داستانِ زیست، دھڑکتے دلوں کی داستان —- محمد خان قلندر کی سرگزشت: نعیم الرحمٰن کا تبصرہ

0

چوہدری محمدخان قلندر نے ریٹائرمنٹ کے بعد قلم سے ناطہ جوڑا۔ اور کیا خوب پہلی کتاب ’’بادبان‘‘ پیش کی جس کے منفرد اور سادہ اسلوب نے قارئین کے دل میں گھر کرلیا۔ یوں وہ حمیدہ اخترحسین رائے پوری، ہدیہ ظفر، قیصری بیگم، قیصرہ شفقت اور محمد اقبال دیوان کی صف میں شامل ہوگئے۔ جنھوں نے ساٹھ سال کی عمر کے بعد لکھنا شروع کیا اور پہلی ہی کتاب سے اپنی دھاک بٹھا دی۔ حمیدہ اختر کو ڈاکٹر جمیل جالبی نے لکھنے کی مہمیز دی۔ ہدیہ ظفر نے بچوں کی تحریک پر خود نوشت ’’جیون دھارا‘‘ لکھی، جو پسند کی گئی۔ قیصری بیگم نے بھی کافی تاخیر سے آپ بیتی ’’کتاب زندگی‘‘ رقم کی۔ محمد اقبال دیوان ریٹائرمنٹ کے قریب سوانحی ناول ’’جسے رات لے اڑی ہوا‘‘ لکھ کر اہلِ قلم بنے اور بیسٹ سیلر مصنف قرار پائے۔ اقبال دیوان کی کتب ’’وہ ورق تھا دل کی کتاب کا‘‘ اور ’’تنہائی کی دھوپ اور پندرہ جھوٹ‘‘ کے بھی ایک سے زائد ایڈیشن شائع ہوئے۔

چوہدری محمدخان قلندر نے ویب سائٹ دانش کے مدیر اعلیٰ شاہد اعوان کی تحریک پر بلاگز لکھنا شروع کیے اور پھر پہلی کتاب ’’بادبان‘‘ پڑھنے والوں کی نذر کی۔ محمدخان قلندر کی تحریر خندہء زیر لب، شگفتگی کی لہر، سادگی اور اختصار سے مملو ہے۔ وہ بے جالفاظی اور جزئیات نگاری سے گریز کرتے ہیں اور بڑی سے بڑی بات ایک دو جملوں میں کہہ کر آگے بڑھ جاتے ہیں۔ اسی لیے ’’بادبان‘‘ سو صفحات سے کچھ زیادہ کی مختصر لیکن انتہائی دلچسپ تحریرثابت ہوئی۔ حال ہی میں محترمہ قیصرہ شفقت کی خود نوشت ’’چار نسلوں کا قصہ‘‘ بھی شائع ہوئی ہے۔ قیصرہ شفقت نے او پی ایف اسکول سے ریٹائرمنٹ کے بعد فارغ وقت میں فیس بک لکھنا شروع کیا، اور پھر فیس بک کی ان تحریروں کو کتابی شکل دیدی اور ایک بہترین کتاب سامنے آئی، قیصرہ شفقت مستقبل میں لکھنے کاسلسلہ جاری رکھنا چاہتی ہیں۔

محمدخان قلندرنے بھی اپنی دوسری کتاب ’’داستانِ زیست‘‘ قارئین کی نذرکی ہے۔ یہ کتاب بھی ایمل پبلی کیشنز نے شائع کی ہے۔ ’’داستان زیست‘‘ صرف ایک سو پینتیس صفحات پرمبنی ہے۔ ایمل پبلی کیشنزکی روایتی خوبصورت طباعت سے آراستہ عمدہ کاغذ پر دلکش اندازسے شائع کی گئی ہے۔ اس پرقیمت درج نہیں ہے۔

کتاب زیست کے کچھ باب ادھورے چھوڑ آئے ہیں
پھرسے دیکھنے کوکچھ خواب، ادھورے چھوڑ آئے ہیں

چوہدری محمدخان قلندر پنجاب کے اردو لکھنے والوں کی نثرلکھتے ہیں سادہ، بے تکلف اور محاوروں والی، ظاہر ہے مصرعہ کوئی بولی کا آگیا تو وہ پنجابی سے آئے گا۔ وہ لفظوں کے طوطا مینا نہیں بناتے، مقصدکی بات کرتے ہیں اورحق یہ ہے کہ خوب کرتے ہیں، تفصیل دینے کی بجا ئے چلتے ہوئے منظر دکھاتے جاتے ہیں، مبالغہ بھی نہیں، تفاصیل بھی نہیں، اردو میں پنجابی اہلِ قلم کا ایساہی مزاج رہا ہے کہ بیان میں نہ کاری گری ہے نہ تکلف نہ صنائع بدائع، سیدھی دوٹوک اور صاف بات کرتے ہیں۔

پروفیسر احسان اکبر نے ’’نصف صدی کاناطہ ہے یہ دوسال کی بات نہیں‘‘ کے عنوان سے کتاب کا تعارف کرایا ہے۔

’’بیاں خواب کی طرح، جو کر رہا ہے۔ یہ باتیں ہیں جب کی کہ آتش جواں تھا۔ مذکورہ تبصرہ نما شعر میں آتش سے مراد صاحبِ ’’داستان زیست‘‘ قلندر ہے اورقلندر سے مراد محمد خان ہیں۔ چوہدری محمد خان۔ یہ داستان ایک خوش قسمت، خوش مزاج کی ہے جس کے لیے آغاز حیات ہی آب حیات لیے ہو ئے تھا۔ آغاز ہی نہیں عنفوانِ شباب بھی رنگدار تھا۔ یہاں رنگ ہی نہیں تھے فضا کی سازگاری کے ساز بھی چھڑے ہوئے تھے۔ محمد خان قلندر کو ایک خوش قسمتی اس کے نام نے بھی بخشی۔ گورنر کالا باغ کی ذات میں سخت گیری کیادہشت بھی موجود تھی مگر اس کی گورنری کی کامیابی کے ساتھ ساتھ محمد خان ڈھرنال کی ڈکیتی بھی تزک و احتشام سے جاری رہتی۔ اس احتشام اور شان سے وہ ججوں مجسٹریٹوں کے ہوتے سوتے اپنے کالا چٹا پہاڑ میں باقاعدہ عدالتیں لگاتا اور فیصلے سناتا تھا۔ صدر ایوب کے سنہری دس برسوں کے دوران، محمد خانی، ایک شان رکھتی تھی۔ اس کتاب والی کہانی ختم ہوتے ہوتے ہمارے محمد خان نے جوجی سیکٹر کے جھگڑے والے پلاٹ کو بچا لیا تو اس میں چکوالی ہونے کے نمبر اپنی جگہ تھے محمدخان ہونے کے اپنی جگہ۔ یہ جواں مردکب مرد قلندر ہوگیا یہ مجھے خود بھی معلوم نہ ہوا۔ کتاب نے بھی اس بابت زبان نہیں کھولی۔ کتاب ان داستانوں سے رنگین ہے جو بعض دلنشین کرداروں کو فتح کرنے سے تعلق رکھتی ہیں۔ ان فتوحات میں نہ چکوال کارعب چلا تھا نہ محمد خان کی ہم نامی کا، مگر اس نے دل و جسم دونوں فتح کیے کتاب کامیابیوں اور فتوح کی بات کرتی ہے۔ اعلیٰ کوالٹی کے اسباب، سامان، لگژری گیجٹ کے مارکوں، کاروں کے نئے ماڈلوں، ناؤنوش کے لیبلز کے اذکار سے پُر ہے۔ ان کے گھر کی بار بھی ایسے ہی ترتیب دی گئی جیسی ایف سیکٹر کے گھروں کا ’لازمہ‘ ہے۔ کتاب میں دو چار نہیں تو ایک دو سخت مقام توآنے کو تیار تھے مگر ہمارے یارنے طرح دے دی۔ قاری کی سہولت اور آسائش کے لیے نہیں بلکہ اس باعث کہ مصنف کا اپنا مزاج ہی ہنسی کھیل کا ہے۔ کتاب کی نثررواں ہے چلتی ہوئی عبارت رکنے میں نہی آتی، منظربدلتے جاتے ہیں دلچسپی کم نہیں ہوتی۔ کتاب میں انگریزی الفاظ بے شمار ملیں گے جودیکھنے میں اس لیے نظر نہیں آتے کہ انہیں اردوکی املاء میں لکھا گیا ہے۔ ہماری سفارتی زندگی چونکہ پچھلی صدی میں مرتب ہوئی جو کہ عالمی سطح پر انگریزی اور مغرب کی بالادستی کی صدی تھی اس لیے سارا کلچر ہی سفارت کاروں کا مغربی ہے۔ مصنف نے مغرب کی بنائی ہوئی سہولتوں سے لے کران کی عطا کردہ تفریح اور عیاشیوں کا بھی تذکرہ کیا ہے۔‘‘

کتاب کے ’’پیش لفظ ‘‘ میں چوہدری محمدخان قلندر لکھتے ہیں۔

May be an image of 2 people, food and outdoors’’بندہ چکوال کا چوہدری ہو، بھلے سولہ جماعت پا س ہو، اس کی لکھائی پڑھائی میں گڑبڑ خوامخواہ ہو جاتی ہے داستان زیست لکھنے کا خیال آیا تو قدرتی ترتیب چھوڑ کے درمیان سے کہانی شروع کردی۔ اصلاح رُوداد کے لیے ضروری گزارشات پیش خدمت ہیں تاکہ بیان میں ادوار کا تسلسل قائم رہے۔ ہمارے جد امجد چوہدری گدا بیگ جید بزرگ تھے چکوال کی ایک قدیمی مسجد انہوں نے تعمیرکی تھی ان کو ایک روحانی ہستی نے بشارت دی کہ اولاد لاتعداد ہوگی۔ چاربیٹے تھے جن کی اولاد شہر کے علا وہ کوٹ روپوال، میراتھر چک، بھون مرید، گھُگ لطیف وال، سرکال مائر، میاںمائر اور دیگر گاؤں میں بسنے والے مائر منہاس راجپوت ان پیر صاحب کی پیشن گوئی سچ ہونے کاثبوت ہیں۔ ہماری پیدائش تقسیم ہند کے بعد ہوئی ددھیال کا پہلا پوتا ہونے پرنام محمد امیر خان تجویز ہوا۔ اس کے مقابل ننھیال نے پہلا نواسہ ہونے کے ناطے محمدعلی خان رکھا۔ تاریخ پیدائش میں بھی اپریل اور اکتوبر پر اختلاف ہے۔ یہاں بھی ایک بزرگ شاہ صاحب نے محمدخان پراتفاق کرایا۔ اس کی مصلحت اب عیاں ہوئی کہ قبیلے میں جہاں میجر، کرنل، بریگیڈیر اور جنرل گنے نہیں جاسکتے ان میں درجنوں محمدخان ہیں جب کہ علم وادب کے حصے میں ایک محمدخان کرنل مصنف بجنگ آمد ہی گزرے یہ انشاپردازی اب ہمارے ذمہ پڑگئی۔ قدرت نے اس کام سے عہدہ برآ ہونے کے اسباب بنائے۔ خاندانی روایات کے برخلاف میٹرک میں اول آنے کی وجہ سے کالج داخل ہونا پڑا۔ ایف اے کے نتائج میں آرٹس گروپ میں ٹاپ کرنے کی سزا ہیلی کالج آف کامرس لاہور میں چارسال پڑھنا ٹھہری۔ فوج نے ہمیں کمیشن نہیں دیاتھا تو ہم فوجی فاؤنڈیشن میں اکاؤنٹنٹ بھرتی ہوگئے۔ ہیڈ آفس میں شوگر اور ٹیکسٹائل انڈسٹری کی اکاؤ نٹنگ سیکھی، تو فان گیس میں اکاؤنٹ افسر بن گئے۔ سات سال سے زائد ریٹائرڈ فوجی افسران اورسویلین فنانس والوں کے زیرتربیت رہے، یہ عرصہ قیام لالکرتی میں خادم حسین روڈ پر رہا۔ بچپن میں ہمیں ایک تائی، دو پھوپھیوں، دو چاچیوں، چار ممانیوں، دادی نانی کے علاوہ دو درجن سے زائد رشتے کی ماسیوں مامیوں چاچیوں کے ساتھ چھ عدد نانی اماؤں نے پالا۔ خوش خطی اور یادداشت اچھی ہونے کی پاداش میں ہر خوشی غمی کے فنکشن پر فہرست مدعوئین مرتب کرنا بھی ہمارے ذمہ تھا۔ یہ ڈیوٹی کرتے ہمیں برادری کے چارپانچ سو گھروں کے افراد خانہ کی تعداد ازبر ہوگئی۔ محلہ کی بزرگ خواتین کی شفقت بونس تھی، ایک نانی شہراں کی مثال لیں جوجملہ زنانہ امراض، حمل کے دوران دیکھ بھال اور تولید کے سب مراحل کی دیسی ایکسپرٹ تھی۔ ان کو پنساری سے اجزا نسخہ لاکے دینا، مریضہ تک دوائی پہنچانا ہمارا فرض تھا۔ اسے ترکیب استعمال بتاتے ہم بھی نیم دائی بن گئے۔ اتنی خواتین سے میل جول، بے تکلفی، کا فطری اثرہے کہ ہم خواتین میں باقی ہم عمرلڑکوں سے زیادہ مانوس اور معشوق رہے تھے۔ جوانی، کالج میں کوایجوکیشن نے مزید رنگ چڑھا دیئے۔ ہماری داستان میں خواتین کی موجودگی ہماری بچپن کی زنانہ تربیت کی غماز ہے یہ کوئی شوبازی نہیں!۔ پنڈی سے اسلام آباد شفٹ ہوئے۔ آٹھ سال سفارت خانے میں رہے۔ پھر واپس اپنے پروفیشن میں لوٹ آئے۔ انکم ٹیکس کی وکالت تیس سال کی۔ جو چارسال قبل بچوں کے حوالے کردی، وقت گزاری کے لیے فیس بک پہ آبیٹھے۔ یہ داستان زندگی اسلام آباد میں کیسے گزاری۔ کیا دیکھا۔ ایوان اقتدار سے کیا پایا۔ بہت کچھ ہے بتانے کوبھی اورچھپانے کو بھی۔ محبتیں ہیں پیارہے ایڈونچر ہیں کچھ سربستہ راز ہیں۔ مالک کا شکر ہے اس نے بہترین زندگی عطاکی۔ حج عمرے زیارات، بھرپور دنیاداری بھی۔ ساتھ لکھنے کاہنر بھی عطا فرمایا!۔ امیدہے اب ہماری قسط وار کتھا پڑھتے ہمارے محترم قارئین خود کو ہمارے قدم بقدم پائیں گے۔ ہم تو کہانی بھی سچی قلمبند کرتے ہیں۔ ہاں کچھ نام اخفا ہوتے ہیں تھوڑی سے زیب داستان کے لیے منظر نگاری ضرور ہوتی ہے باقی چھپانے کو ہے کیا؟ محبت امرت ہے اسے لفظوں میں گھول کے پلانا ہم عبادت سمجھتے ہیں۔ آج ستر سال بعد یہ تحریر لکھتے ستر منٹ میں گزر گئے۔‘‘

اس طویل پیش لفظ میں محمدخان قلندر صاحب نے کہی ان کہی سب بیان کردی۔ سابق بیوروکریٹ محمداقبال دیوان اور سابق اکاؤنٹنٹ محمد خان کے انداز تحریر میں بہت یکسانی ہے۔ اقبال دیوان سندھی، اردو، انگلش اور دیگر زبانوں کو مہارت سے استعمال کرتے ہیں تو یہ ہنر محمد خان کے ہاں بھی موجود ہے۔ دونوں کی تحریر میں رنگینی، محفل آرائی، ناؤنوش اور خواتین کا ذکر پوری دلچسپی کے ساتھ ہوتاہے۔ لیکن اقبال دیوان جزئیات نگاری اور لفاظی سے ہر واقعہ تفصیل سے بیان کرتے ہیں تو محمد خان دلچسپ لیکن اختصار اور بامعنی فقرے سے اپنی بات کہتے ہیں۔ ایک سو پپینتیس صفحات کی کتاب اکتیس مختصر ابواب میں تقسیم کی گئی ہے۔

کسی کتاب کی دلچسپی کے لیے اس کا پہلا فقرہ بیحد اہم ہوتا ہے۔ اچھا فقرہ قاری کویوں جکڑتاہے کہ وہ کتاب مکمل کیے بغیر چھوڑ نہیں سکتا۔ ذرا ’’داستان زیست‘‘ کا ابتدائیہ ملاحظہ کریں۔

’’یار آپ کے جاننے والی کوئی گائنی کی ڈاکٹر، لیڈی ہیلتھ وزیٹر، مڈوائف یادائی ہے جو رازداری کے ساتھ بارشن کرتی ہو، مناسب فیس بے شک لیتی ہو لیکن پردہ رکھنے کی گارنٹی ہو؟‘‘ خالد شاہ کے سوال پر ماتھا ٹھنکا، اس سے تعلق ایساتھا کہ صاف انکار ممکن نہ تھا اور اقرار کی صورت بھی مشکل تھی، تو ڈپلومیٹک جواب ہی مناسب تھا، لمبے وقفے کے بعد کہا، دیکھنا پڑے گا۔‘‘

یہ آغازہی قاری کو اسیر بنا لیتا ہے اور اسے آگے کیا ہوا کے تجسس میں مبتلا ہوکر پوری کتاب پڑھے بغیرچین نہیں ملتا۔ محمد خان گفتنی اور ناگفتنی ایک خاص سلیقے سے بیان کرنے کاملکہ رکھتے ہیں۔ لیکن چھپاتے کچھ نہیں۔ خالدمال روڈ کے بڑے ہوٹل میں سپروائزر تھا، اس سے مصنف کی جان پہچان توکالج سے تھی، اس کے والد اسسٹنٹ اسٹیشن ماسٹر تھے۔ لیکن کالج میں اس سے کوئی خاص دوستی نہیں تھی کیونکہ محمدخان نے درجن سے زائدکزن تھے، جوکالج میں اکٹھے رہتے، چائے پینا، کھیلنا بھی ساتھ ہوتا، دیگرطالب علم بھی ان سے محتاط رہتے۔ خالد نے بی اے کیا اور وہ لوگ پنڈی آگئے۔ ہوٹل میں نوکری کی، یہاں ملاقات بھی اچانک ہی ہوئی۔ خالدکے ہوٹل میں ڈرنک بھی ملتی تھی، بار بھی تھی، چند دوستوں کے اصرار پر پہلی مرتبہ بارکے اندرگئے وہیں خالد سے آمنا سامنا ہوا۔ اس نے پہچان لیا، اس نے بار روم کی وی آئی پی نشست پر سب کو بٹھایا اور سروس بھی سپروائز کرتارہا۔ خالدتونہ صرف اپنے ہوٹل بلکہ پورے صدرمیں ڈرنکس کابادشاہ تھا، یوں محمدخان اس کے دوست، گاہک اوریاربن گئے۔ بہرحال افتتاحی جملہ ایک خاتون فرحی سے مصنف کی ملاقات کے لیے بولا گیا تھا، جودراصل پریگننٹ نہیں تھی، بلکہ کچھ غلط فہمی کا شکار ہوگئی تھی۔ محمدخان جو خواتین کے امور کے ماہر تھے، نے ان کامسئلہ بخوبی حل کرادیا، فرحی سے محمدخان کی دوستی ہوگئی۔ اسی دوران چوہدری محمدخان قلندر فوجی فاؤنڈیشن کی ملازمت چھوڑ کر مسقط ایمبیسی میں اکاؤنٹ آفیسربن گئے، جہاں انہوں نے آٹھ سال سے زائد بہت شان سے گزارے۔ ایمبیسی میں شب و روز کیون کر گزرے، اسی کابیان ’’داستان زیست‘‘ بہت رنگین اور دلچسپ ہے۔

’’داستان زیست‘‘ میں محمدخان صاحب نے زمانی ترتیب سے سب کچھ نہیں لکھا۔ اس کاذکروہ دسویں باب میں یوں کرتے ہیں۔

’’انسان کی زیست کے ادوار عام طور پر بچپن، لڑکپن، نوجوانی، جوانی اور بڑھاپا تصور ہوتے ہیں۔ اسی ترتیب سے بندہ سوانح حیات لکھتا یا بیان کرتا ہے۔ جب کہ یہ تقسیم اسکول، کالج، یونیورسٹی، ملازمت یا کاروبار اور ریٹائرمنٹ ہوسکتی ہے یا بلوغت، معاشقے، شادی، باپ بننے کے بعد نانا دادا کے درجات کی بھی ہوتی ہے۔ یادداشت میں یہ سب موجود ہوتا ہے لیکن اہمیت اس میں شامل دوسرے کرداروں کی گردانی جائے گی، ماںباپ بہن بھائی استادباس ماتحت بیوی بچے، و دیگر جن کو ہم اجتماعی طور پر ’’شریک‘‘ کہتے ہیں۔ پنجاب میں شریکے سے مراد، رشتہ میں مقابل آسکنے والے اہل خاندان لیے جاتے ہیں۔ آدمی ان شریکوں کے کچھ کہنے اور مخالفانہ باتیںکرنے کے خوف میں گزارتا ہے۔ ہم جب یہ ساری منزلیں عبور کرچکے اور پروفیشنل زندگی کے پہلے دورکی کچھ جھلکیاں ابتدائی نواقساط میں لکھ دیں۔‘‘

اس باب کے اختتام پرمصنف نے کچھ مزیدتعارف بھی کرادیے کہ مطالعہ میں شریک احباب کو الجھن نہ رہے۔

’’جی ایم صاحب، راجہ صا حب، حسین مہدی صاحب جوراجہ صاحب محمودآباد کے داماد، برطانیہ کے پڑھے اور ذالفقار بھٹو کے برطانیہ میں ہم مکتب تھے، انجینئر محمد الیاس پی ٹی وی میں ڈپٹی ڈائریکٹر تھے، وفات پاچکے ہیں۔ خالد شاہ فرضی نام ہے، موصوف بعد میں اسلام آبادشفت ہوئے، فائیو اسٹا ر ہوٹل میں ہماری وساطت سے ایونٹ منیجر بنے، نوکری چھوڑی تو باقاعدہ پیری مریدی کرنے لگے، حیات ہیں۔ بشیر مسیح درویش ہے، مائی رحمت فوت ہوئی تو بشیر مسیح کو بھی اسلام آباد میں ایک سفیرصاحب کے گھر نوکری اوررہائش دلوادی۔ نادرہ بھی فرضی نام ہے موصوفہ شادی کے بعد سیاست میں آئیں اب امریکا میں مقیم ہیں، سیمی سے پھررابطہ نہیں ہوسکا۔ اور فرحی کاذکرتفصیل سے کرنا کار ثواب ہے۔‘‘

محمد خان صاحب کا چلبلاپن اور دلچسپ حرکتیںقاری کو زیرلب مسکرانے پرمجبور کر دیتی ہیں۔

’’جیسے ہاسٹل کی پہلی رات ڈنرکے لیے میس میں سب لڑکے پراپر ڈریس پہنے تھے اورمیں تہمند اور کھُسا پہنے۔ پریفیکٹ صاحب نے اعتراض کیا۔ جواب میں کھڑے ہوکے میں نے تہبند پکڑ کے کہا، یہ بھی اتار دوں؟ ڈائننگ ہال میں قہقہہ پرا، پریفیکٹ صاحب جھینپ گئے، کہا چلو بیٹھ کے کھانا کھاؤ۔‘‘

بات کرنے کا انداز دیکھیں۔

’’اس زمانے میں اسلام آباد میں اسلام بھی کم تھا اور آبادی بھی تھوڑی تھی۔ یہاں تین قسم کی مخلوق بستی تھی، اول درجے پر غیرملکی سفارتی عملے کے اہلکار تھے، ان کے مقابل سرکاری افسران تھے لیکن ان سے ذراکم کروفرکے ساتھ، سفارت خانے کے تھرڈ سیکریٹری کے پاس بھی بڑا گھر اور بڑی نئی گاڑی ہوتی تھی، ان کے لیے مخصوص مارکیٹس اور دکانیں تھی، تیسرے درجہ پر سرکاری ملازم اور دیگر نوکری پیشہ لوگ تھے۔ اسلام آباد میں جنگلی حیات بہت تھی، گیڈر، بندر اور جنگلی سور بکثرت تھے۔ لیکن اہم ترین مخلوق پیکر، پراپرٹی ڈیلرز، ایمبیسی کا گھریلو سامان بیچنے والے کباڑیئے اور بانڈڈ اسٹور والے تھے۔‘‘

محمدخان قلندرفنانس، مالیات، معاشیات کے فریش پروفیشنل تھے۔ سرکاری گزیٹیڈجان میں جاپائے توبہترآپشن نیم سرکاری پرائیویٹ بڑے ادارے کے ساتھ کام کرناتھا۔ نصابی تعلیم کے بعد زیادہ اہم ہمہ جہت آن جاب تجربہ ہے۔ ان کی خوش قسمتی تھی کہ یونیورسٹی سے سید ھے ملک کے بڑے رفاعی ادارے میں آگئے جن کے پاس ٹیکسٹائل، شوگر، گیس مارکیٹنگ، سیریل، فلورملز، رائس ملز، جیوٹ فیکٹری سمیت درجن بھی ملز چل رہی تھیں۔ پیٹرو کیمیکل اور فرٹیلائزر زیر تجویز تھیں۔ ہیڈآفس میں ان سب کا ہزاروں ملازمین کے ساتھ ہسپتال اور اسکالر شپ و دیگر ویلفیئر کے کاموں کاحساب کتاب سیکھنے اور کرنے کے مواقع تھے۔ تعلیم کے حساب سے وہ اعلیٰ ترین پوسٹ پرپہنچ چکے تھے اور اسلام آباد کی کشش کا شکار ہوگئے۔ جس کی تاریخ ابھی تالیف نہیں ہوئی جغرافیہ تووہ اس کی حدبندی نہ ہونے کی وجہ سے نامعلوم ہے تو یہ اسلام آباد کہاں سے کہاں تک ہے؟ داستان زیست میں اسی کی تلاش کی کوشش کی گئی ہے۔ کیا ذومعنی جملہ لکھا ہے۔ ’’راولپنڈی کی کوکھ سے اس نے جنم لیا۔ یہ نومولود تھا تو پنڈی نے اسے گودی کھلایا۔ یہ عادت اتنی راسخ ہوئی کہ آج بھی اس کاپنڈی کی گارڈین شپ کے بغیر گزارہ نہیں ہے۔‘‘

ایسی ہی پھلجھڑیاں کتاب میں جگہ جگہ محمدخان نے چھوڑی ہیں جو قاری کو سوچنے پر بھی مجبور کرتی ہیں۔ فرحی سے فلرٹ کا خاتمہ اس کی خالہ زاد کے ساتھ شادی پر ہوا۔ ایمبیسی میں سفیر صاحب کا محمد خان پر اعتماد بہت سے لوگوں کی آنکھوں میں کھٹکتا تھا۔ زمانہ قدیم میں جب ریاست اور سلطنت کے دربار وجود میں آئے سفارت کاری بھی ساتھ شروع ہوئی۔ سفارت کار ہر زمانے میں بڑے زیرک، زمانہ ساز، مردم شناس، ذہین اور معاملہ فہم لوگ ہوتے ہیں۔ محمدخان کی خوش قسمتی تھی کہ نوسال ایسی ہستیوں کے ساتھ سفارت خانے میں کام کرنے کا موقع ملا۔ جنہوں نے ان کی صلاحیتوں کو جلا بخشی۔ چھوٹی آرگنائزیشن جہاں تیس پینتیس مردوزن کام کرتے ہوں وہاں باہمی مسابقت، رقابت اور حسد بہت ہوتا ہے۔ سفیر صاحبان کے اعتماد سے محمد خان نے یہ وقت عمدگی سے گزارا۔ کئی بار انہیں نقصان پہنچانے کی کوشش ہوئی۔ لیکن محمدخان صاحب کی خود اعتمادی اور ہر کام بخوبی انجام دینے کی صلاحیت ان کے کام آتی رہی۔ لیکن ایک نئے سفیر کی آمد پر یہ کوششیں بارآور ہوئیں، انہی کے لائے ہوئے دوست چوہدری ہی اس کا مرکزی کردار تھے۔ اس دوران نئے آنے والے ڈپلومیٹس اور سیکیورٹی اسٹاف سے راہ ورسم بڑھانے کی محمدخان نے کوشش ہی نہیں کی۔ ان لوگوں کے لیے گھر لینے، سازوسامان خریدنے اور دیگر خدمات ان کے اسسٹنٹ چوہدری، لیڈی سیکریٹری اور ایک ڈرائیور پیش پیش تھے۔ سفارت کاروں کے لیے کرایہ پر گھر لینے سے گھریلو سامان بیچنے تک اسٹاف کا کمیشن میں حصہ ہوتا ہے۔ قلندرصاحب کی شہرت ایسی تھی کسی نے کبھی انہیں آفر کی کوشش نہیں کی۔ ایک صبح سفیر صاحب نے انہیں طلب کیااوربہت غصے سے بولے، تم لوگوں نے یونین بنالی۔ محمدخان تمہارا لیڈر ہے۔ اسے میں معطل کرتا ہوں اور جواب اس کے حق میں بولے گا اسے بھی برخاست کردوں گا، چوہدری کو مخاطب کرکے حکم ہواتم ابھی اس سے چارج لے لو۔ ایک طویل سفر کا یوں اچانک خاتمہ ہوا۔ کہتے ہیں۔

’’اسلام آباد کا فیشن ہے کہ یہاں صدر ہاؤس اور پی ایم ہاؤس سے جب کوئی عزت سے نہیں نکلتا۔ ہماری بساط تھی۔ اس چانسلری سے جہاں ہم ہرجانے والے کوپارٹی دے کے بھیجتے تھے ہم ایسے وداع ہوئے کہ کسی بھی بندے نے سلام تک کرنے کی جرات نہ کی۔‘‘

انکم ٹیکس کمشنرنے مشورہ دیاکہ محمدخان کو ٹیکس کی وکالت کرنے چاہیے، ناتجربہ کاری کی بات کی تو انہوں نے مشورہ دیا کہ چکوال کے مشہور چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ امیر عالم خان کے پنڈی آفس میں کام سیکھ لو۔ اگلے روزخان صاحب سے پنڈی ان کے آفس میں ملاقات کی۔ تپاک سے ملے، بغیرکسی لین دین کے انہوں نے دفتر میں کام سیکھنے اور پریکٹس کرنے کی اجازت دے دی۔ یوں چوہدری محمد خان قلندر کی زندگی کا نیا دور شروع ہوا۔ ’یاوکیل‘ اللہ کریم کا صفاتی نام ہے، وکالت اللہ جل شانہ کی سنت ٹھہرے گی۔ موجودہ زمانے میں وکالت کا پیشہ دنیابھر میں عزت کے لحاظ سے پہلے نمبر پر ہے۔ وکت کی بھی دیگر پروفیشن کی طرح مختلف اسپیشلائزیشن ہیں۔ آئین سے دیوانی۔ فوجداری تک اور مختلف صنعتوں، سروسز، کارپوریٹ سیکٹرسے ہوتی آج کل تو میڈیا اور امیج بلڈنگ اور لابنگ تک سب وکلاء کی دسترس میں ہیں۔ لیکن ان سب کی کریم ہمیشہ سے ٹیکسیشن رہی ہے۔ خاص طور پر ڈائریکٹ ٹیکسز اور ان میں انکم ٹیکس۔ محمدخان صاحب نے اس شعبے میں بھی اپنانام بنالیا اور تیس سال تک اس سے وابستہ رہے۔ اس دوران اسلام آباد میں ذاتی گھر بھی بنایا اور آفس بھی۔

’’عنفوان شباب کے چالیسویں سال میں، خاندانی روایات کے عین مطابق، عقل و فہم نے جوانی کی بدمستی سے زندگی کرنے کو کام لے لی۔ اسلام آباد کے اکلوتے سوک سینٹر، میلوڈی مارکیٹ کے مین چوک کے سامنے گھربھی مل گیا، آفس اور رہائش میسر ہو۔ کراچی سے ہم زلف ارشد ایوبی کی نوازش سے مرسیڈیز کار بھی مل گئی اورکلف لگے کاٹن کے شلوار قمیص سوٹ یہ کارہماری پہچان بن گئی۔ کلائنٹس اکثریت بزرگ، ریٹائرڈ افسران تھے، ہم نے جمپ لگاکے خود کوان کے ہم عمر ہونے کا جبہ اوڑھ لیا، گفتار اور کردارمیں ایک سینئر شہری اور ٹیکس کے بڑے وکیل کی عباپہن لی۔ اب اس کیریکٹر میں تیس سال جمع ہیں، یہ احوال انتہائی مصروف زندگی کاہے، بچوں کی تعلیم، زمیندارہ کرنے کو چک شہزاد میں چالیس کنال کا فارم، چکوال جہاں لوگ ہماری شکل بھول چکے وہاں دوبارہ انٹری کے لیے مشہور بیل خریدنا، چکوال اسٹیڈیم میں تاریخی بیل دوڑ کا جسلہ کرانا یعنی اچھی خاصی ذمہ داری سے سارے کام ہوئے، یہ داستان پارٹ ٹو کا مواد ہوگا۔ دو پارٹ رکھنا ضروری ہیں کہ جوانی اور بزرگی میں تصادم نہ ہو، چوہدری سے قلندر، یہ اگلی کتاب کا مجوزہ ٹائٹل ہوگا۔

اور یقینا قارئین ’’بادبان‘‘ اور ’’داستان زیست ‘‘ کے بعد ’’ چوہدری سے قلندر‘‘ کے بھی منتظر رہیں گے۔

کتاب "داستان زیست"  گھر پہ حاصل کرنے کے لئے:
 0342-5548690 پر وٹس ایپ کریں یا نیچے دیئے گئے لنک کو دبائیے۔
To order, message on WhatsApp at 0342-5548690
OR Click this: https://wa.me/923425548690
(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20