یک لسانی بچے بمقابلہ دو لسانی بچے —- ہمایوں تارڑ

0

آج کے کالم میں دو عدد نئی رِیسرچز پر بات کرنی ہے، اور بس۔

جہاں عالمی تحقیق یہ بات شدّ ومد سے ثابت کر چکی کہ چھوٹے بچے کھیل کُود میں ایک سے زائد زبانیں بہ سہولت سیکھ جاتے ہیں، وہیں تازہ بہ تازہ سائنسی تحقیق نے اِس امر کو بھی پُرزور طور اُجاگر کیا ہے کہ دو لسانی بچے bilingual children بمقابلہ یَک لسانی بچے ارتکازِ توجہ، عقلی کارکردگی، منصوبہ بندی، معاشرتی تعامل، اور ترجیحات کے تعیّن میں بہتر پائے گئے ہیں۔

ایسی سٹڈیز یہ تک ظاہر کر رہی ہیں کہ دو یا کثیراللسانی بچوں نے اپنے تعلیمی سفر کے اگلے مراحل میں بہتر دماغی و تعلیمی کارکردگی کا مظاہرہ کیا، اُن کی قوتِ ابلاغ اور شخصی اعتماد یَک لسانی بچوں کی نسبت متاثر کُن رہے۔

اگرچہ یہ بات ایک قطعی مختلف المیہ ہے کہ پاک و ہند میں انگریزی زبان کو زبان کی حد میں رکھ کر برتنے کے، اِسے احساسِ تفاخر سے لدے ایک میڈیم کے بطور برتا گیا ہے۔ ہمارا تعلیمی نظام تاحال اِس آلائش سے آلُودہ ہے چونکہ لیڈرشپ (پارلیمان، بیوروکریسی، عدالتیں، مقابلے کے امتحانات وغیرہ) اِس میں لت پت نظر آتی ہے، ورنہ متعدّد ریسرچز سے حاص ل شدہ نتائج نے ایک سے زائد زبان والے ٹریک پر رواں دماغ کو زیادہ مضبوط، تیز رفتار، اور بہتر کارکردگی کا حامل قرار دیا ہے۔

کوئی ماہرِ تعلیم ہو یا ماہرِ دماغی علوم، طبیب یا معالج، ماضی قریب تک اسی بات کا پرچارک تھا کہ بیک وقت دوسری زبان کے ساتھ چھیڑ چھاڑ خطرناک ہے۔ یہ بچے کے تعلیمی و تربیتی اور ذہنی بلوغت کے سفر میں رکاوٹ ہے۔ تاہم حالیہ برسوں میں چہار اطراف میں برپا ہوئی تحقیق نے اِس اعتقاد کی چُولیں ہِلا ڈالی ہیں، اور اسے ایک خام خیالی قرار دیا ہے۔

Online Support Group For Raising Bilingual Kids & Little Global Citizensاِن سٹڈیز نے ٹھوس بنیادوں پر شواہد کے ساتھ دکھایا ہے کہ پیدائش سے لے کربچپنے کے مہ و سال اور اِن سے آگے، جن بچوں کی زندگیوں میں مادری زبان کے علاوہ ایک عدد دیگر زبان کا عمل دخل رہا، وہ خاصے ‘سمارٹ برین’ ثابت ہوئے ـــ کہ ایسے ایک فرد کے دماغ کا کام کرنے والا حصہ یعنی ‘فور برین’ بہتر طور نمو پا کر بہتر نتائج سامنے لایا۔

‘سائیکالوجی ٹوڈے’ میں چھپی ایک سند یافتہ نیورولوجِسٹ، ڈاکٹر جُوڈی وِلس، کی تحقیق کے مطابق ایسے بچوں کے دماغی مَسلز زیادہ تر صحت منددیکھے گئے جو ایک عدد اضافی زبان سیکھنے کی مشقت سے گذر رہے تھے۔

اس حوالے سے نئی رِیسرچ نے بالخصوص معاشرتی تعامل میں دماغی نشوونما کو نوٹ کیا ہے ــــــ یعنی دوسری زبان والے تمدّن اور میل ملاپ سے متعلق انسانی دماغ اسی عمر سے ملی معلومات کو کیسی آسانی سے جذب کرنے، تجزیے کرنے، اور نتائج اخذ کرنے میں ماہر ہو جاتا ہے۔ مختلف کلچر والے انسان کی عادات، کلام، فکر و سوچ، اور طرزِ رہن سہن کے لیے وسعت پیدا ہو جاتی ہے۔

علاوہ ازیں، بیک وقت ایک اجنبی زبان کو سیکھنے کی مشغولیت کا ایک فائدہ یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ اس طرح دونوں زبانوں کے لفظوں اور جملوں کی بناوٹ، لفظوں اور ناموں کی بنیاد، رُموزِ اوقاف، بعض الفاظ اور فقروں پر خصوصی زور، لب و لہجہ کا زیروبم وغیرہ سمجھنے اور برتنےمیں بہتر دانائی حاصل ہوتی ہے۔

بعد ازاں ایسا دولسانی بچہ جس زبان کو بھی ترجیحی بنیاد پر ذریعہ ابلاغ بنائے، مگر اُس کے آنگن میں اس کھڑکی کے کھل جانے سے تازہ ہوا کے جھونکے متواتر اور عمر بھر آتے رہیں گے۔

مقامی سطح پر ہم اپنے تناظر میں دیکھیں تو یہ ایک عمومی مشاہدہ ہے کہ جو لوگ انگریزی زبان سے انتہائی بچپنے میں متعارف ہوئے اور اس میں کسی درجہ قابلیت پیدا کر گئے، اُن کے مشاغل علمی نوعیت کے ہوں یا تجارتی نوعیت کے، آپ ایسے افراد کے ہاں ایک درجہ وسعتِ نظر پائیں گے۔ اُن کے ہاں نئی بات، نئی اطلاع، نئی سوچ اور ایپروچ نسبتاً زیادہ میسر آئے گی۔ ایسے افراد خود سے مختلف سوچ اور تمدّن کو قبولنے میں بھی زیادہ لچکدار پائے گئے ہیں جبکہ تحقیق کی رُو سے یَک لسانی بچوں میں ایسی وسعت اور روایت شِکن لچک بہت کم دیکھی گئی ہے۔

آپ اس ایک مثال سے بخوبی اندازہ کر سکتے ہیں کہ ساتویں جماعت کا ایک بچہ، جو انگریزی زبان میں اوسط درجہ قابلیت کا حامل ہو، بیسیوں کہانیاں، کتابیں اور مضامین پڑھ چکا ہوتا ہے یا پڑھ سکتا ہے۔ ایسے بچے میں کتاب اور میگزین پڑھنے کی عادت اگر کسی طور پختہ ہو جائے، اُس میں مطالعہ کرنے والا صبر اُستوار ہو جائے تو وہ بَلا کا روشن خیال، صاحبِ علم اور صاحبِ شعور ہو گا۔ علامہ اقبال، فیض احمد فیض، محمّد علی جوہر، سرسید احمد خاں ایسی ہی شخصیات کی عمدہ مثالیں ہیں۔

3 Tips for Raising Bilingual Kidsالمختصر، بیک وقت ایک سے زائد زبانیں سیکھنا کنفیوژن یا انتشار پیدا کرنے کا باعث نہیں بلکہ فائدہ مند ہے۔ یہ خوش نصیبی کی بات ہے۔ اس ضمن میں ہوئی تحقیق نے اس کے کوئی نقصانات نہیں گنوائے بلکہ صرف فائدے ہی گنوائے ہیں۔ البتہ یہ ایک الگ موضوع ہے کہ ایسی نعمت کو ذرا ڈھنگ سے وصولا جائے۔ انگریزی زبان کو جس طور جنون بنا کر، اِیلیٹ کلاس کلچر کے بطور ہمارے ہاں طاری کر لیا گیا، سخت نقصان دہ ہے کہ اُس میں اپنی زبان، شناخت اور اپنے سرمائے سے محروم ہو جانا ہے۔

بدسلوکی اوردرشت رویوں کا شکار بچوں کے دماغ چھوٹے رہ جاتے ہیں

سٹَین فورڈ یونی ورسٹی میں پی ایچ ڈی سکالرز کے ایک گروپ کی نئی تحقیق ‘ڈویلپمنٹ اینڈ سائیکالوجی’ میں شائع ہوئی ہے۔ اِس کی رُو سے جن بچوں پراُن کے بڑے چِلّاتے رہتے ہیں، رہ رہ کر درشت لب و لہجہ اور پُرتشدّد رویہ اپناتے، اور بدنی طور پر اُنہیں ہِٹ کرتے رہتے ہیں، اُن کا دماغی حجم نسبتاً چھوٹا رہ جاتا ہے۔ ایسے رویوں کا شکار دماغوں کا سٹرکچر بلوغت کی عمر میں نسبتاً کم پایا گیا۔ اس سٹڈی کی قیادت کرنے والی ڈاکٹر سفرن کا کہنا ہے:

“These findings are both significant and new. It’s the first time that harsh parenting practices that fall short of serious abuse have been linked to decreased brain structure size, similar to what we see in victims of serious acts of abuse.”

یہ بیان الارمنگ نوعیت کا ہے۔ ذرا باریک بینی سے اس کی تفصیل جان لینا ضروری ہے تا کہ ایسے کسی پَیرنٹ کو بات سمجھانے میں آسانی رہے جس میں ‘خود پرضبط اور قابو’ جیسی استعداد کا فقدان ہو۔ آئندہ کسی کالم میں اِس موضوع پر تفصیلاً بات ہو گی، انشااللہ۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

About Author

ہمایوں مجاہد تارڑ شعبہ تدریس سے وابستہ ہیں۔ اولیول سسٹم آف ایجوکیشن میں انگریزی مضمون کے استاد ہیں۔ بیکن ہاؤس، سٹی سکول ایسے متعدّد پرائیویٹ اداروں سے منسلک رہ چکے۔ ان دنوں بھی اسلام آباد کے ایک پرائیویٹ ادارے کے کیمبرج سیکشن میں تدریسی فرائض انجام دے رہے ہیں۔سوشل میڈیا پر خاصے ایکٹو رہے ہیں۔تاہم، کسی قلبی واردات کا شکار ہو کر نئے سال 2017 کے طلوع سے ٹھیک ایک روز قبل یہ غروب ہو گئے تھے۔ پردہ نشینی کی وجوہات میں ایک خاص وجہ ان کا ایک نئے تعلیمی ماڈل کا قیام پر کام کرنا تھا، جو خاصی مقدار میں ہو بھی چکا۔اِن دنوں اس انقلاب آفریں نئے ماڈل کے خواب کو تعبیر دینے کے لیے کوشاں ہیں۔ اس موضوع پر ان کی تحریر 'بچوں کی تعلیم کا جبر: آزادی کا ایک ماڈل' دانش ویب سائٹ پر ہی ظاہر ہو کر اچھا رسپانس وصول کر چکی۔اندرون اور بیرون ملک مقیم کچھ احباب نے بھرپور دلچسپی کا اظہار کیا، اور ان کےہمرکاب ہو جانے کا دم بھر ا ہے۔

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20