جی ڈی پی اشاریہ اور ترقی کا دھوکہ: پاکستان، بھارت، بنگلہ دیش —- احمد الیاس

0

ایک زمانہ تھا کہ پاکستان کی فی کس آمدنی اور صنعتی فعالیت چین اور بھارت سے کہیں زیادہ تھی۔ اور ایک یہ وقت ہے کہ بنگلادیش بھی ان اشاریوں میں ہم سے آگے نکل گیا ہے۔ اس صورتحال تک پہنچنے میں چار تاریخوں کا کلیدی کردار ہیں۔

پہلی تاریخ 1972 کی جب ہم نے صنعتوں اور بینکوں کو ریاستی تحویل میں لینے کا فیصلہ کیا۔
دوسری تاریخ 1979 کی جب چین نے اپنے کمیونسٹ نظام میں لچک پیدا کرکہ نجی سرمایہ کاری کو دعوت دی۔
تیسری تاریخ 1991 کی جب بھارت نے نہرو اور اندرا گاندھی کی سوشلزم کو ترک کرکے مارکیٹ کو آزاد کردیا۔
چوتھی تاریخ 2006 کی جب بنگلہ دیش کے ٹیکنوکریٹک سیٹ اپ نے معاشی اصلاحات متعارف کروائیں۔

ان میں سب سے اہم تاریخ 1972 کی ہے کیونکہ جس قدر چین، بھارت اور بنگلادیش آگے نکلے ہیں، اس سے کہیں زیادہ ہم ان سے پیچھے رہے ہیں۔ 1972 میں پاکستان کی فی کس آمدنی اور صنعتی فعالیت ان تینوں ملکوں سے زیادہ تھی۔ آج ان تینوں ملکوں سے کم ہے۔ تقریباً پچاس سال پر محیط اس عرصے میں جو بنیادی فرق ہماری اور ان کی معیشتوں میں نظر آتا ہے وہ یہ کہ ہم نے معیشت کو حکومت کے کنٹرول میں دیا اور پھر کبھی آزاد نہیں کیا، جبکہ ان تینوں ملکوں نے سرمایہ کاری کی آزادی فراہم کی اور ریاستی کارپوریشنز کے سفید ہاتھیوں سے جان چھڑا کر ریاستی خسارے کم کیے اور اپنی بیلنس شیٹ کو درست کیا۔

پچاس اور ساٹھ کی دہائی میں پاکستان اور جنوبی کوریا ایشیاء کے وہ دو ملک تھے جن سے آزاد دنیا کی امیدیں وابستہ تھیں۔ یہ دونوں بہت غریب ملک تھے لیکن تیزی سے ترقی کرنے کے لیے پرعزم تھے۔ ان کی حکومتیں تیسری دنیا کے دیگر ممالک (بشمول بھارت) کی طرح سوشلزم کے سراب کے پیچھے بھاگنا بھی نہیں شروع ہوئی تھیں۔ آزاد مارکیٹ کے اصول پر دونوں ملکوں نے پانچ سالہ منصوبے بنائے۔ ان منصوبوں کی تکمیل میں امریکہ نے ان کی مالی امداد بھی کی۔ لیکن ہم سے غلطی یہ ہوئی کہ ہم نے یہ امداد زیادہ تر صرف انفراسٹرکچر پر خرچ کردی۔ ڈیمز، شاہراہیں، بجلی اور گیس کا نظام۔۔۔۔ زیادہ تر انفراسٹرکچر ہم نے اسی دور میں بنایا۔ جبکہ دوسری طرف جنوبی کوریا نے شروع میں زیادہ تر سرمایہ کاری سماجی شعبوں میں کی، بالخصوص فنّی تعلیم پر۔ نتیجہ یہ نکلا کہ ستر کی دہائی سے جنوبی کوریا کو مالی یا فنّی امداد کی ضرورت نہیں پڑتی اور ہم اب بھی کشکول اٹھائے پھرتے ہیں۔

ہماری تاریخ کا ایک اور بدقسمت موڑ 1985 کے انتخابات ہیں۔ غیر جماعتی انتخابات کے ذریعے کاروباری طبقے کے لوگوں کو سیاست میں لایا گیا، وہ کاروباری لوگ جن کو بھٹو صاحب کی نیشنلائزیشن نے ہی یہ سکھایا تھا کہ سیاست کا کاروبار کیے بغیر کوئی کاروبار محفوظ نہیں۔ ان لوگوں کو قرضے دلوائے گئے اور پھر وہ قرضے معاف کردئیے گئے، گویا اس نئی سیاسی کلاس کی بنیاد ہی رشوت سے ڈالی گئی۔ یہی سُپر کرپٹ کلاس آج تک سیاست کا چہرہ بنی ہوئی ہے۔ نوے کی دہائی میں جب پوری دنیا پرائیوٹائزیشن سے فیض اٹھا رہی تھی، ہم اس سیاسی کلاسی کی کرپشن کے سبب موثر نجکاری نہیں کرسکے۔ اپنے سیاسی مفادات کے لیے یہ لوگ مسلسل شارٹ ٹرم اور تباہ کن معاشی پالیسیاں بنا کر پاکستان کی بیلنس شیٹ خراب کرتے رہے۔

ایک اور گریٹ بلنڈر کا سال 2004 بھی ہے۔ یہ وہ سال ہے جب ہم نے قبائلی علاقوں اور بلوچستان میں فوج بھیجنے کا فیصلہ کیا۔ اس سے خوفناک بدامنی کا وہ دور شروع ہوا جو 2014 تک عروج پر پہنچ گیا۔ کراچی، بلوچستان، قبائلی علاقے اور پختونخواہ کے متعدد ضلعے ریاست کی رٹ سے ہی نکل گئے۔ لاہور، پشاور اور اسلام آباد میں بھی خودکش دھماکے روزمرہ کا معمول بن گئے۔ ان حالات میں جو صنعت بچ گئی تھی، وہ بھی بنگلادیش منتقل ہوگئی۔

آج کچھ سطحی سوچ کے کچے پکے تعلیم یافتہ لوگ ہمیں بتاتے ہیں کہ بنگلادیش یا بھارت کی سیکولرازم، قوم پرستی، موروثی سیاست دانوں کی سول بالادستی وغیرہ ان کی ترقی کی وجہ ہیں۔ یہ سب باتیں بے بنیاد ہیں۔

بھارت اس وقت بھی سیکولرازم، قوم پرستی اور موروثی سول بالادستی پر مبنی تھا جب نہرو اور اندر کے دور میں ان کی سوشلسٹ معیشت گہرے جمود کا شکار تھی اور پاکستانیوں کا طرز زندگی بھارتیوں سے کم و بیش اسی طرح بہتر سمجھا جاتا تھا جس طرح جنوبی کوریا کا شمالی کوریا سے یا مغربی جرمنی کا مشرقی جرمنی سے۔ یہی وجہ ہے کہ اسّی کی دہائی تک بھارتی مسلمان بہتر معاشی مواقع کے لیے پاکستان آتے رہے۔ ساٹھ کی دہائی تک تو یہ ہجرت بہت ہی تیز اور مسلسل تھی۔

بنگلادیش 1971 سے 2006 تک مسلسل معاشی و سیاسی طور پر بری طرح ناکام ہوتا رہا۔ شیخ مجیب کے دور میں بدترین قحط اور معاشی بحران پیدا ہوا، اس نے ایک جماعتی آمریت قائم کی اور آزادی کے تین سال بھی نہ ہوئے تھے کہ انتہائی غیر مقبول ہوکر اپنے ہی سپاہیوں کے ہاتھوں مارا گیا۔ 1990 تک فوجی راج رہا اور 2006 تک انتہائی بدعنوان اور نااہل موروثی سول حکومتیں۔ پھر 2006 سے 2007 تک ٹیکنوکریٹک حکومت کی فری مارکیٹ پالیسی پر مبنی اصلاحات سے ہی بنگلادیش صنعتی ترقی کی راہ پر گامزن ہوسکا۔ اس میں ان کی مدد ہماری “دہشتگردی کے خلاف جنگ” نے کردی۔ شیخ حسینہ آج ایک کرپٹ سنگل پارٹی ڈکٹیٹر شپ قائم کرچکی ہے جسے دیکھ کر ہمارے کئی سیاستدانوں کی بھی رال ٹپکتی ہے اور ان سیاستدان کے نمک خوار دانشور اور صحافی ہمیں گمراہ کرتے ہیں کہ بنگلادیش کی ترقی شیخ حسینہ ہی کی مرہون منت ہے۔

یہ بات بھی یاد رکھنی چاہیے کہ اگرچہ فی کس آمدنی، برآمدات، صنعتی فعالیت اور انسانی ترقی انڈیکس۔۔۔ سب اہم اشاریے ہیں لیکن کسی ملک کے لوگوں کے طرز زندگی کا درست اندازہ لگانے کے لیے ایک اور اہم فیکٹر دولت کی تقسیم میں ہمواری کا ہے۔ جس ملک میں دولت کی تقسیم بہت زیادہ ناہموار ہو، وہاں کی فی کس آمدنی اور صنعت اور برآمدات زیادہ بھی ہوں تو بھی عام لوگوں کا طرز زندگی کمتر ہی ہوتا ہے۔ اس کے برعکس جن ملکوں میں دولت کی تقسیم نسبتاً ہموار ہو، ان ملکوں میں کم فی کس آمدنی کے باوجود لوگوں کا طرز زندگی بہتر ہوتا ہے۔

دولت کی تقسیم میں ہمواری اور ناہمواری کی پیمائش کے لیے Gini Coefficient کے نام سے ایک سائنٹفک پیمانہ موجود ہے۔ اس کلیے کے مطابق جس ملک کا سکور صفر سے جتنا قریب جو وہاں دولت کی تقسیم میں اتنی ہمواری ہے جبکہ جس ملک کا سکور سو سے جتنا قریب ہو، اس ملک میں دولت کی تقسیم میں اسی قدر ناہمواری ہے۔

دنیا میں دولت کی سب سے زیادہ ہموار اور مساوی تقسیم سکینڈینویا کے ممالک میں ہے جن کا سکور 25 سے 29 تک ہے۔ گویا یہاں لوگوں میں دولت قدرے برابری سے بانٹی گئی ہے۔ جبکہ سب سے زیادہ ناہموار تقسیم لاطینی امریکہ کے کچھ ملکوں، روس اور بعض خلیجی ریاستوں میں ہے جہاں یہ سکور 40 سے 60 تک ہے، گویا یہاں زیادہ تر دولت کچھ کھرب پتی لوگوں کے ہاتھ میں ہے۔

یہ ایک ایسا کلیدی اشاریہ ہے جس میں پاکستان آج بھی بنگلادیش اور بھارت سے بہت بہتر ہے۔ پاکستان کا سکور 30, بنگلادیش کا 32 اور بھارت کا 35 ہے۔ اس انڈیکس میں ایک پوائنٹ کا فرق بھی عام لوگوں کے طرز زندگی میں بہت زیادہ فرق کو ظاہر کرتا ہے۔ پاکستان میں دولت کی تقسیم بھارت کی نسبت ہموار ہونے کے سبب ہی ہمیں ٹاٹا اور امبانی جیسے کھرب پتی پاکستان میں نظر نہیں آتے اور نہ بھارت جیسی شدید ترین غربت اس قدر عام دیکھنے کو ملتی ہے۔ پاکستانیوں کا طرز زندگی آج بھی بھارتیوں اور بنگلادیشیوں کی نسبت مجموعی طور پر کسی قدر بہتر محسوس ہوتا ہے۔

بھارت بہت بڑا معاشی پاور ہاؤس ہے لیکن 99 فیصد بھارتیوں کو اسلام آباد یورپ کا شہر ہی محسوس ہوگا۔ بنگلادیش کی برآمدات اگرچہ پاکستان سے بڑھ گئی ہیں لیکن ڈھاکہ کا رہنے والا لاہور آجائے تو اسے مڈل کلاس لاہوریوں کا طرز زندگی شاہانہ ہی لگے گا۔ بنگلادیش کی صنعتی ترقی کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ وہاں لوگ غریب ہونے کے سبب اجرتیں کم مانگتے ہیں، جبکہ پاکستان میں لوگوں کے اپنی ضروریات کے حوالے سے معیار زیادہ ہیں لہذا اجرتیں بھی زیادہ ہیں۔ بہت سے ٹیکسٹائل مالکان صرف بنگلادیشیوں کی غربت کا فائدہ اٹھانے کے لے وہاں منت ہوگئے۔

اس میں جہاں دولت کی تقسیم میں ہمواری و ناہمواری کا فیکٹر ہے، وہیں لوگوں کا مائنڈ سیٹ بھی اہمیت رکھتا ہے۔ پاکستانی طبعاً خرچ کرنے کے معاملے میں لبرل پائے گئے ہیں اور فضول خرچی تک پہنچ جاتے ہیں۔ اس کے مقابلے میں ہندو اور بنگالی کفایت شعاری کے لیے ہمیشہ سے مشہور ہیں جو کنجوسی تک پہنچ جاتی ہے اور امیر ہوجانے کے باوجود ان کی یہ عادت نہیں جاتی۔ پاکستان گزشتہ دو تین دہائیوں سے جو طرز زندگی اپنائے ہوئے ہیں، دراصل وہ اسے افورڈ نہیں کرسکتے مگر قرضوں کی دلدل میں پھنس کر، پاؤں چادر سے باہر پھیلا کر ابھی بھی ہم نے ترقی پذیر ہونے کا بھرم قائم رکھا ہے۔ حالانکہ ہماری ترقی پذیری 1972 میں ہی رک گئی تھی اور رہی سہی کسر 1985 اور 2004 نے پوری کردی تھی۔

یہ بھی پڑھیں: میرا ذہنی سفر: اینٹی (پاکستانی) سٹیٹ لبرلزم سے مارکسزم اور پرو سٹیٹ تک------- عمیر فاروق
(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply