سندھی اخبارات کے ادارتی خیالات

0

دھشتگردی کرپشن کے خاتمے کے بغیر ختم نہیں ہوسکتی

سندھ کے مقبول اخبارات، کاوش، عبرت، عوامی آواز اور دیگر کے حالیہ اداریوں میں پیش کیے جانے والے خیلات کی یہ تلخیص، دانش کے  قارئین کے لئے جناب نور محمد پٹھان صاحب نے بطور خاص کی ہے۔

ملک کے اندر سال 2017 میں دھشتگردی کے واقعات کے بعد ایسا معلوم ہوتا ہے کہ یہاں دھشتگردی منظم اور محافظ منتشر ہیں۔ واقعات ہوجانے کے بعد محافظوں کو ہوش آتا ہے اور وہ متحرک ہوجاتے ہیں اور مشکوک لوگوں کو پکڑنا اور مارنا شروع کردیتے ہیں۔ معلوم نہیں کہ ان میں حقیقی دھشتگرد کتنے ہوتے ہیں اور جعلی کتنے؟ ہمارا پولیس تھانوں کا کلچر ایسا ہے کہ کوئی بھی شریف اور مہذب آدمی تھانے میں رپورٹ درج کرانے کی ہمت نہیں کرتا۔ کیوں کہ وہاں اسے بے عزت کیا جاتا ہے اور رپورٹ اس خوف سے درج نہیں کی جاتی کہ افسران بالا اس اہلکار کو نا اہل اور نالائق سمجھیں گے جس کی انتظامی حدود میں جرائم زیادہ ہوتے ہیں۔ اس طرح کے واقعات کے بعد ہم سینکڑوں دہشتگردوں کو مارنے کا دعویٰ کرتے ہیں جس پر  ہمارے مقتدر اداروں کی سماعت وبصارت پر سوال اٹھتے ہیں۔ پشاور آرمی پبلک اسکول کا واقعہ ہو یا سیہون کا واقعہ، اطلاعات کے باوجود دھشت گردی کے واقعات ہوجاتے ہیں، کیوں؟ ہماری پولیس اگر غیر سیاسی ہوجائے تو جرائم اور دھشتگردوں کی نرسریاں ختم ہوسکتی ہیں۔ ہمیشہ دیکھا گیا ہے کہ دھشتگردی کے خلاف کریک ڈائون عارضی ہوتا ہے۔ اس میں مستقل مزاجی نہیں ہوتی۔ کیا سیہون شریف میں بمبار نے سلیمانی ٹوپی پہن رکھی تھی کہ سیکیورٹی اداروں کو وہ نظر نہیں آسکا۔ بعد میں سیکڑوں افراد کو گرفتار کرنا ایک قسم کا ٹیلر سمجھا جائے۔

سندھ پر بدعنوانی اور بدانتظامی کا حملہ

تازہ خبر یہ ہے کہ سندھ کے انسپیکٹر جنرل پولیس ای ڈی خواجہ کو ہٹانے کا فیصلہ کیا گیا ہے اور نئے آئی جی کے لئے تین نئے نام بھیجے گئے ہیں۔ یہ ای ڈی خواجہ کو ہٹانے کی یہ دوسری کوشش ہے کیونکہ یہ پولیس کو غیر سیاسی اورغیر سفارشی بنانا چاہتے ہیں اور اس طرح کی انہوں نے کوشش بھی کی۔ لیکن مقتدر سیاسی قوتوں کو ایسا افسر پسند نہیں۔ اس سے پہلےوہ آغا رفیق درانی کو سندھ پبلک سروس کمیشن کی چیئرمینی سے فارغ کر چکے ہیں یہ سندھ پر بد عنوانی اور بدانتظامی کا حملہ ہے لیکن اس کا نوٹس کون لے گا۔ درگاہوں اور امام بارگاہوں پر حملے ہو رہے ہیں لیکن تعلیم اور صحت پر جو ہمارے مقتدر لوگ حملے کر رہے ہیں ان سے حساب کون لے گا۔ ہسپتالوں میں بچے اور ان کی مائیں مر رہی ہیں ادویات موجود نہیں ہیں۔ ان سے کوئی پوچھنے والا نہیں ہے۔ سیہون شریف میں ہونے والی دھشتگردی کے مناظرتو میڈیا کےذریعے دنیا نے دیکھے لیکن تعلیمی اداروں کی اور ہسپتالوں کی اندرونی بدانتظامی کی حالت کون دکھائے گا؟ کیا وہاں بھی حادثات کا انتظار کیا جارہا ہے۔

ابھی سیہون اور شکارپور کے واقعات کی گونج کم نہیں ہوئی تھی کہ حیدرآباد میں نیا پل کے علاقے میں کریکر سے حملہ کرکے 15 افراد کو زخمی کیا گیا۔ پشاور کے علاقے حیات آباد میں ججوں کی گاڑی پر حملہ، ایک ھفتہ کے بعد چارسدہ کے علاقے تنگی کی عدالت میں خود کش حملہ جس میں 8 افراد ہلاک اور 20 زخمی ہوئے۔ تازہ ترین واقعہ پارا چنار کا ہے جہاں 24 افراد ہلاک اور 90 زخمی ہوئے ہیں۔

صورتحال یہ ہے۔

وہ نظر پھیریں تو ہم سمجھیں کہ پہچانا نہیں۔ اب پھر ہم دعویٰ کریں گے کہ دھشتگردوں کو معاف نہیں کیا جائے گا لیکن یہ ختم ہوتے نہیں۔ اس کا سبب فقط بدانتظامی اور بدعنوانی ہے۔ ہمارے پاس اچھے، ایماندار اور باصلاحیت لوگوں کی کمی نہیں ہے لیکن ہمارا انتخاب وہ نہیں ہوتے۔ پاکستان کے داخلی معاملات میں عالمی طاقتوں کی بھی کچھ مداخلت نظر آتی ہے لیکن ضرورت اس چیز کی ہے کہ عالمی طاقتوں کے مفادات کومحفوظ  کرنے کے بجائے اپنے قومی اور علاقائی مفادات کو محفوظ کیاجائے ورنہ کامیابی نہیں ہوگی۔ اکثر ہمارے اہلکار اور سیاستدان یہ کہتے ہیں کہ دہشتگردی عالمی مسئلہ ہے۔

کیا دھشتگرد ی عالمی مسئلہ ہے اور دنیا ان کے سامنے بے بس بنی ہوئی ہے؟  ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل کی ایک رپورٹ کے مطابق یہ  دھشتگردی کرپشن کے خاتمے کے بغیر ختم نہیں ہوسکتی کرپشن کے باعث لوگ زندگی سے تنگ ٓاجاتے ہیں، بھوک، بدحالی، بیروزگاری، غربت میں لوگوں کو مذموم مقاصد کے لئے استعمال کیا جاسکتا ہے اس لئے درزیوں کو بڑی رقم دیکر جیکٹس سلوائی جاتی ہیں، عدالتوں میں لاکھوں مقدمات کئی برسوں تک التوا میں پڑے رہتے ہیں۔

جب لوگ اپنے حقوق کو بھی حکمرانوں کی عطا سمجھنے لگیں تو اسے سماج کی ٹوٹ پھوٹ کا عمل سمجھنا چاہیے۔ دوسری طرف الیکشن جیتنے کے لئے بھوتاروں کی بھرتی کا سلسہ جاری ہے۔ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام غریبوں کی عزت نفس سے کھیلنے اور بھکاری بنانے کا پروگرام ہے۔

ہم تو اب اتنے بھی ترقی یافتہ نہیں بن سکے جتنے 5 ہزار سال پہلے تھے اس زمانے کی تہذیب میں زیورات، برتن، بیل گاڑیاں اور بچوں کے کھلونے تو ملے ہیں لیکن بدامنی، بم اور بارود یا اسلحہ نہیں ملا۔ گریٹ باتھ کے حوض اور درسگاہوں کے آثار ملے ہیں۔ امریکی سفارتکار اور ان کے وفد نے موئن جو دڑو کا دورہ کیا جنہیں کیوریٹرنے اس دور کے کالج کے آثار دکھائے اس پر انہوں نے کہا کہ 5500 سال پہلے بھی یہاں کے لوگ تعلیم کا ذوق رکھتے تھے۔ لیکن آج تو ہمیں پینے کا صاف پانی بھی نہیں مل رہا۔ البتہ گندے کیچڑ سے بھرے ہوئے نالے اور نالیاں مل رہی ہیں اور اس کے نتیجے میں کالے  یرقان کے 33 فیصد مریض موجود ہیں جن کے لئے ادویات میسر نہیں ہیں۔

31 دسمبر 2016 تک اس ملک پر 14 سے 23 کھرب روپے کے قرض چڑھ چکے ہیں ہر سال 10 فیصد مزید اضافہ ہورہا ہے۔ ہمارا ہر شہری ایک لاکھ 15 ہزار روپے کا مقروض بن چکا ہے۔ زرمبادلہ میں 19 ارب ڈالرز کی کمی آچکی ہے۔ آج ہم فقط ماضی پر فخر کرکے آپنے آپ کو قابل فخر سمجھ رہے ہیں جبکہ ہمارے شہر گندگی کے ڈھیر اور گلیاں گندے نالے بن گئی ہیں۔

About Author

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: