خانقاہِ معلیٰ: کشمیر کا روحانی مرکز و محور — میر امتیاز آفریں

0

خانقاہ اس جگہ کو کہتے ہیں جہاں صوفیاء و درویش گوشہ نشینی اختیار کرکے عبادت و ریاضت میں مصروف رہتے ہیں۔ ‘خان’ بمعنی بزرگ اور ‘قاہ’ بظاہر ‘گاہ’ فارسی کا بگاڑ ہے اور اس کے معنی بنتے ہیں ‘بزرگ یا سردار کے رہنے کی جگہ’۔ منشی عبد الرحمن لکھتے ہیں:

“خانقاہ فارسی لفظ ہے جس کے معنی تربیت گاہ کے ہیں جہاں تزکیہ نفس اور صحت و اخلاق کی عملی تعلیم دی جاتی ہے۔”(1)

جہاں تک شاہ ہمدانؒ کا تعلق ہے تو وہ خود کو صوفیاء کے ایک خاص طبقہ اہل فتوت میں سے شمار کرتے تھے جس میں ‘خدمت’ کو بنیادی اصول کے طور پر تسلیم کیا جاتا ہے اور اس سے وابستہ لوگ خانقاہوں اور صوفیوں کی سرایوں میں ہجوم کی صورت میں مشائخ کی زیر نگرانی تربیت اور رشد و ہدایت پاتے۔ سالکین کے احوال و افعال پر شیخ خانقاہ کی نگرانی ہوتی تھی اور ان سے مختلف خدمات لی جاتی تھیں۔ ذکر و اذکار، ریاضت اور چلہ کشی رائج تھی۔ صوفیاء ایک دوسرے سے ملاقات کرتے اور فیض پہنچاتے اور راہ سلوک کی منازل شیخ کامل کی رہنمائی میں طے کرتے۔ گویا ایک خانقاہ عصر حاضر کی اصطلاح میں ایک مکمل روحانی ٹریننگ اسکول SPIRITUAL TRAINING SCHOOL ہوا کرتا تھا جہاں سے قابل افراد تیار ہوکر سماجی اصلاح کے لئے وقف ہوتے۔

مصنف

اپنے جلیل القدر اساتذہ کی روش اختیار کرتے ہوئے شاہ ہمدانؒ نے بھی خانقاہوں کی تعمیر و ترویج میں کافی دلچسپی دکھائی اور دعوت دین اور سماجی اصلاح کے لئے کئی روحانی تربیت گاہوں کا قیام عمل میں لایا۔

شاہ ہمدانؒ کشمیر میں اپنے قیام کے دوران تبلیغ دین کے پیش نظر کشمیر کے اکثر قصبوں میں پہنچے اور وہاں لوگوں کو دین مبین سے فیضیاب کیا۔ جن قصبوں اور گاؤں میں انہوں نے تبلیغ اسلام کے لئے قیام کیا ان میں سے بعض قصبوں اور گاؤں میں ان کے فرزند ارجمند میر محمد ہمدانیؒ نے بعد میں خانقاہیں تعمیر کیں اور ان ہی تعمیر شدہ خانقاہوں کو کشمیر کے اکثر لوگ حضرت میر سید علی ہمدانی ؒ سے منسوب کرتے ہیں۔ بظاہر جناب میر سید علی ہمدانیؒ نے علاو الدین پورہ میں واقع موجودہ خانقاہ معلیٰ کی جگہ پر اس وقت کے سرکاری مسافر خانہ میں قیام کیا تھا جس کو بعد میں سلطان قطب الدین بادشاہِ کشمیر نے ڈھا کر نماز ادا کرنے کے لئے صفہ قائم کیا تھا جہاں حضرت میر سیّد علی ہمدانی ؒ، سلطان قطب الدین اور اس کے ارکان دولت وغیرہ نماز خمسہ ادا کرتے تھے۔۔۔ مسافرخانہ کی جگہ پر قائم شدہ صفہ پر بعد میں حضرت میر سید علی ہمدانی ؒ کے فرزند ارجمند جناب میر محمد ہمدانیؒ نے ایک خانقاہ تعمیر کی جو خانقاہ معلیٰ کے نام سے مشہور ہے۔ حضرت میر سیّد علی ہمدانیؒ نے اس صفہ کے بغیر کشمیر میں کوئی خانقاہ خود تعمیر نہیں کرائی ہے۔(2)

