عصر حاضر کے دانشور اور میری بدقسمتی: کبیر علی

5

کبھی کبھی سوچتا ہوں تو دل خون کے آنسو روتا ہے کہ کیسے کیسے نابغہ روزگار لوگ میرے زمانے میں علم و فکر کے موتی رول رہے تھے اور میں اپنی طبعی نالائقی، کوتاہ فکری، کند ذہنی، بے حسی کے باعث ان سے فیض حاصل نہ کر سکا۔ اللہ مجھ پہ رحم کرے۔ نمونے کے طور پہ کچھ عبقری لوگوں کا تذکرہ کرتا ہوں تا کہ میری بدقسمتی کا حال آپ پہ بھی کھلے، کیا خبر رونے کے واسطے کوئی کندھا ہی میسر آ جاوے۔

ایک وہ ہیں کہ جن کی شعلہ بیانی پہ ایک دنیا ’نثار‘ ہے۔ انکی دشنام کی حد کو پہنچی ہوئی تلخی بھی میرے ضمیر کو جھنجھوڑ نہ سکی۔ ہو سکتا ہے کہ کوئی گستاخ یہ کہے کہ ان کی مجموعی علمیت اتنی پست ہے کہ اسے فکر کہنا بھی مناسب نہیں، مگر صاحب! جب وہ چیخ کر کف اڑاتے ہوئے ہمارے ماضی کو کوستے، حال پہ تبریٰ کرتے اور مستقبل کو اندھیر بتلاتے ہیں تو ہزاروں لوگوں کی جبینوں میں فکر کے چراغ جلنے لگتے ہیں، دل کی دھڑکن تیز ہوتی اور شریانوں میں خون جوش مارنے لگتا ہے۔ ٹھیک ہے ان کے اندر فکر کی ٹھنڈک نہیں مگر جذبات کی طغیانی، بڑھک کی فراوانی اور کوسنوں کی روانی، ہماری نوجوان نسل کے جذبات کی ترجمانی کرتے ہوئے اس کی تلخیوں کو نکاس فراہم کرتی ہے۔ کتھارسس کی خدمات فراہم کرنے پر قوم کو ان کا شکر گزار ہونا چاہیے۔ زندگی کی لایعنیت اور حالات کی یاسیت کے اس دور میں اگر انہوں نے کمرشل میڈیا میں اپنے لیے ایک جگہ بنا لی ہے تو اس میں حرج ہی کیا ہے۔ ہمارے وہ سنجیدہ دانشور جو جذبات کی منڈی میں بڑھک کا مال نہیں بیچ سکے، قصوروار ہیں۔ وہ “مارکیٹ” کی ضرورت کو پورا نہیں کر سکے تو اب ان پہ کوتاہ فکری کا الزام کیوں دھرتے ہیں؟ وہ اس وقت پاکستان کی سب سے بلند باغی آواز ہیں۔ سیاستدانوں کی دروغ گوئی کا پردہ چاک کرنے میں ان کا ثانی نہیں۔ شام کو وہ اگر انہی سیاستدانوں کے ساتھ چائے کی چسکی لگا کر اپنے وسیع وعریض فارم ہاؤس میں آرام کرنے تشریف لے جاتے ہیں تو فقط عوام کی خاطر۔ سیاستدانوں سے ملاقات کے وہ کہاں متمنی ہیں یہ تو بس صحافیانہ مجبوری ہے۔ رہی بات وسیع و عریض فارم ہاؤس کی تو اس کا مقصد فقط یہ ہے کہ شہر سے دور پرسکون ماحول میں دماغ کو تازہ دم کر لیا جائے اور اسپِ بغاوت کو ایک نئی قوت سے مہمیز لگائی جائے۔ ان کے جوش خطابت کی تاثیر کچھ ایسی زود رسا ہے کہ انہیں دیکھتے ہی میری حالت بھی تشنجی سی ہونے لگتی ہے پس ان سے مزید فیض حاصل کرنا میرے لیے ممکن نہیں رہا ، اس سے بڑھ کر افسوس ناک بات کیا ہو سکتی ہے؟

کالم نگاری کے زیرو پوائنٹ کی کتاب کی ساری جلدیں میں نے پڑھ ڈالیں مگر ذہن کی بنجر سرزمین اس دریائے علم سے ایک قطرہ بھی نہ پا سکی۔ یہ درست کہ بولنا ان کا میدان نہیں مگر جس طرح انہوں نے گوگل پہ تحقیق کرکے کالم لکھنے کی روایت ڈالی ہے یہ پاکستان میں اپنی مثال آپ ہے۔ انہوں نے اپنے کالموں میں ایسی ایسی معلومات، کامیابیوں کی داستانیں، ناکامی کے قصے، تحریک دینے والے واقعات اور درجنوں مفکرین کے اقوال بیان کیے ہیں کہ دل عش عش کر اٹھتا ہے۔ ان کے کالم کسی فکری وحدت پہ قائم نہیں، اس کی وجہ یہ نہیں کہ سرے سے ان کی کوئی فکر نہیں بلکہ اس میں قصور ان کی تحقیقی ٹیم کا ہے جو روز کوئی نئی تحقیق انہیں تھما دیتے ہیں۔ پس ان کے کالموں کو جمع کر کے چوں چوں کا مربہ تو ڈالا جا سکتا ہے مگر کوئی فکری وحدت تشکیل نہیں دی جا سکتی۔ تاہم آپ کو کسی فکر کی تلاش ہی کیوں ہے؟ وہ بخوبی جانتے ہیں کہ ہر دن ایک نیا دن ہے۔ کیا آپ روز اٹھ کے کسی نئی تحقیق کو قبول نہیں کر سکتے؟ کیا یہ ممکن نہیں کہ ان کا ایک کالم پڑھ کے آپ زندگی میں باقاعدہ منصوبہ بندی کرنے کا عزم کریں اور دوسرے دن کے کالم میں کسی اور مفکر کا قول پڑھ کے سرے سے منصوبہ بندی کی اہمیت کے انکاری ہو جائیں؟ فکری ارتقاء بھی تو کسی چیز کا نام ہے آخر! ہمارے ایک دوست کا کہنا ہے کہ ان کے کامز کی کتاب کی ساری جلدیں پڑھ لینے سے آپ دنیا کے باقی کتابوں سے بے نیاز ہو جاتے ہیں۔ موصوف ان دنوں جامعہ پنجاب سے صحافت کی کوئی ڈگری کر رہے ہیں اور امید ہے کہ جلد ان کالم نگار سے بیعت ہو جائیں گے۔ اور میں کھڑا دیکھتا ہی رہ جاؤں گا۔
پھر کالم نگاروں کے ڈاکٹر کہ جن کے میڈیا میں ورود مسعود کے شاہد بھی اب حیات نہیں۔ ڈاکٹر صاحب نے جس طرح پچھلے کئی سالوں سے قوم کی رہنمائی کا بیڑہ اٹھا رکھاہے، اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ بالآخر خدا نے قوم کی فکری بیماریوں کے لیے ایک مسیحا بھیج دیا ہے۔ سیاسی موضوعات پہ انکی نکتہ سنجیاں دیکھنے کے لائق ہوتی ہیں۔ عسکری معاملات تو ان سے پوچھے بغیر سر انجام ہی نہیں دیے جاتے، بعض لوگ انہیں انٗ کا کاسہ لیس قرار دینے ایسی مذموم حرکت کرتے ہیں اور کچھ دبے لفظوں میں بوٹ اور پالش وغیرہ کا ذکر بھی کرتے ہیں مگر ہماری معلومات کی حد تک ڈاکٹر صاحب کو اپنے جوتے چمکا کے رکھنے کا کوئی خبط نہیں البتہ عسکری معاملات میں ان کی آئینہ فکر کو چمکا دینے والی گفتگو کے ہم اسیر ہیں۔ ایک عبقری کی نشانی یہ ہے کہ وہ اپنے زمانے سے آگے کا کا حال اپنے دور اندیش نگاہوں سے بھانپ لیتا ہے۔ ڈاکٹر صاحب نے تواتر سے اپنے عبقری ہونے کے ثبوت بہم پہنچائے ہیں۔ وقتا فوقتا وہ بتاتے رہتے ہیں کہ اگلے تین دن پاکستان کی سیاست میں اہم ہیں اور مستقبل کا اس قدر درست حال یا تو موسمیات والے بتا سکتے ہیں یا ڈاکٹر صاحب۔ مگر میری بری قسمت ان سے فیض حاصل کرنے کی راہ میں ہمیشہ سے رکاوٹ رہی ہے۔
اور ’مقبول‘ ترین کالم نگار تو اس دور میں اسلام کی کشتی کے واحد ناخدا ہیں۔ یہ اسلام کے وہ سپاہی ہیں جو نہ قرآن و حدیث کے منقولی علم پہ دسترس رکھتے ہیں اور نہ ہی عقلی علوم کے شناور ہیں مگر آفرین ہے اس سپاہی کی بہادری پہ کہ وہ جذبہ عشق کے سہارے بے تیغ بھی لڑتا ہے۔ ابھی پچھلے دنوں انہوں نے جس دو ٹوک انداز سے ہندوستان کے مسلمانوں کو بزدل اور اسلام کے بدخواہ ثابت کیا اور دلیل بھی قرآن سے لائے ہیں وہ اس قابل ہے کہ انہیں خراجِ تحسین پیش کیا جائے۔ دجالی میڈیا پہ اسلام کے نام لیوا رہ ہی کتنے گئے ہیں؟ ان کے کالم اور ٹی۔وی پروگرامز چاہے طالبان اور داعش کی حمایت کریں مگر بہرحال وہ اسلام کا نام تو لیتے ہیں اور آج کے دور میں یہی غنیمت ہے۔ طویل عرصہ اقتدار کی غلام گردشوں میں گزار کر ان کی فراست و بصیرت ان بلندیوں کو چھونے لگی ہے کہ مخاطب کی نیت میں چھپی کجی کو ایک پل میں جا لیتے ہیں اور پھر یوں گرجتے ہیں کہ سبحان اللہ۔ ان کا کالم پڑھ کے یا گفتگو سن کے اگر آپ ایک زور دار نعرہ بھی نہ لگا سکیں تو سمجھ جائیں کہ آپ کا ایمان مردہ ہو چکا ہے اور مجھے افسوس ہے کہ میں بھی ان مردہ ایمان والوں میں سے ہو کے رہ گیا ہوں۔
اور آخر میں ایک ایسی تحریک سے عدم استفادہ کا ماتم کرتا ہوں کہ جس کی فکری مہک چہار سو پھیل چکی ہے یعنی ہمارا مقامی گروہِ لبرلاں۔ واویلا کرنے والے تو شور مچاتے رہیں گے مگر حقیقت یہ ہے کہ لبرلزم جیسا عالمی سکہ پاکستان کے ٹکسالوں میں مقامی طور پہ ڈھالا جا رہا ہے اور الحمد للہ اس معاملے میں ہم خود کفیل ہو چکے ہیں۔ یہ اگرچہ توجہ طلب مسئلہ ہے کہ ان دیسی لبرلز کا فکری شجرہ اصلی لبرلز سے ملتا ہے یا نہیں۔ بعض عاقبت نا اندیش اس باب میں شدید گستاخیاں کرتے پائے گئے ہیں۔ مطالعہ پاکستان کے نصاب سے پیدا ہونے والے لازمی فکری مغالطوں کا دف مارنے کے لیے لبرلزم سے بہتر کوئی شے نہیں، جو مقامی طور پہ دستیاب ہے۔ وسعتِ  فکری کے مالک کالم نگار جوولایتی ایجنسی سے منسلک ایک بین الاقوامی معیار کے دانشور ہیں اور ایک عالم ان کی فکری وسعتوں سے فیض حاصل کرتا ہے۔ مگر ایک میں بد نصیب ہوں کہ ابھی تک ان کی فکرِ سایہ دار کے گھنے شجر کے نیچے بیٹھ نہ سکا اور نہ ہی لبرلزم کے جھونکوں سے میری روح میں تازگی آ سکی۔
