکھے وہیں ایک الگ قسم کی تہذیب کے پروردہ ہونے کی “مجبوری” کے وجہ سے ہم چوکنے ہو جایا کریں تاکہ ہمارے اثاثے ان مابعد جدید اچکوں سے محفوظ رہیں۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20