حضرت میر محمد ہمدانیؒ نے اپنی کاوشوں سے خانقاہ معلیٰ سمیت خانقاہ اعلی ترال، خانقاہ امیریہ پامپور، خانقاہ والیٰ وچی، اور خانقاہ امیریہ منگہامہ وغیرہ کا قیام عمل میں لایا۔ ان سب میں مرکزیت اور انفرادی شان رکھنے والی خانقاہ بلاشبہ خانقاہ معلیٰ ہے جو آج بھی اپنے انوار بکھیر رہی ہے۔

اس خانقاہ کے بارے میں ڈاکٹر گلزار مفتی اپنی کتاب میں لکھتے ہیں:

“IT IS NOT ONLY A PLACE OF WORSHIP FOR KASHMIRIS BUT ALSO REPRESENTS MORE THAN SIX HUNDRED YEARS OF OUR HERITAGE. “(3)

ترجمہ: “یہ کشمیریوں کے لئے ایک عبادت گاہ ہی نہیں بلکہ ہمارے چھے سو سالہ تاریخی ورثے کی علامت ہے۔”

اس کا شمار کشمیر کی ہی نہیں بلکہ ہمالیائی خطے کی اولین مساجد میں ہوتا ہے۔

شہرِ سرینگر کے بیچوں بیچ دریائے جہلم کے مشرقی کنارے پر واقع یہ خانقاہ اپنی تاریخی، ثقافتی اور روحانی اہمیت کے پیش نظر غیر معمولی اہمیت کی حامل ہے۔ یہاں ہزاروں افراد سال بھر بلا لحاظ مذہب و ملت مختلف علاقوں سے آکر حاضری دیتے ہیں اور روحانی سکون پاتے ہیں۔ یہاں عرفان کے متلاشیوں کو عجیب کیفیات سرشار کرتی ہیں اور وہ بارگاہ الٰہی میں سربسجود ہوکر رحمت و مغفرت کی بہاریں لوٹتے ہیں۔

شاہ ہمدانؒ کی مخصوص مسجد، نشست گاہ، نماز گاہ، عبادت گاہ اور دینی، معنوی اور روحانی و تبلیغی مرکز یہی جگہ تھی اور یہیں سے آفتاب اسلام کی کرنیں پھوٹیں تھیں اسلئے حضرت میر محمد ہمدانیؒ نے عزم کیا کہ یہاں پر ایک عالیشان خانقاہ تعمیر کی جائے۔ اس طرح سلطان سکندر کے عہد حکومت میں میر محمد ہمدانیؒ کی کاوشوں سے اس خانقاہ کی تعمیر عمل میں لائی گئی۔ خانقاہ اور اس سے ملحقہ جائداد کو اس کے مالکوں سے خریدا گیا۔ حضرت میر محمد ہمدانیؒ نے خانقاہ معلٰی کے اخراجات کو مستقل بنانے کے لئے سلطان سکندر سے تین گاوں (وچی، نون ونی، ترال) کی جاگیر وقف کے طور پر حاصل کی اور اس وقف کے عوض آپ نے سلطان سکندر کو وہ لعل بدخشان دیا جو آپ اپنے ہمراہ لائے تھے۔ سلطان نے وقف نامہ کی تصدیق کی جس کی نقل آج بھی محفوظ ہے۔ تعمیر کا کام 798ھجری بمطابق 1396عیسوی میں شروع ہوا اور 799ھجری بمطابق1397عیسوی میں تکمیل کو پہنچ گیا۔ منقول ہے کہ شیخ العالم علمدارِ کشمیر شیخ نورالدین نورانی رحمۃ اللہ علیہ اس تعمیر میں ذاتی طور پر حصہ لینے کی خاطر سرینگر میں قیام پذیر ہوئے اور ہر روز ایک مزدور کی طرح مصروف کار رہے۔

تعمیر مکمل ہونے کے بعد اسے ایک روحانی تربیت گاہ میں تبدیل کیا گیا، یہاں ذکر و فکر کے حلقے قائم ہوئے، علم و عرفان کے دور چل پڑے، مسافروں اور محتاجوں کے لئے ایک پناہ گاہ بن گئی اور بھوکوں کو لنگر خانہ میسر آیا۔ اس کے رکھ رکھاو کے لئے ایک انتظامیہ تشکیل دی گئی,امام، موذن، اوراد خوان، فاتحہ خوان، فراش، چراغی وغیرہ کی تقرری ہوئی۔ شاہ ہمدانؒ کشمیر آتے ہوئے اپنی کتابیں ساتھ لائے تھے، سید محمد قاضیؒ کو کتابخانہ کا نگران بنایا گیا تھا، آپ کی وفات کے بعد یہ خدمت ملا احمد کو تفویض ہوئی اور خانقاہ معلٰی میں اس کتابخانہ کا فیضان بھی جاری ہوا۔

تعمیر کے 80 سال بعد حسن شاہ شاہمیری کے عہد حکومت میں خانقاہ معلٰی کی عمارت کو آگ کے ایک حادثے میں کافی نقصان ہوا اور مشکل سے تبرکات کو بچالیا گیا۔ اس کے بعد بادشاہ نے 885 ھجری بمطابق 1480عیسوی میں تعمیر نو عمل میں لائی۔

سلطان غازی چک کے دور میں پھر سے آگ کے ایک حادثے میں پھر سے خانقاہ کو نقصان پہنچا اور سلطان کی بہن صالحہ موجی نے اپنے زیورات، سازو سامان اور جہیز کی چیزوں کو بیچ کر خانقاہ معلٰی کی تجدیدِ تعمیر میں خرچ کرکے اسے دومنزلہ بنوایا۔

اس واقعہ کے تقریباً دو سو سال بعد، مغلیہ عہد حکومت میں 1144ھجری بمطابق 1731عیسوی میں ایک بار پھر سے آگ کے حادثے میں عمارت کو شدید نقصان پہنچا اور صوبیدار نواب ابو البرکات خان نے 1146ھجری بمطابق 1734عیسوی میں اس کی تجدید تعمیر کے لئے عملی اقدام کیا اور قدیم تعمیر سے بھی زیادہ خوبصورتی اور استحکام کے ساتھ تعمیر نو کو پایہ تکمیل تک پہنچادیا۔

افغان دور حکومت میں 1207ھجری بمطابق 1795عیسوی میں صوبیدار میر ہزار خان نے خانقاہ کی دیواروں پر اوراد فتحیہ اور کبریت احمر کے کچھ اجزاء کنندہ کروائے۔(4)

10۔ سکھ دور حکومت (1819-1846ء) میں کمانڈر فولا سنگھ نے کچھ غیر مسلموں کی ایماء پر خانقاہ معلٰی کو ڈھانے کے لئے اس کے ارد گرد توپ خانہ نصب کیا۔ جب لوگوں کو پتا چلا تو ان میں ہیجان پیدا ہوا۔ انہوں نے فولا سنگھ کو اس بارے میں پوچھا تو اس نے بتایا کہ مسلمانوں نے ہندووں کے مندر کو ڈھا کر خانقاہ تعمیر کی ہے۔ مسلمانوں نے اس سے ثبوت مانگا مگر وہ ثبوت پیش کرنے سے قاصر رہے کیونکہ ان کے سنسکرت مورخین کلہن، جون راج، شری ور، پراجیہ بٹ اور شک پنڈت نے اپنی اپنی تاریخ میں کالی شری نام کے کسی مندر کا ذکر نہیں کیا ہے اور نہ ہی اس عہد کے دیگر ہم عصر مورخین نے۔ اس کے برعکس مسلمانوں نے غیر مسلموں کے اس بے بنیاد الزام کو رد کرنے کے لئے خانقاہ معلٰی کی لائبریری میں محفوظ سلطان سکندر کا وثیقہ نامہ اور میر محمد ہمدانیؒ کا وقف نامہ پیش کیا جو ہرن کی کھال پر لکھے گئے ہیں۔ یہ دیکھ کر فولا سنگھ لاجواب ہوگیا اور اس نے خانقاہ معلٰی سے توپ خانے ہٹا لئے اور معترضین کے منہ ہمیشہ کے لئے بند ہوگئے۔(5)

ماضی قریب یعنی 15 نومبر 2017 کی اک شب بجلی گرنے سے خانقاہ کو ایک بار پھر سے جزوی نقصان پہنچا، لوگوں کی مستعدی کی وجہ سے تبرکات کو بچالیا گیا اور خانقاہ کی چھت کو شدید نقصان پہنچا جسے بعد میں جلد ہی مرمت کے ذریعے درست کیا گیا۔

جہاں تک فن تعمیر کا تعلق ہےخانقاہ معلٰی وسطی ایشیاء کے فن تعمیر کا ایک عمدہ نمونہ ہے۔ خانقاہ کی طرف زائرین باب الاسلام سے داخل ہوتے ہیں جس کے بالکل سامنے خانقاہ کی دو منزلہ عمارت ہے، یہاں سے بالکل سیدھ میں مرکزی عبادت خانہ ہے۔ اندر داخل ہونے کے لئے ایک منقش دروازہ بنایا گیا ہے۔

لکڑی کی تختہ نما دیواروں پر آیات قرآنی وادعیہ سے دلکش انداز میں نقاشی کی گئی ہے اور فن خطاطی کا خوب مظاہرہ کیا گیا ہے۔ سامنے محراب ہے جہاں امامت، وعظ و تبلیغ اور خطبہ جمعہ کے فرائض انجام دئے جاتے ہیں۔ پورا عبادت خانہ اندر سے اسلامی فن تعمیر اور کشمیری نقاشی کے اعلیٰ فن کا ایک کم نظیر نمونہ ہے۔ خانقاہ کی دو منزلہ عمارت کی اوپر کی ساری منزل لکڑی کی بنی ہے۔ خانقاہ کی مزین چھت تہ بہ تہ پانچ چھتوں پر مشتمل ہے اور ان کے اوپر ایک بالا خانہ ہے جس کے اوپر ایک اونچا مینار نما ستون ہے جو تکونی صورت میں ہر طرف سے ڈھکا ہوا ہے اور اس کے اوپر کلس لگایا گیا ہے جس پر سونے کا پانی چڑھا ہوا ہے۔ اس تکونی شکل کے مینار نما بستہ و بند صورت نے خانقاہ کو کشمیر کے قدیم طرز تعمیر کے نمونہ کی شکل دی ہے۔(6)

عبادت خانہ کی جنوبی و شمالی دیوار کے متصل سات سات چھوٹے کمرے (چلہ کوٹھریاں) بنائی گئی ہیں جن کو ریاضت و مراقبہ کے لئے استعمال کیا جاتا تھا اور اب رمضان کے آخری دس دنوں میں اعتکاف کے لئے استعمال کیا جاتا ہے۔
شمالی دیوار کے اگلے حصے میں ‘حجرہ خاص’ موجود ہے، یہ وہ مقام ہے جہاں پر حضرت شاہ ہمدانؒ عبادت و ریاضت فرمایا کرتے تھے۔ اسی کے پاس ایک الماری ہے جس میں کچھ تبرکات موجود ہیں جیسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے خیمے کا ایک استونِ مبارک اور عَلَم شریف جو شاہ ہمدانؒ نے شیخ محمد اذکانیؒ سے حاصل کئے تھے۔ تاریخ حسن اور واقعات کشمیر میں درج ہے کہ کشمیری عوام اس حجرے اور ان تبرکات کو اجابت دعا کی جگہ اور فیض و برکت کا وسیلہ جانتے ہیں۔ یہاں پر حضرت شاہ ہمدانؒ کا عصائے مبارک بھی محفوظ رکھا گیا ہے۔

ان آثار و تبرکات کی تاریخی، ثقافتی اور روحانی اہمیت مسلم لیکن شاہ ہمدانؒ کی اصل میراث ان کے افکار و نظریات اور ان کا روحانی فیضان ہے جو صدیاں گزرنے کے بعد بھی عارفین و معتقدین کے سینوں میں جلوہ افروز ہے۔ بقول سعدیؒ:
بعد از وفات تربتِ ما در زمیں مَجو
در سینہ ہائے مردمِ عارف مزارِ ما
ترجمہ:
وفات کے بعد میری قبر زمین میں تلاش مت کرنا، کہ عارف لوگوں کہ سینوں میں میرا مزار ہے۔

حواشی

(1) بحوالہ خانقاہی نظام اور اجتماعی نظام پر اس کے اثرات: امان اللہ بٹھی ص26
(2) شیرازہ شاہ ہمدانؒ نمبر: حضرت شاہ ہمدانؒ سے منسوب خانقاہیں: غلام رسول بٹ، جموں و کشمیر اکیڈمی آف آرٹ کلچر اینڈ لینگویجز ص190، 191
3۔ Shah-i-Hamadan & Khanqah -i-Moalla : DR GULZAR MUFTI:Ali Mohammad & Sons: P22

4. شاہ ہمدان: حیات اور کارنامے: ڈاکٹر شمس الدین احمد: حاجی شیخ غلام محمد اینڈ سنز: ص934
5۔ شیرازہ شاہ ہمدانؒ نمبر: حضرت شاہ ہمدانؒ سے منسوب خانقاہیں: غلام رسول بٹ، جموں و کشمیر اکیڈمی آف آرٹ کلچر اینڈ لینگویجز ص200
6۔ شاہ ہمدان: حیات اور کارنامے: ڈاکٹر شمس الدین احمد: حاجی شیخ غلام محمد اینڈ سنز: ص939

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20