پاکستان میں لبرلز کی سرخیلی کا عہدہ ان دنوں اپنی نوعیت کے دوسرے وجود مسعود کے پاس ہے۔ جناب کی نثری وجاہت کا ایک عالم اسیر ہے اور میں بھی اپنی سست فکری کے باعث ابھی فقط ان کی نثر کی داد کا سنگ میل عبور کر پایا ہوں اور وہ بھی گھٹنوں کے بل گھسٹ گھسٹ کے۔ احترامِ باہمی کے علمبردار پاکستان کے مقامی بابائے لبرلزم سے کچھ لوگ انکے لڑکھڑاتے جملوں سے شاکی نظر آتے ہیں، مگر صاحب! اس معاملے میں تو مخاطب کی قوتِ برداشت پہ سوال اٹھتا ہے نہ کہ ان کے فلسفہء احترامِ باہمی کو رگیدا جانا چاہیے۔ چلیے اگر آپ کچھ قنوطی واقع ہوئے ہیں تو کیا اتنے معمولی سے تضاد کو دیکھ کر کسی کے دریائے علم سے منہ موڑ لینا چاہیے؟ سرکاری اعزازات قبول کرنے یا میاں صاحب کا قافیہ قائد اعظم سے ملا دینے کو کچھ لوگ غلط رنگ دیتے ہیں حالانکہ یہ تو حکومت پہ لطیف ترین طنز کی مثالیں ہیں، اس کے سوا کچھ نہیں۔ اصل بات تو یہ ہے کہ پاکستان کے گلی کوچوں میں ہر طرف لبرل سوچ پھیل چکی ہے۔ اور لبرل مفکرین کی کھیپ کی کھیپ تیار کرنے والے اس عبقری سے میں کچھ بھی حاصل نہ کر سکا۔
مکرر افسوس ہے کہ میں ایسی عبقری شخصیات کے دریائے علم و فکر کی امواج سے کچھ بوندیں بھی حاصل نہ کر سکا۔ میں تو اقبال، عسکری، سلیم احمد، اختر رائے پوری، شورش کاشمیری، ڈاکٹر جاوید اقبال، ڈاکٹر داؤد رہبر، ڈاکٹر حمیداللہ، احمد جاوید، احمد رفیق اختر جیسے لوگوں سے ہی فرصت نہ پا سکا کہ ایسے نابغہ روزگار لوگوں پہ بھی نظر کرتا۔ آہ میری کوتاہ فکری، ہائے میری بدقسمتی۔
گزرتے جا رہے ہیں ماہ و سالِ زندگانی
مگر اک غم، پسِ عمرِ رواں ٹھہرا ہوا ہے

نوٹ: ادارہ کا مصنف کی رائے سے اتفاق ضروری نہیں۔

About Author

Daanish webdesk.

Leave a Reply

5 تبصرے

  1. ہمارے مال خوردانشوروں پربہترین تنقید ہے۔ ایک تحریرقابل قدر دانشوروں پربھی ہونی چاہیئے۔

    • بھیا! جینوئن لوگ کمیاب ضرور ہیں مگر نایاب نہیں۔ کسی پیشگی تعصب کے بغیر اگر مذہب و ادب کا مطالعہ کیا جائے تو ایسے لوگ مل جاتے ہیں۔ آپ کی تجویزبھی مناسب ہے۔

      • نعمان علی خان on

        آخر میں یہ نوٹ کہ “ادارہ کا مصنف کی رائے سے اتفاق ضروری نہیں”، شاید یوں ہونا چاہئیے تھا: “نوٹ: مصنف کا ادارے کی رائے سے اتفاق ضروری نہیں”۔ :]

Leave A Reply

%d bloggers like this: